لوگوں کو 31 اگست کے بعد بھی افغانستان چھوڑنے کی اجازت ہوگی، طالبان کی سو سے زائد ممالک کو یقین دہانی

طالبان نے کہا ہے کہ تمام غیر ملکی اور اہل افغان شہری امریکی فوجیوں کے انخلا کے بعد بھی افغانستان چھوڑ سکیں گے۔ دوسری جانب برطانوی وزیرِ خارجہ آج جی سیون اور دیگر ممالک کے ساتھ اجلاس میں شریک ہوں گے جس میں افغانستان کے متعلق بات کی جائے گی۔

لائیو کوریج

  1. طالبان کا صحت کے شعبے سے منسلک خواتین کو کام پر واپس لوٹنے پر زور

    zabih

    طالبان کی جانب سے کہا گیا ہے کہ وہ خواتین جو وزارت صحت کے لیے کام کرتی ہیں وہ اپنی نوکریوں پر دوبارہ جانا شروع کریں۔

    ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں کہا ہے کہ خواتین عملہ کابک اور ملک کے دیگر صوبوں میں ’اپنی معمول کی ذمہ داریاں‘ نبھائے۔

    انھوں نے کسی اور شعبے سے منسلک خواتین کے لیے ایسا پیغام نہیں دیا۔ دو ہفتے قبل کابل پر طالبان کے قبضے کے بعد سے افغان خواتین نے اپنے ڈر و خوف کا اظہار کیا ہے۔

    ترجمان طالبان نے ٹوئٹر پر اپنے ایک اور پیغام میں حکم جاری کرتے ہوئے کہا کہ کابل شہر کے افراد ’اسلحہ، گولہ بارود اور دیگر سرکاری چیزیں‘ ایک ہفتے کے اندر واپس کر دیں۔

  2. ’ہم لوگوں کی مدد کرنے کے لیے آسمان اور زمین ایک کر دیں گے‘

    UK

    برطانوی وزیر اعظم بارس جانسن نے کہا ہے کہ افغانستان میں موجود شہریوں کو 31 اگست سے پہلے باہر نکالنے کے لیے ہم ’آسمان اور زمین ایک کر دیں گے‘۔

    بارس جانسن نے کہا کہ انھیں ب’ہت پشیمانی‘ ہے کہ تمام کوششوں کے باوجود وہ افغانستان سے ہر کسی کو باہر نہیں نکال سکیں گے۔

    برطانیہ کی وزارت دفاع کا کہنا ہے کہ انھوں نے کابل میں باہر جانے والے افراد کی دستاویزات جانچنے والے مراکز بند کردیے ہیں اور اب وہ کسی کو ایئرپورٹ نہیں بلا رہے۔

    واضح رہے کہ افغانستان میں تعینات تمام غیر ملکی فوجی اس مہینے کے اختتام پر واپس چلے جائیں گے۔

  3. ’افغانستان میں حکومت کو تسلیم کرنے کا فیصلہ اسی وقت ہوگا جب وہاں مختلف گروہ کسی فیصلے تک پہنچ جاتے ہیں‘

    UN

    اقوام متحدہ میں تعینات پاکستانی سفیر منیر اکرم کا کہنا ہے کہ پاکستان افغانستان میں شراکت پر مبنی حکومت کا خواہشمند ہے لیکن انھیں تسلیم کرنے کا سوال اسی وقت پیدا ہوگا جب وہاں موجود مختلف گروپس کسی فیصلے تک پہنچ جاتے ہیں۔

    قطری خبر رساں ادارے الجزیرہ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں منر اکرم نے کہا کہ پاکستان علاقائی پڑسیوں سے رابطے میں ہے تاکہ نہ صرف افغانستان میں حکومت کو تسلیم کرنے کے بارے میں بات چیت کی جائی بلکہ مستقبل کا لائحہ عمل بھی طے ہو جس کی مدد سے افغانستان کو مستحکم بنایا جا سکے۔

    ’ہماری ترجیح ہے کہ افغانستان کو مستحکم کیا جائے اور اس کے لیے ہمیں امداد کی اشد ضرورت ہے، وہاں کی معیشت کو بحال کرنا ہے، دہشت گردی کے خلاف اقدامات لینے ہیں اور ایک شراکت پر مبنی حکومت قائم کرنی ہے۔‘

  4. بریکنگ, ’برطانیہ سنیچر کو افغانستان سے انخلا کا آپریشن ختم کر دے گا‘

    London

    برطانوی افواج کے سربراہ جنرل نک کارٹر نے کہا ہے کہ برطانیہ افغانستان سے شہریوں کے انخلا کا آپریشن آج یعنی سنیچر کو ختم کر دے گا۔

    بی بی سی کے ریڈیو فور پروگرام سے بات کرتے ہوئے جنرل نک کارٹر نے کہا کہ برطانیہ اب اس آپریشن کی تکمیل کی جانب پہنچ رہا ہے آج شہریوں کے انخلا کا کام مکمل ہوگا اور پھر اس کے بعد وہاں رہ جانے والے فوجیوں کو واپس لے جانے کا عمل شروع کیا جائے گا۔

    جنرل نک کارٹر نے کہا کہ کابل سے شہریوں کو لے کر چند پروازیں ابھی بھی برطانیہ آ رہی ہیں لیکن ان کی تعداد بہت کی کم ہے۔

    ’ہم ہر کسی کو وہاں سے نکالنے میں کامیاب نہیں ہوئے ہیں اور یہ انتہائی افسوسناک صورتحال ہے۔ اور وہاں ہمیں بہت مشکل فیصلے لینے پڑے ہیں۔‘

    london

    برطانوی وزیر دفاع بین والیس نے جمعے کو بتایا تھا کہ ان کے خیال میں 800 سے 1100 افغان جنھوں نے برطانوی حکومت کے ساتھ کام کیا تھا، وہ برطانیہ نہ جا سکیں گے۔

    واضح رہے کہ وزارت دفاع کے مطابق انھوں نے گذشتہ دو ہفتوں میں اب تک 14500 سے زیادہ افغان اور برطانوی شہریوں کو کابل سے نکال لیا ہے۔

  5. افغان اویغور: ’ہمیں خوف ہے کہ طالبان ہمیں پکڑ کر چین کے حوالے کر دیں گے‘

  6. ’افغانستان مسئلے کے کسی بھی دیرپا حل میں پاکستان کو شامل کرنا ضروری ہے‘

    graham

    رپبلکن پارٹی سے تعلق رکھنے والے امریکی سینیٹر لنڈسے گراہم نے گذشتہ شب ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں لکھا کہ انھوں نے امریکہ میں متعین پاکستانی سفیر اسد مجید خان سے افغانستان کے موضوع پر بات چیت کی۔

    لنڈسے گراہم نے اپنی ٹویٹ میں پاکستانی حکومت کی کاوشوں کی تعریف کی اور کہا کہ انھوں نے افغانستان سے امریکی شہریوں، اتحادیوں اور دیگر ممالک کے شہریوں کو نکالنے میں بہت مدد کی۔

    ان کا کہنا تھا کہ افغانستان کے مسئلے کے کسی بھی دیرپا حل میں پاکستان کو شامل کرنا ضروری ہے۔

    ’ہمیں یہ یاد رکھنا ہوگا کہ پاکستان ایک جوہری طاقت ہے اور ایک طالبان کا پاکستانی گروہ ہے جو پاکستانی حکومت اور پاکستانی فوج کا تختہ الٹنا چاہتا ہے۔ یہ بہت پیچیدہ خطہ ہے اور یہ پرخطر وقت ہے۔‘

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  7. یکم ستمبر سے کابل ایئرپورٹ کا کیا ہوگا؟

    airport

    خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق کابل کے حامد کرزئی ایئرپورٹ کا مستقبل اس وقت واضح نہیں ہے اور اس بارے میں نہ صرف قیاس آرائیاں جاری ہیں بلکہ اس کے بارے میں مذاکرات بھی جاری ہیں۔

    امریکی افواج کے انخلا کے بعد یکم ستمبر سے طالبان ایئرپورٹ کے امور سنبھال لیں گے اور انھوں نے جمعے کو دعوی کیا کہ ایئرپورٹ کے کچھ حصوں کا انتظام اب ان کے پاس ہے۔

    دوسری جانب جمعے کو ہی امریکی سٹیٹ ڈپارٹمنٹ کے ترجمان نیڈ پرائس نے کہا کہ امریکہ 31 اگست تک ملک چھوڑ دے گا اور ایئرپورٹ افغان افراد کے زیر انتظام ہوگا۔

    ’ائیرپورٹ چلانا کوئی بہت پیچیدہ کام نہیں ہے۔ لیکن یہ سمجھنا شاید مناسب نہیں ہوگا کہ بدھ کے بعد سے ایئرپورٹ پر معمول کی کارروائی ہوگی۔‘

    لیکن ائیرپورٹ کے عارضی طور پر بند ہونے کا اشارہ سب سے پہلے امریکی سیکریٹری سٹیٹ انٹونی بلنکن نے ہی دیا تھا جب انھوں نے بدھ کو کہا کہ متعدد علاقائی ممالک اس بارے میں اپنے تئیں پوری کوشش کر رہے ہیں کہ ایئرپورٹ کو یا تو کھلا رکھیں یا اگر یہ کچھ عرصے کے لیے بند ہو جاتا ہے تو اسے بعد میں دوبارہ فعال بنا لیں۔

    انٹونی بلنکن نے اس بات پر زور دیا کہ ائیرپورٹ طالبان کے لیے بہت ضروری ہے اور وہ نہیں چاہتے کہ وہ اپنے گذشتہ دورِ حکومت کی طرح ایک بار پھر دنیا سے کٹ جائیں۔

    airport
  8. افغانستان سے انخلا: امریکہ کابل سے لوگوں کے انخلا کا عمل ’آخری لمحے‘ تک جاری رکھے گا

    Kabul

    شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ کی جانب سے حملوں کے خدشات کے باوجود امریکہ کا کہنا ہے کہ وہ کابل ایئرپورٹ سے افغان افراد کے انخلا کا سلسلہ ’آخری لمحے‘ تک جاری رکھے گا۔

    جمعرات کو شہر کے حامد کرزئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر ہونے والے حملے میں کم از کم 170 افراد ہلاک ہوئے اور اس حملے کی ذمہ داری دولت اسلامیہ نے قبول کی۔

    امریکہ کے محکمہ دفاع پینٹاگون نے کہا کہ ابھی بھی ایئرپورٹ کے خلاف حملہ ہونے کے خدشات ہیں۔

    امریکہ اس وقت افغان افراد کو ملک سے نکالنے کی کوششوں میں مصروف ہے جبکہ ناٹو ممالک کی اکثریت اپنے ایمرجنسی آپریشن ختم کر چکی ہے۔

    فرانس نے جمعے کے روز لوگوں کے انخلا کے لیے اپنی آخری پرواز چلائی تھی اور ان کا کہنا ہے کہ بگڑتی ہوئی صورتحال کے باعث اب وہ مزید پرواز نہیں چلا سکتے۔ فرانس کے مطابق انھوں نے افغانستان سے تین ہزار لوگوں کو باہر نکالا ہے۔

    سپین بھی اپنا آپریشن مکمل کر چکا ہے۔

    kabul

    امریکہ اپنے فوج کو 31 اگست کو مکمل طور پر واپس بلا لے گا۔

    طالبان کے ایک ترجمان نے جمعے کی شب کہا کہ طالبان نے ایئرپورٹ کے کچھ حصوں کا کنٹرول حاصل کر لیا ہے تاہم پینٹاگون نے اس دعوے کی تردید کی ہے۔

    پینٹاگون کے مطابق اس وقت پانچ ہزار افراد کابل ایئرپورٹ کے اندر موجود ہیں اور جانے کی پروازوں کا انتظار کر رہے ہیں۔

    دوسری جانب وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ امریکہ نے تقریباً دو ہفتے قبل شروع ہونے والے اس آپریشن میں اب تک ایک لاکھ دس ہزار سے زیادہ افراد کو ملک سے باہر نکال لیا ہے۔

  9. ’طالبان پہلے ساتھ والے گھر میں داخل ہوئے پھر رات کو ہمارا دروازہ بھی کھکھٹایا‘

  10. کابل ائیر پورٹ حملے کے منصوبے ساز کے خلاف امریکی ڈرون حملہ

    drone

    امریکی فوج کا کہنا ہے کہ اس نے افغانستان میں دولت اسلامیہ گروپ کے ایک رکن کے خلاف فضائی حملہ کیا ہے۔

    بتایا گیا ہے کہ حملے کا ہدف وہ شخص تھا جس نے جمعرات کو کابل ایئرپورٹ پر حملے کی منصوبے بندی کی تھی۔

    امریکی حکام کا کہنا ہے کہ صوبہ ننگرہار میں کی گئی اس کارروائی میں ڈرون کا استعمال کیا گیا اور خیال کیا جا رہا ہے کہ ایسا لگتا ہے کہ اس نے ہدف کو ہلاک کر دیا ہے۔

  11. کابل ایئرپورٹ حملہ: نام نہاد دولتِ اسلامیہ یا داعش خراسان کیا ہے اور کابل میں اتنا بڑا حملہ کرنے میں کیسے کامیاب ہوئی؟

    kabul

    گرچہ مغربی ممالک کے پاس مصدقہ اطلاعات تھیں کہ نام نہاد دولتِ اسلامیہ خراسان کی جانب سے کابل ایئرپورٹ کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے، پھر بھی اس کے حملہ آور کابل کے ہوائی اڈے اور اس کے قریب واقع بیرن ہوٹل تک رسائی حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے تھے۔

    اس حوالے سے کئی لوگ یہ سوال پوچھ رہے ہیں کہ یہ تنظیم کیا ہے اور اگر طالبان کا واقعی پورے ملک پر قبضہ ہے تو دولت اسلامیہ خراسان کابل کی سب سے اپم عمارت یعنی ہوائے اڈے کو نشانہ بنانے میں کیسے کامیاب ہوئی؟

    اس سوال کا جواب دینے سے قبل ہمیں اس تنظیم کی تاریخ پر ایک نظر ڈالنے کی ضرورت ہے۔مزید پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں

  12. طالبان کو تسلیم کرنے کی کوئی جلدی نہیں: امریکہ

    USA

    وائٹ ہاؤس میں بریفینگ کے دوران پریس سیکرٹری جین ساکی نے مستقبل قریب میں افغانستان میں طالبان کی حاکمیت کو تسلیم کرنے کے منصوبوں کو مسترد کردیا۔

    ان کا کہنا تھا ’میں واضح کرنا چاہتی ہوں امریکہ یا اس کا کوئی بھی بین الاقوامی حلیف جس سے ہم نے بات کی ہے کو انہیں تسلیم کرنے کی کوئی جلدی نہیں ہے ۔‘

    حالیہ ہفتوں میں طالبان اور امریکی فوج کے درمیان ہم آہنگی کے بارے میں پوچھے جانے پر پریس سیکرٹری کا کہنا تھا ’یہ دنیا کی واحد جگہ نہیں ہے جہاں ہم مخالفین کے ساتھ کام کررہے ہیں۔‘

  13. لوگوں کو 31 اگست کے بعد بھی افغانستان چھوڑنے کی اجازت ہوگی، طالبان کی سو سے زائد ممالک کو یقین دہانی

  14. بریکنگ, افغانستان میں ہلاکتوں کی تعداد ’170‘ ہے: افغان اہلکار

    افغانستان میں محکمہ صحت کے ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ جمعرات کو کابل کے ہوائی اڈے کے قریب ہونے والے دھماکے میں ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد 90 سے بڑھ کر 170 ہو گئی ہے۔ اہلکاراپنا نام نہیں بتانا چاہتے تھے۔

    ہلاکتوں کی تعداد میں یہ اضافہ ابھی غیر تصدیق شدہ ہے لیکن مختلف ذرائع ابلاغ بھی یہی خبر دے رہے ہیں۔ بی بی سی اس کی تصدیق کی کوشش کر رہی ہے۔

    دولت اسلامیہ خراسان نامی تنظیم نے اس حملے کی ذمہداری قبول کی تھی۔

  15. افغانستان میں طالبان: ’طالبان کا رویہ برا نہیں ہے لیکن ہم خطرہ مول لینا نہیں چاہتے‘

    YouTube پوسٹ نظرانداز کریں
    Google YouTube کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو Google YouTube کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے Google YouTube ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔ YouTube کے مواد میں اشتہارات ہو سکتے ہیں۔

    YouTube پوسٹ کا اختتام

    چمن اور سپن بولدک کی سرحد سے ہزاروں کی تعداد میں بارڈر کراس کرکے پاکستان میں داخل ہونے والے افغان شہریوں کا کیا کہنا ہے۔ ویڈیو: شمائلہ جعفری اور کامل دیان ایڈیٹنگ: نیر عباس

    چمن اور سپن بولدک کی سرحد سے ہزاروں کی تعداد میں بارڈر کراس کرکے پاکستان میں داخل ہونے والے افغان شہریوں کا کیا کہنا ہے۔ ویڈیو: شمائلہ جعفری اور کامل دیان ایڈیٹنگ: نیر عباس

  16. بریکنگ, کابل ایئرپورٹ حملے میں ہلاک ہونے والوں میں ’دو برطانوی شہری بھی شامل تھے‘

    برطانوی حکومت نے اعلان کیا ہے کہ کابل میں کل ہونے والے حملے میں ہلاک ہونے والوں میں دو برطانوی شہری بھی شامل ہیں جن میں سے ایک برطانوی شہری کا بچہ ہے۔

    مزید تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔

  17. افغانستان میں مزید حملوں کی ’توقع‘ ہے: پینٹاگون

    پینٹاگون`

    پینٹاگون کے ترجمان جان کربی اس وقت بریفنگ میں سوالات کے جوابات دے رہے ہیں۔ انھوں نے اس بات کو تسلیم کیا ہے کہ امریکہ کی جانب سے انخلا کی کوششوں میں ’دیر ہوئی‘ لیکن ان کا مزید کہنا تھا کہ امریکی فوج مزید حملوں کے لیے تیار ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ ’ہمارا اب بھی یہی خیال ہے کہ مزید حملوں کا خطرہ ہے۔ بلکہ مخصوص اور مصدقہ ذرائع سے یہ خطرات موجود ہیں۔‘

    بریفنگ کے آغاز میں کربی کا کہنا تھا کہ امریکہ نے 31 اگست کی ڈیڈ لائن کا احترام کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

    انھوں نے کہا کہ امریکی فوج کے انخلا کے بعد امریکہ ملک سے مزید پروازوں کو سہولت فراہم کرنے کے لیے نئے طریقے سوچے گا۔

    ان کا مزید کہنا تھا کہ ’اس مرحلے میں ضروری نہیں ہے کہ امریکی فوج بھی شامل ہو۔‘

  18. کابل ہوائی اڈے پر دہشت گردی، طالبان کو بدنام کرنے کی کوشش؟

  19. ہم آخری لمحے تک افغانستان سے لوگوں کے انخلا کو یقینی بنائیں گے: امریکہ

    امریکی محکمہ دفاع کے ترجمان جان کربی نے میڈیا بریفنگ میں بتایا ہے کہ کابل ایئرپورٹ سے لوگوں کے انخلا کا مرحلہ 31 اگست تک جاری رہے گا۔

    خیال رہے کہ 31 اگست امریکی افواج کے افغانستان سے انخلا کی ڈیڈلائن ہے۔ جان کربی کا کہنا تھا کہ ’امریکہ آخری لمحے تک کابل سے لوگوں کے انخلا کے مشن کو جاری رکھے گا۔‘

  20. بریکنگ, اب تک ایک لاکھ 11 ہزار افراد کا افغانستان سے انخلا ممکن ہو سکا ہے: پینٹاگون

    pentagon

    میجر جنرل ولیم ٹیلر کا کہنا تھا کہ اب تک پانچ ہزار سے زیادہ امریکیوں کی افغانستان سے محفوظ حالت میں واپس منتقلی ممکن ہو سکی ہے۔

    انھوں نے کہا کہ افغانستان سے انخلا کے مشن کے آغاز سے اب تک ایک لاکھ 11 ہزار افراد کا پروازوں کے ذریعے انخلا ممکن ہو سکا ہے۔

    انھوں نے کہا کہ ’اب بھی 5400 افراد کابل ایئرپورٹ پر انخلا کے منتظر ہیں۔

    ٹیلر کا کہنا تھا کہ ’اس وقت افغانستان میں پانچ ہزار امریکی فوجی موجود ہیں جو لوگوں کی امداد میں مصروف ہیں۔ ہم دیکھ چکے ہیں کہ یہ مشن کتنا خطرناک ہے لیکن دولتِ اسلامیہ کا خطرہ ہمیں ایسا کرنے سے نہیں روک سکے گا۔‘