برطانوی وزیر اعظم کی پیر کو کام پر واپسی متوقع، سپین میں یومیہ اموات میں ریکارڈ کمی
کورونا وائرس سے دنیا میں 28 لاکھ سے زیادہ افراد متاثر ہیں جبکہ ہلاک ہونے والوں کی تعداد دو لاکھ سے بڑھ گئی ہے۔ برطانوی وزیرِ اعظم بورس جانسن کے نائب کا کہنا ہے کہ کورونا وائرس سے متاثر ہونے کے باعث تین ہفتوں تک کام پر نہ جانے کے بعد وزیرِ اعظم اب دفتر میں واپسی کے لیے بے تاب ہیں۔وزیرِ اعظم جانسن ایک ہفتہ ہسپتال میں بشمول تین راتیں انتہائی نگہداشت میں گزارنے کے بعد کل سے ڈاؤننگ سٹریٹ میں کُل وقتی فرائض دوبارہ سنبھالیں گے۔
لائیو کوریج
بریکنگ, پنجاب میں کورونا وائرس کے 204 نئے متاثرین، کل تعداد 5730 ہو گئی

پاکستان کے صوبہ پنجاب میں کورونا وائرس کے 204 نئے متاثرین کی تصدیق کی گئی ہے جس کے بعد صوبے میں متاثرین کی کل تعداد 5730 ہو گئی ہے۔
پنجاب کے محکمہ پرائمری اینڈ سیکنڈری ہیلتھ کئیر کےترجمان کے مطابق ان متاثرین میں سے 2951 افراد عام شہری ہیں، 1925 افراد کا تعلق رائے تبلیغی افراد سے ہے، 768 زائرین ہیں جبکہ 86 افراد صوبے کی مختلف جیلوں میں موجود قیدی ہیں۔
کورونا وائرس سے صوبے میں اب تک کل 95 اموات ہوئی ہیں جبکہ 1380 افراد صحت یاب ہو چکے ہیں۔
کورونا وائرس: مدافعتی نظام کی مضبوطی سے آپ کووِڈ 19 سے محفوظ رہ سکتے ہیں؟

،تصویر کا ذریعہGetty Images
طاقت دینے والے نام نہاد مشروبات اور وِٹامن مصنوعات کو بھول جائیں، یہ اس جدید دور میں جادوئی ٹوٹکوں سے بڑھ کر کچھ نہیں ہیں۔
سنہ 1918 میں وِکس ویپورب کے ایک اشتہار کی سرخی تھی ‘ہسپانوی انفلوئنزا کیا ہے اور اس کا علاج کیسے کیا جائے؟‘
پنجاب میں اساتذہ سے مساجد کی نگرانی کیوں کروائی جا رہی ہے؟
انڈیا: مسجد پر حملے کی وائرل ویڈیو کی پوری کہانی
دنیا کی مدد کرنے والے چینی ارب پتی کو کس سے خطرہ ہے؟
لاک ڈاؤن کے باوجود قریبی دوستوں سے ملنے کی اجازت ہونی چاہیے؟
فضائی آلودگی اور کورونا وائرس سے ہلاکتوں کی شرح میں تعلق
پاکستانی وینٹیلیٹر: ’اس کا معیار عالمی سطح کا ہے اور قیمت کم ہو گی‘
کورونا: پاکستان میں مصدقہ مریضوں میں سے ’27 فیصد متاثرین لاہور میں‘
برطانیہ: ایسٹر کے بعد سے کیئر ہومز میں 4343 ہلاکتیں ریکارڈ ہوئیں
کورونا ویکسین کے لیے دنیا کی نظریں انڈیا پر کیوں
1000 برس پہلے ویکسین کا خیال کہاں سے آیا تھا؟
کورونا کا ’کرشماتی علاج‘ جو وائرس سے بھی زیادہ خطرناک ہو سکتا ہے
کیا لاک ڈاؤن کے دوران کھانے پینے کی عادات تبدیل ہونے پر پریشان ہونا چاہیے؟
یہ صفحہ اب مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا
بی بی سی اردو کی کورونا وائرس کے متعلق لائیو کوریج جاری ہے لیکن یہ صفحہ اب مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا۔
باخبر رہنے کے لیے ہمارا نیا لائیو پیج یہاں ملاحظہ کیجیے۔
بریکنگ, نیویارک: 'لوگوں کو غیر معینہ مدت تک گھروں پر نہیں بٹھا سکتے'

،تصویر کا ذریعہGetty Images
امریکہ کی ریاست نیویارک کے گورنر اینڈریو کیومو نے کہا ہے کہ ریاست میں اموات کی شرح میں بتدریج کمی ہو رہی ہے اور سنیچر کو 367 اموات ہوئیں، جبکہ اموات کی تعداد جمعے کو 437 تھی۔
انھوں نے کہا کہ مرض پھیلنے اور اموات کی شرح سے یہ فیصلہ ہوگا کہ ریاست کو دوبارہ کب اور کیسے کھولا جائے گا۔
کیومو نے کہا کہ لوگوں کو غیر معینہ مدت تک کے لیے گھروں پر رہنے اور گرمیوں میں کوئی کام نہ کرنے کا کہنا ناممکن ہوگا۔
انھوں نے گھریلو تشدد، منشیات اور شراب کے زیادہ استعمال، اور ذہنی صحت کے مسائل میں اضافے کی خبروں کی جانب اشارہ کرتے ہوئے عندیہ دیا کہ حکام کو یہ مسئلہ بھی درپیش ہے۔
سپین میں بچے ایک مرتبہ پھر باہر کی دنیا سے لطف اندوز ہونے لگے
اتوار کو چھ ہفتوں میں پہلی مرتبہ سپین میں 14 سال سے کم عمر بچوں کو گھر سے نکلنے کی اجازت دی گئی جس کے بعد گلیوں میں الگ ہی سماں دیکھنے میں آیا۔
سپین نے حال ہی میں لاک ڈاؤن کے قواعد میں نرمی کردی ہے جس کے بعد بچے صبح نو سے رات نو کے درمیان ایک گھنٹے کے لیے باہر نکل سکیں گے۔
بچوں کے گھر سے نکلنے پر 14 مارچ سے پابندی عائد تھی۔
اب بھی کچھ پابندیاں باقی ہیں، مثلاً بچے عوامی پارکس میں نہیں جا سکتے اور نہ ہی ایک کلومیٹر سے زیادہ دور جا سکتے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا ذریعہGetty Images
بریکنگ, اٹلی: یومیہ ہلاکتوں کی تعداد 14 مارچ سے اب تک کم ترین سطح پر

،تصویر کا ذریعہget
اٹلی میں 14 مارچ سے اب تک ہلاکتوں کی یومیہ تعداد کم ترین سطح پر ریکارڈ کی گئی ہے۔
حکام نے اتوار کو 260 مزید ہلاکتوں کی اطلاع دی ہے جس کے بعد ملک میں ہلاکتوں کی مجموعی تعداد 26 ہزار 644 ہوگئی ہے۔
یوں اٹلی امریکہ کے بعد ہلاکتوں کے اعتبار سے دنیا کا دوسرا سب سے زیادہ متاثر ملک ہے۔
آج کے اعداد و شمار گذشتہ تین دن سے کم ہوتی ہلاکتوں کی تعداد کا سلسلہ ہیں اور کل کی 415 ہلاکتوں کے مقابلے میں واضح طور پر کم ہیں۔
کیا برطانیہ میں مزید ایک لاکھ افراد کورونا سے ہلاک ہو سکتے ہیں؟, ڈیوڈ شکمین، سائنس ایڈیٹر، بی بی سی نیوز

،تصویر کا ذریعہGetty Images
برطانیہ کے امپیریئل کالج لندن کے سائنسدانوں کی ایک تحقیق میں یہ خدشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ برطانیہ میں ایک لاکھ مزید افراد کووِڈ-19 سے ہلاک ہو سکتے ہیں۔
یہ اندازے اب شہ سرخیوں میں اپنی جگہ بنا رہے ہیں۔
محققین نے اس بات کا جائزہ لیا کہ کیا ہوگا اگر سب سے زیادہ خطرے کے شکار لوگوں کے سوا سب لوگوں پر سے لاک ڈاؤن کی پابندی اٹھا لی جائے اور صرف عمر رسیدہ یا طبی مسائل کے حامل لوگوں کو ہی حفاظت سے رکھا جائے۔
امپیریئل کالج کے پروفیسر نیل فرگوسن نے ان ہرڈ نامی ویب سائٹ کے ساتھ ایک انٹرویو میں کہا کہ یہ لوگ سب سے زیادہ خطرے کے شکار ہیں اور وہ بھی جنھیں نگہداشت کی ضرورت پڑتی ہے۔
اگر اس گروہ کے لیے انفیکشن کی شرح میں 80 فیصد بھی کمی ہوجائے تو ان کے تحقیق کے مطابق ایک لاکھ افراد مزید ہلاک ہو سکتے ہیں۔
یہ بات اہمیت کی حامل ہے کہ برطانیہ کی حکومت اس حوالے سے کوئی اشارے نہیں دے رہی کہ لاک ڈاؤن کی پابندیوں کو کب اٹھایا جائے گا اور کیسے۔ اس کے علاوہ یہ تحقیق بھی ابھی جاری نہیں کی گئی ہے اور یہ اگلے چند دنوں میں متوقع ہے۔
اس کے نتائج جو بھی ہوں، لیکن یہ تحقیق اس وائرس کے خطرے کی یاد دہانی کرواتی ہے، اور یہ باور کرواتی ہے کہ لاک ڈاؤن میں نرمی کا فیصلہ کرنا کتنا مشکل ہے۔
