چین نے پولٹری پیدا کرنے والے امریکی ادارے
ٹائسن فوڈز سے درآمد پر پابندی عائد کر دی ہے اور بیجنگ میں پیپسی کے کارخانے کی
بندش کا حکم جاری کیا ہے۔
دارالحکومت میں وبا کی تازہ لہر کو روکنے کے لیے
کیے گئے حکومتی اقدامات سے غذائی صنعت متاثر ہو رہی ہے۔
طبی حکام نے 22 نئے متاثرین کی تصدیق کی ہے اور
ایک تھوک بازار سے منسلک نئے متاثرین سامنے آنے کے بعد 20 لاکھ لوگوں کی ٹیسٹنگ کی
ہے۔
کسٹم حکام نے کہا ہے کہ ٹائسن فوڈز کی منجمد
مرغیوں کی درآمد عارضی طور پر معطل کی جا رہی ہے کیونکہ کمپنی کے امریکہ میں موجود
ایک کارخانے میں وائرس کا پھیلاؤ سامنے آیا تھا۔
کسٹم حکام نے کہا ہے کہ اس کمپنی کی جو پیداوار
پہلے ہی چین میں موجود ہے، اسے بھی ضبط کر لیا جائے گا۔
اس کے علاوہ پیپسی کے بیجنگ میں موجود ایک سنیکس
بنانے والے کارخانے کی بندش کے بھی احکامات جاری کیے گئے ہیں۔
یہاں پر اب تک 220 لوگوں میں وائرس کی تصدیق ہو
چکی ہے۔ نئے متاثرہ کلسٹرز کا تعلق شہر می ژینفادی مارکیٹ میں درآمد شدہ سالمن
مچھلی کی کٹائی میں استعمال ہونے والے تختوں سے منسلک کیا جا رہا ہے۔