کورونا: دنیا بھر میں متاثرین کی تعداد 89 لاکھ سے زیادہ
دنیا بھر میں کورونا کے مصدقہ متاثرین کی تعداد 89 لاکھ سے زائد جبکہ ہلاکتوں کی مجموعی تعداد چار لاکھ 67 ہزار سے بڑھ گئی ہے۔ پاکستان میں متاثرین کی تعداد ایک لاکھ 80 ہزار سے زیادہ جبکہ اموات کی کُل تعداد 3587 ہے۔ برازیل، میکسیکو اور انڈیا کے بعد پاکستان ایسا ملک ہے جہاں اموات اور متاثرین کی تعداد کی شرح میں مسلسل تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ پاکستان متاثرین کی عالمی فہرست میں 14ویں نمبر پر آ گیا ہے۔
لائیو کوریج
کورونا کی وجہ سے سماجی دوری، یہ دو میٹر ہوتا کتنا ہے؟
تین آسٹریلوی کوالا ہوں یا ایک مائیکل جورڈن یا پھر نصف واکس ویگن بیٹل، یہ وہ فاصلہ ہے جتنا آپ کو کسی بھی فرد سے کورونا کی وبا کے دوران سماجی دوری اختیار کرتے ہوئے رہنا چاہیے اور اگر بات سمجھ نہیں آئی تو یہ ویڈیو دیکھ کر سمجھ لیں۔
اگر اکثریت گھروں سے کام کرنے لگی تو شہر کیسے لگیں گے؟
،تصویر کا ذریعہReuters
ہم میں سے بہت سے لوگوں کے لیے گذشتہ چند ماہ سے ہمارے گھر ہی دفاتر بنے ہوئے ہیں اور دفتر معمول کے مطابق جانے کا ابھی آئندہ کئی ماہ تک کوئی امکان نظر نہیں آتا۔
کئی بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں نے کہا ہے کہ وہ اس بارے میں سوچ رہے ہیں کہ ان کا عملہ مستقل طور پر گھر سے کام کرے۔ ملازمین کو بھی یہ سمجھ آ گیا ہے کہ دفتر سے دور رہ کر کام کرنا نہ صرف ممکن ہے بلکہ کئی صورتوں میں قابلِ ترجیح بھی ہے۔
کام کرنے کا نیا انداز یا طریقہ کار اپنایا جانے لگا ہے۔ کام کرنے کے اس نئے طریقہ کار یا انداز سے ہماری گھریلو زندگی پر بہت گہرے اثرات مرتب ہوں گے اور ان اثرات کے دائرے کو وسیع کر لیا جائے تو ہمارے قصبوں اور شہروں پر بھی اثر پڑے گا۔
دنیا بھر میں کورونا وائرس کے نتیجے میں ہلاکتوں کی تعداد 467,611 ہو گئی ہے۔
جانز ہاپکنز یونیورسٹی کے اعداد و شمار کے مطابق دنیا بھر میں کورونا وائرس کے متاثرین کی مجموعی تعداد 8,927,195 تک پہنچ چکی ہے۔
سب سے زیادہ ہلاکتیں امریکہ میں ہوئی ہیں۔ وہاں مرنے والوں کی تعداد 119,959 تک پہنچ گئی ہے۔
دیگر ممالک میں ہلاکتوں کی تعداد
برازیل: 50,591
برطانیہ: 42,717
اٹلی: 34,634
فرانس: 29,643
سپین: 28,323
میکسیکو: 21,825
انڈیا: 13,254
بیلجیئم: 9,696
ایران: 9,623
کوروناوائرس: یہ آخری وبا نہیں ہے
،تصویر کا ذریعہGetty Images
سائنسدان خبردار کرتے رہے ہیں کہ ہم نے امراض کے جنگلی حیات سے انسانوں میں منتقلی اور پھر ان کے دنیا بھر میں پھیلنے کے لیے ماحول کو سازگار بنا کر رکھا ہے۔
قدرتی ماحول میں انسانی دخل اندازی اس عمل کو مزید تیز کر دیتی ہیں۔
یہ نقطۂ نظر ان ماہرین صحت کا ہے جو وبائی امراض کے پھوٹ پڑنے کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیتے ہیں۔
اپنی ان کوشش کے نتیجے میں انھوں نے نشاندہی کا ایک ایسا نظام وضع کیا ہے جو جنگلی حیات سے انسانوں کے اندر امراض کی منتقلی کی پیشین گوئی کر سکتا ہے۔
برطانوی وزیراعظم بورس جانسن منگل کو بتائیں گے کہ کونسے کاروبار کھولے جا سکتے ہیں
،تصویر کا ذریعہWIKTOR SZYMANOWICZ/GETTY IMAGES
برطانوی وزیراعظم کے دفتر ٹین ڈاؤننگ سٹریٹ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ منگل کو وزیر اعظم یہ اعلان کریں گے کہ چار جولائی سے کون کون سے کاروبار دوبارہ کھولے جا سکتے ہیں۔
اس کے علاوہ 2 میٹر کے فاصلے کی سماجی دوری کے ضابطے کا بھی دوبارہ سے جائزہ لیا جائے گا اور اس سے متعلق فیصلے سے عوام کو آگاہ کیا جائے گا۔
ویلز میں شادی ہو سکتی ہے لیکن بڑی تقریب کے بغیر
،تصویر کا ذریعہGetty Images
پیر سے ویلز میں شادیوں اور سول پارٹنر شپ پر عائد پابندیاں ہٹا دی جائیں گی لیکن بڑی سطح پر تقریب کی اجازت نہیں ہو گی۔
دوسری جانب شادی کی مختصر تقریب تو ہو سکتی ہے لیکن سماجی تقریبات پر اب بھی پابندی عائد ہے یعنی مکینوں کو اب بھی سماجی دوری پر عمل کرنا ہو گا۔
جن مہمانوں کو شادی پر مدعو کیا جائے گا ان کے حوالے سے سفر کے فاصلے سے متعلق حدود کی پابندی نہیں ہو گی لیکن حفاظت کے لیے تقریب کا مختصر ہونا ضروری ہو گا۔
اب شادی پر عائد پابندی اٹھانے کا مطلب یہ ہے کہ پیر سے ضروری اشیا کے علاہ دیگر دکانیں بھی کھول دی جائیں گی۔
ڈیکسا میتھازون دوا کن مریضوں کو دی جائے گی؟
ڈیکسا میتھازون دوا کن مریضوں کو اور کن حالات میں دی جائے گی؟
اس بارے میں ہماری ساتھی عالیہ نازکی نے این ایچ ایس لندن سے وابستہ ماہر امراض تنفس ڈاکٹر سلیم انور سے بات کی ۔۔ انھوں نے کیا کہا، جانتے ہیں اس پوڈکاسٹ میں۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو Google YouTube کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے Google YouTube ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔ YouTube کے مواد میں اشتہارات ہو سکتے ہیں۔
YouTube پوسٹ کا اختتام
پنجاب میں مزید 1204 افراد میں کورونا کی تشخیص اور 28 ہلاکتیں
صوبہ پنجاب میں گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کورونا کے 1204 نئے متاثرین سامنے آئے ہیں جس کے بعد صوبے میں مصدقہ متاثرین کی مجموعی تعداد 66943 ہو گئی ہے۔
محکمہ صحت پنجاب کے مطابق اتوار کے روز پنجاب میں کورونا کے 28 مریض ہلاک ہوئے ہیں اور اب صوبے میں ہلاکتوں کی مجموعی تعداد 1435 ہو چکی ہے۔
صوبے میں اس مرض سے صحت یاب ہونے والے افراد کی کُل تعداد 19100 ہو گئی ہے۔
آج صوبے بھر میں کورونا کے 9598 ٹیسٹ کیے گئے ہیں۔
پنجاب میں نئے متاثرین سامنے آنے کے بعد پاکستان میں متاثرین کی مجموعی تعداد 180838 جبکہ اموات کی کُل تعداد 3587 ہو گئی ہے۔ ملک بھر میں صحت یاب ہونے والے افراد کی کُل تعداد 71157 ہو گئی ہے۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔
X پوسٹ کا اختتام
صوبہ سندھ کے مختلف اضلاع میں کورونا کی تفصیلی صورتحال چارٹ میں
صوبہ سندھ میں گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران مزید 2275 افراد میں کورونا وائرس کی تشخیص ہوئی ہے جبکہ 41 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔
صوبہ سندھ کے مختلف اضلاع میں کورونا وائرس کی تفصیلی صورتحال کے لیے مندرجہ ذیل چارٹ دیکھیے۔
،تصویر کا ذریعہ@SindhHealthDpt
دبئی میں پیر سے رہائشیوں کو واپسی کی اجازت
،تصویر کا ذریعہReuters
دبئی نے اعلان کیا ہے کہ پیر سے رہائشیوں کو
واپس آنے کی اجازت دی جائے گی۔
مشرقِ وسطیٰ کی اس ریاست میں کورونا وائرس کو
روکنے کے لیے نافذ اقدامات میں نرمی کی جا رہی ہے۔
تمام مسافروں کو دبئی آمد پر ٹیسٹ کیا جائے گا
اور متاثرہ افراد کے لیے 14 روزہ قرنطینہ لازم ہوگا۔
سیاحوں کو 7 جولائی سے آنے کی اجازت دی جائے گی
تاہم انھیں یا تو کورونا منفی ہونے کی سند دکھانی پڑے گی یا دبئی کے ایئرپورٹ پر
ٹیسٹ کروانا پڑے گا۔
وہ سیاح جن کا ٹیسٹ مثبت آئے گا انھیں بھی 14
روزہ قرنطینے میں جانا ہوگا۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔
X پوسٹ کا اختتام
ڈاکٹرز کی ہدایت کے بغیر کورونا کی ادویات استعمال کرنا نقصان دہ کیوں ہے؟
برطانیہ میں ماہرین کا کہنا ہے کہ اس مہلک وائرس کے خلاف جنگ میں کم مقدار والی سٹیرائڈ دوا ڈیکسامیتھازون سے کامیاب علاج ایک ’زبردست پیش رفت‘ ہے لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ آپ یہ دوا خریدیں اور استعمال کرنا شروع کر دیں۔
ادویات کو بنا نسخے کے استعمال کرنے کے خطرات کیا کیا ہیں، یہ جاننے کے لیے ہم نے بات کی اسلام آباد میں ڈاکٹر زعیم سے۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو Google YouTube کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے Google YouTube ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔ YouTube کے مواد میں اشتہارات ہو سکتے ہیں۔
YouTube پوسٹ کا اختتام
وفاقی دارالحکومت میں ایس او پیز کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف ایکشن جاری
،تصویر کا ذریعہ@dcislamabad
وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کی ضلعی انتظامیہ نے 21 جون کو کورونا ایس او پیز کی خلاف ورزی کرنے والے شہریوں کو مجموعی طور پر 4100 روپے کا جرمانہ کیا ہے۔
احتیاطی تدابیر نہ اختیار کرنے والے دو ہوٹلوں، 21 دکانوں اور دو صنعتی یونٹس کو سیل کیا گیا ہے۔
دکانداروں کو مجموعی طور پر ایک لاکھ 26 ہزار کے جرمانے کیے گئے ہیں۔
ضلعی انتظامیہ کے مطابق اب تک مجموعی طور پر شہریوں کو ایک لاکھ 55 ہزار سے زائد کے جرمانے کیے گئے ہیں جبکہ دکانداروں کو ہونے والے جرمانوں کی رقم دس لاکھ 21 ہزار سے زائد ہے۔
مجموعی طور پر 82 ہوٹلز، 340 دکانوں، 26 ورکشاپوں اور نو صنعتی یونٹس کو سیل کیا گیا ہے۔
کیا آپ کو برطانیہ کے قرنطینہ قوانین کا علم ہے؟
،تصویر کا ذریعہAFP
برطانیہ میں داخل ہونے والے تمام افراد کے لیے
دو ہفتے کا لازمی قرنطینہ متعارف کروایا جا رہا ہے۔
ہوائی جہاز، کشتی یا ٹرین کے ذریعے آنے والے
شہریوں اور غیر ملکی افراد کو ایسا پتا فراہم کرنے کے لیے کہا جائے گا جہاں وہ خود
کو 14 روز کے لیے خود ساختہ تنہائی میں رکھیں گے۔
اگر مسافر یہ تفصیلات فراہم کرنے میں ناکام رہے
تو ان پر 100 پاؤنڈ تک کا جرمانہ کیا جا سکتا ہے۔ اس کے علاوہ حکام کی جانب سے
اچانک دورے کر کے دیکھا جائے گا کہ وہ قواعد کی پابندی کر رہے ہیں یا نہیں۔
انگلینڈ میں موجود لوگوں کو خود ساختہ تنہائی
اختیار نہ کرنے پر 1000 پاؤنڈ تک جرمانے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
گلگت بلتستان میں مزید 10 افراد میں کورونا کی تشخیص، ایک ہلاکت
محکمہ
صحت گلگت بلتستان کے مطابق گذشتہ 24
گھنٹوں کے دوران مزید 10 افراد میں کورونا وائرس کی تصدیق ہوئی ہے جس کے بعد اس خطے میں
متاثرین کی مجموعی تعداد 1288 ہوگئی ہے۔
ایک
اور مریض کی ہلاکت کےبعد گلگت بلتستان
میں مجموعی ہلاکتوں کی تعداد 22 ہوگئی ہے۔
گذشتہ
24 گھنٹوں
کے دوران 28 مریض صحت
یاب بھی ہوئے جس کے بعد صحت یاب ہونے والے متاثرین کی کُل تعداد 865 ہوگئی ہے۔
گلگت بلتستان میں نئے متاثرین سامنے آنے کے بعد پاکستان میں مصدقہ متاثرین کی کل تعداد 179634 جبکہ اموات کی کُل تعداد 3559 ہو چکی ہے۔
لندن سٹی ایئرپورٹ سے کمرشل پروازوں کی بحالی
،تصویر کا ذریعہAFP
لندن سٹی ایئرپورٹ کورونا وائرس کے باعث تقریباً
تین ماہ تک بند رہنے کے بعد آج کھولا جا رہا ہے۔
25 مارچ کو یہاں سے سفری پابندیوں اور طلب میں
کمی کے باعث کمرشل اور نجی پروازیں بند ہوگئی تھیں۔
لیکن اس دوران سرکاری ادارے اور فوج یہ ہوائی
اڈہ استعمال کرتے رہے ہیں۔
ابتدا میں فضائی آپریشن آئرلینڈ اور برطانیہ کے
اندر تک کی ہی پروازوں تک محدود رکھا جائے گا۔
بلوچستان: گذشتہ 24 گھنٹوں میں 147 نئے متاثرین، دو اموات
صوبہ بلوچستان میں گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران مزید 147 افراد میں کورونا وائرس کی تشخیص ہوئی ہے جس کے بعد یہاں مصدقہ متاثرین کی مجموعی تعداد 9475 ہوگئی ہے۔
اسی دورانیے میں دو افراد کورونا کے باعث ہلاک ہوئے ہیں اور اب بلوچستان میں ہلاکتوں کی کُل تعداد 102 ہوگئی ہے۔
محکمہ صحت حکومت بلوچستان کے ترجمان داکٹر وسیم بیگ کے مطابق 21 جون 2020 کو کورونا کے707 ٹیسٹ کیے گئے جن میں سے 147 مثبت آئے ہیں۔
بلوچستان میں اب تک کورونا کے مجموعی طور پر 43104 ٹیسٹ کیے جا چکے ہیں جن میں سے33629 کے نتائج منفی آئے ہیں۔
بلوچستان میں مجموعی طور پر 92494 افراد کی سکریننگ کی گئی ہے۔
کورونا وائرس سے اب تک 3650 افراد صحت یاب ہو چکے ہیں۔
چین نے امریکی کمپنی سے منجمد مرغیوں کی درآمد پر پابندی عائد کر دی
،تصویر کا ذریعہAFP
چین نے پولٹری پیدا کرنے والے امریکی ادارے
ٹائسن فوڈز سے درآمد پر پابندی عائد کر دی ہے اور بیجنگ میں پیپسی کے کارخانے کی
بندش کا حکم جاری کیا ہے۔
دارالحکومت میں وبا کی تازہ لہر کو روکنے کے لیے
کیے گئے حکومتی اقدامات سے غذائی صنعت متاثر ہو رہی ہے۔
طبی حکام نے 22 نئے متاثرین کی تصدیق کی ہے اور
ایک تھوک بازار سے منسلک نئے متاثرین سامنے آنے کے بعد 20 لاکھ لوگوں کی ٹیسٹنگ کی
ہے۔
کسٹم حکام نے کہا ہے کہ ٹائسن فوڈز کی منجمد
مرغیوں کی درآمد عارضی طور پر معطل کی جا رہی ہے کیونکہ کمپنی کے امریکہ میں موجود
ایک کارخانے میں وائرس کا پھیلاؤ سامنے آیا تھا۔
کسٹم حکام نے کہا ہے کہ اس کمپنی کی جو پیداوار
پہلے ہی چین میں موجود ہے، اسے بھی ضبط کر لیا جائے گا۔
اس کے علاوہ پیپسی کے بیجنگ میں موجود ایک سنیکس
بنانے والے کارخانے کی بندش کے بھی احکامات جاری کیے گئے ہیں۔
یہاں پر اب تک 220 لوگوں میں وائرس کی تصدیق ہو
چکی ہے۔ نئے متاثرہ کلسٹرز کا تعلق شہر می ژینفادی مارکیٹ میں درآمد شدہ سالمن
مچھلی کی کٹائی میں استعمال ہونے والے تختوں سے منسلک کیا جا رہا ہے۔
کورونا سے صحت مند ہونے والوں کو پلازمہ عطیہ کرنے کا کیا فائدہ ہوتا ہے؟
پاکستان میں پلازمہ کے عطیہ سے کورونا وائرس کے مریضوں کو خاصی مدد ملتی ہے۔ طبی ماہرین کے مطابق پلازمہ کا عطیہ دینا بے حد ضروری ہے لیکن لوگوں میں اس بارے میں اب بھی بہت سے خدشات پائے جاتے ہیں۔
پلازمہ کا عطیہ کیا ہے، یہ کیوں ضروری ہے اور یہ ہوتا کیسے ہے، ان تمام سوالات کے جواب دے رہے ہیں ڈاکٹر طاہر شمسی اس ویڈیو میں۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو Google YouTube کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے Google YouTube ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔ YouTube کے مواد میں اشتہارات ہو سکتے ہیں۔
YouTube پوسٹ کا اختتام
سعودی عرب سے 500 سے زائد مسافروں کو لے کر تین پروازیں پاکستان روانہ
،تصویر کا ذریعہGetty Images
آج سعودی عرب سے پاکستان کی قومی ایئرلائن پی
آئی اے کی تین خصوصی پروازیں سینکڑوں پاکستانیوں کو لے کر وطن واپسی کے لیے روانہ
ہوئی ہیں۔
ریاض میں پاکستانی سفارتخانے کے مطابق دو
پروازیں کُل 280 مسافروں کو لے کر دمام سے سیالکوٹ کے لیے جبکہ ایک خصوصی پرواز
250 مسافروں اور 20 میتوں کو لے کر ریاض سے اسلام آباد کے لیے روانہ ہوئی۔
حکام کے مطابق یکم مئی 2020 سے پی آئی اے کی
خصوصی پروازوں کی ابتدا ہوئی ہے، اور تب سے اب تک ایسی 30 پروازوں کے ذریعے 5174
پاکستانیوں کو وطن واپس پہنچایا جا چکا ہے۔
خیبرپختونخوا: گذشتہ 24 گھنٹوں میں 553 نئے متاثرین، 13 ہلاکتیں
صوبہ خیبر پختونخوا میں گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران مزید 553 افراد میں کورونا وائرس کی تشخیص ہوئی ہے جس کے بعد صوبے میں مصدقہ متاثرین کی کُل تعداد 21997 ہو گئی ہے۔
محکمہ صحت خیبرپختونخوا کے مطابق اسی دورانیے میں مزید 13 افراد وبا کے باعث ہلاک بھی ہوئے ہیں اور اب یہاں مجموعی اموات کی تعداد 821 ہو گئی ہے۔
ہلاک ہونے والے 13 افراد میں آٹھ کا تعلق پشاور، دو کا کوہاٹ جبکہ ایک، ایک کا خیبر، لوئر دیر اور ڈی آئی خان سے ہے۔
گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران مزید 473 افراد کورونا سے صحت یاب ہوئے ہیں اور اب خیبرپختونخوا میں صحت یاب ہونے والے افراد کی کُل تعداد 6536 ہو گئی ہے۔
خیبرپختونخوا میں نئے کیسز سامنے آنے کے بعد پاکستان میں اس مرض سے متاثرہ افراد کی تعداد 179477 ہو گئی ہے جبکہ ملک میں اموات کی کُل تعداد 3556 ہو چکی ہے۔
پاکستان میں صحت یاب ہونے والے متاثرین کی تعداد 70543 ہو گئی ہے۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔