کورونا: دنیا بھر میں متاثرین کی تعداد 89 لاکھ سے زیادہ
دنیا بھر میں کورونا کے مصدقہ متاثرین کی تعداد 89 لاکھ سے زائد جبکہ ہلاکتوں کی مجموعی تعداد چار لاکھ 67 ہزار سے بڑھ گئی ہے۔ پاکستان میں متاثرین کی تعداد ایک لاکھ 80 ہزار سے زیادہ جبکہ اموات کی کُل تعداد 3587 ہے۔ برازیل، میکسیکو اور انڈیا کے بعد پاکستان ایسا ملک ہے جہاں اموات اور متاثرین کی تعداد کی شرح میں مسلسل تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ پاکستان متاثرین کی عالمی فہرست میں 14ویں نمبر پر آ گیا ہے۔
لائیو کوریج
کورونا وائرس سے صحت یابی کے لیے کتنا وقت درکار ہوتا ہے؟
دنیا میں اب تک لاکھوں افراد کووڈ 19 سے مکمل صحت یاب ہوچکے ہیں لیکن صحت یابی کا دورانیہ مختلف لوگوں میں مختلف ہوسکتا ہے۔ کم علامات والے متاثرین ایک ہفتے میں صحت یاب ہوسکتے ہیں جبکہ ماہرین کے مطابق سنگین معاملات میں یہ دورانیہ ایک سال سے زیادہ بھی ہو سکتا ہے۔کورونا وائرس سے صحت یابی کے لیے کتنا وقت درکار ہوتا ہے، جانیے اس ویڈیو میں
ٹوکیو میں 35 نئے متاثرین کی تصدیق، نو کا تعلق نائٹ لائف کے مشہور ضلع سے
،تصویر کا ذریعہReuters
جاپان کے دارالحکومت ٹوکیو میں میٹروپولیٹن کے سرکاری عہدیداروں نے شہر میں کورونا وائرس کے 35 نئے مریضوں کی تصدیق کی ہے۔
مسلسل چوتھے دن یومیہ مریضوں کی تعداد 30 سے زیادہ رپورٹ کی گئی ہے۔
نائٹ لائف کے مشہور ضلع شینجوکو وارڈ کی حکومت کی طرف سے کی گئی گروپ ٹیسٹنگ میں 35 میں سے نو مثبت متاثرین کی شناخت ہوئی ہے۔
جنوبی کوریا میں کورونا کے 48 نئے مریضوں کی تصدیق
،تصویر کا ذریعہGetty Images
جنوبی کوریا میں کورونا وائرس کے 48 نئے متاثرین کی اطلاع ہے۔ ملک میں کورونا وائرس کے خلاف کامیابی حاصل کرلی گئی تھی لیکن اب صحت کے حکام وبا کی اس نئی لہر پر قابو پانے کے لیے سرتوڑ کوششیں کررہے ہیں۔
کوریا میں امراض پر قابو پانے اور روک تھام کے مراکز کے اتوار کو جاری کردہ اعدادوشمار کے مطابق متاثرین کی کل تعداد12421 ہے جبکہ اب تک 280 اموات ہوئی ہیں۔
نئے متاثرین میں سے 24 سیول میٹروپولیٹن کے گنجان آباد آبادی والے علاقے سے سامنے آئے ہیں، جو مئی کے آخر سے ملک میں وبا کا مرکز رہا ہے۔
وسطی شہر ڈیجیون سے دیگر دس مریضوں کی اطلاع ہے جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ عوامی سرگرمیوں میں اضافے اور معاشرتی فاصلوں کا خیال نہ رکھنے کے سبب یہ وائرس زیادہ وسیع پیمانے پر پھیلنا شروع ہو رہا ہے۔
انڈیا میں گذشتہ روز ایک لاکھ 90 ہزار نمونے لیے گئے، 15 ہزار سے زائد نئے متاثرین کی نشاندہی
،تصویر کا ذریعہGetty Images
انڈیا کی وزارت صحت نے تصدیق کی ہے کہ ملک بھر میں کووڈ 19 کے کل متاثرین کی تعداد چار لاکھ سے تجاوز کر گئی ہے۔
ملک میں گذشتہ روز کووڈ 19 کی تشخیص کے لیے ایک لاکھ 90 ہزار سے زائد نمونے لیے گئے۔
گذشتہ روز کورونا وائرس کے 15,413 نئے متاثرین سامنے آئے جبکہ 306 اموات ہوئیں۔
انڈیا میں اب تک کورونا سے 13,254 افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔
اس وقت ملک میں 410,461 افراد زیر علاج ہیں جبکہ صحتیاب افراد کی تعداد 2.27 لاکھ بتائی گئی ہے۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔
X پوسٹ کا اختتام
دنیا بھر میں کورونا کے متاثرین کی تعداد 88 لاکھ کے قریب
،تصویر کا ذریعہGetty Images
جانز ہاپکنز یونیورسٹی کے اعداد و شمار کے مطابق دنیا بھر میں 8,792,027 افراد کورونا کے مصدقہ متاثرین ہیں۔
سب سے زیادہ متاثرین امریکہ، برازیل، روس اور انڈیا میں موجود ہیں۔
مندرجہ ذیل ممالک میں کووڈ 19 کے سب سے زیادہ متاثرین موجود ہیں:
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو Google YouTube کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے Google YouTube ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔ YouTube کے مواد میں اشتہارات ہو سکتے ہیں۔
YouTube پوسٹ کا اختتام
جب سے کورونا وائرس کی وبا دنیا بھر میں پھیلی ہے، ہر کسی کے لبوں پر ایک ہی سوال ہے: اس کے لیے ویکسین بنانے میں کتنی دیر لگے گی؟
اسلام آباد انتظامیہ: تمام نجی ہسپتال کووڈ 19 سے متعلق سہولیات کی قیمتیں شائع کریں
،تصویر کا ذریعہRadio Pakistan
،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو
وفاقی حکومت نے کورونا وائرس کی عالمی وبا کے پیش نظر اسلام آباد کے تمام نجی ٹیچنگ ہسپتالوں کے لیے یہ ہدایت جاری کی ہے کہ 50 فیصد بستروں کو رہائش اور مشاورت کے لیے مفت رکھا جائے۔ جبکہ علاج، لیبارٹری سروس، ادویات اور دیگر سہولیات کے پیسے بغیر منافع وصول کیے جائیں۔
دوسری طرف حکومت نے تمام نجی ہسپتالوں کو حکم دیا ہے کہ وہ کووڈ 19 سے متعلق تمام سہولیات کی ریٹ لسٹ اپنی ویب سائٹ اور ریسپشن پر لگائیں۔
حکومت نے کہا ہے کہ نجی ہسپتال ’آئسولیشن کے لیے بستر یا کمرے، ایچ ڈی یو، آئی سی یو اور وینٹیلیٹر کے ریٹس‘ سب کے علم میں لائیں۔
دریں اثنا ڈی سی اسلام آباد کا کہنا ہے کہ پاکستان کے دارالحکومت میں آکسیجن کی سپلائی اور اس سے متعلق آلات کی ذخیرہ اندوزی یا منافع خوری کے خلاف سیکشن 144 نافذ کر دیا گیا ہے۔
ان ہدایات کی خلاف ورزی کی صورت میں ہسپتال کی رجسٹریشن منسوخ کی جاسکتی ہے۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔
X پوسٹ کا اختتام
شبلی فراز: لاک ڈاؤن مہلک وائرس کا حل نہیں
،تصویر کا ذریعہRadio Pakistan
پاکستان میں اطلاعات و نشریات کے وزیر شبلی فراز نے کہا ہے کہ وزیراعظم عمران خان کورونا وائرس کی وبا کی روک تھام سمیت قومی معیشت کی ترقی کے لیے ایک مربوط پالیسی پر عمل پیرا ہیں۔
ایک نجی نیوز چینل سے گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ پاکستان ایک غریب ملک ہے اور ملکی معیشت پر لاک ڈاؤن کے سنگین منفی اثرات کے باعث مکمل لاک ڈاؤن کا متحمل نہیں ہو سکتا۔وفاقی وزیر نے کہا کہ کووڈ 19 ایک عالمی مسئلہ ہے اور وزیراعظم کی سمارٹ لاک ڈاؤن کی پالیسی کو ’دنیا بھر نے سراہا ہے۔‘
شبلی فراز نے کہا کہ حکومت مکمل لاک ڈاؤن کا نفاذ نہیں کرے گی کیونکہ یہ مہلک وائرس کا حل نہیں ہے۔
انھوں نے یہ بھی کہا کہ کورونا وائرس کی وبا کی روک تھام کے لیے نیشنل کمانڈ آپریشن سینٹر کے اجلاسوں کے دوران تمام فیصلے فریقین کے اتفاق رائے سے کیے گئے ہیں۔
جرمنی: گوشت پروسیسنگ کمپنی کے 1000 ملازمین متاثر، 6500 ملازمین اور ان کے اہل خانہ کو قرنطینہ میں جانے کا حکم
،تصویر کا ذریعہReuters
جرمنی میں گوشت پروسیسنگ کمپنی ٹونیز کے ایک ہزار سے زائد ملازمین میں کورونا وائرس کی تصدیق ہونے کے بعد مقامی محکمہ صحت نے تمام 6500 ملازمین اور ان کے اہل خانہ کو قرنطین میں جانے کا حکم دیا ہے۔
مقامی سطح پر کیا گیا یہ لاک ڈاؤن جرمنی کے دوبارہ کاروبار کھولنے والے منصوبے کے لیے ایک دھچکا ہے۔
چانسلر انجیلا میرکل نے طویل عرصے تک لاک ڈاؤن برقرار رکھنے کی حمایت کی تھی لیکن علاقائی عہدیداروں کے دباؤ کے بعد پابندیوں میں نرمی لائی گئی۔
اگرچہ یورپی ممالک میں جرمنی کورونا وائرس بحران پر قابو پانے میں سب سے زیادہ کامیاب رہا ہے تاہم جرمنی کے ذبح خانوں میں متعدد بار وبا کو پھیلتے دیکھا گیا ہے۔
،تصویر کا ذریعہReuters
ان کمپنیوں میں کام کرنے والے اکثر تارکینِ وطن ملازمین ہوتے ہیں جو کمپنی کی جانب سے فراہم کردہ پُرہجوم رہائش گاہوں میں رہتے ہیں۔
سنیچر کے روز پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے گوشت پروسیسنگ کمپنی کے مالک کلیمینس ٹینی نے کہا کہ کمپنی میں کام بند کر دیا گیا ہے کیونکہ حکام اس وبا پر قابو پانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
،تصویر کا ذریعہPress Eye
ٹینی نے کہا ’ایک کمپنی کی حیثیت سے ہمارا خیال تھا کہ ہم نے سب ٹھیک کر لیا ہے۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ ان کی کمپنی نے ملازمین اور ٹھیکیداروں کی ذاتی معلومات اکٹھا کرنے کے لیے کافی کوششیں کی ہیں تاکہ حکام اس وبا کا سراغ لگا سکیں۔
’ایک کاروباری شخص کی حیثیت سے میں صرف معافی مانگ سکتا ہوں۔ ہم اس کی وجہ بنے ہیں اور تمام تر ذمہ داری ہم پر عائد ہوتی ہے۔‘
،تصویر کا ذریعہReuters
کورونا وائرس: کیا امیر ممالک کووڈ 19 کی ویکسین کی ’ذخیرہ اندوزی‘ کر سکتے ہیں؟
،تصویر کا ذریعہGetty Images
یورپین ممالک کا خیال ہے کہ اس وائرس کے لیے تیار ہونے والی ویکسین پر تمام ممالک کی ملکیت کا حق تسلیم کیا جانا چائیے۔ یورپی ممالک کے اس خیال کی تائید کرنے والے ممالک کو تشویش ہے کہ اس وقت ویکسین کی تیاری کے لیے ایک مقابلہ نظر آ رہا ہے۔
ماہر جینیات کیٹ براڈیریک سائنسدانوں کی اس ٹیم کا حصہ ہیں جو دنیا بھر میں کووڈ 19 کے لیے ایک ویکسین تیار کرنے کی کوشش کرنے والے 44 منصوبوں میں سے ایک ہے۔
وہ امریکہ کی بائیو ٹیکنالوجی کمپنی اینویو میں محققین کی ایک ٹیم کا حصہ ہیں جو دسمبر تک اس ویکسین کی دس لاکھ خوراکیں تیار کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ لیکن یہ ویکسین کہاں اور اور کن لوگوں کو ملے گی۔
اس بارے میں مزید جانیے فیرنانڈو ڈیوارٹبی، نمائندہ بی سی ورلڈ سروس کی اس رپورٹ میں۔
آگاہی اور سہولیات کی فراہمی کے لیے لیڈی ہیلتھ ورکرز کی نواحی علاقوں میں مہم
،تصویر کا ذریعہIslamabad Administration
پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد کے نواحی علاقوں میں سنیچر کے دوران لیڈی ہیلتھ ورکرز اور دیہی آبادی کی رضاکاروں نے کووڈ 19 سے متعلق آگاہی اور سہولیات کی فراہمی کے لیے اپنا اہم کردار ادا کیا۔
،تصویر کا ذریعہIslamabad Administration
سرکاری بیان کے مطابق انھوں نے 130 مقامات پر کلورین سپرے کروایا اور مساجد میں آگاہی سے متعلق اعلانات کروائے، 34,790 کتابچے تقسیم کیے، مساجد میں 3100 ماسک تقسیم کیے، 1585 ماسک کم وسائل والے افراد کو دیے گئے، 151 مقامات پر دستانے بانٹے، 5630 صابن تقسیم کیے اور ان کی جانب سے 72 مقامات پر بڑے فلیکس آویزاں کیے گئے۔
،تصویر کا ذریعہIslamabad Administration
اس دوران آگاہی کے لیے 3032 اجلاس منعقد کیے گئے اور 50 مشتبہ متاثرین کی ہسپتال منتقلی کی سفارش کی گئی۔
سنیچر کو ان علاقوں کے کئی گھروں میں راشن بھی تقسیم کیا گیا۔
تھائی لینڈ میں کورونا وائرس سے متاثرہ ’ایک‘ نیا مریض رپورٹ
،تصویر کا ذریعہReuters
تھائی لینڈ میں کورونا وائرس کا ایک نیا کیس رپورٹ ہوا ہے۔ اطلاعات کے مطابق متاثرہ مریض نے بیرونِ ملک سفر کیا تھا۔
اس ایک نئے مریض کے بعد تھائی لینڈ میں کورونا وائرس سے متاثرہ افراد کی کل تعداد 3148 ہوگئی ہے۔
تھائی لینڈ میں اتوار کو کسی نئی ہلاکت کی اطلاع نہیں۔ ملک میں اب تک وائرس سے 58 اموات ہو چکی ہیں۔
مودی: ’کورونا سے لڑنے اور قوتِ مدافعت بڑھانے کے لیے یوگا کریں‘
،تصویر کا ذریعہReuters
،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو
انڈیا کے وزیر اعظم نریندر مودی نے اتوار کے روز دنیا بھر کے لوگوں پر زور دیا کہ وہ کورونا وائرس کے وبائی مرض سے بچنے کے لیے یوگا کریں۔
یاد رہے دنیا بھر میں اب تک اس وائرس سے 460،299 افراد ہلاک اور اور 8.5 ملین سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔
مودی نے یوگا کے عالمی دن کے موقع پر ٹیلی ویژن خطاب کے دوران کہا ، ’اگر ہمارے جسم میں قوتِ مدافعت زیادہ ہے تو یہ بیماری کے خلاف لڑنے میں مدد دیتی ہے۔ یوگا کی بہت سی اقسام ایسی ہیں جو قوتِ مدافعت بڑھانے میں مددگار ہیں۔‘
مودی نے لوگوں سے اپیل کی کہ وہ سانس کے نظام کو مستحکم کرنے کے لیے سانس لینے کی ایک مشق ’پرانایام` کریں۔
کووڈ 19 ایک سانس کا انفیکشن ہے اور یہ شدید بیمار مریضوں میں سانس لینے میں مشکلات اور پھیپھڑوں فیل ہو جانے کا سبب بنتا ہے۔
انڈیا کی وزارت صحت نے بتایا کہ سنیچر کے روز ملک میں کووڈ 19 کے 14،516 نئے مریض سامنے آئے جس کے بعد متاثرین کی تعداد 395،047 ہو گئی ہے جبکہ اب تک 12،948 اموات ہو چکی ہیں۔
کالم نگار سہیل وڑائچ کورونا وائرس سے کیسے متاثر ہوئے؟
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو Google YouTube کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے Google YouTube ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔ YouTube کے مواد میں اشتہارات ہو سکتے ہیں۔
YouTube پوسٹ کا اختتام
صحافی سہیل وڑائچ میں چند دن پہلے کورونا وائرس کی تشخیص ہوئی۔ ان کے مطابق ان کو یہ بیماری کیسے لگی؟ ٹیسٹ کے مثبت نتائج آنے کے بعد قرنطینہ کے دنوں میں ان کی مصروفیات کیا ہیں؟
اور وہ اس بیماری کا مقابلہ کیسے کر رہے ہیں؟ سنتے ہیں ان کی زبانی اس وی لاگ میں۔۔۔
چلی: نئے اعداد و شمار کے بعد 7000 سے زیادہ اموات کی تصدیق
،تصویر کا ذریعہAFP
لاطینی امریکہ کے بعض ممالک میں کورونا سے اموات میں تیزی سے اضافہ دیکھا گیا ہے۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق چلی میں اعداد و شمار کے نئے طریقہ کار کے بعد وہاں سات ہزار سے زیادہ اموات کی تصدیق ہوچکی ہیں۔ جبکہ میکسیکو میں 20 ہزار سے زیادہ اموات کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔
چلی کے نئے وزیر صحت نے کہا ہے کہ حکومت عوام کو دھوکہ نہیں دے رہی تھی۔ ’کوئی بھی معلومات چھپائی نہیں جارہی۔‘
یورپ میں اب تک 25 لاکھ متاثرین کی تصدیق ہوئی ہے۔ یہ سب سے زیادہ متاثرہ براعظم ہے۔ تاہم یہاں وائرس کے پھیلاؤ میں کمی آئی ہے۔
جان بچانے والی دوا ’ڈیکسامیتھازون‘ ماہرین کی نظر میں کیسے آئی؟, فرگوسن والش، طبی نامہ نگار
،تصویر کا ذریعہPA Media
یہ ایک غیر معمولی اور خوش آئند لمحہ ہے کہ ہم کووڈ 19 کے علاج کے بارے میں کچھ مثبت کہنے کے قابل ہوئے ہیں۔
ایک ہفتے پہلے تک جان بچانے والی کسی بھی دوا کی تصدیق نہیں ہو سکی تھی لیکن اب ہمارے پاس ڈیکسامیتھازون ہے، جس سے وینٹیلیٹر پر موجود ایک تہائی مریضوں میں موت کے خطرے کو کم کیا جا سکتا ہے اور جو مریض آکسیجن پر ہوں ان میں سے 20 فیصد کو بچایا سکتا ہے۔
میں ’اہم پیشرفت‘ جیسی اصطلاح کا استعمال کم ہی کرتا ہوں لیکن اس معاملے میں واقعی ایسا ہی ہوا ہے۔
امریکی ریاست اوکلاہوما کے شہر تلسہ میں ریلی کے دوران صدر ٹرمپ نے کوورنا وائرس کو ’کنگ فلو‘ کے نام سے پکارا ہے۔
صدر ٹرمپ بارہا کووڈ 19 کو ’چینی وائرس‘ یا ’ووہان وائرس‘ کے نام سے پکارتے آئے ہیں جس پر شہری آزادیوں کے متعدد گروہوں نے سخت غم و غصہ کا اظہار کرتے ہوئے کئی بار متنبہ کیا ہے کہ اس سے ایشیائی امریکیوں کے خلاف نسل پرستی اور تشدد کے واقعات میں اضافہ ہو سکتا ہے۔
لیکن امریکی اوکلاہوما کے شہر تلسہ میں ریلی کے دوران صدر ٹرمپ نے ایک بار پھر کورونا وائرس کو ’کنگ فلو‘ کے نام سے پکارا ہے۔
کووڈ 19 سے متعلق صدر ٹرمپ کا کہنا تھا ’تاریخ میں کسی بھی بیماری کے مقابلے میں اس وائرس کے زیادہ نام ہیں۔ میں اسے کنگ فلو کا نام دے سکتا ہوں۔ میں اس کے 19 مختلف طرح کے نام بتا سکتا ہوں۔‘
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔
X پوسٹ کا اختتام
عالمی وبا کے دوران صدر ٹرمپ کی ریلی میں خالی کرسیاں
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ریاست اوکلاہوما میں کووڈ 19 کی وجہ سے حالیہ لاک ڈاؤن کے بعد صدارتی مہم کی پہلی ریلی میں شرکت کی ہے۔ لیکن امید کے برعکس تلسا میں شرکا کی تعداد کم رہی۔
صدر ٹرمپ نے گذشتہ ہفتے فخریہ انداز میں کہا تھا کہ اس ریلی میں شرکت کے لیے پانچ لاکھ افراد نے ٹکٹیں خریدی ہیں۔
تاہم 19 ہزار افراد کی گنجائش والا ایرینا مکمل طور پر بھرا ہوا نہیں تھا اور اس میں خالی کرسیاں دیکھی جاسکتی ہیں۔
،تصویر کا ذریعہReuters
عالمی وبا کے دوران اس ریلی کے انعقاد پر سوال اٹھائے جا رہے تھے۔
شرکت کرنے والے افراد کے لیے لازم تھا کہ وہ ایسی دستاویز پر دستخط کریں جس سے ان کی بیماری کی صورت میں ٹرمپ کی مہم کو تحفظ ملے گا۔ تقریب کے آغاز سے قبل عملے میں موجود چھ افراد میں وائرس کے ٹیسٹ کے نتائج مثبت آئے تھے۔
یہ واضح نہیں کہ شرکا کی تعداد کم کیوں تھی۔ صدر ٹرمپ نے کئی موضوعات پر بحث کی اور شرکا کو ’جنگجو‘ قرار دیا۔ انھوں نے میڈیا اور مظاہرین پر الزام عائد کیا کہ انھوں نے حمایت کرنے والوں کو ریلی سے دور رہنے پر مجبور کیا ہے۔
برازیل: کورونا وائرس کا بحران سنگین ہو گیا، تقریباً 50 ہزار اموات
،تصویر کا ذریعہReuters
برازیل کی وزارت صحت نے سنیچر کے روز بتایا کہ برازیل میں کورونا وائرس سے ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد تقریباً 50000 ہے۔ کووڈ 19 کے باعث امریکہ کے بعد سب سے زیادہ اموات برازیل میں ہوئی ہیں۔
یہاں تصدیق شدہ متاثرین کی تعداد بھی 10 لاکھ سے زیادہ ہے۔
وزارت کے مطابق برازیل میں کووڈ 19 سے سرکاری اعدادوشمار کے مطابق 49،976 افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔
وزارت کے مطابق برازیل میں جمعہ کو متاثرین کی تعداد 10 لاکھ ہو چکی تھی اور گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 1022 اموات ہوئی ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ وسیع پیمانے پر ٹیسٹنگ کی کمی کے باعث متاثرین کی اصل تعداد کہیں زیادہ ہے۔
چین میں کووڈ 19 کے 26 نئے متاثرین، 22 کا تعلق بیجنگ سے ہے
،تصویر کا ذریعہReuters
چین میں اتوار کے روز کورونا وائرس سے متاثرہ 26 نئے متاثرین کی تصدیق کی گئی۔ گذشتہ روز رپورٹ ہونے والے متاثرین کی تعداد 27 تھی، اس میں سے زیادہ تر مریضوں کا تعلق دارالحکومت بیجنگ سے ہے۔
نیشنل ہیلتھ کمیشن نے ایک بیان میں کہا کہ گذشہ روز کی طرح ان نئے انفیکشن میں سے 22 بیجنگ سے سامنے آئے ہیں۔
20 لاکھ سے زائد آبادی پر مشتمل اس شہر میں 11 جون کو پہلا کیس رپورٹ ہوا تھا۔
نئے متاثرین کا تعلق بیجنگ کے جنوب مغرب میں ایک ہول سیل فوڈ سینٹر سے بتایا جا رہا ہے۔ وبا کی تازہ لہر کے دوران اب تک بیجنگ میں 227 افراد متاثر ہوئے ہیں۔
چین میں چھ نئے اے سیمپوٹومیٹک مریض رپورٹ ہوئے جن میں کورونا وائرس کی کوئی علامت نہیں، گذشتہ روز یہ تعداد سات تھی۔
چین میں اب تک کووڈ 19 متاثرین کی کل تعداد 83,378 ہے۔