جہاں انڈیا میں گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کورونا سے مرنے والوں
کی ریکارڈ تعداد سامنے آئی ہے، وہیںحکومتی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی رہنما، اور بھوپال سے رکن پارلیمان
سادھوی پرگیہ نے کہا ہے کہ گو موتر یعنی گائے کا پیشاب پینے سے کورونا نہیں ہوتا ہے۔
انھوں نے یہاں تک کہا ہے کہ اس کے پینے سے کورونا انفیکشن بھی
ٹھیک ہوتا ہے اور یہ پھیپھڑے کو صاف کرتا ہے۔
انھیں ایک وائرل ویڈیو میں یہ کہتے سنا جا سکتا ہے کہ وہ خود
روزانہ گو موتر پیتی ہیں اس لیے وہ ابھی تک کورونا سے محفوظ ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ گئو موتر 'زندگی بچانے والی ’چیز‘ ہے۔ وہ زعفرانی
رنگ کے کپڑے پہنتی ہیں اور خود کو سادھوی یا سنت کہتی ہیں۔
این ڈی ٹی وی کی ویب سائٹ پر شائع خبر کے مطابق دسمبر سنہ 2020 میں انھیں کووڈ کی علامات کے لیے دہلی کے ایمس ہسپتال میں داخل کیا گیا تھا اور سائنسدانوں کا بار بار کہنا ہے کہ گئو موتر یا گائے کے گوبر میں کووڈ کے علاج کی کوئی مصدقہ صلاحیت نہیں ہے۔
انڈین میڈیکل ایسوسی ایشن کے سربراہ ڈاکٹر جے اے جئے لال نے خبررساں ادارے روئٹرز کو بتایا کہ 'اس بات کے کوئی ٹھوس شواہد نہیں ہیں کہ گائے کا گوبر یا پیشاب کووڈ 19 کے خلاف قوت مدافعت میں اضافے کا باعث بنتا ہے۔'
اس سے قبل سادھوی پرگیہ نے یہ دعوی بھی کیا تھا کہ انھوں نے اپنے کینسر کا علاج بھی گوموتر سے کیا ہے۔
سوشل میڈیا پر گذشتہ روز سے ان کا ویڈیو وائرل ہے اور لوگ اس پر طرح طرح کے کمنٹس کر رہے ہیں جن میں کوئی جہالت کو کوس رہا ہے تو کوئی ان کو منتخب کرنے والی عوام کو تو کوئی کہہ رہا ہے کہ جب گائے کا گوشت کھانے والے پر سوال نہیں تو اس کے گوبر کھانے اور پیشاب پینے والوں سے سوال کیوں۔