بریکنگ, انڈیا کے صف اول کے وائرولوجسٹ شاہد جمیل کے استعفے کی وجہ کیا مودی حکومت پر تنقید تھی؟
انڈیا کے سینیئر وائرولوجسٹ ڈاکٹر شاہد جمیل نے کورونا وائرس کی مختلف اقسام کا پتہ لگانے کے لیے سائنسی مشیروں کے سرکاری فورم 'انڈین سارس-سی او سی ٹو 2 جینومکس کونسورٹیا' (انساکوگ) کے صدر کے عہدے سے استعفی دے دیا ہے۔
ڈاکٹر شاہد جمیل نے نیوز ایجنسی روئٹرز سے اپنے استعفیٰ کی تصدیق کی ہے لیکن انھوں نے واضح طور پر اس کی وجہ نہیں بتائی ہے۔
ڈاکٹر شاہد جمیل نے کہا: 'میں وجوہات بتانے کے لیے پابند نہیں ہوں۔'
ڈاکٹر جمیل نے روئٹرز کو یہ ضرور بتایا کہ مختلف اتھارٹی شواہد پر اس طرح توجہ نہیں دے رہے ہیں جو ان کی پالیسی رہی ہے۔
تاہم مبصرین کا خیال ہے کہ نیویارک ٹائمز میں مضمون کی اشاعت کے بعد 'حکومتی دباؤ' ان کے استعفے کا سبب ہو سکتا ہے۔
انساکوگ کی نگرانی کرنے والے بائیوٹیکنالوجی شعبے کے سیکریٹری رینو سوروپ نے ان کے استعفے پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔
روئٹرز نے ان کے استعفے پر مرکزی وزیر صحت ڈاکٹر ہرش وردھن سے بھی رابطہ کیا لیکن انھوں نے بھی کوئی جواب نہیں دیا۔
اسی دوران انساکوگ کے ایک رکن نے روئٹرز کو بتایا کہ وہ حکومت اور جمیل کے مابین کسی براہ راست اختلاف رائے سے آگاہ نہیں ہیں۔
اس فورم میں ایک اعلیٰ سرکاری سائنس دان نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر نیوز ایجنسی کو بتایا کہ ان کے خیال سے جمیل کے جانے سے وائرس کی مختلف اقسام پر جاری کام پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔
نیو یارک ٹائمز میں تنقید
ڈاکٹر شاہد جمیل نے حال ہی میں معروف اخبار نیو یارک ٹائمز میں شائع ایک مضمون میں انڈیا میں کووڈ 19 کی مینجمنٹ پر سخت تبصرے کیے تھے۔
اپنے مضمون میں انھوں نے کم جانچ، ویکسینیشن کی سست رفتاری، ویکسین کی عدم دستیابی کو اجاگر کیا اور صحت کے شعبے میں بڑے عملے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔
انھوں نے لکھا: 'انڈیا میں میرے سائنسداں ساتھی ان تمام طریقوں کی حمایت کرتے ہیں لیکن انھیں شواہد پر مبنی پالیسی سازی میں سخت مزاحمت کا سامنا ہے۔'
ملک میں ڈیٹا اکٹھا کرنے میں فرق پر انھوں نے کہا: '30 اپریل کو 800انڈین سائنس دانوں نے وزیر اعظم سے اپیل کی کہ انھیں دیٹا دیے جائیں تاکہ ان کی بنیاد پر وائرس کی تحقیق، پیش گوئی اور روک تھام میں انھیں مدد مل سکے۔'