ترکی اور شام میں زلزلے کے متاثرین کی مدد کے لیے وقت کم اور مقابلہ سخت ہے۔
ایک طبی کارکن نے بی بی سی کو بتایا کہ کئی عوامل رکاوٹ بنے ہوئے ہیں جیسے سرد موسم، سڑکوں کی خراب حالت اور تباہی کی شدت۔
ڈیوک یونیورسٹی کے ڈاکٹر رچرڈ ایڈورڈ مون کا کہنا ہے کہ پانی اور آکسیجن کی قلت ہے جس کی وجہ سے لوگوں کو زندہ رکھنا مشکل ہو رہا ہے۔
ہر بالغ فرد کو روزانہ 1.2 لیٹر پانی درکار ہوتا ہے۔
ڈاکٹر مون نے بتایا کہ ’پیشاب، سانس باہر نکالنے، پانی کے بخارات بننے اور پسینے سے انسانی جسم میں سے پانی نکلتا رہتا ہے۔ یہ ممکن ہے کہ ناسازگار حالات میں ایک شخص کے جسم سے آٹھ لیٹر پانی خارج ہوجائے۔‘
اس وقت ترکی اور شام کا موسم سرد ہے۔ اوسط شخص آسانی سے 21 ڈگری سیلیئس درجہ حرارت برداشت کرسکتا ہے۔ زیادہ سردی کی صورت میں جسم خود گرم رہنے کی صلاحیت کھو دیتا ہے۔
ڈاکٹر مون کے مطابق ’ایک موقع پر جسم کا درجہ حرارت ماحول کے درجہ حرارت کی پیروی کرنے لگتا ہے۔۔۔ اگر گرم رہنے کے لیے مناسب انتظام نہ ہو تو اس کا رجحان بڑھ جاتا ہے۔ اگر مسلسل ایسی صورتحال رہے تو بدقسمتی سے لوگ ہائپو تھرمیا سے جان کی بازی ہار سکتے ہیں۔‘
’میں زلزلے کی وجہ سے پھنسے ہوئے لوگوں کے لیے ہمدردی ظاہر کرتا ہوں، اور ان لوگوں کے لیے بھی جو انھیں نکالنے کی کوشش کر رہے ہیں۔‘