’مجھے ایسا لگا جیسے میں بچے کے جھولے میں ہوں‘
ترکی اور شام میں آنے والے تباہ کن زلزلے کے بعد جہاں امدادی کارروائیاں جاری ہیں وہیں اب اس کی شدت کے بارے میں عینی شاہدین کے بیانات بھی سامنے آ رہے ہیں۔
آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
ترکی اور شام میں پیر کو آنے والے زلزلے میں اب تک 28 ہزار سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ اقوامِ متحدہ نے کہا ہے کہ اب تک شام میں صرف دو امدادی قافلے پہنچ پائے ہیں اور اس نے کہا ہے کہ شام کی مدد کرنے کے لیے سب فریقوں کو ’سیاست ایک طرف رکھنی‘ ہو گی۔
بلال کریم مغل
ترکی اور شام میں آنے والے تباہ کن زلزلے کے بعد جہاں امدادی کارروائیاں جاری ہیں وہیں اب اس کی شدت کے بارے میں عینی شاہدین کے بیانات بھی سامنے آ رہے ہیں۔
ترکی میں ایک سی سی ٹی وی کیمرے کی فوٹیج سے پیر کی صبح آنے والے زلزلے کی شدت کو محسوس کیا جا سکتا ہے۔
ترک نائب صدر نے کہا ہے کہ ملک میں زلزلے کی تباہی سے اب تک 284 ہلاکتوں کی تصدیق ہوئی ہے جبکہ 2323 افراد زخمی ہوئے ہیں۔
یوں جنوبی ترکی اور شمالی شام میں اموات کی مجموعی تعداد 500 سے بڑھ گئی ہے۔
اٹلی کے حکام کا کہنا ہے کہ خطے میں زلزلے کے بعد ملک کے جنوبی علاقوں میں سونامی کی تنبیہ جاری کی گئی تھی جسے اب واپس لے لیا گیا ہے۔
گذشتہ رات لوگوں سے مطالبہ کیا گیا تھا کہ ساحلی علاقوں سے دور رہیں اور انھیں متنبہ کیا گیا تھا کہ سونامی کی لہروں کا خطرہ موجود ہے۔
پیر کی صبح اٹلی کے جنوبی و ساحلی علاقوں میں ٹرینوں کی سروس ایک گھنٹے کے لیے معطل کی گئی تھی جو اب بحال ہوچکی ہے۔
ترکی نے زلزلے کی تباہی کے پیش نظر ریاستی سطح پر ایمرجنسی (یعنی ہنگامی صورتحال) نافذ کر دی ہے۔
شہریوں سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ اپنے موبائل فونز استعمال نہ کریں تاکہ امدادی رضاکار آپس میں رابطہ قائم کر سکیں۔
بعض ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ ترکی اور شام میں حالیہ تاریخ کا سب سے بڑا زلزلہ ہے۔
امپیریکل کالج لندن کے ماہر سٹیفن ہِکس نے بتایا کہ اس سے قبل ترکی میں دسمبر 1939 کے دوران 7.8 شدت کا زلزلہ آیا تھا جس میں 30 ہزار سے زیادہ لوگ ہلاک ہوئے تھے۔
حال ہی میں جنوری 2020 کے دوران مشرقی شہر العزیز میں 6.7 کی شدت کے زلزلے میں 41 افراد ہلاک اور 1600 سے زیادہ زخمی ہوئے تھے۔
شام میں زلزلوں پر نظر رکھنے والے قومی مرکز کے سربراہ رئیس احمد نے سرکاری ریڈیو کو بتایا کہ ’یہ ہمارے مرکز کی تاریخ میں ریکارڈ کیا گیا سب سے بڑا زلزلہ ہے۔‘
یہ مرکز 1995 میں قائم کیا گیا تھا۔
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق اسرائیل نے پیر کو ترکی میں زلزلہ متاثرین کی مدد کی پیشکش کی ہے۔
اسرائیلی وزیر دفاع نے کہا ہے کہ ملک کی سکیورٹی فورسز ہر قسم کی مدد فراہم کرنے کو تیار ہے جبکہ وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ ایک مؤثر امدادی منصوبہ تیار کیا جا رہا ہے۔
شام کی وزارت صحت نے زلزلے سے ہونے والی ہلاکتوں پر ایک اپ ڈیٹ دی ہے۔
اس کے مطابق ملک بھر میں 237 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ شام کے متاثرہ علاقوں میں حلب، لاذقیہ، حماہ اور طرطوس شامل ہیں۔
شام کی وزارت صحت کے مطابق 600 سے زیادہ لوگ زخمی بھی ہوئے ہیں۔
شام اور ترکی میں زلزلے کے بعد امدادی کارکنان ملبے تلے دبے لوگوں کو بچانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق ترکی اور شام میں زلزلے سے کم از کم 195 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔
ہلاک ہونے والوں میں نصف کی تعداد شام سے ہے جو کہ پہلے ہی جنگ سے متاثرہ ملک ہے۔ ادھر ترکی نے متاثرین کی مدد کرنے کے لیے عالمی مدد کی اپیل کی ہے۔
وزارت صحت اور ایک مقامی ہسپتال نے بتایا ہے کہ شام میں حکومت کے زیر انتظام خطے اور ترک حمایتی گروہوں کے زیر کنٹرول علاقوں میں مجموعی طور پر کم از کم 119 افراد کی ہلاکت ہوئی ہے۔
ادھر ترکی میں قدرتی آفات سے نمٹنے والے ادارے نے ابتدائی طور پر 76 ہلاکتوں کے اعداد و شمار دیے مگر ساتھ یہ خدشہ بھی ظاہر کیا کہ تعداد بڑھ سکتی ہے۔
ترکی میں اموات کی تعداد اس لیے بھی بڑھ سکتی ہے کیونکہ وہاں موسم سرد ہے اور کئی رہائشی عمارتوں میں لوگ پھنسے ہوئے ہیں۔
یہ زلزلہ پیر کی صبح اندھیرے میں آیا جس کے بعد امدادی کارکنان متاثرہ علاقوں میں پہنچنے لگے۔
شام کے سرکاری میڈیا کا کہنا ہے کہ ملک میں زلزلے سے 100 سے زیادہ لوگوں کی ہلاکت ہوئی ہے جبکہ سینکڑوں افراد زخمی ہیں۔
شام کے مغربی ساحل سے لے کر دارالحکومت دمشق تک جھٹکے محسوس کیے گئے تھے۔
اس سے ترک-شام سرحد پر واقع علاقوں میں بھی نقصان ہوا ہے جو اپوزیشن کے زیر کنٹرول ہیں۔ یہاں صحت کی محدود سہولیات ہیں اور اکثر لوگ خراب حالات میں زندگی بسر کرنے پر مجبور ہیں۔
شام کے فلاحی ادارے وائٹ ہیلمٹس کی جانب سے شیئر کی گئی ایک ویڈیو میں امدادی کارروائیاں دیکھی جاسکتی ہیں جبکہ حلب میں صبح کے اندھیرے میں ہی ریسکیو اہلکار متاثرہ علاقوں میں پہنچنا شروع ہوگئے تھے۔
مقامی ذرائع ابلاغ نے بتایا ہے کہ کئی رہائشی ملبے تلے دبے ہوئے ہیں۔ شہریوں سے اپیل کی جا رہی ہے کہ لوگوں کو ہسپتال پہنچانے میں مدد کریں۔
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان مشکل کی اس گھڑی میں برادر ترکیہ کی حکومت اور عوام کے ساتھ ہے۔
’ترکیہ نے ہر مشکل میں ہمیشہ پاکستان کا ساتھ دیا ہے۔ قدرتی آفات اور موسمیاتی تبدیلیوں سے تباہی کے بڑھتے واقعات پوری دنیا کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے۔ یہ انسانیت اور کرہ ارض کی بقا کا معاملہ ہے۔ قدرتی آفات اور موسمیاتی تبدیلیوں سے تباہی کسی ایک ملک یا خطے تک محدود نہیں رہی۔‘
امریکی قومی سلامتی کے مشیر جیک سلوون نے کہا ہے کہ امریکہ نے زلزلے سے ہونے والی تباہی پر ’گہری تشویش‘ ظاہر کی ہے۔ ’امریکہ ہر قسم کی مدد اور امدادی سامان پہنچانے کے لیے تیار ہے۔‘
امریکی صدر جو بائیڈن نے اپنے ملک کے بین الاقوامی ترقیاتی ادارے کو ہدایت دی ہے کہ اس بات کا تعین کیا جائے کہ کیسے متاثرین کی مدد کی جاسکتی ہے۔
شدید نوعیت کے اس زلزلے سے نہ صرف ترکی اور شام میں نقصان ہوا ہے بلکہ اس کے جھٹکے قریب ہی لبنان، غزہ اور قبرص میں بھی محسوس کیے گئے ہیں۔
زلزلے کے مقام سے قریب 450 کلو میٹر دور لبنان کے دارالحکومت بیروت کے ایک طالبعلم نے بتایا کہ ’میں کچھ لکھ جا رہا تھا کہ اچانک پوری عمارت کانپ اُٹھی۔
’مجھے لگا کہ پھر کوئی دھماکہ ہوا ہے۔ میں کھڑکی کے قریب کھڑا تھا اور مجھے ڈر تھا کہ یہ ٹوٹ جائے گی۔ زلزلے کے چھٹکے چار سے پانچ منٹ تک جاری رہے اور یہ خوفناک منظر تھا۔‘
غزہ کی پٹی میں بی بی سی کے پروڈیوسر رشدی ابو العوف کہتے ہیں کہ جس گھر میں وہ رہ رہے تھے وہ 45 سیکنڈز تک ہلتا رہا۔
ترکی میں قدرتی آفات سے نمٹنے والے ادارے اے ایف اے ڈی کا کہنا ہے کہ زلزلے میں 76 افراد ہلاک جبکہ 440 زخمی ہوئے ہیں۔
شام کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق ملک میں زلزلے سے 42 افراد ہلاک جبکہ 200 سے زیادہ زخمی ہوئے ہیں۔
اس نے بتایا ہے کہ شمال مغربی شہر حلب میں متعدد عمارتوں کے گِرنے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔
ترک وزیر داخلہ سليمان صويلو نے کہا ہے کہ زلزلے سے 10 شہروں میں تباہی ہوئی ہے جن میں غازی انتیپ، قہرمان مرعش، حطائے، عثمانیہ، آدیامان، مالاطیہ، شانلیعرفا، آدانا، دیار بکر اور کیلیس شامل ہیں۔
مالاطیہ کے گورنر کے مطابق وہاں 23 افراد ہلاک، 42 زخمی اور 140 عمارتیں زمین بوس ہوگئی ہیں۔
ترک صدر طیب اردوغان نے زلزلے کے متاثرین کے لیے ہمدردی ظاہر کی ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ ’امید ہے ہم اس تباہی سے ایک ساتھ جلد از جلد اور کم نقصان کے ساتھ نکل سکیں گے۔‘
وہ کہتے ہیں کہ امدادی ٹیموں کو متاثرہ علاقوں میں بھیج دیا گیا ہے جبکہ دیگر یونٹ بھی الرٹ پر ہیں۔
ترکی اور شام کے حکام کے ابتدائی بیانات کے مطابق اب تک 90 ہلاکتیں ہوچکی ہیں مگر مزید اموات کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
ترکی کے شہر مالاطیہ میں 23، شانلیعرفا میں 17، دیار بکر میں چھ اور عثمانیہ میں پانچ ہلاکتوں کی تصدیق کی گئی ہے۔
سرحد پار شام میں سرکاری خبر رساں ادارے کے مطابق ملک میں تاحال 42 ہلاکتوں کی تصدیق ہوئی ہے۔