شام میں تباہی کے بعد وبائی امراض کا خدشہ

،تصویر کا ذریعہGetty Images
نتالیہ رابرٹس ڈاکٹرز ود آؤٹ بارڈرز نامی تنظیم کی ایکزیکٹیو ڈائریکٹر ہیں اور ان کی ایک ٹیم شام میں موجود ہیں۔ بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ بدقسمتی سے ان کے ایک ساتھی بھی ملبے تلے دب کر ہلاک ہو گئے ہیں۔
انھوں نے بتایا کہ ’شام میں تباہی در تباہی ہوئی ہے۔ ترکی کے گازیانتیپ جیسے علاقوں میں لاکھوں شامی شہری کافی برے حالات میں زندگی بسر کر رہے ہیں۔‘
رابرٹس نے کہا کہ ’جو لوگ زیادہ عرصے تک زخمی حالت میں ملبے تلے دبے رہتے ہیں ان کے گردے ناکارہ ہونے کا خدشہ ہوتا ہے اور آنے والے ہفتوں میں ایسے زیادہ کیسز سامنے آ سکتے ہیں۔‘
ایسے میں سردی کی شدت بھی ایک مسئلہ ہے کیوں کہ لوگ گھروں میں واپس جانے سے خوف زدہ ہیں۔
رابرٹس نےکہا کہ ’اس بات کی ضرورت ہے کہ ان کے لیے محفوظ رہائش کا بندوبست کیا جائے ورنہ وبائی امراض پھوٹنے کا بھی خدشہ ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ ’شمالی شام میں کئی ماہ تک زلزلے کے اثرات باقی رہیں گے۔‘
















