’وینس بمقابلہ ٹرمپ؟‘ ریپبلکن پارٹی کے مستقبل پر ایران جنگ کے سائے اور نائب صدر کی ’مشکل‘

    • مصنف, خشایار جنیدی
    • عہدہ, بی بی سی
  • وقت اشاعت
  • مطالعے کا وقت: 7 منٹ

امریکہ کے وسط مدتی انتخابات میں ریپبلکن پارٹی کی بھاری شکست کے بعد صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے ساتھ جنگ کے مستقبل کے حوالے سے ایک مشکل فیصلے کا سامنا ہے۔

امریکی نیوز ویب سائٹ ’ایگزیوس‘ کے مطابق امریکی صدر نے اپنے قومی سلامتی کے مشیروں سے ملاقات کے بعد کہا ہے کہ وہ جلد فیصلہ کریں گے کہ آیا ایران پر بڑے پیمانے کے حملے دوبارہ شروع کیے جائیں یا نہیں۔

دوسری جانب امریکی جریدے ’نیویارک ٹائمز‘ کے مطابق ٹرمپ کے پاس موجود آپشنز مزید پیچیدہ ہوتے جا رہے ہیں، جبکہ ’سی این این‘ نے خبردار کیا ہے کہ یہ انتخابی شکست ایران کے ساتھ کسی معاہدے یا پھر تنازع کے مزید بڑھنے اور وسیع تر جنگ کا سبب بن سکتی ہے۔

اسی دوران امریکہ میں بی بی سی کے شراکت دار ادارے ’سی بی ایس‘ نے مشرقِ وسطیٰ میں امریکہ کے تیسرے طیارہ بردار بحری جہاز کی آمد میں تاخیر کی خبر دی ہے، جبکہ ’فاکس نیوز‘ اور ’این بی سی‘ نے بھی جے ڈی وینس کے ٹرمپ کی پالیسی سے فاصلہ اختیار کرنے اور ریپبلکن پارٹی کے مستقبل کی سمت متعین کرنے کی کوششوں پر بات کی ہے۔

’ٹرمپ جلد فیصلہ کریں گے‘

امریکی نیوز ویب سائٹ ایگزیوس کے نمائندے باراک روید نے اپنی خبر میں دعویٰ کیا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعرات کو وسط مدتی انتخابات میں ریپبلکنز کی شکست کے بعد پہلی بار ایران کے بارے میں اپنے اعلیٰ قومی سلامتی مشیروں سے ملاقات کی، جس کے بعد انھوں نے اعلان کیا کہ وہ بڑے پیمانے پر حملے دوبارہ شروع کرنے کے متعلق جلد فیصلہ کریں گے۔

ٹرمپ نے صحافیوں سے کہا کہ وہ ایران کے مزید حصوں کو تباہ نہیں کرنا چاہتے، لیکن ممکن ہے کہ انھیں ایسا کرنا پڑے۔

ایگزیوس کے مطابق امریکی صدر کے سامنے تین آپشنز موجود ہیں: فوجی کارروائیوں کا دوبارہ آغاز، بحری ناکہ بندی اور معاشی دباؤ جاری رکھنا، یا ایسا معاہدہ کرنا جس کے لیے ایران کو کچھ رعایتیں دینی پڑیں۔

ادھر قطری ثالث دونوں ممالک کو دو مرحلوں پر مشتمل ایک منصوبے پر آمادہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اس تجویز کے تحت پہلے دن امریکہ بحری ناکہ بندی ختم کرے گا اور ایران کے منجمد اثاثوں میں سے کچھ جاری کرے گا، جبکہ تہران بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کے معائنہ کاروں کو بمباری کا نشانہ بننے والی تنصیبات کے دورے کی دعوت دے گا۔

منصوبے کے مطابق دوسرے دن آبنائے ہرمز دوبارہ کھول دی جائے گی اور جوہری توانائی معاملات پر مذاکرات بحال ہوں گے، جن میں توجہ کا مرکز ایران کے افزودہ یورینیم کے ذخائر ہوں گے۔

ایگزیوس کا مزید کہنا ہے کہ امریکی فوج کی مرکزی کمان سینٹ کام ممکنہ نئی کارروائیوں کے حوالے سے تیاریاں کر رہی ہے، تاہم فی الحال اسے حملے شروع کرنے کے حوالے سے ابھی تک کوئی نیا حکم موصول نہیں ہوا۔

’ٹرمپ کی شکست وسیع تر جنگ کا باعث بن سکتی ہے‘

امریکی نشریاتی ادارے ’سی این این‘ نے امریکی وسط مدتی انتخابات کے بین الاقوامی اثرات سے متعلق اپنے تجزیے میں لکھا ہے کہ ریپبلکن پارٹی کی شکست کا لازمی طور پر یہ مطلب نہیں کہ ایران کے ساتھ جنگ کے خطرات کم ہو جائیں گے۔

سی این این کے مطابق ایرانی حکام نے ٹرمپ کی انتخابی شکست کا خیر مقدم کیا ہے۔ وہ اسے ایران کی جانب سے امریکہ پر جنگ کے معاشی اور سیاسی اخراجات مسلط کرنے کی حکمتِ عملی کی کامیابی کی علامت قرار دیتے ہیں۔

تاہم تہران اب بھی یہ بات حتمی طور پر نہیں کر سکتا کہ وسط مدتی انتخابات میں شکست واشنگٹن کی پالیسی میں کسی تبدیلی کا باعث بنے گی۔

انٹرنیشنل کرائسس گروپ سے وابستہ علی واعظ نے سی این این کو بتایا کہ ایران کے ساتھ جنگ اب ڈونلڈ ٹرمپ کے لیے ایک سیاسی بوجھ بن چکی ہے جس کے باعث ان کے پاس دو ہی راستے رہ گئے ہیں۔

'یا تو ایسا معاہدہ کریں جسے وہ اپنی کامیابی کے طور پر پیش کر سکیں یا پھر دوبارہ برتری حاصل کرنے کے لیے فوجی کارروائیوں میں شدت لائی جائے۔

واعظ نے خبردار کیا ہے کہ انتخابات میں کمزور ہونے والا صدر سیاسی شکست کا ازالہ کرنے کے لیے میدانِ جنگ میں کامیابی حاصل کرنے کی کوشش کر سکتا ہے۔

سی این این کے مطابق کانگریس کا کنٹرول حاصل کرنے کے بعد ڈیموکریٹس کو ڈونلڈ ٹرمپ کی خارجہ پالیسی کو چیلنج کرنے کے لیے زیادہ وسائل اور اختیارات حاصل ہوں گے، تاہم بطور صدر ان کے پاس فوجی کارروائیوں کے بارے میں فیصلے کرنے کے لیے اب بھی وسیع اختیارات موجود ہیں.

تیسرے امریکی طیارہ بردار بحری بیڑے کی مشرقِ وسطیٰ پہنچنے میں تاخیر

سی بی ایس کی ایک رپورٹ کے مطابق مشرقِ وسطیٰ میں امریکی فوجی موجودگی مضبوط بنانے کے لیے تعینات کیا جانے والا تھیوڈور روزویلٹ طیارہ بردار بحری بیڑے کا سٹرائیک گروپ خطے میں داخل ہونے سے قبل سنگاپور میں قیام کرے گا۔

ایک امریکی اہلکار کے مطابق یہ بحری جہاز جمعے کے روز سنگاپور پہنچے گا اور توقع نہیں ہے کہ وہ نومبر کے وسط سے پہلے سینٹ کام کے آپریشنل علاقے میں پہنچ سکے۔

اس وقت خطے میں امریکی طیارہ بردار بحری جہازوں کے دو جنگی گروپ موجود ہیں اور فوجی حکام کا کہنا ہے کہ دستیاب صلاحیت صدر کی جانب سے ممکنہ احکامات پر عمل درآمد کے لیے کافی ہے۔

تاہم تیسرے طیارہ بردار بحری جہاز کی تعیناتی سے امریکہ کی بڑے پیمانے اور طویل فاصلے تک کارروائیاں کرنے کی صلاحیت میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

سی بی ایس کی یہ رپورٹ ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ڈونلڈ ٹرمپ نے نئی فوجی کارروائیوں کے بارے میں ابھی تک اپنا حتمی فیصلہ نہیں کیا، جبکہ فوجی موجودگی بڑھانے کے ساتھ ساتھ جنگ کے ایک نئے مرحلے کو روکنے کے لیے سفارتی کوششیں بھی جاری ہیں۔

کیا وینس ٹرمپ سے اپنی راہیں جدا کر لیں گے؟

این بی سی نے مڈٹرم الیکشن میں ریپبلکنز کی شکست کے بعد سامنے آنے والے امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کے غیر معمولی مؤقف کا جائزہ لیا ہے جس نے ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ ان کے تعلقات اور سیاسی مستقبل کے بارے میں سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

جے ڈی وینس نے ایک واضح پیغام دیتے ہوئے کہا ہے کہ ریپبلکنز کی شکست کا بنیادی سبب ایران کے جنگ ہے اور پارٹی کے مستقبل سے متعلق کسی بھی سنجیدہ بحث کا آغاز اس حقیقت کو تسلیم کرنے سے ہونا چاہیے۔

یہ مؤقف ڈونلڈ ٹرمپ کے اس فیصلے کے دفاع سے مختلف ہے جس کے تحت جنگ کا آغاز کیا گیا تھا، اگرچہ صدر نے بھی تسلیم کیا ہے کہ جنگ کے بعد تیل کی قیمتوں میں اضافے نے ریپبلکنز کو نقصان پہنچایا۔

جے ڈی وینس اس وقت ایک مشکل صورتِحال سے دوچار ہیں۔ ایک جانب وہ نائب صدر ہیں اور اسی انتظامیہ کا حصہ ہیں جس نے یہ جنگ شروع کی، جبکہ دوسری جانب انھیں 2028 کے صدارتی انتخاب میں ریپبلکن امیدوار بننے کے اہم امیدواروں میں شمار کیا جاتا ہے۔

جنگ پر تنقید جے ڈی وینس کو ریپبلکن ووٹروں کے ایک ایسے حلقے سے جوڑ سکتی ہے جو پارٹی سے بددل ہو چکا ہے، لیکن ڈونلڈ ٹرمپ سے بہت زیادہ فاصلہ اختیار کرنا صدر اور ان کے حامیوں کے ساتھ ان کے تعلقات کو پیچیدہ بھی بنا سکتا ہے۔

جے ڈی وینس کی جنگ مخالف ریپبلکنز کا نیا اتحاد بنانے کی کوشش

امریکی نشریاتی ادارے فاکس نیوز نے ایک خصوصی رپورٹ میں باخبر ذرائع کے حوالے سے کہا ہے کہ جے ڈی وینس ریپبلکنز کی بھاری شکست کے بعد 2028 کے انتخاب کے لیے ٹرمپ کے ناراض حامیوں کا ایک نیا اتحاد تشکیل دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔

فاکس نیوز کے مطابق امریکی نائب صدر ایسے ریپبلکن ووٹروں کو ایک پلیٹ فارم پر لانا چاہتے ہیں جو بیرونِ ملک جنگوں، بڑھتی ہوئی مہنگائی اور اسرائیل کے بارے میں واشنگٹن کی پالیسی سے ناخوش ہیں، اور اس مقصد کے لیے وہ 'امریکہ فرسٹ' کے نعرے کی جانب واپسی پر زور دے رہے ہیں۔

جے ڈی وینس نے اپنے پیغام میں ووٹروں کو دوبارہ ریپبلکن پارٹی کی طرف راغب کرنے کے لیے چار ترجیحات بیان کیں: ایران کے ساتھ جنگ کا خاتمہ، مہنگائی پر قابو پانا، امریکہ کے داخلی مفادات پر توجہ دینا، اور اسرائیل کے ساتھ واشنگٹن کے تعلقات میں تبدیلی لانا۔

فاکس نیوز نے ایک عہدیدار کے حوالے سے خبر دی ہے کہ یہ پیغام ’نیو رائٹ‘ نامی اتحاد کی بنیاد بن سکتا ہے، ایک ایسی تحریک جو مداخلت پسندانہ خارجہ پالیسی کے بارے میں شکوک رکھتی ہے اور بیرونِ ملک طویل جنگوں کی مخالفت سے متعلق ٹرمپ کے ابتدائی وعدوں کی طرف واپسی چاہتا ہے۔

تاہم فاکس نیوز کے ذرائع نے زور دے کر کہا ہے کہ جے ڈی وینس کا مقصد براہِ راست ڈونلڈ ٹرمپ کا مقابلہ کرنا نہیں، بلکہ ایسے ووٹروں کی حمایت حاصل کرنا ہے جو صدر کی حمایت جاری رکھے ہوئے ہیں لیکن ان کی بعض خارجہ پالیسیوں سے اختلاف رکھتے ہیں۔

'BBC News اردو' ایڈیشن کا انتخاب کریں اور نیوز الرٹس، تحقیقاتی اور تفصیلی رپورٹس، سب کچھ ایک ہی جگہ پر حاصل کریں۔

نوٹ: نئی ایپ برطانیہ اور امریکہ میں دستیاب نہیں ہے اور اس کا انگریزی زبان میں ایڈیشن موجود نہیں۔