بیوی کو نشہ آور ادویات دے کر اجنبی مردوں سے ریپ کروانے والا شخص ’دوہری زندگی‘ گزار رہا تھا

A court sketch of nine men sitting in a dock inside a courtroom.
 Defendants: Back row L-R: Alan Keelan, prison staff, Richard Townsend and Jonathan Kirk.
Front row L-R: Philip Wild, Daniel Rayner, Mohammed Sabir, prison staff and Jordan Wallace.
،تصویر کا کیپشننو مردوں پر پر الزام ہے کہ انھوں نے ایک بے ہوش خاتون کے ساتھ، اس کے شوہر کی دعوت پر، ریپ کیا۔
    • مصنف, جونی ہمفریز
    • مقام, مانچسٹر منشل سٹریٹ کراؤن کورٹ
  • وقت اشاعت
  • مطالعے کا وقت: 8 منٹ

انتباہ: اس رپورٹ میں ایسی تفصیلات شامل ہیں جو قارئین کے لیے تکلیف کا باعث ہو سکتی ہیں۔

برطانیہ کے شہر مانچسٹر میں ایک مقدمے کی سماعت کے دوران جیوری کو بتایا گیا ہے کہ ایک خاتون، جو یہ سمجھتی تھیں کہ انھوں نے نو برس سے جنسی تعلق قائم نہیں کیا، درحقیقت اپنے شوہر اور اجنبی مردوں کے ایک گروہ کے ہاتھوں بار بار نشہ آور ادویات دیے جانے کے بعد ریپ کا نشانہ بنتی رہی تھیں۔

استغاثہ کے مطابق یہ ایسے افراد تھے جن کی ’اخلاقی پستی کی کوئی حد نہیں تھی۔‘

استغاثہ کے مطابق ان کے شوہر ’دوہری زندگی‘ گزار رہے تھے اور وہ باقاعدگی سے اپنی بیوی کو مختلف ادویات کی مدد سے ایسا ’نشہ‘ دیتے تھے جس سے وہ اپنے ساتھ ہونے والے ریپ اور جنسی بدسلوکی سے ’مکمل طور پر بے خبر‘ رہتی تھیں۔

خاتون کے شوہر اور چار دیگر مرد پہلے ہی متعدد جرائم کا اعتراف کر چکے ہیں، تاہم دیگر نو ملزمان، جو تمام الزامات سے انکار کرتے ہیں، کے خلاف مقدمے کی سماعت مانچسٹر منشل سٹریٹ کراؤن کورٹ میں شروع ہو گئی ہے۔

استغاثہ کی جانب سے ابتدائی دلائل دیتے ہوئے لوئز اوکلے کے سی نے کہا کہ خاتون اپنی زندگی میں خوش اور مطمئن تھیں، تاہم ’ان کی دنیا اس وقت بدل گئی جب پولیس نے ان کے گھر کے دروازے پر دستک دی۔‘

مقدمے کے آغاز سے قبل ٹرائل جج مورس گرین نے جیوری کو خبردار کیا کہ انھیں ایسے شواہد دیکھنے ہوں گے جو ’صدمے اور غصے‘ کے جذبات پیدا کر سکتے ہیں۔

اوکلے نے مقدمے کا آغاز کرتے ہوئے جیوری کو ایسی ویڈیوز دکھائیں جن میں ساٹھ برس کی عمر کی ایک خاتون کو، استغاثہ کے مطابق، بے ہوشی کی حالت میں ریپ اور جنسی حملوں کا نشانہ بنایا جا رہا تھا۔

جیوری نے سنا کہ شوہر اور متاثرہ خاتون بظاہر ایسا جوڑا نظر آتے تھے جو ریٹائرمنٹ کے منتظر تھے اور ’مصروف زندگی گزارتے تھے، اپنے گھر اور باغ سے لطف اندوز ہوتے تھے، خاندان اور دوستوں کے ساتھ وقت گزارتے تھے، بیرونِ ملک تعطیلات مناتے تھے، اور یہ سب کچھ ایک ساتھ کرتے تھے۔‘

تاہم اوکلے نے کہا کہ شوہر، جن کی عمر بھی ساٹھ برس سے زائد ہے اور جن کی شناخت ان کی بیوی کے قانونی حقِ گمنامی کے باعث ظاہر نہیں کی جا سکتی، 2004 سے گریٹر مانچسٹر کے علاقے سٹاکپورٹ میں واقع اپنے گھر سے بے ہوش بیوی کے ساتھ ریپ اور جنسی حملوں کی ویڈیوز اور تصاویر آن لائن شیئر کرتے آ رہے تھے۔

انھوں نے عدالت کو بتایا: ’آپ کو شاید یقین نہ آئے کہ یہ جرائم اس سے بھی زیادہ سنگین ہو سکتے تھے، لیکن ایسا ہی ہوا۔‘

A composite image of three of the defendants - one is bald with an earring and has a big beard, the other is in a green uniform with brown hair and the oter is in a black zip up top with curly hair, a beard and earrings
،تصویر کا کیپشنایلن کیلن، جوناتھن کرک اور جارڈن والیس اپنے خلاف الزامات سے انکار کرتے ہیں
مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

جیوری کو بتایا گیا کہ شوہر برسوں سے اپنی بیوی کے ریپ کے لیے مردوں کو گھر بلانے کی بات کرتا رہا تھا، تاہم استغاثہ کے مطابق اس نے کم از کم 2023 سے اس پر عملدرآمد شروع کر دیا تھا۔

استغاثہ کا کہنا تھا کہ یہ مرد ’اچھی طرح جانتے تھے کہ وہ ہوش میں نہیں ہیں۔ وہ وہاں اسی لیے موجود تھے تاکہ ان کے بے خبر ہونے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ان کے جسم کو استعمال کر سکیں۔‘

اوکلے نے کہا کہ جب پولیس نے شوہر کا سام سنگ گلیکسی موبائل فون قبضے میں لیا تو وہ ایک طرح سے ’اعترافِ جرم کا ذخیرہ‘ ثابت ہوا، جس میں اس کے ’تاریک ترین راز‘ اور ’وحشیانہ جنسی تصورات‘ محفوظ تھے۔

تفتیش کاروں نے فون سے دس لاکھ سے زیادہ تصاویر اور ویڈیوز برآمد کیں، جو بقول استغاثہ شوہر کی جانب سے کی جانے والی بدسلوکی کا ریکارڈ تھیں۔

اوکلے نے کہا کہ ان فائلوں نے پولیس کو تقریباً ’ایک مکمل سکرپٹ‘ فراہم کر دیا، جس سے نہ صرف شوہر بلکہ مقدمے کا سامنا کرنے والے نو مردوں کے مبینہ جرائم کی تفصیلات بھی سامنے آئیں۔

انھوں نے کہا: ’ان کی اخلاقی پستی کی کوئی حد نظر نہیں آتی۔‘

’یہ لوگ بھی دوہری زندگیاں گزار رہے تھے۔ یا تو رات کی تاریکی میں [گھر کے پتے] پر آتے جاتے تھے تاکہ کسی کی نظر میں نہ آئیں، یا پھر اپنے موبائل فونز اور کمپیوٹروں کی سکرینوں کے پیچھے چھپے رہتے تھے، غالباً یہ سمجھتے ہوئے کہ وہ محفوظ ہیں۔‘

جیوری کو بتایا گیا کہ زیرِ سماعت ملزمان میں مبینہ طور پر براہِ راست ملوث افراد بھی شامل ہیں، جن میں 43 سالہ پیرامیڈک جوناتھن کرک، 59 سالہ ٹیکسی ڈرائیور فلپ وائلڈ، 42 سالہ شوقیہ فٹبال کوچ ایلن کیلن، 28 سالہ ریکروٹمنٹ ایجنسی کے ملازم محمد صابر، 31 سالہ جارڈن والیس، جو ایک بلڈنگ سپلائیز کمپنی میں کام کرتے تھے، 37 سالہ شیٹ میٹل ورکر رچرڈ ٹاؤن سینڈ اور 70 سالہ ریٹائرڈ رابرٹ سٹیورٹ شامل ہیں۔

جیوری نے یہ بھی سنا کہ دو دیگر افراد، ڈینیل رینر اور ڈیوڈ گریوز، کو مبینہ طور پر ’سہولت کاری کرنے والے ملزمان‘ قرار دیا گیا ہے۔ استغاثہ کے مطابق وہ متاثرہ خاتون کے گھر نہیں گئے تھے، لیکن انھوں نے مبینہ طور پر حوصلہ افزائی کی یا دیگر طریقوں سے معاونت فراہم کی۔

اوکلے نے جیوری سے کہا: ’اس مقدمے کے دوران آپ غیر روایتی جنسی سرگرمیوں، جیسے ’سوئنگنگ‘، ’سلیپ فیٹشز‘ اور دیگر ’کنکس‘ کے حوالے سن سکتے ہیں۔

’ممکن ہے دفاع یہ مؤقف اختیار کرے کہ جو تصاویر آپ دیکھیں گے وہ پہلے سے ترتیب دی گئی تھیں اور [متاثرہ خاتون] درحقیقت اپنے شوہر کے ساتھ ایک خیالی کردار ادا کرنے کے حصے کے طور پر سونے یا بے ہوش ہونے کا ڈرامہ کر رہی تھیں۔‘

’استغاثہ کا مؤقف ہے کہ یہ محض پردہ ڈالنے کی کوشش ہے۔ ان مردوں کے اقدامات کو غیر روایتی لیکن باہمی رضامندی پر مبنی جنسی سرگرمی قرار نہیں دیا جا سکتا۔‘

’یہ واضح طور پر ریپ اور جنسی حملہ تھا۔‘

A man in his 70s, with white hair and wearing a light grey shirt with a blue tie, looks past the camera with a blank expression.
،تصویر کا کیپشن74 سالہ گراہم بروہم نے مقدمے کی گذشتہ سماعت میں اپنا مؤقف بدلتے ہوئے جرم کا اعتراف کر لیا تھا

اوکلی نے سٹیورٹ کی جانب سے شوہر کو بھیجے گئے ایک پیغام کی مثال دی، جو استغاثہ کے مطابق ستمبر 2025 میں متاثرہ خاتون کے ساتھ مبینہ ریپ کے چند گھنٹوں بعد بھیجا گیا تھا۔

انھوں نے پڑھ کر سنایا: ’دوست، آج سارا دن مجھے اس بارے میں برا احساس رہا ہے۔‘

’اپنے فون وغیرہ سے تمام تصاویر حذف کر دو، یہ بہت خطرناک ہو گیا ہے۔ فرانس والے شخص کو نہ بھولو۔‘

’مجھے اپنے فون اور زندگی دونوں سے نکال دو۔ اگر وہ تمھیں پکڑ لیتی تو بہت بڑا مسئلہ کھڑا ہو جاتا، تمھاری شادی ختم ہو جاتی اور تمھاری زندگی برباد ہو جاتی۔"‘

اوکلے نے جیوری سے کہا: ’جیسا کہ آپ کو یقیناً یاد ہو گا، یہاں جس ’فرانس والے شخص‘ کا ذکر کیا جا رہا ہے وہ، وہ شخص تھا جو فرانس میں اپنی بیوی کو نشہ آور ادویات دے کر اس کے ریپ کا انتظام کرتا رہا تھا۔ اس مقدمے کی متاثرہ خاتون جزیل پیلیکوٹ تھیں۔‘

’بیمار اور مکروہ‘

جیوری کو بتایا گیا کہ سٹاکپورٹ کے مقدمے میں شوہر جرم کا اعتراف کر چکا ہے، اپنے اقدامات سے متعلق بیان بھی ریکارڈ کرا چکا ہے اور بطور گواہ عدالت میں پیش ہو گا۔

استغاثہ کے مطابق اس نے بتایا کہ اس نے 2000 کی دہائی کے آغاز میں اپنی بیوی کے ساتھ بدسلوکی شروع کی تھی۔

ابتدا میں وہ اس وقت اپنی بیوی کی ویڈیوز بناتا تھا جب وہ اس سے لاعلم ہوتیں اور ان تصاویر کو ’صرف اپنے لیے‘ محفوظ رکھتا تھا۔

تاہم بعد میں اس نے یہ تصاویر آن لائن چیٹ رومز میں اپنے جیسے ’ہم خیال‘ مردوں کے ساتھ شیئر کرنا شروع کر دیں۔

اوکلے نے کہا کہ اس ایک ’بیمار اور مکروہ موڑ‘ میں وہ بعض اوقات آن لائن گفتگو کے دوران اپنی بیوی بن کر بھی بات کرتا تھا، تاہم استغاثہ کے مطابق یہ سلسلہ نسبتاً ابتدائی مرحلے ہی میں ختم ہو گیا تھا۔

A man in his 30s, with a large beard, grey wool hat and blue bubble coat, stands outside a stone building holding a black vape to his mouth.
،تصویر کا کیپشن38 سالہ شان پیئرز نے اس ماہ کے اوائل میں اپنا مؤقف تبدیل کرتے ہوئے جرم قبول کر لیا تھا اور خاتون پر جنسی حملے کا اعتراف بھی کیا تھا۔

جیوری کو بتایا گیا کہ اس معاملے کی تحقیقات اکتوبر 2025 میں اس وقت شروع ہوئیں جب خفیہ تحقیقاتی صحافیوں کی ایک ٹیم نے پیغام رسانی کی ایپ ٹیلیگرام پر موجود ایک نجی چینل تک رسائی حاصل کی۔

استغاثہ کے مطابق اس چینل پر ایسے مرد تصاویر شیئر کر رہے تھے جن میں بظاہر بے ہوش خواتین کو ریپ اور جنسی حملوں کا نشانہ بنایا جا رہا تھا۔

اوکلے نے کہا کہ ایک صارف خاص طور پر یہ دعویٰ کرتا تھا کہ وہ اپنی بیوی کو منشیات دے کر اس کا ریپ کرتا ہے، دوسروں کو بھی اس عمل میں شریک ہونے کی دعوت دیتا ہے اور اس کی تصاویر بھی شیئر کرتا ہے۔

استغاثہ کے مطابق اس صارف کا تعلق ایک ایسے فون نمبر سے جوڑا گیا جو شوہر کے نام پر رجسٹرڈ تھا، جس کے بعد گریٹر مانچسٹر پولیس نے اس کے گھر کی تلاشی کے لیے وارنٹ حاصل کیا۔

اوکلے نے بتایا کہ فون کا مواد حاصل کرنے پر تفتیش کاروں کو ’وزٹس‘ کے عنوان سے ایک محفوظ فولڈر ملا، جس میں وہ میسجنگ ایپس بھی موجود تھیں جن کے ذریعے اس نے دیگر ملزمان سے رابطے کیے تھے۔

انھوں نے کہا کہ جیوری کو صرف چند منتخب فائلیں دکھائی جائیں گی، تاہم پولیس تمام فائلوں کا باریک بینی سے جائزہ لے چکی ہے۔

شوہر نے 62 جرائم کا اعتراف کیا ہے، جن میں ریپ، کسی شخص کو جان بوجھ کر نشہ آور مادہ دینا، نجی نوعیت کی تصاویر شیئر کرنا اور جنسی حملہ شامل ہیں۔

سکاٹ لینڈ کے شہر ڈنڈی سے تعلق رکھنے والے 59 سالہ کیتھ فودرنگھم، سٹاکپورٹ کے 38 سالہ شان پیئرز، چیشائر کے نارتھ وچ کے 74 سالہ گراہم بروہم اور سمرسیٹ کے ٹانٹن کے 55 سالہ کارل لنڈسے بھی متعدد جرائم کا اعتراف کر چکے ہیں۔

مقدمے کی سماعت جاری ہے۔

بی بی سی نیوز اردو ایڈیشن کا انتخاب کریں اور نیوز الرٹس، تحقیقاتی اور تفصیلی رپورٹس، سب کچھ ایک ہی جگہ پر حاصل کریں

نوٹ: نئی ایپ برطانیہ اور امریکہ میں دستیاب نہیں ہے اور اس کا انگریزی زبان میں ایڈیشن موجود نہیں۔