آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
چین اور پاکستان کی بڑھتی فضائی طاقت کا مقابلہ: انڈیا ففتھ جنریشن لڑاکا طیارے کیسے حاصل کرنا چاہتا ہے؟
- مصنف, بی بی سی مانیٹرنگ
- وقت اشاعت
- مطالعے کا وقت: 6 منٹ
انڈیا نے اپنی فضائی جنگی صلاحیتوں اور چین کے تیزی سے بڑھتے ہوئے سٹیلتھ جنگی طیاروں کے بیڑے کے بارے میں بڑھتی ہوئی تشویش کے پیشِ نظر ففتھ جنریشن کے لڑاکا طیارے حاصل کرنے کی کوششیں تیز کر دی ہیں۔
ان منصوبوں کے مرکز میں ایڈوانسڈ میڈیم کمبیٹ ایئرکرافٹ (اے ایم سی اے) پروگرام ہے، جو انڈیا کا پہلا مقامی طور پر تیار کردہ سٹیلتھ لڑاکا طیارہ بنانے کا منصوبہ ہے۔ تاہم اس منصوبے کو تاخیر کا سامنا ہے۔
دوسری جانب روس اور امریکہ نے بھی انڈیا کو پیشکش کی ہے، لیکن نئی دہلی نے ابھی تک کسی غیر ملکی طیارے کی خریداری کا حتمی فیصلہ نہیں کیا۔
انڈیا کے سامنے بنیادی چیلنج یہ ہے کہ وہ ایک طرف اپنی فوری دفاعی صلاحیتوں میں موجود خلا کو پُر کرے اور دوسری طرف ایک جدید مقامی دفاعی صنعت بھی قائم کرے، جو دفاعی شعبے میں خود انحصاری کے اس کے ہدف سے ہم آہنگ ہو۔
اسی لیے انڈیا کو یہ فیصلہ کرنا ہے کہ آیا وہ اپنی ففتھ جنریشن کے لڑاکا طیارے خود تیار کرے یا انھیں کسی دوسرے ملک سے خریدے۔
اے ایم سی اے منصوبہ کیا ہے؟
اے ایم سی اے انڈیا کا مقامی ففتھ جنریشن کا سٹیلتھ لڑاکا طیارہ پروگرام ہے جسے ایروناٹیکل ڈویلپمنٹ ایجنسی (اے ڈی اے)، ڈیفنس ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ آرگنائزیشن (ڈی آر ڈی او) کے تحت تیار کر رہی ہے، جبکہ سرکاری اور نجی شعبے کی فضائی صنعتیں بھی اس میں شریک ہیں۔
اس منصوبے کی منظوری 2024 میں انڈین کابینہ کی سلامتی کمیٹی نے دی تھی اور اس کی ترقیاتی لاگت تقریباً ڈیڑھ ارب ڈالر بتائی جاتی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس پروگرام کا بنیادی مقصد انڈین فضائیہ کی جنگی صلاحیتوں میں اضافہ اور جدید فوجی ہوابازی کی ٹیکنالوجی کے لیے بیرونی ممالک پر انحصار کم کرنا ہے۔ اے ایم سی اے کو دو انجنوں والے کثیر المقاصد سٹیلتھ طیارے کے طور پر ڈیزائن کیا جا رہا ہے جو فضائی برتری، دشمن کے طیاروں کی روک تھام اور درست نشانہ بنانے والی کارروائیوں کی صلاحیت رکھے گا۔
منصوبے کے مطابق اس کی پہلی آزمائشی پرواز ستمبر 2028 میں متوقع ہے جبکہ اسے 2030 کی دہائی میں انڈین فضائیہ میں شامل کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ تاہم بعض دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ منصوبہ اب بھی ابتدائی نمونوں کی تیاری کے لیے نجی کمپنی کے انتخاب کے مرحلے میں ہے، جس کے باعث اتنی جلدی آزمائشی پرواز کے ہدف پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔
انڈیا کو اس منصوبے کی ضرورت کیوں محسوس ہو رہی ہے؟
انڈیا کی فضائی قوت کے حوالے سے بڑھتے ہوئے خدشات کی کئی وجوہات ہیں۔ لڑاکا سکواڈرنز کی تعداد میں کمی، مقامی طیارہ سازی کے منصوبوں میں تاخیر اور چین اور پاکستان کی بڑھتی ہوئی عسکری صلاحیتیں انڈیا کے لیے پریشانی کا سبب بن رہی ہیں۔ ابھی تک انڈین فضائیہ کے پاس تقریباً 29 لڑاکا سکواڈرن موجود ہیں جبکہ اسے 42 سکواڈرن درکار ہیں۔
اکتوبر کے آخر میں اے ایم سی اے منصوبے کے لیے تین نجی کمپنیوں نے اپنے اپنے ترقیاتی منصوبے اور بولیاں پیش کیں۔ قبل ازیں انڈین وزارتِ دفاع نے ٹاٹا ایڈوانسڈ سسٹمز، لارسن اینڈ ٹوبرو کی قیادت میں قائم کنسورشیم اور انڈیا فورج کی قیادت میں قائم کنسورشیم کو پانچ ابتدائی پروٹوٹائپ تیار کرنے کے لیے مدعو کیا تھا۔
مقامی تیاری یا بیرونِ ملک خریداری؟
انڈیا کو اس وقت ایک اہم سٹریٹجک انتخاب کا سامنا ہے: کیا وہ اپنا جنگی طیارہ خود تیار کرے یا بیرونِ ملک سے خریدے؟ مقامی تیاری کے فوائد میں دفاعی صنعت کو فروغ، بیرونی انحصار میں کمی، ٹیکنالوجی اپ گریڈ اور دیکھ بھال پر زیادہ کنٹرول شامل ہیں۔ تاہم اے ایم سی اے ایک طویل المدتی منصوبہ ہے جسے تکنیکی، مالی اور صنعتی چیلنجز کا سامنا ہے۔
ستمبر میں انڈین سیکریٹری دفاع راجیش کمار سنگھ نے کہا تھا کہ کسی غیر ملکی ففتھ جنریشن کے طیارے کی خریداری کے بارے میں ابھی کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا۔
دوسری جانب اکتوبر میں ریٹائر ہونے والے انڈین فضائیہ کے سربراہ ایئر چیف مارشل اے پی سنگھ نے کہا تھا کہ اگر اے ایم سی اے منصوبے میں مزید تاخیر ہوئی تو انڈین فضائیہ متبادل آپشنز پر غور کر سکتی ہے۔
اس بحث میں اس لیے بھی شدت آئی ہے کیونکہ چین پہلے ہی جے-20 ففتھ جنریشن کے سٹیلتھ طیارے استعمال کر رہا ہے جبکہ پاکستان کے بارے میں اطلاعات ہیں کہ وہ چین کے جے-35 طیارے حاصل کرنے کے امکانات کا جائزہ لے رہا ہے۔
اس کے برعکس انڈیا کے پاس تاحال کوئی آپریشنل ففتھ جنریشن جنگی طیارہ موجود نہیں۔
روس اور امریکہ کی پیشکش
روس اور امریکہ انڈیا کی ضروریات پوری کرنے کے لیے مختلف تجاویز دے رہے ہیں۔
روس نے انڈیا کو سخوئی-57 ای پیش کیا ہے جو اس کے ففتھ جنریشن کے سٹیلتھ لڑاکا طیارے کا برآمدی ورژن ہے۔ روسی صدر ولادیمیر پوتن جون میں اس پیشکش کا اعادہ بھی کر چکے ہیں۔
اطلاعات کے مطابق روس انڈیا کو مقامی پیداوار، ٹیکنالوجی کی منتقلی اور صنعتی شراکت داری غیر معمولی رعایتیں دینے پر آمادہ ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق روس یوکرین جنگ اور پابندیوں کے دباؤ کے باعث ایسی پیشکش کر رہا ہے۔
امریکہ نے زیادہ وسیع دفاعی تعاون کی تجویز دی ہے۔ ان شعبوں میں جدید ہوا بازی کی ٹیکنالوجی تک رسائی، جدید انجنوں کی فراہمی، مشترکہ ترقی کے امکانات اور امریکی دفاعی نظام کے ساتھ زیادہ انضمام کے شعبے شامل ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فروری 2025 میں واشنگٹن میں وزیرِ اعظم نریندر مودی کے دورے کے دوران کہا تھا کہ امریکہ انڈیا کو ایف-35 سٹیلتھ لڑاکا طیارے فراہم کرنے کے لیے تیار ہے۔ تاہم اکتوبر 2026 میں اُس وقت کے انڈین فضائیہ کے سربراہ نے کہا تھا کہ امریکہ کی جانب سے ابھی تک کوئی باضابطہ پیشکش موصول نہیں ہوئی۔
انڈیا کے سامنے اصل سوال کیا ہے؟
انڈیا کی دفاعی منصوبہ بندی کا بڑا سوال یہ ہے کہ آیا وہ اے ایم سی اے کی تکمیل کا انتظار کرے یا فوری ضرورت پوری کرنے کے لیے غیر ملکی پانچویں نسل کے طیارے حاصل کرے۔
ماہرین کے مطابق نئی دہلی کو اپنی موجودہ فضائی کمزوریوں کو دور کرنے، جدید ٹیکنالوجی تک رسائی حاصل کرنے اور مقامی طیارہ سازی کے پروگرام کو تیز کرنے کے درمیان توازن قائم کرنا ہوگا تاکہ بھارتی فضائیہ کی طویل المدتی خود کفالت اور جنگی صلاحیت برقرار رہ سکے۔
'BBC News اردو' ایڈیشن کا انتخاب کریں اور نیوز الرٹس، تحقیقاتی اور تفصیلی رپورٹس، سب کچھ ایک ہی جگہ پر حاصل کریں۔
نوٹ: نئی ایپ برطانیہ اور امریکہ میں دستیاب نہیں ہے اور اس کا انگریزی زبان میں ایڈیشن موجود نہیں۔