ریاض ایئرپورٹ 17 اکتوبر تک بند: ’فضائی دفاعی نظام حوثی میزائلوں کو روکنے میں کیوں ناکام رہا، سعودی عرب میں تحقیقات کا آغاز‘
یمنی گروہ انصار اللہ کے مسلسل حملوں کے بعد سعودی دارالحکومت ریاض کے شاہ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کو کم از کم 17 اکتوبر تک بند رکھا جائے گا۔
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق گذشتہ ہفتے شاہ خالد ایئرپورٹ پر ہونے والے حملوں کے نتیجے میں کم از کم 18 افراد ہلاک جبکہ 300 سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔ اِن حملوں میں سنیچر کی شب ہونے والا ایک حملہ بھی شامل ہے، جس میں 13 افراد مارے گئے تھے۔
خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ نے سنیچر کے حملے کو گذشتہ ایک دہائی سے زائد عرصے میں سعودی سرزمین پر ہونے والا ’مہلک ترین حملہ‘ قرار دیا تھا۔
دوسری جانب خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس نے علاقائی حکام کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ سعودی عرب نے یہ جاننے کے لیے تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے کہ حوثی گروہ کی جانب سے داغے گئے میزائلوں اور ڈرونز کو اِس کے فضائی دفاعی نظام کیوں نہ روک سکے۔
حکام کے مطابق ابتدائی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ حوثی گروہ نے پہلے متعدد ڈرونز کا استعمال کیا، جس کے بعد کروز میزائل اور بیلسٹک میزائل فضائی دفاعی نظام سے بچتے ہوئے ایئرپورٹ کی عمارت کو نشانہ بنانے میں کامیاب ہوئے۔
ایک عہدیدار نے بتایا کہ تحقیقات کا مقصد یہ معلوم کرنا بھی ہے کہ فضائی دفاعی نظام حملوں کے بارے میں پیشگی انتباہ فراہم کرنے میں کیوں ناکام رہا۔
اس صورتحال کے پیش نظر متحدہ عرب امارات کی قومی فضائی کمپنی ’اتحاد ایئرویز‘ نے اعلان کیا ہے کہ اس نے ابوظبی اور ریاض کے لیے اپنی تمام پروازیں 19 اکتوبر تک منسوخ کر دی ہیں۔ اس کے علاوہ اتحاد ایئرویز کی جانب سے ابوظبی سے جدہ اور دمام جانے والی پروازیں بھی معطل کی گئی ہیں۔
قطر ایئرویز نے بھی ’موجودہ صورتحال‘ کے پیش نظر ریاض اور دمام کے لیے اپنی پروازیں عارضی طور پر معطل کرنے کا اعلان کیا ہے۔
بحرین کی ’گلف ایئر‘ نے کہا ہے کہ اس نے آئندہ ہفتے کے روز تک ریاض کے لیے اپنی پروازیں منسوخ کر دی ہیں، جبکہ امریکی فضائی کمپنی ڈیلٹا نے اٹلانٹا اور ریاض کے درمیان 23 اکتوبر سے شروع ہونے والی اپنی براہ راست پروازوں کے منصوبے کو مؤخر کر دیا ہے۔
امریکی سفارتخانے نے امریکی حکومت کے ملازمین کو ہدایت کی ہے کہ سعودی عرب کے کسی بھی ایئرپورٹ کے استعمال سے پہلے سفارتخانے کی منظوری حاصل کریں، جبکہ امریکی شہریوں کو بھی مملکت کے ہوائی اڈوں کے ذریعے سفر کی صورت میں ’انتہائی احتیاط‘ برتنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔ یاد رہے کہ شاہ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر حالیہ حملے میں ایک امریکی شہری بھی مارا گیا تھا۔
سعودی حکام نے گذشتہ دنوں ریاض ایئرپورٹ پر ہونے والے حملے کی سی سی ٹی وی فوٹیج بھی جاری کی ہے، جس میں مسافروں کو، جن میں بعض احرام پہنے ہوئے تھے، دھماکے سے قبل ایئرپورٹ کے اندر دیکھا جا سکتا ہے۔ بعد ازاں دھماکا ہوتا ہے اور جلتا ہوا ملبہ عمارت کے اندر گرتا دکھائی دیتا ہے۔