آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

سعودی فوجی اتحاد کا ریاض سمیت مختلف شہروں میں حوثیوں کی جانب سے داغے گئے میزائل اور ڈرونز روکنے کا دعویٰ

سعودی عرب کی قیادت میں فوجی اتحاد نے دعویٰ کیا ہے کہ منگل کی شب حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب کے مختلف شہروں کی جانب داغے جانے والے کروز، بیلسٹک میزائل اور ڈرونز کو روک کر تباہ کر دیا گیا ہے۔ اتحاد کے ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی نے ایکس پر بتایا کہ ظہران شہر میں میزائل کا ملبہ شہری آبادی پر گرا ہے جس کے بعد مقامی انتظامیہ متحرک ہے۔

خلاصہ

لائیو کوریج

  1. اس وقت ’سہیل آفریدی کا سٹیٹس آف لائن‘ ہے، کوئی مقدمہ نہ ہوا تو رہا کر دیا جائے گا: گورنر خیبر پختونخوا

    پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے گورنر فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے کہ ’صوبے کو درپیش مسائل اور مشکلات کے باوجود اب ہم درست سمت میں سفر کا آغاز کر چکے ہیں۔‘

    گورنر راج کے نفاذ کے بعد پشاور میں نیوز کانفرنس کرتے ہوئے اُنھوں نے کہا کہ ’اب وفاق کے ساتھ گالم گلوچ کی سیاست نہیں ہوگی بلکہ دلیل اور مؤثر مکالمے کے ذریعے صوبے کا مقدمہ پیش کیا جائے گا۔ ہماری پالیسی کابل، قندھار یا جلال آباد سے نہیں بلکہ اسلام آباد سے طے ہو گی۔‘

    سہیل آفریدی کے حوالے سے اُنھوں نے کہا کہ ’اس وقت ان کا سٹیٹس آف لائن ہے اور وہ حفاظتی تحویل میں ہیں۔ جن افراد کے خلاف کوئی مقدمات نہیں ہوں گے اگر ان کے خلاف کیس نہ ہوا تو انھیں رہا کر دیا جائے گا، ورنہ انھیں قانون کا سامنا کرنا پڑے گا۔‘

    اُنھوں نے کہا کہ اندھیرا ختم ہو چکا ہے اور اب ہمارا سفر روشنی کی جانب گامزن ہے۔ جنگیں صرف فوجیں نہیں بلکہ قومیں مل کر لڑتی ہیں، اور پوری قوم سکیورٹی فورسز کے شانہ بشانہ کھڑی ہوگی۔

    فیصل کریم کنڈی نے اعلان کیا کہ صوبے میں سکیورٹی فورسز کو درکار وسائل کی فراہمی کے لیے جنگی بنیادوں پر اقدامات کیے جائیں گے اور ان کے بجٹ میں بھی اضافہ کیا جائے گا۔

    اُنھوں نے بتایا کہ صوبے میں انٹرنیٹ بحالی کا عمل شروع ہو چکا ہے جبکہ ایک یا دو روز میں بند راستے بھی کھول دیے جائیں گے، جس کے بعد معمولاتِ زندگی بحال ہونا شروع ہو جائیں گے۔

    گورنر خیبر پختونخوا نے کہا، ’ان کا کنٹینر لاوارث کھڑا ہے، میں انتظار کر رہا ہوں کہ کوئی آ کر اسے لے جائے۔‘

    اُنھوں نے مزید کہا کہ ’صدر کا اقدام ایک سرجری کی مانند تھا، کیونکہ جب اینٹی بائیوٹک سے مسئلہ حل نہ ہو تو پھر سرجری ناگزیر ہو جاتی ہے۔ ہماری پولیس طویل عرصے سے قربانیاں دے رہی ہے، شہادتیں ہو رہی ہیں، اب اس مسئلے کا مستقل حل نکالا جانا چاہیے۔‘

  2. تصاویر: سہیل آفریدی کا ٹرک مردان میں کس حالت میں کھڑا ہے؟

    پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے خیبر پختونخوا میں چار اکتوبر سے لانگ مارچ شروع کیا کیا تھا، تاہم گذشتہ روز صوبے میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کے بعد سہیل آفریدی کو نقص امن کے خدشے کے تحت تحویل میں لے لیا گیا ہے۔

    سہیل آفریدی اور ان کے قریبی ساتھی جس ٹرک پر سوار ہو کر صوبے بھر میں احتجاجی جلسوں سے خطاب کر رہے تھے اب وہ مردان میں کھڑا ہے۔

    خبر رساں ادارے اے ایف پی کی تصاویر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ یہ کنٹینر نما ٹرک اب مردان کے ایک بس ٹرمینل پر کھڑا ہے اور اس کے گرد کچھ پولیس اہلکاروں اور کچھ دیگر افراد کو دیکھا جا سکتا ہے۔

  3. پاکستان کی وفاقی حکومت نے سہیل آفریدی کو تحویل میں لینے کی تصدیق کر دی

    پاکستان کے وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے بین الاقوامی میڈیا کے نمائندوں کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کے بعد وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کو خدشۂ نقصِ امن کے تحت تحویل میں لیا گیا ہے، اور ان کے مطابق اس کی تصدیق وزارت داخلہ بھی کر چکی ہے۔

    پیر کو عطا تارڑ کا کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا کابینہ کے دیگر ارکان کے خلاف قانونی کارروائی سے متعلق فیصلہ گورنر خیبر پختونخوا کی نگرانی میں قائم ایڈوائزری کونسل کرے گی۔ تاہم انھوں نے یہ نہیں بتایا کہ آیا دیگر وزرا کو بھی اسی بنیاد پر تحویل میں لیا گیا ہے یا نہیں۔

    قانونی ماہرین کے مطابق ضابطہ فوجداری کی دفعہ 3 ایم پی او کے تحت حکومت یا قانون نافذ کرنے والے ادارے کسی بھی شخص کو تحویل میں لے سکتے ہیں۔

    ایک سوال کے جواب میں پاکستان کے وزیر اطلاعات نے کہا کہ سہیل آفریدی پر نو مئی کے واقعات میں فرد جرم عائد کی جائے گی یا نہیں، اس کا فیصلہ بھی ایڈوائزری کونسل کرے گی۔

    عطا تارڑ نے الزام عائد کیا کہ سہیل آفریدی کی سربراہی میں صوبائی حکومت کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے ساتھ پاور شیئرنگ کے فارمولے پر عمل پیرا تھی۔

    ان کا کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کے خلاف عوام سڑکوں پر نہیں نکلے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ لوگ اس اقدام کی حمایت کر رہے ہیں۔

    اس موقع پر پاکستانی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے صحافیوں کو بتایا کہ ملک میں پہلی بار ایمرجنسی نافذ نہیں کی گئی ،بلکہ ماضی میں مختلف حالات میں آٹھ مرتبہ ایسا کیا جا چکا ہے۔

    ان کے بقول گورنر راج میں تین مرتبہ دو، دو ماہ کی توسیع کی جا سکتی ہے، جبکہ مزید توسیع کا طریقہ کار بھی آئین میں موجود ہے۔

    انھوں نے مزید کہا کہ اگر پاکستان تحریک انصاف وفاقی حکومت کے فیصلے کو سپریم کورٹ یا آئینی عدالت میں چیلنج کرتی ہے تو حکومت اپنے اقدام کا دفاع کرے گی۔

    وزیر قانون کے مطابق خیبر پختونخوا میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کی استعداد کار بڑھانے کے لیے اربوں روپے فراہم کیے گئے لیکن یہ رقم مؤثر انداز میں استعمال نہیں کی گئی۔

    اعظم نذیر تارڑ نے بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں شدت پسندی کے بڑھتے واقعات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان کے وزیراعلیٰ امن و امان کی صورتحال بہتر بنانے کے لیے سرگرم ہیں، جبکہ ان کے بقول سہیل آفریدی شدت پسند حملوں میں ہلاک ہونے والے پولیس اور سکیورٹی اہلکاروں کے جنازوں میں بھی شرکت نہیں کرتے تھے۔

  4. لاہور ہائی کورٹ بار کا خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کو چیلنج کرنے کا اعلان

    لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن نے خیبر پختونخوا میں نافذ ایمرجنسی اور گورنر راج کو عدالتوں میں چیلنج کرنے کا اعلان کیا ہے۔

    پیر کو جاری ایک بیان میں لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر بابر مرتضیٰ کا کہنا تھا کہ ’لاہور ہائی کورٹ بار غیر قانونی اقدام کے خلاف اعلیٰ عدالتوں میں درخواست دائر کر رہی ہے۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ منگل کو کراچی بار میں وکلا ایکشن کمیٹی کا اجلاس ہوگا جہاں آئندہ لائحہ عمل کا اعلان کیا جائے گا۔

    دوسری جانب وفاقی وزیر پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری کا کہنا ہے اسلام آباد سے رکاوٹوں کے لیے لگائے گئے کنٹینرز ہٹانے کا کام شروع کر دیا ہے، جس کے بعد شہریوں کو آمد و رفت میں درپیش مشکلات کم ہوں گی۔

    خیال رہے پاکستان تحریک انصاف کے لانگ مارچ کے اعلان کے بعد اسلام آباد میں متعدد مقامات پر کنٹینرز رکھ کر راستے بند کر دیے گئے تھے۔

    طارق فضل چوہدری نے مزید کہا کہ انھیں امید ہے کہ دوبارہ شہر میں کنٹینرز لگانے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔

  5. گذشتہ چند ہفتوں کے ’انتہائی سنگین‘ واقعات پر سعودی عرب کا جواب سخت ہونا چاہیے: وزیر توانائی

    سعودی عرب کے وزیرِ توانائی شہزادہ عبدالعزیز بن سلمان نے کہا ہے کہ گذشتہ چند ہفتوں میں انتہائی سنگین واقعات پیش آئے ہیں اور ان کے ملک کا رد عمل بھی اسی قدر سخت ہونا چاہیے۔

    وزیر توانائی کا بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب یمن کے حوثیوں کے حملوں کے باعث ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل آیئرپورٹ پر آپریشنز کی معطلی میں توسیع کر دی گئی ہے۔

    ہفتے اور اتوار کو حوثیوں نے ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل آیئرپورٹ کو نشانہ بنایا تھا۔ ہفتے کے روز ہونے والے حملے میں 13 افراد ہلاک اور 300 سے زائد زخمی ہوئے تھے۔

    ریاض میں ورلڈ پیٹرولیم کانگریس کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سعودی وزیرِ توانائی اور شاہ سلمان کے بیٹے نے مزید کہا کہ عالمی توانائی کا شعبہ ایک حقیقی امتحان سے گزر رہا ہے۔

    انھوں نے نشاندہی کی کہ سعودی عرب نے بحران پیدا ہونے سے پہلے ہی توانائی کے تحفظ کو برقرار رکھنے کے لیے منصوبہ بندی کر رکھی تھی۔

    سعودی وزیرِ توانائی کے مطابق ’سب کے لیے توانائی کی فراہمی اسی صورت ممکن ہے جب سب کے لیے توانائی کا تحفظ یقینی بنایا جائے۔‘

  6. حکومت کے پاس خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ کے علاوہ کوئی آپشن نہیں تھا: نائب وزیر اعظم

    پاکستان کے نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’حکومت کے پاس ایمرجنسی کے سوا کوئی آپشن نہیں بچا تھا۔

    انسٹی ٹیوٹ آف سٹریٹجک سٹڈیز میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے پاکستان تحریک انصاف کے احتجاج کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ’دھرنوں اور احتجاج کے سبب معیشت کو شدید نقصان پہنچتا ہے۔‘

    انھوں نے اپنی تقریر میں افغانستان میں طالبان حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ’پاکستان کا افغانستان سے صرف ایک مطالبہ ہے کہ وہ اپنی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہ ہونے دے۔ افغانستان میں کالعدم ٹی ٹی پی اور دیگر دہشتگردوں کی موجودگی خطے کے امن کے لیے خطرہ ہے۔‘

    پاکستان کے وزیر خارجہ نے افغان طالبان پر الزام عائد کرتے ہوئے مزید کہا کہ وہ ’دہشتگردوں کو اسلحے سمیت ہر قسم کی امداد‘ دینا بند کریں۔

  7. کوئٹہ کے قریب پاکستان فوج کا تربیتی طیارہ گر کر تباہ، دو پائلٹس ہلاک

    پاکستان فوج کے ترجمان ادارے آئی ایس پی آر کے مطابق بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ کے قریب پاکستانی فوج کے ایوی ایشن کا مشاق تربیتی طیارہ گر کر تباہ ہونے سے دو پائلٹس ہلاک ہو گئے ہیں۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق نواں کلی کے علاقے میں پیش آنے والے حادثے میں ہلاک ہونے والوں میں میجر حسنین شہزاد ہمایوں اور کیپٹن عبد الصمد شامل ہیں۔

    میجر حسنین ہمایوں انسٹرکٹر پائلٹ جبکہ کیپٹن عبدالصمد سٹوڈنٹ پائلٹ تھے۔

  8. این سی سی آئی اے نے اقرار الحسن کو گرفتار کرنے کی تردید کر دی

    نیشنل سائبر کرائمز انویسٹیگیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) نے سیاسی جماعت عوام راج تحریک کے سربراہ اور اینکر پرسن اقرار الحسن کو گرفتار کرنے کی تردید کی ہے۔

    این سی سی آئی اے حکام نے جوڈیشل مجسٹریٹ کو آگاہ کیا ہے کہ اقرار الحسن ان کی تحویل میں نہیں ہیں۔

    دوسری جانب اقرار الحسن کے وکیل میاں علی اشفاق نے لاہور ہائیکورٹ سے رجوع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اقرار الحسن کی بازیابی کے لیے حبسِ بے جا کی درخواست دائر کی جا رہی ہے۔

    اقرار الحسن کی اہلیہ فرح اقرار نے دعویٰ کیا تھا کہ نا معلوم افراد اتوار اور سوموار کی درمیانی شب، تقریباً تین بجے، لاہور میں ان کے گھر میں داخل ہوئے اور ان کے شوہر کو ’اغوا کر کے لے گئے۔‘

    فیس بک پر اپ لوڈ کی گئی ویڈیو میں فرح کا کہنا تھا کہ اِن افراد کے ساتھ خواتین بھی موجود تھیں، جن کے بازوؤں پر انھوں نے ’این سی سی آئی اے‘ لکھا ہوا دیکھا تھا۔

    بی بی سی کی لاہور میں موجود نامہ نگار ترہب اصغر سے گفتگو میں فرح اقرار نے بتایا تھا کہ وہ اقرار الحسن کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کے لیے این سی سی آئی اے کے دفتر بھی گئی تھیں، تاہم انھیں بتایا گیا کہ متعلقہ عملہ اس وقت موجود نہیں اور وہ صبح 10 بجے دفتر کھلنے کے بعد آئیں۔

    ان کے مطابق، اس کے بعد لاہور کے تھانہ ڈیفنس میں ایف آئی آر (فرسٹ انفارمیشن رپورٹ) درج کرانے کی کوشش کی گئی لیکن وہاں بھی ان کی درخواست وصول نہیں کی گئی۔

  9. ترقیاتی منصوبوں کی قربانی دے سکتے ہیں لیکن سکیورٹی پر سمجھوتہ نہیں ہو گا: فیصل کریم کنڈی

    گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی اور وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کی صدارت میں پشاور میں صوبائی ایپکس کمیٹی کا اجلاس ہوا۔

    اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ شدت پسندی اور انتہا پسندی کا خاتمہ حکومت کی اولین ترجیح ہے، ترقیاتی منصوبوں کی قربانی دی جا سکتی ہے لیکن سکیورٹی پر سمجھوتہ نہیں ہو گا۔

    فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ انھوں نے چیف سیکریٹری کو ہدایت کی ہے کہ پولیس اور کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (محکمہ انسداد دہشت گردی، سی ٹی ڈی) کی تمام جائز ضروریات پوری کی جائیں کیونکہ شدت پسندی کے خلاف جنگ میں یہی ادارے پہلی دفاعی صف میں کھڑے ہیں۔

    گورنر خیبر پختونخوا کا کہنا تھا کہ ماضی میں مختلف اداروں کے درمیان مطلوبہ ہم آہنگی موجود نہیں تھی، تاہم اب تمام اداروں کو ایک سمت میں کام کرنا ہو گا اور اس ہم آہنگی کے ’نتائج بھی نظر آئیں گے۔‘

    فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ اگر وفاق نے موجودہ ٹیم پر اعتماد کیا ہے تو اسے اپنی کارکردگی سے فرق ثابت کرنا ہوگا۔ ’جو کام گذشتہ 13 برس میں نہیں ہو سکا، وہ ہمیں آئندہ تین ماہ میں کر کے دکھانا ہے۔‘

    انھوں نے سرکاری افسران کو تنبیہ کرتے ہوئے کہا کہ جو کام کرنے کے لیے تیار ہیں وہ ذمہ داریاں جاری رکھیں گے، جبکہ کارکردگی نہ دکھانے والوں کی جگہ دوسرے افسران کو لایا جا سکتا ہے۔

    صوبائی ایپیکس کمیٹی اجلاس سے خطاب میں فیصل کریم کنڈی کا کہنا تھا کہ حکومت محض نمائشی اقدامات کے بجائے نتائج دکھانا چاہتی ہے اور امن و امان کی صورتحال میں بہتری عوام کو عملی طور پر نظر آنی چاہیے۔

    انھوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا کے عوام امن اور خوشحالی چاہتے ہیں، صوبے کے پاس وسائل موجود ہیں اور امن کے قیام سے سرمایہ کاری اور اقتصادی سرگرمیوں کو فروغ ملے گا۔

  10. ایمرجنسی اور گورنر راج کے بعد خیبر پختونخوا میں اب حکومت کون اور کیسے چلائے گا؟

    خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کے بعد آج پشاور میں سکیورٹی کے غیر معمولی انتظامات دیکھنے میں آئے، جہاں بکتر بند پولیس گاڑیوں نے شہر کے مختلف علاقوں میں گشت کیا جبکہ پولیس کی اضافی نفری بھی تعینات کی گئی۔

    دوسری جانب ایمرجنسی کے باعث کئی تعلیمی ادارے بند رہے اور طلبہ گھروں کو واپس جاتے دکھائی دیے۔

    خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کے بعد وفاقی حکومت نے صوبے میں فوج کی تعیناتی اور صوبائی معاملات آگے بڑھانے کے لیے 11 رُکنی مشاورتی کونسل قائم کی ہے۔

    وفاقی حکومت کی جانب سے آئین کے آرٹیکل 232 اور 234 کے تحت اٹھائے گئے اقدامات کے ذریعے وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا، صوبائی وزرا، مشیران، معاونین، ایڈوکیٹ جنرل اور دیگر کئی آئینی عہدیداران کو فوری طور پر غیر فعال کر دیا گیا ہے۔

    صوبے کی پولیس اور بیوروکریسی میں بھی بڑے پیمانے پر تبادلے کیے گئے ہیں۔

    جبکہ آرٹیکل 245 کے تحت افواج پاکستان کو صوبائی حکومت کی معاونت کے لیے تعینات کرنے کا حکم بھی جاری کیا گیا ہے۔

    جانیے کہ 11 رکنی مشاورتی کونسل میں کون کون شامل ہیں، اور یہ صوبے کے معاملات کیسےچلائے گی؟

  11. گورنر راج کے بعد خیبر پختونخوا کی پولیس اور بیوروکریسی میں بڑے پیمانے پر تبادلے

    خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد صوبائی انتظامیہ اور پولیس کے ڈھانچے میں تبدیلیوں کا سلسلہ جاری ہے۔ ایک جانب ایک درجن سے زائد اضلاع کے ڈپٹی کمشنروں کے تبادلے اور نئی تعیناتیاں عمل میں لائی گئی ہیں، تو دوسری جانب اعلیٰ پولیس افسران کے تبادلوں اور تقرریوں کا بھی نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا ہے۔

    نوٹیفیکیشن کے مطابق چار پولیس افسران کو اسلام آباد میں اسٹیبلشمنٹ ڈویژن رپورٹ کرنے کی ہدایت کی گئی ہے؛ ہزارہ، ملاکنڈ اور کوہاٹ کے ریجنل پولیس آفیسرز تبدیل کیے گئے ہیں، اور کئی اضلاع کے ڈی پی اوز (ڈسٹرکٹ پولیس آفیسرز) سمیت کُل 18 افسران کے تبادلے کیے گئے ہیں۔

    خیبر پختونخوا کے ڈپٹی انسپکٹر جنرل پولیس کے دستخط سے جاری نوٹیفیکیشن کے مطابق ایڈیشنل آئی جی ٹریننگ ڈاکٹر فصیح الدین اور ڈی آئی جی لیگل ہمایوں مسعود سندھو کو عہدوں سے ہٹا کر اسٹیبلشمنٹ ڈویژن اسلام آباد رپورٹ کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

    کوہاٹ کے ریجنل پولیس آفیسر (آر پی او) عرفان طارق کو بھی اسٹیبلشمنٹ ڈویژن اسلام آباد رپورٹ کرنے کی ہدایت کی گئی ہے اور ان کی جگہ شاکر حسین داور کو تعینات کیا گیا ہے۔

    نوٹیفیکیشن کے مطابق ملاکنڈ ریجن کے آر پی او سید فدا حسن شاہ کو صوبے کا ڈی آئی جی آپریشنز لگا دیا گیا ہے۔

    اسی طرح مانسہرہ، سوات، کرک، چترال اور ہری پور کے ضلعی پولیس افسران (ڈی پی او) بھی تبدیل کیے گئے ہیں۔

    دوسری جانب، صوبائی بیوروکریسی میں بھی تبدیلیاں کی گئی ہیں۔

    حکومت نے پشاور، مردان، صوابی، چترال لوئر، دیر اپر، شانگلہ، ملاکنڈ، سوات، اپر سوات، بٹگرام، مانسہرہ، ایبٹ آباد، ہری پور، چارسدہ، بنوں، لکی مروت اور کرک سمیت متعدد اضلاع کے ڈپٹی کمشنروں کو تبدیل کرتے ہوئے انھیں ہیومن ریسورس منیجمنٹ ڈیپارٹمنٹ کو رپورٹ کرنے کی ہدایت کی ہے۔ ان کی جگہ نئے ڈپٹی کمشنر تعینات کیے گئے ہیں۔

  12. امریکہ کا فضائی کمپنیوں کو سعودی عرب کی فضائی حدود کے بارے میں انتباہ

    امریکی ہوابازی کے ادارے )فیڈرل ایوی ایشن ایڈمنسٹریشن، ایف اے اے) نے امریکی ایئرلائنز اور امریکی رجسٹریشن رکھنے والے طیاروں کو خبردار کیا ہے کہ وہ سعودی عرب آنے جانے یا اس کی فضائی حدود سے گزرنے کے دوران غیر معمولی احتیاط برتیں۔

    ادارے نے موجودہ صورتحال کو ’ممکنہ طور پر خطرناک‘ قرار دیتے ہوئے متنبہ کیا ہے کہ یہ خطرات ہر بلندی پر پرواز کرنے والے طیاروں کو متاثر کر سکتے ہیں، خواہ وہ سعودی فضائی حدود سے گزر رہے ہوں، لینڈنگ کی تیاری کر رہے ہوں یا ٹیک آف کر رہے ہوں۔

    یہ ہدایت 10 دسمبر تک مؤثر رہے گی۔

    یہ انتباہ ایسے وقت میں جاری کیا گیا ہے جب ریاض انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر سنیچر اور اتوار کو ہونے والے حملوں کے بعد سکیورٹی خدشات میں اضافہ ہوا ہے۔ ان حملوں میں 13 افراد ہلاک اور 300 سے زائد زخمی ہوئے تھے۔

    دوسری جانب سعودی دار الحکومت کے مرکزی ہوائی اڈے کی بندش میں بھی توسیع کی جا چکی ہے اور تازہ فضائی اطلاع (نوٹم) کے مطابق ایئرپورٹ پیر کی شام تک پروازوں کے لیے بند رہے گا۔

  13. اسلام آباد پولیس کا ریپ کے جھوٹے مقدمات درج کرانے والوں کے خلاف کارروائی کا فیصلہ

    اسلام آباد پولیس نے ریپ کے جھوٹے مقدمات درج کرانے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کا فیصلہ کیا ہے۔

    ترجمان اسلام آباد پولیس کے مطابق ڈی آئی جی اسلام آباد علی وسیم نے اینٹی ریپ ایکٹ کے تحت سات مقدمات کے مدعیان اور گواہان کے خلاف مقدمات درج کرنے کا حکم دے دیا ہے۔

    پولیس کے مطابق ایسے افراد کے خلاف کارروائی کی جائے گی جو ریپ جیسے سنگین جرم کے جھوٹے مقدمات درج کراتے ہیں یا بعد میں بڑی رقوم کے عوض ملزمان کے حق میں بیانات دے کر مقدمات کے اخراج کا باعث بنتے ہیں۔

    ڈی آئی جی علی وسیم نے کہا کہ ریپ جیسے حساس اور سنگین جرم کا جھوٹا الزام لگا کر ذاتی مفادات حاصل کرنے اور قانون کا غلط استعمال کرنے والوں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

    ان کا کہنا تھا کہ اینٹی ریپ ایکٹ کے تحت اس کارروائی کا مقصد قانون کے غلط استعمال کی حوصلہ شکنی کرنا اور انصاف کی فراہمی کے نظام کو مؤثر بنانا ہے۔

  14. تحریک طالبان پاکستان کے چھ ہزار سے زائد شدت پسند افغانستان میں ہیں: پاکستان کا الزام

    پاکستان کے وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے الزام عائد کیا ہے کہ افغانستان میں 20 ہزار سے زائد شدت پسند موجود ہیں جبکہ تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے چھ ہزار سے زائد جنگجو افغان سر زمین پر پناہ لیے ہوئے ہیں۔

    انسداد دہشت گردی کے بدلتے ہوئے منظرنامے پر اسلام آباد میں منعقدہ ایک کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ پاکستان مختلف بین الاقوامی اور سفارتی فورمز پر افغان حکومت سے مطالبہ کرتا رہا ہے کہ وہ اپنی سر زمین شدت پسندوں کو استعمال نہ کرنے دے۔

    وزیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ شدت پسند افغان سر زمین پر محفوظ ٹھکانوں میں مقیم ہیں اور وہاں مختلف نوعیت کی تربیت حاصل کر رہے ہیں۔

    واضح رہے کہ پاکستان اس سے پہلے بھی یہ الزام لگا چکا ہے کہ شدت پسند افغانستان میں محفوظ پناہ گاہوں سے پاکستان پر حملے کرتے ہیں یا حملوں کی منصوبہ بندی کرتے ہیں، تاہم افغانستان میں طالبان حکومت ان الزامات کو مسترد کرتی ہے اور یہ مؤقف اختیار کرتی ہے کہ ٹی ٹی پی پاکستان کا داخلی معاملہ ہے۔

    عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ پاکستان افغانستان میں انتہا پسندی اور شدت پسندی کے خاتمے کا خواہاں ہے اور خطے میں امن و استحکام کے لیے تعمیری کردار ادا کرتا رہے گا۔

    کانفرنس سے خطاب میں وزیر اطلاعات نے کہا کہ پاکستان اس وقت شدت پسندی کے سنگین چیلنج کا سامنا کر رہا ہے، تاہم ملک نے شدت پسندی کے خلاف جنگ میں بے مثال قربانیاں دے کر نہ صرف اپنی بلکہ دنیا کی سلامتی کے لیے بھی اہم کردار ادا کیا ہے۔

    عطا تارڑ نے دعویٰ کیا کہ شدت پسندی کے خلاف جنگ میں پاکستان نے سب سے زیادہ قربانیاں دی ہیں اور ملک کو 100 ارب ڈالر سے زائد کا معاشی نقصان برداشت کرنا پڑا ہے۔

    وزیر اطلاعات نے کہا کہ پاکستان کو انتہا پسندی کے چیلنج کا بھی سامنا ہے، لیکن ریاستی ادارے اور عوام مل کر اس خطرے کے مقابلے کے لیے پرعزم ہیں۔

    انھوں نے کہا کہ پاکستان نے امریکہ اور ایران کے درمیان ثالث کے طور پر بھی کردار ادا کیا اور علاقائی امن و استحکام کے لیے مثبت سفارتی کوششیں جاری رکھیں۔

    وزیر اطلاعات نے اس بات پر زور دیا کہ ایک پُر امن اور مستحکم افغانستان نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے کے مفاد میں ہے، اور پاکستان خطے میں پائیدار امن کے قیام کے لیے اپنا تعمیری کردار ادا کرتا رہے گا۔

  15. ترکی میں بس اور ٹرک کا تصادم، 11 افراد ہلاک، 27 زخمی

    ترکی کے مغربی علاقے میں ایک مسافر بس اور ٹرک کے درمیان تصادم کے نتیجے میں کم از کم 11 افراد ہلاک اور 27 زخمی ہو گئے ہیں۔

    خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق، صوبہ مانیسا کے گورنر آفس نے بتایا کہ یہ حادثہ سیاحتی شہر بورسا اور ساحلی شہر ازمیر کے درمیان ایک شاہراہ کے داخلی مقام کے قریب پیش آیا۔

    ترکی کے وزیر داخلہ مصطفیٰ چیفتچی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ امدادی ٹیمیں فوری طور پر جائے حادثہ پر پہنچ گئیں اور وہ خود صورت حال کی نگرانی کر رہے ہیں۔

    حادثے کے بعد لی گئی تصاویر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ بس سڑک کے کنارے حفاظتی رکاوٹوں پر چڑھی ہوئی ہے۔

    ترک میڈیا کے مطابق، تحقیقات کے سلسلے میں بس اور ٹرک دونوں کے ڈرائیوروں کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔ ان کی جسمانی حالت کے بارے میں فی الحال کوئی تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔

  16. خیبر پختونخوا میں امن و امان اور انسدادِ دہشت گردی اقدامات کا جائزہ لینے کے لیے گورنر کی صدارت میں اجلاس

    خیبر پختونخوا کے گورنر فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے کہ صوبے میں امن و امان کی صورتحال اور انسدادِ دہشت گردی کی کوششوں کا جائزہ لینے کے لیے ایک اعلیٰ سطح اجلاس منعقد کیا گیا، جس میں مشیر برائے داخلہ کفایت اللہ خان، چیف سیکریٹری ڈاکٹر محمد فخر عالم عرفان، انسپکٹر جنرل پولیس ذوالفقار حمید اور دیگر سینئر حکام نے شرکت کی۔

    سوشل میڈیا ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ حکومت پولیس اور محکمہ انسدادِ دہشت گردی (سی ٹی ڈی) کو مزید مضبوط بنانے اور اہلکاروں کو درکار سہولیات اور معاونت فراہم کرنے کے لیے پُرعزم ہے۔

    انھوں نے مزید کہا کہ خیبر پختونخوا پہلے ہی بہت قربانیاں دے چکا ہے اور حکومت کی اولین ترجیح عوام کا تحفظ اور صوبے میں پائیدار امن کا قیام ہے۔

  17. نقاب پوش افراد رات تین بجے گھر میں داخل ہوئے اور اقرار الحسن کو ساتھ لے گئے: اہلیہ فرح اقرار کا دعویٰ

    صحافی اور سیاسی جماعت عوام راج تحریک کے بانی اقرار الحسن کی اہلیہ فرح اقرار نے دعویٰ کیا ہے کہ نا معلوم افراد اتوار اور سوموار کی درمیانی شب، تقریباً تین بجے، لاہور میں ان کے گھر میں داخل ہوئے اور ان کے شوہر کو ’اغوا کر کے لے گئے۔‘

    فرح اقرار کے مطابق اقرار الحسن کو اپنے ساتھ لے جانے والے افراد گھر سے موبائل فون، لیپ ٹاپ، ڈیجیٹل ویڈیو ریکارڈر اور سی سی ٹی وی فوٹیج بھی لے گئے۔

    سوشل میڈیا پلیٹ فارم فیس بک پر اپ لوڈ کی گئی ویڈیو میں فرح اقرار نے کہا کہ رات وہ سو رہی تھیں جب دروازے کی گھنٹی مسلسل بجنے لگی، جس پر وہ دیکھنے کے لیے باہر آئیں۔

    ان کے بقول جب انھوں نے ٹیرس سے نیچے جھانک کر دیکھا تو ’چند افراد گھر کے صحن میں اور چند باہر موجود تھے۔‘

    فرح کا کہنا ہے کہ اُن افراد نے چہروں پر ماسک پہن رکھے تھے اور وہ کہہ رہے تھے کہ ’اقرار کو باہر نکالو۔‘

    فرح اقرار کے مطابق بعد ازاں یہ افراد نچلا دروازہ توڑ کر گھر کے اندر داخل ہوئے اور اوپر آ گئے۔

    فیس بک پر اپ لوڈ کی گئی ویڈیو میں فرح کا کہنا تھا کہ اِن افراد کے ساتھ خواتین بھی موجود تھیں، جن کے بازوؤں پر انھوں نے ’این سی سی آئی اے‘ لکھا ہوا دیکھا۔

    واضح رہے کہ ’این سی سی آئی اے‘ پاکستان کے سرکاری ادارے نیشنل سائبر کرائم انویسٹیگیشن ایجنسی کا مخفف ہے۔

    فرح اقرار نے دعویٰ کیا کہ جب ان کے شوہر نیند سے بیدار ہو کر باہر آئے تو گھر آنے والے افراد نے انھیں پکڑ لیا اور ’اغوا کر کے لے گئے۔‘

    بی بی سی کی لاہور میں موجود نامہ نگار ترہب اصغر سے گفتگو میں فرح اقرار نے بتایا کہ مذکورہ افراد کے جانے کے بعد وہ اقرار الحسن کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کے لیے این سی سی آئی اے کے دفتر بھی گئیں، تاہم انھیں بتایا گیا کہ متعلقہ عملہ اس وقت موجود نہیں اور وہ صبح 10 بجے دفتر کھلنے کے بعد آئیں۔

    ان کے مطابق، اس کے بعد لاہور کے تھانہ ڈیفنس میں ایف آئی آر (فرسٹ انفارمیشن رپورٹ) درج کرانے کی کوشش کی گئی لیکن وہاں بھی ان کی درخواست وصول نہیں کی گئی۔

    بی بی سی سے گفتگو میں فرح اقرار نے بتایا کہ درخواست وصول کرنے اور مقدمہ درج کرنے پر اصرار پر پولیس نے انھیں بتایا کہ انٹرنیٹ سروس دستیاب نہیں، اس لیے اس وقت کارروائی ممکن نہیں۔

    ان کے بقول پولیس کا کہنا تھا کہ ڈی آئی جی آفس کی جانب سے انٹرنیٹ بند ہے۔

    فرح اقرار کے مطابق مسلسل اصرار کے بعد پولیس نے ایک رسید پر تحریری طور پر درج کر دیا کہ ’انٹرنیٹ کی بندش کے باعث درخواست کو سسٹم میں ٹیگ نہیں کیا جا سکتا۔‘

    فرح اقرار نے کہا کہ تا حال انھیں یہ معلوم نہیں کہ ’اقرار کہاں ہیں، انھیں کون اپنے ساتھ لے کر گیا اور وہ کس کی تحویل میں ہیں۔‘

    ان کے مطابق اہلِ خانہ کے لیے یہ طے کرنا بھی مشکل ہے کہ یہ ’گرفتاری کا معاملہ ہے یا اغوا کا، کیونکہ گھر آنے والے افراد سادہ لباس میں ملبوس تھے اور انھوں نے اپنے چہروں پر ماسک پہن رکھے تھے۔‘

    لاہور میں بی بی سی کی نمائندہ ترہب اصغر سے گفتگو میں فرح اقرار کا کہنا تھا کہ اہلِ خانہ نے بار ہا ان افراد سے پوچھا کہ آیا ان کے پاس گرفتاری کے وارنٹ موجود ہیں اور وہ کس ادارے سے تعلق رکھتے ہیں، تاہم ان کی جانب سے کوئی معلومات فراہم نہیں کی گئیں اور نہ ہی انھوں نے اپنی شناخت ظاہر کی۔

    دوسری جانب اقرارالحسن کے وکیل میاں اشفاق علی نے بی بی سی کو بتایا کہ فی الحال یہ واضح نہیں کہ اقرارالحسن کو کس مقدمے میں حراست میں لیا گیا ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ اقرارالحسن کے ’اغوا‘ کی ایک درخواست جمع کرانے کی کوشش کی گئی تھی، تاہم حکام نے اسے وصول نہیں کیا۔

  18. ایران نے سعودی عرب اور یمن کے درمیان مذاکرات میں سہولت کاری کے لیے آمادگی ظاہر کر دی

    ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے تہران کی جانب سے سعودی عرب اور یمن کے درمیان مذاکرات میں سہولت فراہم کرنے کے لیے آمادگی کا اظہار کیا ہے۔

    یہ آمادگی انھوں نے سعودی عرب کے وزیر خارجہ فیصل بن فرحان کے ساتھ ٹیلی فون پر گفتگو میں ظاہر کی۔

    یمن کے حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب پر حملوں میں شدت آنے کے بعد دونوں ممالک کے وزرائے خارجہ کے درمیان یہ پہلی رپورٹ شدہ بات چیت ہے۔

    حوثیوں نے گذشتہ ایک ہفتے کے دوران کئی مرتبہ سعودی عرب کو نشانہ بنایا ہے۔ سنیچر کے روز ریاض کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر ہونے والے حملے میں 13 افراد ہلاک اور 300 سے زائد زخمی ہوئے تھے۔

    یہ ایک دہائی سے زیادہ عرصے میں سعودی عرب میں ہونے والا سب سے مہلک حملہ تھا۔

  19. مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی میں اضافے اور آئل ٹینکروں پر حملوں کے بعد تیل کی قیمتوں میں اضافہ

    مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی، یمن کے حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب پر حملوں میں اضافے اور خطے میں آئل ٹینکروں پر حملوں کے باعث تیل کی فراہمی میں ممکنہ رکاوٹوں کے خدشات مزید بڑھ چکے ہیں۔

    اسی وجہ سے تیل کی قیمتوں میں اضافے کا رجحان دیکھنے میں آ رہا ہے۔

    برینٹ خام تیل کی قیمت 76 سینٹ اضافے، یعنی 0.73 فیصد، کے بعد 105 ڈالر 48 سینٹ فی بیرل تک پہنچ گئی ہے۔ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ خام تیل کی قیمت بھی 59 سینٹ اضافے، یعنی 0.64 فیصد، کے بعد 92 ڈالر 44 سینٹ تک پہنچ گئی۔

    ستمبر میں مشرقِ وسطیٰ سے خام تیل کی برآمدات بڑھی تھیں، تاہم حالیہ دنوں میں آبنائے ہرمز میں آئل ٹینکروں پر ہونے والے عملے برآمدات کا یہ عمل متاثر کر سکتے ہیں۔

    برطانوی تنظیم میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز (یو کے ایم ٹی او) نے رپورٹ کیا ہے کہ عمان کے قریب ایک آئل ٹینکر ڈرون حملے کا نشانہ بنا، جبکہ آبنائے ہرمز عبور کرنے والے ایک اور آئل ٹینکر پر میزائل حملہ کیا گیا۔

    اسی دوران پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ نے آبنائے ہرمز میں تین آئل ٹینکروں کے سمندری بارودی سرنگوں سے ٹکرانے اور آگ لگنے کی اطلاع دی ہے۔ پاسداران کے مطابق یہ آئل ٹینکر غیر مجاز راستوں سے گزرتے ہوئے بارودی سرنگوں سے ٹکرائے۔

    پاسدارنِ انقلاب نے یہ بھی خبردار کیا ہے کہ وہ جہاز جو آبنائے ہرمز میں اپنے نیویگیشن اور شناختی نظام بند کریں گے، انھیں مخالف تصور کیا جائے گا اور ان کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔

    تیل کی قیمتوں میں اضافہ حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب پر حملوں میں شدت آنے کے بعد بھی دیکھنے میں آیا۔ سنیچر اور اتوار کو ریاض کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر ہونے والے حملوں میں 14 افراد ہلاک اور 300 سے زائد زخمی ہوئے۔

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ واشنگٹن حوثیوں کے خلاف سعودی حملوں میں شمولیت کے امکان کا جائزہ لے رہا ہے۔

  20. ٹرمپ کا روس اور یوکرین میں ’انرجی سیز فائر‘ کا دعویٰ: زیلنسکی کا خیر مقدم، روس خاموش

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ روس اور یوکرین ایک ’انرجی سیز فائر‘ پر متفق ہو گئے ہیں۔ یعنی دونوں ممالک نے اتفاق کیا ہے کہ وہ ایک دوسرے کے توانائی کے انفراسٹرکچر پر حملے نہیں کریں گے۔

    کیئو کا کہنا ہے کہ وہ ایسے اقدام کی حمایت کرے گا، تاہم ماسکو نے تا حال اس پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔

    امریکی صدر نے اصرار کیا کہ یہ جنگ بندی ’فوری طور پر‘ مؤثر ہو چکی ہے، تاہم انھوں نے کوئی تفصیلات فراہم نہیں کیں۔

    یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے ابتدا میں اس اعلان پر حیرت کا اظہار کیا، لیکن بعد میں کہا کہ اگر ماسکو اس کی حمایت کرتا ہے تو کیئو بھی اس کی حمایت کرے گا۔

    زیلنسکی نے امریکی نیوز ویب سائٹ ایگزیوس سے گفتگو میں کہا کہ انرجی سیز فائر کی اطلاع ان کے لیے ’خبر‘ تھی، قبل ازیں انھوں نے سوشل میڈیا پر لکھا کہ ان کے حکام ’روس کے ساتھ امریکہ کے مذاکرات کی واضح تفصیلات کے منتظر ہیں۔‘

    انھوں نے کہا: ’یوکرین روسی توانائی تنصیبات پر حملہ نہ کرنے کے لیے تیار ہے اور ہم روس کی جانب سے بھی اسی طرح کی آمادگی کے منتظر ہیں۔‘

    بی بی سی نے مزید تفصیلات کے لیے وائٹ ہاؤس سے رابطہ کیا ہے۔