آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

سعودی فوجی اتحاد کا ریاض سمیت مختلف شہروں میں حوثیوں کی جانب سے داغے گئے میزائل اور ڈرونز روکنے کا دعویٰ

سعودی عرب کی قیادت میں فوجی اتحاد نے دعویٰ کیا ہے کہ منگل کی شب حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب کے مختلف شہروں کی جانب داغے جانے والے کروز، بیلسٹک میزائل اور ڈرونز کو روک کر تباہ کر دیا گیا ہے۔ اتحاد کے ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی نے ایکس پر بتایا کہ ظہران شہر میں میزائل کا ملبہ شہری آبادی پر گرا ہے جس کے بعد مقامی انتظامیہ متحرک ہے۔

خلاصہ

لائیو کوریج

  1. سابق صدر عارف علوی کی ایمرجنسی اور گورنر راج پر تنقید، ’یہ جمہوریت کے تابوت میں آخری کیل ہے‘

    پاکستان کے سابق صدر عارف علوی نے خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ اور صوبائی حکومت کی معطلی پر شدید ردعمل دیتے ہوئے اسے ’جمہوریت کے تابوت میں آخری کیل‘ قرار دیا ہے۔

    سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں عارف علوی نے کہا کہ جس صوبے کے ’دو تہائی مینڈیٹ کو چرایا نہ جا سکا‘، اسے اسلام آباد کی ’غیر نمائندہ اور جعلی حکومت‘ نے اپنے قبضے میں لے لیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ صوبائی حکومت کو ہٹانے کا حق صرف خیبر پختونخوا کے عوام کو حاصل تھا۔

    سابق صدر نے دعویٰ کیا کہ تمام اطلاعات کے مطابق اس بحران کی واحد وجہ سابق وزیراعظم عمران خان سے ملاقات تھی۔ انھوں نے الزام عائد کیا کہ عمران خان کے پیغام کو عوام تک پہنچنے سے روکنے کی کوشش کی جا رہی ہے اور ذاتی عناد ملک کو تباہی کی طرف دھکیل رہا ہے۔

    عارف علوی نے اپنے بیان میں ملک میں سیاسی کارکنوں اور منتخب نمائندوں کے ساتھ مبینہ ناروا سلوک پر بھی تنقید کی۔ انھوں نے کہا کہ منتخب پی ٹی آئی نمائندوں کو اغوا اور تشدد کا نشانہ بنایا جا رہا ہے جبکہ قانون کی حکمرانی کمزور پڑ رہی ہے۔

    انھوں نے بلوچستان اور کشمیر کے حالات کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ پرامن احتجاج کو طاقت کے ذریعے دبانے کی پالیسی اب خیبر پختونخوا تک پھیلائی جا رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی اور اس کے حامی پرامن سیاسی جدوجہد جاری رکھیں گے۔

    سابق صدر نے کہا کہ عمران خان تشدد کے خلاف ہیں اور ان کی جماعت ہر صورت آئینی اور پرامن راستہ اختیار کرے گی۔ اپنے پیغام کے اختتام پر انھوں نے حکومت کے اقدامات پر کڑی تنقید کرتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا کہ عمران خان اور ان کے حامی سیاسی جدوجہد جاری رکھیں گے۔

  2. گورنر خیبر پختونخوا نے آج اپیکس کمیٹی کا اجلاس طلب کر لیا

    گورنر خیبر پختونخوا نے صوبے کی مجموعی امن و امان کی صورتحال، سکیورٹی چیلنجز اور انتظامی امور کا جائزہ لینے کے لیے آج (پیر کو) اپیکس کمیٹی کا اجلاس طلب کر لیا ہے۔

    گورنر ہاؤس کے اعلامیے کے مطابق اجلاس میں سکیورٹی اداروں، سول انتظامیہ اور دیگر متعلقہ حکام کی شرکت متوقع ہے۔ اجلاس کے دوران صوبے میں امن و امان کی موجودہ صورتحال، دہشت گردی کے واقعات، سرحدی علاقوں کی سکیورٹی اور ایمرجنسی و گورنر راج کے نفاذ کے بعد انتظامی معاملات کا جائزہ لیا جائے گا۔

    اعلامیے کے مطابق اجلاس میں صوبے کی مجموعی سکیورٹی صورتحال پر بریفنگ دی جائے گی جبکہ عوام کے جان و مال کے تحفظ اور حکومتی رٹ کو مزید مؤثر بنانے کے لیے مختلف تجاویز پر بھی غور کیا جائے گا۔

    یہ اجلاس ایسے وقت طلب کیا گیا ہے جب خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کے بعد سیاسی اور انتظامی سرگرمیوں میں تیزی دیکھی جا رہی ہے۔ اپیکس کمیٹی کے اجلاس میں اہم فیصلوں اور آئندہ کے لائحۂ عمل کا بھی امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔

    اپیکس کمیٹی صوبے میں سول و عسکری قیادت کے درمیان رابطے کا اہم فورم سمجھی جاتی ہے اور اس کے اجلاسوں میں امن و امان، انسدادِ دہشت گردی اور سکیورٹی سے متعلق امور پر فیصلے کیے جاتے ہیں۔

  3. آئین اور پاکستان کے وسیع تر مفاد کو ترجیح دینا ناگزیر ہو گیا تھا، محسن نقوی کی وضاحت

    وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کا کہنا ہے کہ وفاقی حکومت اور اس کی اتحادی جماعتوں نے خیبرپختونخوا حکومت اور پاکستان تحریکِ انصاف کی قیادت کے ساتھ پارلیمانی رابطوں، براہِ راست مذاکرات اور پسِ پردہ سفارت کاری سمیت تمام ممکنہ ذرائع آزمائے، تاہم تعاون کی راہ ہموار نہ ہو سکی۔

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں محسن نقوی نے کہا کہ خیبرپختونخوا دہشت گردی کا سب سے زیادہ بوجھ اٹھانے والے صوبوں میں شامل رہا ہے، جہاں سکیورٹی فورسز اور شہریوں نے امن کے قیام کے لیے بے پناہ قربانیاں دی ہیں۔ ان کے بقول ایسے حالات میں تصادم کے بجائے تعاون کو ترجیح دی جانی چاہیے تھی۔

    انھوں نے کہا کہ ایمرجنسی اور گورنر راج کا نفاذ کوئی سیاسی فیصلہ یا آسان قدم نہیں تھا، بلکہ زمینی حقائق کے پیشِ نظر ایک مشکل آئینی اقدام تھا۔ محسن نقوی کے مطابق جب تعاون کے تمام راستے ختم ہو جائیں تو آئین اور پاکستان کے وسیع تر مفاد کو ترجیح دینا ضروری ہو جاتا ہے۔

    وزیر داخلہ نے اپنے بیان کے اختتام پر پاکستان کے لیے امن و استحکام کی دعا کرتے ہوئے کہا کہ اللہ تعالیٰ ملک کو محفوظ رکھے اور قوم کو پائیدار امن سے نوازے۔

  4. پی ٹی آئی کا وزیراعلیٰ سمیت متعدد رہنماؤں کی گرفتاری کا دعویٰ، خیبرپختونخوا میں بڑے پیمانے پر انتظامی تبادلے, بلال احمد، بی بی سی اردو، پشاور

    پاکستان تحریک انصاف نے دعویٰ کیا ہے کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کو گرفتار کر کے نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا گیا ہے، جبکہ پارٹی کے دیگر سینیئر رہنما بھی حراست میں لے لیے گئے ہیں۔

    پی ٹی آئی کے ڈپٹی انفارمیشن سیکرٹری اکرام کھٹانہ کے مطابق گرفتار ہونے والوں میں صوبائی صدر جنید اکبر، اسپیکر صوبائی اسمبلی بابر سلیم سواتی اور رکن قومی اسمبلی شاہد خٹک بھی شامل ہیں۔

    انھوں نے کہا کہ صوبے میں گورنر راج اور ایمرجنسی کا نفاذ خیبرپختونخوا کے عوام کے مینڈیٹ پر حملہ ہے اور منتخب عوامی نمائندوں کی گرفتاری قابل مذمت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پارٹی کارکن جلد سڑکوں پر ہوں گے کیونکہ صوبائی صدر پہلے ہی اس حوالے سے ہدایات جاری کر چکے ہیں۔

    گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی کی زیر صدارت صوبے میں امن و امان اور سیکیورٹی صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے ایک اعلیٰ سطح کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں سکیورٹی اداروں اور صوبائی انتظامیہ کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔

    اجلاس میں مشیر داخلہ کفایت اللہ خان، چیف سیکرٹری ڈاکٹر محمد فخر عالم عرفان، انسپکٹر جنرل پولیس ذوالفقار حمید، ایڈیشنل چیف سیکرٹری ہوم امجد علی خان، ایڈیشنل آئی جی سپیشل برانچ محمد کاشف عالم، ایڈیشنل آئی جی سی ٹی ڈی، سی سی پی او ڈاکٹر میاں سعید، جوائنٹ ڈائریکٹر جنرل آئی بی ارشد علی خان سمیت دیگر متعلقہ حکام شریک ہوئے۔

    اجلاس کے دوران گورنر کو صوبے میں امن و امان، انسداد دہشت گردی اقدامات اور مجموعی سیکیورٹی صورتحال پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ موجودہ حالات کے پیش نظر فیصلہ کیا گیا کہ صوبے بھر کے تعلیمی ادارے آج بند رکھے جائیں گے۔

    اجلاس میں یہ بھی طے پایا کہ پشاور میں نصب کنٹینرز کو مرحلہ وار ہٹایا جائے گا، جبکہ انٹرنیٹ سروس بھی ضرورت کے مطابق جزوی طور پر بحال کی جائے گی تاکہ معمولاتِ زندگی بتدریج بحال ہو سکیں۔

    اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے فیصل کریم کنڈی نے انتظامیہ اور پولیس کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ موجودہ حالات کے باوجود کسی بڑے ناخوشگوار واقعے کا پیش نہ آنا خوش آئند ہے۔

    انھوں نے کہا کہ دہشت گردی کا خاتمہ صوبائی حکومت کی اولین ترجیح ہے اور اس مقصد کے لیے پولیس اور کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) کی صلاحیتوں میں مزید اضافہ کیا جائے گا تاکہ امن و امان کو یقینی بنایا جا سکے۔

    صوبے میں انتظامی تبدیلیاں

    دوسری جانب گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد صوبائی بیوروکریسی اور پولیس میں بڑے پیمانے پر تبادلوں کا عمل بھی شروع کر دیا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق ایک درجن سے زیادہ ڈپٹی کمشنروں کو تبدیل کرتے ہوئے انھیں ہیومن ریسورس منیجمنٹ ڈیپارٹمنٹ کو رپورٹ کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

    تبادلوں کی زد میں آنے والے افسران میں واصف رحمان (مردان)، طارق اللہ (صوابی)، مقبول حسین (چترال لوئر)، منظور آفریدی (دیر اپر)، عبداللہ شاہ (شانگلہ)، فیاض شیرپاؤ (ملاکنڈ)، سلیم جان (سوات)، سہیل احمد (اپر سوات)، محمد شعیب (بٹگرام)، خالد اقبال (مانسہرہ)، سرمد سلیم (ایبٹ آباد)، اصلاح الدین (ہری پور)، کیپٹن ثناء اللہ (پشاور)، فضل رحیم (چارسدہ)، محمد فہیم (بنوں)، حمیداللہ (لکی مروت) اور اسد سرور (کرک) شامل ہیں۔

    حکومت کی جانب سے متعدد اضلاع میں نئے ڈپٹی کمشنر بھی تعینات کر دیے گئے ہیں۔ ان میں شاہ سعود کو مردان، نصر اللہ کو صوابی، وسیم احمد کو ہری پور، احسان اللہ کو چترال لوئر، عارف خان کو ملاکنڈ، دلنواز خان کو دیر اپر، شہریار قمر کو اپر سوات، گوہر علی کو بٹگرام، یاسر علی کو مانسہرہ، میاں بہزاد عادل کو ایبٹ آباد، شاہد رفیق کو لکی مروت، منصور ارشد کو چارسدہ، آفاق وزیر کو پشاور، ضیاء الرحمان کو بنوں اور عدنان ابرار کو سوات کا ڈپٹی کمشنر مقرر کیا گیا ہے۔

  5. سعودی عرب کے ہوائی اڈے پروازوں کے لیے محفوظ نہیں: حوثی ترجمان

    یمن کے حوثی گروہ نے ہفتے کے روز سعودی عرب کے شہر ریاض میں واقع کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر ہونے والے حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے ایک بیان جاری کیا ہے اور اپنی اس تنبیہ کو دہرایا ہے کہ لوگ سعودی عرب کے ایئرپورٹس کا استعمال نہ کریں۔

    حوثیوں کے ترجمان یحییٰ سریع نے ٹیلی گرام پر کہا کہ یہ کارروائی ’ہمارے ملک اور ہمارے عوام کے خلاف سعودی جارحیت‘ کے جواب میں کی گئی۔

    انھوں نے دعویٰ کیا کہ سعودی عرب نے گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران حوثیوں کے زیرِ کنٹرول یمنی علاقوں پر 124 فضائی حملے کیے۔

    سریع کے مطابق حوثیوں نے گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران چار کارروائیاں کیں، جن میں کنگ خالد ایئرپورٹ پر تین مراحل میں حملے، شُگدم گیس فیسلٹی پر حملہ، آرامکو کی تنجیب آئل ریفائنری پر حملہ اور دمام میں واقع کنگ فہد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر حملہ شامل ہیں۔

    حوثیوں کے ترجمان نے اپنے بیان میں مزید کہا: ’ہم تمام بین الاقوامی کمپنیوں، ماہرین، ملازمین، کارکنوں اور دنیا بھر سے سفر کرنے والوں کے لیے اپنی تنبیہ دوبارہ دہراتے ہیں کہ وہ سعودی ہوائی اڈوں کے لیے پروازیں نہ چلائیں کیونکہ وہ محفوظ نہیں ہیں، سوائے مکہ اور مدینہ کے مقدس شہروں کے ہوائی اڈوں اور فضائی حدود کے۔‘

  6. گذشتہ روز کی اہم خبریں

    • پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے۔
    • پاکستان تحریک انصاف کے رہنماؤں کی جانب سے خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ پر شدید ردعمل دیا جا رہا ہے۔ صوبے میں پی ٹی آئی کے جنوبی ریجن کے صدر شاہد خٹک نے ایک پیغام میں کہا ہے کہ ’کوئی کسی لیڈر کا انتظار نہ کرے نکلو پشاور کی طرف۔‘
    • پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ کا کہنا ہے کہ سہیل آفریدی کی جانب سے لانگ مارچ کا اعلان اب بھی برقرار ہے اور اس میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے۔
    • وفاقی حکومت اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے درمیان ثالث کا کردار ادا کرنے والے مولانا فضل الرحمان کا کہنا ہے کہ انھیں پی ٹی آئی نے بتایا تھا کہ مطالبات پورے ہونے کی صورت میں وہ اپنا لانگ مارچ ختم کرنے کو تیار ہیں۔
    • پاکستان کے نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے سعودی عرب کے ریاض ایئرپورٹ پر ’حوثیوں کے حملے‘ کی مذمت کرتے ہوئے تصدیق کی ہے کہ اس میں چھ پاکستانی شہری بھی زخمی ہوئے ہیں۔
    • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ریاض پر کیے گئے حملے کو ’ہولناک‘ قرار دیتے ہوئے عندیہ دیا ہے کہ وہ سعودی عرب کے ساتھ مل کر حوثیوں کے خلاف فوجی مداخلت پر غور کر سکتے ہیں۔
  7. بی بی سی کے لائیو پیج میں خوش آمدید!

    بی بی سی کے لائیو پیج میں خوش آمدید۔ پاکستان سمیت دنیا بھر کی اہم خبروں اور تجزیوں کے متعلق جاننے کے لیے بی بی سی کی لائیو پیج کوریج جاری ہے۔

    گذشتہ روز تک کی خبریں جاننے کے لیے یہاں کلک کریں۔