پاکستان کے وفاقی وزرا نے خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ صوبے میں سکیورٹی کی صورتحال ’بہت خراب‘ ہے اور وفاقی حکومت نے اپنے آئینی اختیارات استعمال کرتے ہوئے ’صوبائی حکومت کو غیر فعال کر دیا ہے۔‘
اتوار کو خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد پریس بریفنگ سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ وفاق نے گورنر کو صوبائی حکومت کے امور چلانے کا اختیار دے دیا ہے اور اس مقصد کے لیے ایک 11 رکنی مشاورتی کونسل بھی تجویز کی گئی ہے۔
وفاقی حکومت کا یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب سہیل آفریدی کی قیادت میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کا اعلان کر چکی ہے۔
اس موقع پر وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا کہ حکومت نے مذاکرات کے دوران پی ٹی آئی کے ساتھ چار مرتبہ ڈرافٹ تیار کیے گئے اور آخری ڈرافٹ پر بھی تجاویز طلب کی گئیں۔
ان کے مطابق ڈرافٹ کے پیراگراف چار پر پی ٹی آئی کو اعتراضات تھے، جس پر حکومتی ٹیم نے ان سے متبادل سفارشات مانگی تھیں۔
محسن نقوی نے کہا ’کل رات پونے 12 بجے تک میرا پی ٹی آئی کی قیادت سے رابطہ رہا۔ میں نے ان سے کہا کہ جو تبدیلیاں چاہتے ہیں وہ بتا دیں، ہم اس پر بات کر لیتے ہیں۔‘
ان کا کہنا تھا ’میں نے آخری کال پونے 12 بجے کی اور کہا کہ ابھی بھی موقع ہے کہ ہم اس صورتحال سے بچ سکتے ہیں، تاکہ صبح ہونے والے اقدام (ایمرجنسی اور گورنر راج) سے گریز کیا جا سکے۔‘
وزیر داخلہ کے مطابق حکومت مسلسل خیبر پختونخوا حکومت کو یہ بتاتی رہی کہ ’ہمیں دھرنے سے مسئلہ نہیں، ہمیں دہشت گردی سے مسئلہ ہے۔‘
تاہم انہوں نے کہا کہ مذاکرات کے دوران پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کا مؤقف یہ تھا کہ اگر مذاکرات آگے بڑھانے ہیں تو دھرنا مؤخر کیا جائے۔
محسن نقوی، جو حکومتی مذاکراتی کمیٹی کے رکن بھی ہیں، نے مزید کہا کہ خیبر پختونخوا کے بعض اضلاع میں صورتحال اس قدر خراب ہے کہ ’شام کے وقت لوگ گھروں سے بھی نہیں نکل سکتے۔‘
ان کے مطابق انہوں نے خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی سے متعدد ملاقاتیں کیں اور اس بات پر اتفاق ہوا تھا کہ 12 اضلاع میں ایمرجنسی نافذ ہونی چاہیے کیونکہ وہاں دہشت گردی حد سے زیادہ بڑھ چکی ہے۔
محسن نقوی نے دعویٰ کیا کہ صوبے میں گذشتہ ڈیڑھ سال کے دوران دہشت گردی کے واقعات میں 195 فیصد اضافہ ہوا ہے۔