آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

پی ٹی آئی کا سہیل آفریدی سمیت متعدد رہنماؤں کی گرفتاری کا دعویٰ: خیبرپختونخوا میں سروسز معطل، تعلیمی ادارے بند

پاکستان تحریک انصاف نے دعویٰ کیا ہے کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کو گرفتار کر کے نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا گیا ہے، جبکہ پارٹی کے دیگر سینیئر رہنما بھی حراست میں لے لیے گئے ہیں۔ اُدھر گورنر کے زیر صدارت اجلاس میں پشاور میں کنٹینرز ہٹانے اور انٹرنیٹ سروس کی جزوی بحالی کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

خلاصہ

لائیو کوریج

  1. آئینی عہدیدران غیرفعال جبکہ افواج پاکستان صوبائی حکومت کی معاونت کے لیے تعینات: اعظم نذیر تارڑ

    پریس کانفرنس کے دوران وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے مزید بتایا کہ حالیہ اقدامات کے تحت وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا، صوبائی وزرا، مشیران، معاونین، ایڈوکیٹ جنرل اور دیگر کئی آئینی عہدیداران کو فوری طور پر غیر فعال کر دیا گیا ہے۔

    ’اسی طرح آرٹیکل 245 کے تحت وفاقی حکومت نے افواج پاکستان کو صوبائی حکومت (جو اب گورنر کے سربراہی میں صوبے کے معاملات سنبھالے ہوئے ہے) کی معاونت کے لیے تعینات کرنے کا حکمنامہ بھی جاری کیا گیا ہے۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’میں یہاں وضاحت کر دوں کہ فوج وہاں پہلے بھی تعینات تھی، مگر اب اس کو مزید تعاون پر مبنی کوششیں کرنے کے لیے تازہ حکمنامہ جاری کیا گیا ہے۔‘

    انھوں نے کہا کہ آئین کے تحت اب وفاقی حکومت وقتاً فوقتاً گورنر خیبر پختونخوا کے ذریعے اقدامات کا اعلان کرے گی۔

    انھوں نے کہا کہ آج جاری ہونے والے تمام تر احکامات اور حکمناموں کی توثیق آئین کے تحت پارلیمان کے مشترکہ اجلاس سے آئندہ دس روز کے دوران حاصل کی جائے گی اور اس حوالے سے منگل کے روز پارلیمان کا اجلاس طلب کر لیا گیاہے۔

  2. گورنر 11 رُکنی مشاورتی کونسل کے ذریعے خیبر پختونخوا کے معاملات چلائیں گے: اعظم نذیر تارڑ

    وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے پریس کانفرنس کے دوران مزید بتایا کہ ایک ضمنی آرڈر کے ذریعے وفاقی حکومت کی جانب سے گورنر خیبر پختونخوا کو ایک 11 رُکنی مشاورتی کونسل تجویز کی گئی ہے جو صوبے کے معاملات دیکھے گی۔

    انھوں نے کہا کہ اس 11 رُکنی کونسل میں وہ بہترین لوگ شامل ہیں جو موجودہ صورتحال میں معاملات کو بہتری کی جانب لے جا سکیں۔

    اُن کے مطابق ایک اور ضمنی آرڈر کے تحت خیبر پختونخوا کے 12 اضلاع، جو تقریباً حالت جنگ میں ہیں، اُن کے لیے گورنر صاحب اور چیف سیکریٹری صاحب کے تحت ایک سیکریٹریٹ قائم کیا گیا ہے۔

    ’یہ سکریٹریٹ ان 12 اضلاع کے معاملات کو براہ راست دیکھے گا اور وفاقی حکومت کو آگاہ رکھے گا۔ ان اضلاع کے لیے ایک کونسل تجویز کی گئی ہے جو ان اضلاع کی ترقی، تعمیر نو اور بحالی کے حوالے سے سارے معاملات سنبھالے گی۔ ایک ایڈیشنل سیکریٹری لیول کے افسر اس کونسل کے سربراہ ہوں گے اور ان 12 اضلاع کے معاملات دیکھیں گے۔‘

  3. خیبر پختونخوا کی صورتحال اتنی خراب تھی کہ آئین کے آرٹیکلز 232 اور 234 کا بیک وقت استعمال کیا گیا: اعظم نذیر تارڑ

    وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا کو درپیش صورتحال اتنی غیرمثالی تھی کہ وفاقی حکومت کو آئین کے آرٹیکلز 232 اور 234 کا بیک وقت استعمال کرنا پڑا۔

    انھوں نے کہا کہ ’وزیر اعظم کے مشورے پر صدر پاکستان نے آئین کے آرٹیکل 232 اور 234 میں دیے گئے اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کا نفاذ کیاہے۔ عام اصطلاح میں جب آرٹیکل 232 کے معاملات ہوتے ہیں تو ہم انھیں ایمرجنسی کہتے ہیں اور آرٹیکل 234 کو گورنر راج۔‘

    ’مگر درپیش صورتحال اتنی سنگین تھی کہ آئین کے ان دونوں آرٹیکلز میں جو شقیں ہیں، حالات اس طرح کے تھے کہ آئین کے ان دونوں آرٹیکلز کی شقوں کو استعمال کیا گیا۔ پاکستان ماضی میں بہت بڑی بڑی مشکلات سے گزرا ہے، مگر حالیہ صورتحال غیر مثالی ہے۔‘

    انھوں نے کہا کہ صدراتی فرمان کے ذریعے خیبرپختونخوا کی صوبائی حکومت کو غیر فعال کر دیا گیا ہے اور گورنر خیبر پختونخوا کو وفاقی حکومت نے ذمہ داری دی ہے کہ وہ صوبائی حکومت کے اختیارات، جو آئین ایسی صورتحال میں انھیں تفویض کرتا ہے، وہ استعمال کریں۔

  4. ایمرجنسی اور گورنر راج سے بچنے کے لیے گذشتہ رات پی ٹی آئی سے آخری رابطہ کیا، کوئی جواب نہیں آیا: وزیر داخلہ

    پاکستان کے وفاقی وزرا نے خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ صوبے میں سکیورٹی کی صورتحال ’بہت خراب‘ ہے اور وفاقی حکومت نے اپنے آئینی اختیارات استعمال کرتے ہوئے ’صوبائی حکومت کو غیر فعال کر دیا ہے۔‘

    اتوار کو خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد پریس بریفنگ سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ وفاق نے گورنر کو صوبائی حکومت کے امور چلانے کا اختیار دے دیا ہے اور اس مقصد کے لیے ایک 11 رکنی مشاورتی کونسل بھی تجویز کی گئی ہے۔

    وفاقی حکومت کا یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب سہیل آفریدی کی قیادت میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کا اعلان کر چکی ہے۔

    اس موقع پر وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا کہ حکومت نے مذاکرات کے دوران پی ٹی آئی کے ساتھ چار مرتبہ ڈرافٹ تیار کیے گئے اور آخری ڈرافٹ پر بھی تجاویز طلب کی گئیں۔

    ان کے مطابق ڈرافٹ کے پیراگراف چار پر پی ٹی آئی کو اعتراضات تھے، جس پر حکومتی ٹیم نے ان سے متبادل سفارشات مانگی تھیں۔

    محسن نقوی نے کہا ’کل رات پونے 12 بجے تک میرا پی ٹی آئی کی قیادت سے رابطہ رہا۔ میں نے ان سے کہا کہ جو تبدیلیاں چاہتے ہیں وہ بتا دیں، ہم اس پر بات کر لیتے ہیں۔‘

    ان کا کہنا تھا ’میں نے آخری کال پونے 12 بجے کی اور کہا کہ ابھی بھی موقع ہے کہ ہم اس صورتحال سے بچ سکتے ہیں، تاکہ صبح ہونے والے اقدام (ایمرجنسی اور گورنر راج) سے گریز کیا جا سکے۔‘

    وزیر داخلہ کے مطابق حکومت مسلسل خیبر پختونخوا حکومت کو یہ بتاتی رہی کہ ’ہمیں دھرنے سے مسئلہ نہیں، ہمیں دہشت گردی سے مسئلہ ہے۔‘

    تاہم انہوں نے کہا کہ مذاکرات کے دوران پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کا مؤقف یہ تھا کہ اگر مذاکرات آگے بڑھانے ہیں تو دھرنا مؤخر کیا جائے۔

    محسن نقوی، جو حکومتی مذاکراتی کمیٹی کے رکن بھی ہیں، نے مزید کہا کہ خیبر پختونخوا کے بعض اضلاع میں صورتحال اس قدر خراب ہے کہ ’شام کے وقت لوگ گھروں سے بھی نہیں نکل سکتے۔‘

    ان کے مطابق انہوں نے خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی سے متعدد ملاقاتیں کیں اور اس بات پر اتفاق ہوا تھا کہ 12 اضلاع میں ایمرجنسی نافذ ہونی چاہیے کیونکہ وہاں دہشت گردی حد سے زیادہ بڑھ چکی ہے۔

    محسن نقوی نے دعویٰ کیا کہ صوبے میں گذشتہ ڈیڑھ سال کے دوران دہشت گردی کے واقعات میں 195 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

  5. پختونوں کے سر کا سودا نہیں کیا اور حکومت قربان کر دی، پورا خیبر پختونخوا پشاور پہنچے: شفیع جان

    پاکستان تحریک انصاف کے سینیئر رہنما اور خیبر پختونخوا کے سابق وزیر اطلاعات شفیع جان نے کہا ہے کہ اُن کی جماعت نے ’عمران خان کے نام پر اور پختونوں کے سر کا​ سودا​ نہیں کیا، اور حکومت قربان کر دی ہے۔‘

    ایکس پر اپنے پیغام میں شفیع جان نے دعویٰ کیا کہ ’وزیر اعلی سہیل آفریدی کے گرفتار کر لیا گیا۔ اب عوام کو نکلنا ہو گا۔ پورا خیبر پختونخوا پشاور کے طرف آئے۔ اس موقع پر قبائلی اضلاع کے عوام پر بھی بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے، قبائل کو اپنے وزیر اعلیٰ کے لیے نکلنا ہو گا۔

  6. ایمرجنسی کے نفاذ کا گزٹ نوٹیفیکیشن جاری: ’وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا، صوبائی وزرا، مشیران، معاونینِ خصوصی اور ایڈووکیٹ جنرل فوری طور پر اپنے عہدے چھوڑ دیں گے‘

    وفاقی حکومت نے آرٹیکل 232 کے تحت صدر کی طرف سے ایمرجنسی نافذ کرنے کا گزٹ نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے آئین کے آرٹیکل 232(1) اور 234(1) کے تحت خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی نافذ کر دی ہے۔

    نوٹیفیکیشن میں کہا گیا ہے کہ خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ کا صدارتی فرمان فوری طور پر نافذ العمل ہے۔

    نوٹیفیکیشن کے مطابق خیبر پختونخوا میں شدت پسندوں کے حملوں سے عوام کی جان و مال کو سنگین خطرات لاحق ہیں جبکہ حالیہ عرصے میں شدت پسندوں کے حملوں میں اضافہ ہوا ہے جبکہ صوبائی حکومت دہشت گردی اور لاقانونیت کے خطرات سے مؤثر طور پر نمٹنے میں ناکام رہی ہے۔

    نوٹیفیکیشن میں کہا گیا ہے کہ گورنر خیبر پختونخوا کی رپورٹ میں بھی صوبے میں آئینی نظام کی ناکامی کی نشاندہی کی گئی اور صوبے کی موجودہ صورتحال صوبائی حکومت کے کنٹرول سے باہر ہو چکی ہے جو ناصرف خیبرپختونخوا بلکہ پاکستان کی مجموعی سلامتی کے لیے بھی خطرہ ہے۔

    نوٹیفیکیشن میں کہا گیا ہے کہ خیبر پختونخوا اسمبلی کے اختیارات پارلیمان یا اس کے اختیار کردہ ادارے کے ذریعے استعمال کیے جائیں گے جبکہ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا، صوبائی وزرا، مشیران، معاونینِ خصوصی اور ایڈووکیٹ جنرل فوری طور پر اپنے عہدے چھوڑ دیں گے۔

  7. قانون ہاتھ میں لینے والوں سے آہنی ہاتھوں سے نمٹیں گے: گورنر خیبر پختونخوا

    پاکستان کی وفاقی حکومت کی جانب سے خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کے بعد صوبے کے گورنر فیصل کریم کنڈی نے خبردار کیا ہے کہ ’قانون ہاتھ میں لینے والوں سے آہنی ہاتھوں سے‘ نمٹا جائے گا۔

    اتوار کو جاری ایک ویڈیو میں خیبر پختونخوا کے گورنر کا کہنا تھا کہ ’خیبر پختونخوا کے عوام پرامن ہیں، کبھی دہشتگردی کی حمایت نہیں کرتے۔‘

    ’میں عوام کو کہوں گا کہ کوئی بھی قانون کو ہاتھ میں نہ لے، کوئی بھی دنگے فساد میں نہ آئے۔ اگر کسی نے قانون ہاتھ میں لیا، تو قانون ان کے ساتھ آہہنی ہاتھوں سے نمٹے گا۔‘

  8. آمریت پر مبنی اقدام تاریخ کے کوڑے دان میں جا گرے گا: پاکستان تحریک انصاف

    پاکستان تحریک انصاف نے اپنے ایک بیان میں خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’ماضی کے آمریت پر مبنی اقدامات کی طرح وفاق کا یہ اقدام بھی تاریخ کے کوڑے دان میں جا گرے گا۔‘

    پارٹی کی جانب سے ’ایکس‘ پر پوسٹ کیے گئے بیان میں کہا گیا ہے کہ وفاقی حکومت نے (جسے بیان میں پاکستان پر ایک غیر اعلانیہ مارشل لا کے ذریعے مسلط کردہ حکومت کہا گیا ہے) عملاً خیبر پختونخوا اسمبلی کو معطل کر دیا ہے جبکہ خیبر پختونخوا حکومت کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے۔

    بیان میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ وفاقی حکومت نے اس اقدام کے نفاذ کے بعد صوبے کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی سمیت دیگر اہم عہدیداروں اغوا کر لیا ہے۔ تاہم بی بی سی پی ٹی آئی کے اس دعوے کی تصدیق سے قاصر ہے اور نہ ہی حکومتی ذمہ داران نے اس حوالے سے کچھ بتایا ہے۔

    تحریک انصاف کے بیان میں کہا گیا ہے کہ ’پاکستان پر مسلط کیے گئے عناصر ملک کی بنیادوں کو کھوکھلا کرتے جا رہے ہیں تاکہ ان کی اقتدار پر گرفت برقرار رہے۔‘ بیان کے مطابق وفاقی حکومت عوامی مینڈیٹ سے محروم ہے اور صرف طاقت اور جوڑ توڑ کے ذریعے قائم ہے۔

    بیان میں کہا گیا ہے کہ ’عاصم منیر، شہباز شریف اور محسن نقوی، جن کی اصل ذمہ داری سرحدوں کا تحفظ اور دہشت گردی کی روک تھام ہے، اپنی بنیادی ذمہ داریوں کو صوبائی حکومت پر ڈال کر دنیا بھر کے دوروں میں مصروف ہیں تاکہ اعداد و شمار تیار کیے جا سکیں اور اپنی شبیہ کو بہتر بنایا جا سکے۔‘

    بیان کے اختتام پر پاکستان کے عوام سے سوال کیا گیا ہے کہ آیا وہ ایک غیر قانونی حکومت کے تحت خاموشی سے یہ سب برداشت کرتے رہیں گے یا پھر کھڑے ہو کر پاکستان کو مکمل تباہی سے بچانے کی کوشش کریں گے۔

  9. اسلام آباد کے ریڈ زون میں سکیورٹی کے سخت انتظامات

    پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد کے حساس علاقے ریڈ زون میں سکیورٹی کے سخت انتظامات کے تحت چھ ہزار اہلکار تعینات کیے گئے ہیں۔

    پولیس حکام کے مطابق شہر میں دفعہ 144 نافذ ہے جبکہ کسی بھی قسم کے احتجاج پر پابندی عائد ہے۔

    حکام کا کہنا ہے کہ شہر بھر میں اسلام آباد پولیس، سندھ پولیس، ایف سی سمیت چھ ہزار اہلکار تعینات کیے گئے ہیں۔

  10. 2000 کی دہائی کے وسط کے بعد پہلی بار سعودی عرب کو سنگین خطرے کا سامنا, فرینک گارڈنر، نامہ نگار برائے سکیورٹی

    سعودی عرب اس صورتحال کے لیے تیار نہیں تھا۔

    گذشتہ چند دنوں میں حوثیوں کے حملوں نے ملک کے اہم بنیادی انفراسٹرکچر کو نشانہ بنایا ہے، جن میں دارالحکومت کے مرکزی ایئرپورٹ پر حملے بھی شامل ہیں اور بظاہر یہ حملے سعودی فضائی دفاع کو باآسانی عبور کرتے ہوئے دکھائی دیئے۔

    اگرچہ املاک کو ہونے والے نقصان کی مرمت نسبتاً جلد کی جا سکتی ہے، لیکن مستحکم اور محفوظ پناہ گاہ سمجھے جانے والے سعودی عرب کی ساکھ کو اس سے شدید دھچکا پہنچ رہا ہے۔

    2000 کی دہائی کے وسط میں القاعدہ کی شورش کے بعد پہلی مرتبہ مملکت کو اس نوعیت کے سنگین خطرے کا سامنا ہے۔ سعودی حکومت نے اُس چیلنج پر عوامی حمایت حاصل کرنے کی ایک مؤثر مہم کے ذریعے قابو پایا تھا۔

    اس کے بعد اس نے عرب دنیا میں آنے والی ’عرب سپرنگ‘ کی تحریکوں کا بھی مقابلہ کیا، جس کے نتیجے میں تیونس، لیبیا، مصر اور یمن کے رہنما اقتدار سے محروم ہو گئے تھے۔ یہاں تک کہ مارچ میں ریاض پر ایران کے بیلسٹک میزائل حملے کو بھی اس نے کسی حد تک ناگواری کے باوجود برداشت کیا۔

    بحیرۂ احمر کے کنارے واقع جیزان سے لے کر خریص کے پیٹروکیمیکل کمپلیکس تک، ایران کے حمایت یافتہ حوثی دھماکہ خیز ڈرونز اور میزائلوں کے ذریعے مہلک درستگی کے ساتھ سعودی عرب پر حملے کر رہے ہیں۔

    اب ایسا دکھائی دیتا ہے کہ کسی غیرمستحکم جنگ بندی تک پہنچنے سے قبل ایک بار پھر اس جنگ میں شدت آئے گی۔

  11. یہ ایمرجنسی بھی ہے اور گورنر راج بھی لگایا گیا ہے: ماہرِ قانون اشتر اوصاف

    ماہرِ قانون اشتر اوصاف کہتے ہیں کہ آئین کا آرٹیکل 232(1) ایمرجنسی سے متعلق ہے اور آرٹیکل 234(1) میں گورنر راج کا ذکر ہے۔ لہذا ان دونوں کا اطلاق کیا گیا ہے۔

    بی بی سی نیوز اُردو سے گفتگو کرتے ہوئے اشتر اوصاف کا کہنا تھا کہ اگر کسی صوبے میں سکیورٹی کے خدشات ہوں تو وفاق کے پاس ایمرجنسی لگانے کا اختیار ہے اور ساتھ ہی آرٹیکل 234(1) کے ذریعے صوبے کا نظم و نسق گورنر کو سونپ دیا گیا ہے۔

    اشتر اوصاف کہتے ہیں کہ سنہ 2009 میں پنجاب میں گورنر راج لگا تھا اور سلمان تاثیر صوبے کے چیف ایگزیکٹو بن گئے تھے۔ اُن کے بقول اُس وقت صرف آرٹیکل 234(1) کا اطلاق کیا گیا تھا۔

    اُن کے بقول اُس وقت پنجاب میں ایک طرح سے آئینی بحران تھا اور سکیورٹی کا کوئی ایشو نہیں تھا۔

  12. ’کوئی کسی لیڈر کا انتظار نہ کرے، نکلو پشاور کی طرف‘: پی ٹی آئی رہنماؤں کا ردعمل

    پاکستان تحریک انصاف کے رہنماؤں کی جانب سے بھی خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ پر شدید ردعمل دیا جا رہا ہے۔

    صوبے میں پی ٹی آئی کے جنوبی ریجن کے صدر شاہد خٹک نے ایک پیغام میں کہا ہے کہ ’کوئی کسی لیڈر کا انتظار نہ کرے نکلو پشاور کی طرف۔‘

    ایک دوسرے پیغام میں انھوں نے کہا کہ ’لانگ مارچ اور احتجاج ہوگا۔ اب میں لیڈ کروں گا۔ نکلو، اب نہیں تو کب؟ ہم نہیں تو کون؟‘

    ادھر سابق سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے ایکس اکاؤنٹ پر لکھا کہ ’گورنر راج اور ایمرجنسی کے اقدامات کی بھرپور مذمت کرتے ہیں۔ ہم نے ہمیشہ دہشت گردی کے خلاف آواز اٹھائی ہے۔ وفاقی حکومت کی پالیسیوں پر سنجیدہ سوالات ہیں، جن کے باعث موجودہ حالات پیدا ہوئے۔ امن جرگے کی متفقہ قرارداد پر عمل درآمد کیا جائے، جس پر تمام سیاسی جماعتیں متفق تھیں۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’ملک کے اہم معاملات میں عوام کے بنیادی حقوق اور اختیارات کو نظرانداز کرنا ناقابلِ قبول ہے۔ تمام سیاسی جماعتیں خیبرپختونخوا کے حقوق کے تحفظ کے لیے آواز اٹھائیں۔ یہ صوبے کے آئینی حقوق پر ڈاکہ ہے، جو نامنظور ہے! ہم اپنی آئینی اور جمہوری جدوجہد جاری رکھیں گے۔‘

    جنید اکبر کے ایکس اکاؤنٹ سے یہ پیغام شیئر کیا گیا ہے کہ ’گورنر راج لگائیں یا مارشل لا، ہمارا لانگ مارچ ان شاء اللہ ہر صورت ہوگا۔ صوابی پہنچے۔ نہ دباؤ ہمیں روک سکتا ہے، نہ دھمکیاں ہمارے عزم کو کمزور کر سکتی ہیں۔‘

  13. خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ کے لیے صدرِ پاکستان کے اعلامیے میں کیا ہے؟

    • خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے بڑھتے واقعات اور امن و امان کی سنگین صورتحال کے پیش نظر ایمرجنسی کا اعلان
    • دہشت گردی کے واقعات میں غیر معمولی شدت سے عوام کی جان و مال کو سنگین خطرات لاحق ہیں، صدارتی اعلان
    • سرکاری تنصیبات، بنیادی ڈھانچے اور قانون نافذ کرنے والے اداروں پر دہشت گرد حملوں میں اضافہ ہوا ہے، اعلامیہ
    • صوبائی حکومت دہشت گردی اور لاقانونیت کے مؤثر تدارک کے لیے مطلوبہ عزم اور اقدامات کا مظاہرہ کرنے میں ناکام رہی۔
    • گورنر خیبر پختونخوا کی رپورٹ میں صوبے میں آئینی نظام کے تعطل اور صوبائی حکومت کے آئین کے مطابق کام نہ کر سکنے کی نشاندہی کی گئی۔
    • صدر مملکت آصف علی زرداری نے خیبر پختونخوا میں سنگین ایمرجنسی کی صورتحال کے پیش نظر فوری آئینی اقدام ضروری قرار دیا۔
    • صدارتی اعلان آئین کے آرٹیکل 232(1) اور آرٹیکل 234(1) کے تحت جاری کیا گیا۔
    • ایمرجنسی کے نفاذ کے ساتھ اعلان کیا گیا ہے کہ صوبائی حکومت موجودہ حالات میں آئین کے مطابق نہیں چلائی جا سکتی۔
    • وفاقی حکومت گورنر خیبر پختونخوا کو صوبائی حکومت کے تمام یا بعض امور اپنے اختیار میں لینے کی ہدایت دے سکے گی۔
    • گورنر خیبر پختونخوا وفاقی حکومت کی جانب سے تفویض کردہ صوبائی حکومتی امور انجام دے سکیں گے۔
    • صوبائی اسمبلی کے علاوہ صوبے کے دیگر اداروں اور حکام کے تمام یا بعض اختیارات وفاقی حکومت کی ہدایت پر گورنر استعمال کر سکیں گے۔
    • خیبر پختونخوا اسمبلی کے اختیارات پارلیمان یا اس کے اختیار کے تحت استعمال کیے جائیں گے۔
    • وزیراعلیٰ، صوبائی وزراء، مشیران، معاونینِ خصوصی اور ایڈووکیٹ جنرل اپنے عہدے فوری طور پر چھوڑ دیں گے۔
    • صدارتی اعلان فوری طور پر نافذ العمل ہو گا۔
  14. ایمرجنسی کس قانون کے تحت نافذ ہوئی اور اب وفاقی حکومت کو خیبرپختونخوا کے حوالے سے کیا خصوصی اختیارات حاصل ہوں گے؟

    صدر پاکستان صدر آصف علی زرداری کی جانب سے منظوری کے بعد پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا میں فوری طور پر ایمرجنسی نافذ العمل ہو چکی ہے۔

    اتوار (11 اکتوبر) کی دوپہر پاکستان کی وفاقی کابینہ کے ایک ہنگامی اجلاس کے بعد وزیرِ اعظم شہباز شریف کو کابینہ کی جانب سے تجویز دی گئی تھی کہ وہ صدر مملکت کو مشورہ دیں کہ ’حالات کی سنگینی کے پیش نظر صدر مملکت آئینی اختیار استعمال کرتے ہوئے خیبر پختونخوا میں آئین پاکستان کے آرٹیکل 232 اور 234 کے تحت ایمرجنسی کا نفاذ کریں.‘

    وفاقی کابینہ کے اجلاس کے بعد اس ضمن میں ایک ایڈوائس صدر آصف علی زرداری کو بھجوائی گئی جسے انھوں نے منظور کر لیا ہے۔

    ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد وفاقی حکومت صوبے کا انتظام خود سنبھال سکتی ہے یا صوبے کے گورنر کو ہدایت دے سکتی ہے کہ وہ وفاقی حکومت کی طرف سے صوبائی حکومت کے تمام یا چنندہ فرائض سنبھالے۔

  15. خیبر پختونخوا کے عوام ایمرجنسی کے فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہیں، کسی نے قانون ہاتھ میں لیا تو آہنی ہاتھوں سے نمٹیں گے: گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی

    صوبے میں ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد ایک ویڈیو بیان میں گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا کے عوام دہشت گردی کے خلاف ہیں اور اس سے نمٹنے کے لیے اب سنجیدہ کوششیں کی جائیں گی۔

    فیصل کریم کنڈی کا کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا کے عوام صدرِ پاکستان کے فیصلے کا خیر مقدم کرتی ہے۔

    خیبر پختونخوا کے عوام نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ فتنہ الخوارج اور دہشت گردوں کے ساتھ مزید نہیں چل سکتے۔ بلکہ اپنے اداروں کے ساتھ مل کر ان کا مقابلہ کریں گے۔

    اُن کا کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا کی عوام یہ بھی چاہتی ہے کہ ہمارے وفاق اور دیگر صوبوں کے ساتھ برادرانہ تعلقات ہوں جبکہ وہ صوبے میں ترقی بھی چاہتے ہیں۔

    فیصل کریم کنڈی کا کہنا تھا کہ میں عوام سے کہتا ہوں کہ کوئی بھی قانون کو ہاتھ میں نہ لے اور دنگے فساد کا حصہ نہ بنیں، اگر کسی نے قانون ہاتھ میں لیا تو آہنی ہاتھ سے نمٹیں گے۔

  16. ’سیاسی کشیدگی، جمہوری عمل کمزور ہونے کا خطرہ‘: ایمرجنسی کے نفاذ پر ایچ آر سی پی کی وفاقی حکومت کو تنبیہ

    ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان (ایچ آر سی پی) کا کہنا ہے کہ ملک کی وفاقی حکومت کی جانب سے خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی نافذ کرنے سے ’سیاسی کشیدگی مزید بڑھنے اور جمہوری عمل کے کمزور ہونے کا خطرہ ہے۔‘

    ایک بیان میں ایچ آر سی پی نے ’وفاقی حکومت اور پارلیمان کو خبردار کیا ہے کہ خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی نافذ کرنے یا گورنر راج لگانے سے سیاسی کشیدگی مزید بڑھنے اور جمہوری عمل کے کمزور ہونے کا خطرہ ہے۔‘

    ’ہم وفاقی حکومت اور پی ٹی آئی پر زور دیتے ہیں کہ وہ فوری طور پر بامعنی سیاسی مذاکرات کا دوبارہ آغاز کریں اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ کسی بھی بہانے سے شہریوں کے بنیادی حقوق معطل نہ کیے جائیں۔‘

  17. خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی نافذ کرنے کا فیصلہ واپس لیں، ورنہ بہت نقصان ہو گا: بیرسٹر گوہر

    پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ بیرسٹر گوہر نے خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ کی مذمت کی ہے۔

    سوشل میڈیا پر ایک بیان میں ان کا کہنا ہے کہ ’ہم صوبے میں ایمرجنسی کے نفاذ کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں اور اس اقدام کو یکسر مسترد کرتے ہیں۔‘

    ’یہ ایک انتہائی تشویشناک اور سنگین سیاسی غلطی اور غیر جمہوری اقدام ہے- عوام اپنے حقوق کے خلاف ایسے اقدامات کو کبھی قبول نہیں کریں گے۔‘

    ان کا کہنا ہے کہ ’خیبرپختونخوا کے عوام کا مینڈیٹ ان کا آئینی اور قانونی حق ہے۔ اس مینڈیٹ کو نظر انداز کرکے، صوبائی خودمختاری کو کمزور کرکے اور وفاق و صوبے کے درمیان تصادم پیدا کرکے نہ امن قائم کیا جاسکتا ہے اور نہ استحکام لایا جاسکتا ہے۔‘

    پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ نے مزید کہا کہ ’دہشت گردی کے خاتمے پر کوئی اختلاف نہیں، لیکن دہشت گردی کے خلاف جنگ کو عوامی آواز کو دبانے، سیاسی مقاصد کے حصول یا صوبے کے آئینی اختیارات محدود کرنے کا جواز نہیں بنایا جاسکتا۔ دہشت گردی کا مقابلہ قومی یکجہتی اور مشترکہ حکمتِ عملی سے ہی ممکن ہے۔‘

    بیرسٹر گوہر نے یہ بھی کہا کہ ’صوبوں کو کمزور کر کے وفاق مضبوط نہیں ہوسکتا۔ مسائل کا حل طاقت، تصادم اور غیر معمولی اقدامات میں نہیں بلکہ سیاسی بصیرت، آئین کی بالادستی اور بامعنی مذاکرات اور عملی اقدامات میں ہے۔

    ’ ہم عوامی مینڈیٹ، صوبائی خودمختاری اور آئینی و جمہوری حقوق کے تحفظ کے لیے ہر آئینی، قانونی اور جمہوری فورم پر بھرپور آواز اٹھائیں گے۔ مضبوط صوبے ہی مضبوط وفاق کی بنیاد ہیں، اور آئین کی حکمرانی ہی مضبوط پاکستان کی ضمانت ہے۔‘

    انھوں نے زور دیا کہ ’ابھی بھی وقت ہے، اس فیصلے کو چند دنوں میں واپس لیا جاسکتا ہے۔ وفاق انا کو جانے دیں، زمینی حقائق کو سمجھے، جائز مطالبات تسلیم کرے، عوام کے احساسات اور جذبات کا احترام کرے اور ملک کو مزید سیاسی و معاشی نقصان اور جمہوری عمل کو پیچھے دھکیلنے سے بچائے۔‘

    ’سیاسی فیصلوں پر نظرثانی کمزوری نہیں بلکہ قومی مفاد میں دانش مندی کی علامت ہوتی ہے- ورنہ بہت نقصان ہوجائے گا۔‘

  18. وفاقی حکومت نے ڈاکٹر محمد فخر عالم عرفان کو خیبر پختونخوا کا نیا چیف سیکریٹری تعینات کر دیا

    وفاقی حکومت نے صوبے میں ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد گریڈ 22 کے افسر ڈاکٹر محمد فخر عالم عرفان کو خیبر پختونخوا کا نیا چیف سیکرٹری تعینات کردیا گیا ہے اور وہ تاحکم ثانی اس عہدے پر کام کریں گے۔

  19. صدرِ آصف زرداری نے خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی لگانے کی منظوری دے دی

    صدر مملکت نے خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی لگانے کی منظوری دے دی جس کے بعد اس پر فوری عمل درآمد ہوگا۔

    وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی اور وزیر مملکت طلال چوہدری کابینہ کی سمری لے کر ایوان صدر گئے تھے۔

    ایمرجنسی کا نفاذ کیسے ممکن ہے؟

    آئین پاکستان کے دسویں باب میں دو شقیں ایسی ہیں، جن کی بنیاد پر صوبے میں ایمرجنسی یا گورنر راج لگایا جا سکتا ہے۔ ان میں آرٹیکل 232 اور 234 شامل ہیں۔

    کسی صوبے میں ہنگامی حالت یا ایمرجنسی کا نفاذ پاکستان کے آئین کی شق 232 کے تحت کیا جا سکتا ہے اور اس کے نفاذ کا حق صدرِ پاکستان کے پاس ہے۔

    آئین کی اس شق کے مطابق ایمرجنسی جنگ اور بیرونی جارحیت کے علاوہ داخلی انتشار یا خلل کی وجہ سے بھی نافذ کی جا سکتی ہے۔

    اس شق میں کہا گیا ہے کہ اگر صدر اس بات پر مطمئن ہوں کہ کوئی سنگین ہنگامی صورتحال موجود ہے، جس میں پاکستان یا اس کے کسی حصے کی سلامتی کو جنگ، بیرونی جارحیت یا اندرونی انتشار سے ایسا خطرہ لاحق ہے جس پر قابو پانا صوبائی حکومت کے اختیار میں نہیں رہا تو وہ ایمرجنسی کے نفاذ کا اعلان کر سکتے ہیں۔

    آئین کے مطابق صوبے میں ہنگامی حالت کے نفاذ کے لیے صوبائی اسمبلی کی قرارداد کی ضرورت ہوتی ہے، تاہم اگر صدر اپنی مرضی سے عمل کرے تو ایمرجنسی کے نفاذ کا فیصلہ دس دن کے اندر پاکستانی پارلیمان کے دونوں ایوانوں یعنی قومی اسمبلی اور سینیٹ کے سامنے منظوری کے لیے پیش کیا جانا لازمی ہے۔

    آئین کے مطابق ملک کے جس علاقے میں جب تک ایمرجنسی کا نفاذ رہے گا اس وقت تک مجلسِ شوریٰ یا پارلیمان کو اختیار حاصل ہو گا کہ وہ متاثرہ صوبے یا اس کے کسی حصے کے لیے ایسے معاملات پر قوانین بنا سکتی ہے، جو وفاقی قانون ساز فہرست یا متوازی قانون ساز فہرست میں درج نہ ہوں۔

    کسی صوبے میں ایمرجنسی کے نفاذ کی مدت کے دوران وفاق کا انتظامی اختیار ہدایات دینے تک ہو گا کہ مذکورہ صوبے کے انتظامی اختیار کو کس طرح استعمال کیا جائے۔

    آرٹیکل 232 کے مطابق ایمرجنسی کے نفاذ کی صورت میں وفاقی حکومت صوبے کا انتظام خود سنبھال سکتی ہے یا صوبے کے گورنر کو ہدایت دے سکتی ہے کہ وہ وفاقی حکومت کی طرف سے صوبائی حکومت کے تمام یا چنندہ فرائض اور صوبے میں صوبائی اسمبلی کے علاوہ کسی بھی ادارے یا اختیار کو دیے گئے یا قابل استعمال اختیارات سنبھالے۔

  20. خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ کے لیے ایڈوائس صدر کو بھیج دی گئی، وفاقی کابینہ کا اعلامیہ

    خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ کے لیے ایڈوائس صدر مملکت کو بھجوا دی گئی ہے۔

    اتوار کو وفاقی کابینہ کے اجلاس کے بعد جاری کیے گئے اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ کابینہ نے وزیرِ اعظم کو تجویز دی کہ وہ صدر مملکت کو مشورہ دیں کہ حالات کی سنگینی کے پیش نظر صدر مملکت آئینی اختیار استعمال کرتے ہوئے صوبہ خیبر پختونخوا میں آئین پاکستان کے آرٹیکل 232 اور 234 کے تحت ایمرجنسی کا نفاذ کریں.

    اعلامیے کے مطابق کابینہ نے ’خیبر پختونخوا میں امن و امان کی بگڑتی ہوئی صورتحال اور دہشت گردی کے خلاف جنگ سے صوبائی حکومت کی دانستہ لاتعلقی کے پیش نظر حالات کا تفصیلی جائزہ لیا۔‘

    کابینہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیرِ اعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ حکومت نے پاکستان پیپلز پارٹی کے ساتھ مل کر فیصلہ کیا تھا کہ ایک مشترکہ وفد بھیجا جائے تاکہ بات چیت کے ذریعے معاملات حل کیے جا سکیں۔

    ان کے مطابق دو روز تک ملاقاتیں ہوتی رہیں اور خلوص کے ساتھ بات چیت ہوئی۔ انھیں بھی خوشگوار حیرت ہوئی کہ معاملات طے پانے کے قریب ہیں، لیکن آخر میں کہا گیا کہ مسودہ وزیرِ اعلیٰ کو دکھانا ہے، جس کے بعد پیش رفت رک گئی۔

    وزیرِ اعظم نے کہا کہ مذاکرات ختم ہونے کے بعد بھی حکومت نے لانگ مارچ ختم کرنے کی درخواست کی، لیکن دوسری جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا۔

    انھوں نے کہا کہ حکومت نے مولانا فضل الرحمان سے بھی درخواست کی کہ وہ اس معاملے میں اپنا کردار ادا کریں۔

    شہباز شریف کا کہنا تھا کہ 'جو گفتگو اس وقت کی جا رہی ہے، وہ ناقابلِ برداشت ہے۔ پانی اب سر سے گزر رہا ہے۔

    وزیرِ اعظم نے خیبر پختونخوا میں امن و امان کی صورتحال پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ڈیرہ اسماعیل خان، ٹانک اور بنوں جیسے علاقوں میں آئے روز حملے ہو رہے ہیں، لیکن صوبائی حکومت خاموش ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ وہ یہ نہیں کہنا چاہتے کہ ایک طرف ان کے جلوس نکل رہے ہیں، جبکہ دوسری طرف لوگ نشانے پر ہیں۔