آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

پی ٹی آئی کا سہیل آفریدی سمیت متعدد رہنماؤں کی گرفتاری کا دعویٰ: خیبرپختونخوا میں سروسز معطل، تعلیمی ادارے بند

پاکستان تحریک انصاف نے دعویٰ کیا ہے کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کو گرفتار کر کے نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا گیا ہے، جبکہ پارٹی کے دیگر سینیئر رہنما بھی حراست میں لے لیے گئے ہیں۔ اُدھر گورنر کے زیر صدارت اجلاس میں پشاور میں کنٹینرز ہٹانے اور انٹرنیٹ سروس کی جزوی بحالی کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

خلاصہ

لائیو کوریج

  1. پانی سر سے گزر چکا ہے، اب فیصلے کا وقت ہے: وزیرِ اعظم شہباز شریف کی خیبر پختونخوا حکومت پر تنقید

    وزیرِ اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ حکومت اسلام آباد کی جانب آنے والے لانگ مارچ کو نہیں آنے دے گی اور قانون اپنا راستہ خود بنائے گا۔

    اتوار کو وفاقی کابینہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے شہباز شریف کا کہنا تھا کہ ’یہ جتھہ دوبارہ اسلام آباد آنا چاہتا ہے اور اُن بھیانک یادوں کو تازہ کرنا چاہتا ہے۔ کپڑے لٹکانے اور قبریں کھودنے جیسے واقعات کے ذریعے کیا یہ دوبارہ پاکستان کو اسی دور میں دھکیلنا چاہتے ہیں؟‘

    انھوں نے کہا کہ حکومت نے مولانا فضل الرحمان سے بھی درخواست کی ہے کہ وہ اس معاملے میں اپنا کردار ادا کریں۔

    شہباز شریف کا کہنا تھا کہ 'جو گفتگو اس وقت کی جا رہی ہے، وہ ناقابلِ برداشت ہے۔ پانی اب سر سے گزر رہا ہے۔ میں نے کابینہ سے کہا ہے کہ فیصلہ اب آپ نے کرنا ہے۔'

    خیبر پختونخوا میں سکیورٹی کی صورتحال پر تنقید

    وزیرِ اعظم نے خیبر پختونخوا میں امن و امان کی صورتحال پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ڈیرہ اسماعیل خان، ٹانک اور بنوں جیسے علاقوں میں آئے روز حملے ہو رہے ہیں، لیکن صوبائی حکومت خاموش ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ وہ یہ نہیں کہنا چاہتے کہ ایک طرف ان کے جلوس نکل رہے ہیں، جبکہ دوسری طرف لوگ نشانے پر ہیں۔

    خیبر پختونخوا کو 800 ارب روپے دینے کا دعویٰ

    شہباز شریف نے کہا کہ 2010 کے قومی مالیاتی کمیشن ایوارڈ میں وسائل کی تقسیم کے معاملے پر خیبر پختونخوا کو ایک فیصد اضافی وسائل دینے پر اتفاق کیا گیا تھا۔

    ان کے مطابق اب تک اس مد میں 800 ارب روپے دیے جا چکے ہیں۔

    وزیرِ اعظم نے کہا کہ یہ رقم کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) اور پولیس کو جدید ہتھیاروں سے لیس کرنے کے لیے تھی، تاہم انھوں نے سوال اٹھایا کہ یہ رقم کہاں خرچ ہوئی۔

  2. ’باب المندب میں خونی کھیل‘: چاہتے ہیں کہ معاملہ امن کے ساتھ طے پائے ورنہ پاکستان سعودی عرب کے ساتھ ہر طرح کا تعاون کرے گا، شہباز شریف

    پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف کا کہنا ہے کہ عالمی سطح پر پاکستان کے سفارتی کردار کو دُنیا بھر میں سراہا جا رہا ہے۔

    اتوار کو وفاقی کابینہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’ہم نے خلوص نیت سے کوششیں کیں، لیکن بدقسمتی سے آبنائے ہرمز میں حالات خراب ہوئے۔‘

    اُن کا کہنا تھا کہ ’آبنائے ہرمز کے بعد اب باب المندب میں جو خونی کھیل کھیلا جا رہا ہے، وہ افسوسناک ہے۔‘

    شہباز شریف کا کہنا تھا کہ پاکستان، سعودی عرب کے ساتھ ایک معاہدے میں جڑا ہوا ہے۔ حوثی جو کچھ کر رہے ہیں، وہ بہت افسوسناک ہے۔ سعودی عرب کے خلاف جو جارحیت کی جا رہی ہے، اس کا کوئی جواز نہیں ہے۔‘

    اُن کا کہنا تھا کہ پاکستان مکمل طور پر سعودی عرب کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتا ہے اور ہر طریقے سے سعودی بہن، بھائیوں کے ساتھ کھڑا ہے۔

    پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ ’ہماری ریڈ لائن ہے، ہم چاہتے ہیں کہ یہ معاملہ امن کے ساتھ طے پائے ورنہ پاکستان سعودی عرب کے ساتھ ہر طرح کا تعاون کرے گا۔‘

    وزیرِ اعظم شہباز شریف کا یہ بھی کہنا تھا کہ پاکستان کے عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کے ساتھ سٹاف لیول معاہدہ طے پا چکا ہے اور اس سال ہمیں 1.2 ارب ڈالرز مل جائیں گے۔

    شہباز شریف کا کہنا تھا آئی ایم ایف کی ایم ڈی نے نیویارک میں ملاقات کے دوران پاکستان کی معاشی پالیسیوں کی تعریف کی ہے۔

  3. ایمرجنسی یا گورنر راج کے اعلان کے بعد لوگ ترکی کی مثال دینا بھول جائیں گے: وزیرِ اعلیٰ سہیل آفریدی

    خیبر پختونخوا کے وزیرِ اعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ حکومت کے پاس ہمارے مطالبات تسلیم کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہے۔

    ایکس پر اپنے بیان میں سہیل آفریدی کا کہنا تھا کہ ’ایمرجنسی یا گورنر راج کے نفاذ کے بغیر ایسے اقدامات بغاوت کے مترادف ہیں، ہمت دکھائیں اور اعلان کر دیں۔‘

    اُن کا کہنا تھا کہ ہم کسی بھی صورت میں اپنے آئینی اور قانونی مطالبات سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ ہمارا لانگ مارچ قانون کے مطابق مطالبات کی منظوری تک جاری رہے گا۔ یہاں صرف عمران خان کی پالیسی ہی چلے گی۔

    سہیل آفریدی کا کہنا تھا کہ ایمرجنسی یا گورنر راج کے اعلان کے بعد لوگ ترکی کی مثال دینا بھول جائیں گے۔

  4. وزیرِ اعظم پاکستان کی صدارت میں وفاقی کابینہ کا اجلاس شروع، خیبر پختونخوا کی صورتحال پر غور, شہزاد ملک، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

    پاکستان کے وزیرِ اعظم شہباز شریف کی زیرِ صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس شروع ہو گیا ہے۔

    بی بی سی کے شہزاد ملک کے مطابق وفاقی کابینہ کے اجلاس میں خیبر پختونخوا میں امن وامان کی صورتحال کے بارے میں ایک نکاتی ایجنڈا پر غور کیا جا رہا ہے۔

    اجلاس میں خیبر پختونخوا میں گورنر راج، ایمرجنسی لگانے یا صوبے کے مخصوص علاقوں میں ایمرجنسی لگانے سے متعلق فیصلہ متوقع ہے۔

    وفاقی کابینہ کے اجلاس میں گذشتہ پانچ سال کے دوران خیبر پختونخوا میں شدت پسندی کے واقعات سے متعلق رپورٹ بھی پیش کی گئی ہے۔

  5. مکہ معاہدے کے تحت سعودی عرب کی سلامتی اور خود مختاری کے تحفظ کا اعادہ کرتے ہیں: پاکستان کا ریاض ایئر پورٹ حملے پر ردِعمل

    پاکستان نے سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض کے شاہ خالد انٹرنیشنل ایئر پورٹ پر حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان مکہ مشترکہ معاہدے کے تحت سعودی عرب کی سلامتی اور خود مختاری کے عزم کا اعادہ کرتا ہے۔

    اتوار کو جاری کیے گئے بیان میں ترجمان دفترِ خارجہ کا کہنا تھا کہ شہری املاک اور ہوائی اڈوں پر حملہ دہشت گردی اور علاقائی سلامتی کے لیے خطرہ ہے۔

    بیان میں کہا گیا ہے کہ مکہ اتحاد کی سیاسی، دفاعی اور سٹرٹیجک کمیٹی کے حالیہ اجلاس میں لیے گئے فیصلوں کے تناظر میں پاکستان سعودی عرب کی خود مختاری کے تحفظ کے عزم پر قائم ہے۔

    ترجمان کا کہنا تھا کہ شہریوں اور انفرسٹرکچر پر حوثی ملیشیا کا حملہ ناقابلِ قبول ہے اور اس کی عالمی سطح پر مذمت کی جانی چاہیے۔

    اُن کا کہنا تھا کہ پاکستان سعودی عرب کے دفاع کے حق کی حمایت کرتا ہے اور حوثی ملیشیا پر زور دیتا ہے کہ اس نوعیت کے حملے فوری طور پر روکے۔

  6. وزیرِ اعظم شہباز شریف کی ریاض ایئر پورٹ پر حملے کی مذمت

    وزیرِ اعظم شہباز شریف نے ریاض میں شاہ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے اور دونوں ممالک کے درمیان اُخوت کے دیرینہ تعلقات کے پیشِ نظر سعودی عرب کی خود مختاری، علاقائی سالمیت کے لیے اپنے پختہ عزم کا اعادہ کرتا ہے۔

    اتوار کو جاری کیے گئے بیان میں شہباز شریف کا کہنا تھا کہ حوثی ملیشیا کے شہریوں اور اہم بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے والے حملے قطعی ناقابلِ قبول ہیں اور علاقائی امن و استحکام کے لیے سنگین خطرہ ہیں۔

    اُن کا کہنا تھا کہ تشدد کے ایسے واقعات، جو بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی ہیں، کا فوری طور پر خاتمہ ہونا چاہیے۔

    شہباز شریف کا کہنا تھا کہ پاکستان مملکتِ سعودی عرب، اس کی قیادت اور برادر عوام کے ساتھ غیر متزلزل یکجہتی کا اظہار کرتا ہے۔

  7. بلوچستان سے اغوا ہونے والے ایڈیشنل سیشن جج کو بازیاب کروا لیا گیا, محمد کاظم، بی بی سی اُردو، کوئٹہ

    بلوچستان سے اغوا ہونے والے ایڈیشنل سیشن جج اسداللہ رئیسانی اور ان کے ساتھ اغوا ہونے والے پولیس اہلکار کو بازیاب کروا لیا گیا ہے۔

    اسداللہ رئیسانی ایران سے ملحقہ سرحدی ضلع پنجگور میں ایڈیشنل سیشن جج کے طور پر فرائض سرانجام دے رہے تھے۔

    انھیں چند روز قبل کوئٹہ سے پنجگور جاتے ہوئے نامعلوم مسلح افراد نے سوراب سے اغوا کیا تھا۔

    ایڈیشنل سیشن جج کے اغوا کے خلاف گذشتہ جمعرات کو وکلا نے بطور احتجاج عدالتی کاروائی کا بائیکاٹ کیا تھا۔

    بلوچستان بار کونسل کے عہدیدار راحب خان بلیدی نے بتایا کہ ایڈیشنل سیشن جج اسداللہ رئیسانی سنیچر کے روز بحفاظت بازیاب ہوگئے۔

    ان کے ساتھ اغوا ہونے والے پولیس اہلکار تاج محمد نے بھی فون پر رابطہ کرنے پر ایڈیشنل سیشن جج اور اپنی بازیابی کی تصدیق کی۔

    ایڈیشنل سیشن جج پنجگور کا اغوا بلوچستان میں تین چار ہفتوں کے دوران اغوا کا دوسرا بڑا واقعہ تھا۔

    ان سے قبل ڈپٹی کمشنر خاران منیر سومرو کو بھی نامعلوم افراد نے تین دیگر افراد کے ہمراہ 20 ستمبر کو اغوا کیا تھا۔

  8. ریاض ایئر پورٹ پر حملے میں کم از کم 12 ہلاکتیں، اب تک ہم کیا جانتے ہیں؟

    • سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض کے شاہ خالد انٹرنیشنل ایئر پورٹ پر سنیچر کی دوپہر ہونے والے حملے میں سعودی حکام نے 12 ہلاکتوں کی تصدیق کی ہے۔
    • سعودی عرب نے اس کا الزام یمن کے حوثیوں پر عائد کرتے ہوئے اسے ’جنگی جرم‘ اور ’دہشت گردی‘ قرار دیا ہے۔
    • سعودی قیادت میں فوجی اتحاد نے اس حملے کے بعد ’فیصلہ کن‘ جواب دینے کا اعلان کیا ہے۔
    • سعودی سول ایوی ایشن اتھارٹی نے کہا کہ ہلاک ہونے والوں میں چار سعودی، بنگلہ دیش کے دو شہری، اور امریکہ، اردن، فلسطین، شام، سوڈان اور مصر کا ایک، ایک شہری شامل ہے۔
    • سعودی حکام کے مطابق بعض زخمیوں کی حالت ’تشویشناک‘ ہے۔
    • کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر فلائٹ آپریشنز معطل کر دیے گئے ہیں۔
    • سعودی عرب میں موجود غیر ملکی سفارت خانوں نے اپنے شہریوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ ہوائی اڈے کا رخ کرنے سے گریز کریں.
    • ایوی ایشن ٹریکر’فلائٹ ریڈار‘ کے مطابق، ریاض جانے والی تمام پروازوں کا رخ موڑ دیا گیا ہے یا انھیں منسوخ کر دیا گیا ہے۔
  9. ریاض ایئر پورٹ پر حملہ ناقابلِ قبول ہے: صدر ٹرمپ

    امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ریاض ایئر پورٹ پر حملہ ناقابلِ قبول ہے۔

    صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر کا کہنا تھا کہ وہ اس صورتحال پر سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سے رابطہ کریں گے۔

    اس سے پہلے امریکی صدر نے کہا تھا کہ وہ جلد فیصلہ کریں گے کہ آیا امریکہ ایران کی حمایت یافتہ حوثیوں کے خلاف سعودی عرب کی کارروائیوں میں حصہ لے گا یا نہیں۔

    صدر ٹرمپ کا یہ بیان ریاض ایئر پورٹ پر حملے کے بعد سامنے آیا ہے جس میں سعودی سول ایوی ایشن اتھارٹی کے مطابق کم از کم 12 افراد ہلاک اور 300 سے زائد زخمی ہو گئے ہیں۔

    وائٹ ہاؤس میں صحافیوں کے ایک سوال کے جواب میں صدر ٹرمپ نے کہا: ’ہم ایسا کر سکتے ہیں۔ ہم اس کا جائزہ لیں گے۔ ہمیں ابھی حالیہ حملے کے بارے میں آگاہ کیا گیا ہے، اس لیے ہم فیصلہ کریں گے۔‘

    اُنھوں نے مزید کہا: ’ہم بہت تیزی سے آگے بڑھ رہے ہیں۔‘

  10. ریاض ایئر پورٹ پر حملہ: ’زخمی مدد کے لیے پکار رہے تھے، ہر کوئی بھاگ رہا تھا‘

    ریاض ایئر پورٹ پر موجود ایک عینی شاہد نے خبر رساں اداروں کو بتایا کہ اُنھوں نے گیٹ نمبر چار کو نشانہ بنتے دیکھا۔

    اُن کا کہنا تھا کہ زخمی میرے سامنے تھے اور ہر کوئی بھاگ رہا تھا۔

    خبر رساں ادارے روئٹرز نے ایک عینی شاہد کے حوالے سے بتایا کہ ایک درجن سے زائد ایمبولینسیں ہوائی اڈے کی جانب تیزی سے جاتی دیکھی گئیں۔

    بعد ازاں سعودی قیادت میں قائم اتحاد کے ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی نے کہا کہ مسافروں کے ایک ٹرمینل پر حملے کے نتیجے میں عام شہری مسافروں اور ہوائی اڈے کے عملے میں ہلاکتیں اور زخمی ہونے کے واقعات پیش آئے۔

    اُنھوں نے اس حملے کو ’مکمل طور پر جنگی جرم‘ قرار دیا۔

    امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا کہ وہ سعودی عرب پر حالیہ حملوں کی سخت مذمت کرتے ہیں۔ اُنھوں نے تصدیق کی کہ ان حملوں میں ایک امریکی شہری ہلاک ہوا ہے۔

    سعودی عرب میں مغربی ممالک کے سفارت خانوں نے اپنے شہریوں کو ہوائی اڈے سے دور رہنے کی تنبیہ کی ہے۔ برطانیہ کے دفترِ خارجہ نے برطانوی شہریوں کو ہدایت دی کہ ’جب تک ہوائی اڈہ محفوظ قرار نہیں دیا جاتا‘ اس علاقے سے گریز کریں۔

    خلیجی ممالک کی متعدد ایئرلائنز نے کہا ہے کہ اُنھوں نے ہوائی اڈے کے لیے اور وہاں سے اپنی پروازیں منسوخ کر دی ہیں۔

    فضائی پروازوں کی نگرانی کرنے والے ادارے فلائٹ ریڈار کے مطابق، ریاض جانے والی تمام پروازوں کا رخ موڑ دیا گیا ہے یا انھیں منسوخ کر دیا گیا ہے۔

  11. ریاض ایئر پورٹ پر حملے میں کم از کم 12 افراد ہلاک، 300 سے زائد زخمی

    سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض کے ہوائی اڈے پر حملے میں کم از کم 12 افراد ہلاک اور 309 زخمی ہو گئے ہیں۔

    سعودی سول ایوی ایشن اتھارٹی نے کہا کہ ہلاک ہونے والوں میں چار سعودی، بنگلہ دیش کے دو شہری، اور امریکہ، اردن، فلسطین، شام، سوڈان اور مصر کا ایک، ایک شہری شامل ہے۔

    کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر آپریشن معطل کر دیے گئے ہیں۔

    سعودی قیادت میں قائم فوجی اتحاد نے حملے کا جواب دینے کا عزم ظاہر کیا ہے۔ اتحاد نے اس حملے کا الزام حوثیوں پر عائد کرتے ہوئے اسے ’جنگی جرم‘ قرار دیا ہے۔

    یمن کی سعودی حمایت یافتہ حکومتی افواج اور حوثیوں کے درمیان حالیہ عرصے میں لڑائی میں اضافہ ہوا ہے، جبکہ حوثی ملک کے بیشتر حصے پر کنٹرول رکھتے ہیں۔

    سعودی قیادت میں قائم اتحاد کے مطابق، سنیچر کے روز سعودی عرب کے مشرقی شہر دمام میں واقع کنگ فہد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے قریب بھی ایک پروجیکٹائل آ کر گرا۔

    یہ حملے ایک دن بعد سامنے آئے ہیں جب حکام نے کہا تھا کہ اس سے ایک روز قبل ایران کی حمایت یافتہ حوثیوں کے ہوائی اڈے پر دو حملوں میں ایک پائلٹ سمیت تین سعودی ہلاک ہو گئے تھے۔ اس سے قبل چھ اور سات اکتوبر کو دو سعودی ہوائی اڈوں پر حوثیوں کے حملوں میں مزید تین افراد ہلاک ہوئے تھے۔

    سنیچر کے روز جاری بیان میں سعودی سول ایوی ایشن اتھارٹی نے کہا کہ زخمیوں میں سے بعض کی حالت ’تشویشناک‘ ہے۔

    اتھارٹی کے مطابق ہوائی اڈے کو پہنچنے والے نقصان کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔

  12. امریکہ حوثیوں کے خلاف سعودی حملوں میں شامل ہونے پر غور کر رہا ہے: ڈونلڈ ٹرمپ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ واشنگٹن یمن میں حوثیوں کے خلاف سعودی حملوں میں شامل ہونے پر غور کر رہا ہے۔

    سنیچر کے روز صحافیوں کی جانب سے ڈونلڈ ٹرمپ سے پوچھا گیا کہ آیا انھوں نے سعودی عرب کے حوثیوں کے خلاف کارروائیوں میں شرکت کا فیصلہ کر لیا ہے۔

    ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایسا ممکن ہے۔

    ’ہم اس کا جائزہ لیں گے۔ ہمیں ابھی حالیہ حملے کے بارے میں معلوم ہوا ہے۔ ہم فیصلہ کریں گے۔ ہم بہت تیزی سے فیصلے کرتے ہیں۔‘

    ان کا یہ بیان سینچر ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب سنیچر کے روز ریاض میں شاہ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر ایک حملے ہوا ہے جس کے بعد سعودی حکام نے ایئرپورٹ کی سرگرمیاں عارضی طور پر معطل کر دی ہیں۔ سعودی سول ایوی ایشن حکام کے ادارے کے مطابق اس حملے میں متعدد افراد زخمی ہوئے۔

  13. شاہ خالد ایئر پورٹ پر حملہ، متعدد ایئر لائنز نے ریاض کے لیے اپنی پروازیں منسوخ کر دیں

    بی بی سی فارسی کے مطابق سنیچر کے روز سعودی عرب کے دار الحکومت ریاض کے شاہ خالد ایئرپورٹ پر حملے کے بعد متعدد ایئر لائنز نے ریاض کے لیے اپنی پروازیں منسوخ کر دی ہیں۔

    کویت ایئرویز نے اعلان کیا ہے کہ اس نے ریاض آنے اور جانے والی اپنی دو پروازیں ’ایئرپورٹ کی بندش اور سکیورٹی صورتحال‘ کے باعث منسوخ کر دی ہیں۔

    اتحاد ایئرویز نے بھی ابو ظہبی اور ریاض کے درمیان اپنی متعدد پروازیں 12 اکتوبر تک منسوخ کر دی ہیں، جس کی وجہ ریاض کے شاہ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کی بندش بتائی گئی ہے۔

    ایئر انڈیا نے بھی ریاض کے لیے اپنی پروازوں کی معطلی میں 15 اکتوبر تک توسیع کر دی ہے۔

    اسی طرح فلائی دبئی، ترکش ایئرلائنز، لفتھانزا اور پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) نے بھی آئندہ چند روز کے لیے ریاض جانے والی اپنی پروازیں معطل کر دی ہیں۔

    ادھر یورپی یونین ایوی ایشن سیفٹی ایجنسی نے سعودی فضائی حدود سے متعلق اپنی ہدایات میں توسیع کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کی وجہ ’حوثیوں کی سعودی عرب کے اندر مزید اندر تک اہداف کو نشانہ بنانے اور ملک کے ہوابازی کے بنیادی ڈھانچے پر زیادہ توجہ مرکوز کرنے کی صلاحیت‘ ہے۔

    جرمنی، کینیڈا اور سپین نے بھی اپنے شہریوں کو ریاض، خصوصاً شاہ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ، کا سفر کرنے سے خبردار کیا ہے۔

  14. ریاض کے شاہ خالد ایئرپورٹ پر حملے کے بعد آپریشنل سرگرمیاں عارضی طور پر معطل

    سعودی عرب کی جنرل اتھارٹی آف سول ایوی ایشن نے اعلان کیا ہے کہ سنیچر کے روز دارالحکومت ریاض کے شاہ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر حملہ کیا گیا جس کے نتیجے میں متعدد افراد زخمی ہوئے ہیں۔

    اداے کا کہنا ہے کہ زخمیوں کی حتمی تعداد معلوم کرنے کے لیے کام جاری ہے۔

    سعودی سول ایوی ایشن اتھارٹی کا کہنا ہے حملے سے ہونے والے نقصان کا جائزہ مکمل ہونے اور متعلقہ اداروں کے تعاون سے تنصیبات کی حفاظت کی تصدیق ہونے تک ایئرپورٹ کی آپریشنل سرگرمیاں عارضی طور پر معطل کر دی گئی ہیں۔

    بیان میں کہا گیا ہے کہ اس حوالے سے مزید تفصیلات بعد میں جاری کی جائیں گی۔

    اس سے قبل خبر رساں ادارے اے ایف پی نے ریاض کے ایک ہسپتال ذریعے کے حوالے سے بتایا تھا کہ زخمیوں میں سے پانچ کی حالت تشویش ناک ہے اور انھیں انتہائی نگہداشت کے یونٹ میں رکھا گیا ہے۔

    اے ایف پی کے مطابق زخمیوں میں سے اکثریت سعودی شہریوں کی ہے جبکہ بعض زخمیوں کو ہیلی کاپٹر کے ذریعے طبی مراکز منتقل کیا گیا۔

    یاد رہے کہ جمعرات کے روز بھی یمن کے حوثیوں نے شاہ خالد ایئرپورٹ کو نشانہ بنایا تھا۔ اس حملے میں پائلٹ سمیت چار افراد ہلاک جبکہ درجنوں زخمی ہوئے تھے۔

  15. ‏خیبرپختونخوا پولیس کا صوبے میں پرتشدد مظاہروں کی صورت میں طاقت کے استعمال کا فیصلہ

    پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کی پولیس نے صوبے میں ممکنہ ہنگامہ آرائی اور پرتشدد مظاہروں کی صورت میں طاقت کے استعمال کا فیصلہ کیا ہے۔

    خیبر پختونخوا کے انسپکٹر جنرل پولیس کے دفتر سے جاری آپریشنل گائیڈ لائنز میں کہا گیا ہے کہ ‏پہلے مرحلے میں وارننگ جبکہ دوسرے مرحلے میں مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس شیل استعمال کیا جائے گا۔

    گائید لائنز کے مطابق اگر اس سے کام نہیں بنا تو اس کے بعد ربڑ کی گولیاں اور پیپر بال گنز استعمال کی جائیں گی۔

    باز نہ آنے کی صورت میں آئی جی پولیس کی جانب سے مظاہرین کے خلاف لاٹھی چارج، ہوائی فائرنگ اور ان کو گرفتار کرنے کے بھی احکامات جاری کر دیے گئے ہیں۔

    ‏آئی جی پولیس ذوالفقار حمید کی جانب بسے یہ احکامات خیبرپختونخوا پولیس ایکٹ 2017 کے سیکشن 83 سے 88 کے تحت صوبے کے تمام پولیس افسران اور اہلکاروں کو جاری کی گئی ہیں۔

    مراسلے میں ‏ڈسٹرکٹ پولیس افسران کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ خود احتجاجی مظاہروں میں ڈیوٹی سرانجام دیں۔

    اس طرح تھانوں، سرکاری دفاتر، پٹرول پمپس، بینک، شاپنگ سینٹرز اور ہائی ویز سمیت حساس تنصیبات کی سکورٹی سخت کرنے کی بھی ہدایت کی گئی ہے۔

  16. گورنر خیبر پختونخوا اور وفاقی وزیر داخلہ کی صدرر آصف زرداری سے ملاقات، خیبر پختونخوا میں بگڑتی ہوئی امن و امان کی صورتحال پر تبادلۂ خیال

    پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے گورنر فیصل کریم کنڈی اور وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے صدر آصف علی زرداری سے ملاقات کی ہے۔

    ایوانیِ صدر سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ سنیچر کے روز ہونے والی ملاقات کے دوران صدرِ آصف علی زرداری کو ملک کی مجموعی سکیورٹی صورتحال، بالخصوص خیبر پختونخوا میں بگڑتی ہوئی امن و امان کی صورتحال پر بریفنگ دی گئی۔

    یہ ملاقات ایک ایسے وقت میں ہوئی ہے جب کئی روز سے خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ کی باتیں گردش کر رہی ہیں۔

    سنیچر کے روز ہی اسلام آباد میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے محسن نقوی نے کہا تھا کہ اب خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی نہ لگنے کی کوئی گنجائش نہیں بچی۔

  17. راولپنڈی اور مری میں ایک ماہ کے لیے دفعہ 144 نافذ

    پاکستان کے صوبہ پنجاب کے دو شہروں راولپنڈی اور مری میں ایک ماہ کے لیے دفعہ 144 نافذ کردی گئی ہے۔

    راولپنڈی کے ڈپٹی کمشنر کیپٹن ریٹائرڈ ندیم ناصر کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق ضلع بھر میں دفعہ 144 کا نفاذ 10 اکتوبر سے 8 نومبر تک ہوگا۔

    نوٹیفکیشن کے مطابق ضلع بھر میں جلسے، جلوس، پانچ یا زائد افراد کے اجتماع کے ساتھ ساتھ اسلحہ، ڈنڈے اور پٹرول بم لے کر چلنے پر پابندی عائد ہوگی۔

    اس کے علاوہ موٹر سائیکل کی ڈبل سواری اور لاؤڈ سپیکر کے استعمال پر بھی پابندی ہوگی۔

    نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ ضلع بھر میں سکیورٹی خدشات کے پیش نظر دفعہ 144 نافذ کی گئی ہے اور خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔

    دوسری جانب مری کے ڈپٹی کمشنر آغا ظہیر عباس شیرازی نے ضلع مری میں دفعہ 144 نافذ کرتے ہوئے مختلف سرگرمیوں پر پابندی عائد کر دی ہے۔

    ڈپٹی کمشنر کے دفتر سے جاری حکم نامے کے مطابق یہ پابندیاں 10 اکتوبر 2026 سے 8 نومبر 2026 تک یعنی 30 دن کے لیے نافذ العمل رہیں گی۔

    حکم نامے کے مطابق ہر قسم کے جلسے، جلوس، ریلیاں، احتجاج، دھرنے، مظاہرے اور پانچ یا اس سے زائد افراد کے اجتماعات کے علاوہ اسلحہ، کیل دار ڈنڈے، غلیل، بال بیرنگ، پیٹرول بم اور تشدد میں استعمال ہونے والے دیگر آلات ساتھ رکھنے پر پابندی ہے۔

    اس کے علاوہ اسلحے کی نمائش اور اشتعال انگیز یا نفرت انگیز تقاریر پر پابندی ہو گی جبکہ پولیس کی جانب سے اجتماعات یا ٹریفک کی نقل و حرکت کو منظم کرنے کے لیے عائد کردہ پابندیوں کی خلاف ورزی نہ کرنے کا بھی حکم دیا گیا ہے۔

  18. اب خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی نہ لگنے کی کوئی گنجائش نہیں بچی: محسن نقوی

    پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں مبینہ ویزا فراڈ پر ’خودکشی‘ کرنے والی طالبہ کے گھر کے باہر صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کا کہنا تھا کہ اب خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی نہ لگنے کی کوئی گنجائش نہیں بچی۔

    خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ کے معاملے پر گفتگو کرتے ہوئے محسن نقوی نے صحافیوں سے کیا کہ لوگ بتائیں کہ یہ معاملہ کس طرح سے ٹل سکتا ہے۔

    ان سے پوچھا گیا کہ جمیعت علمائے اسلام کے قائد مولانا فضل الرحمان کی وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات ہوئی ہے، کیا ابھی بھی کوئی صلح ہوسکتی ہے؟

    اس پر محسن نقوی کا کہنا تھا کہ پاکستان تحریکِ انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان سے پوچھیں میں نے کس حد تک اس معاملے سے بچنے کی کوششیں کیں۔

    ’میں نے ایسے فیصلے سے بچنے کے لیے ہر ممکن کوشش کی۔‘

    ان کا کہنا تھا، ’اب ہمارے پاس کوئی گنجائش نہیں رہی۔‘

  19. بریکنگ, ریاض کے شاہ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر میزائل حملہ، درجنوں افراد زخمی

    سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض کے بین الاقوامی ہوائی اڈے شاہ خالد ایئر پورٹ پر میزائل حملہ ہوا ہے جس کے بعد حکام نے درجنوں افراد زخمی ہونے کی خبر دی ہے۔

    خبر رساں ادارے اے ایف پی نے ریاض کے ایک ہسپتال ذریعے کے حوالے سے بتایا ہے کہ زخمیوں میں سے پانچ کی حالت تشویش ناک ہے اور انھیں انتہائی نگہداشت کے یونٹ میں رکھا گیا ہے۔

    اے ایف پی کے مطابق زخمیوں میں سے اکثریت سعودی شہریوں کی ہے جبکہ بعض زخمیوں کو ہیلی کاپٹر کے ذریعے طبی مراکز منتقل کیا گیا۔

    یاد رہے کہ جمعرات کے روز یمن کے حوثیوں نے شاہ خالد ایئرپورٹ کو نشانہ بنایا تھا۔ اس حملے میں پائلٹ سمیت چار افراد ہلاک جبکہ درجنوں زخمی ہوئے تھے۔

    بی بی سی فارسی کے مطابق قطر اور امارات سمیت ایئر لائنز نے ریاض انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر پروازیں معطل کر دی ہیں۔

    ریاض ہوائی اڈے پر حملہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب سعودی دارالحکومت میں کل سے ایک بڑی بین الاقوامی تیل کانگریس شروع ہو رہی ہے۔

    واضح رہے کہ ریاض کے شاہ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ نے ایک نوٹس بھی جاری کیا تھا جس میں مسافروں سے کہا گیا تھا کہ وہ ہوائی اڈے کے لیے روانگی سے قبل اپنی متعلقہ ایئر لائنز سے رابطہ کریں۔

    دوسری جانب سعودی عرب میں کینیڈا، جرمنی اور سپین کے سفارت خانوں نے اپنے شہریوں سے ریاض انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر حملہ ہونے کی اطلاعات کے بعد اس سے دور رہنے کی ہدایت کی ہے۔

  20. مولانا فضل الرحمان نے شہباز شریف سے ملاقات سے قبل پی ٹی آئی کی قیادت کو بھی اعتماد میں لیا: ترجمان جے یو آئی ف

    جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان اور وزیر اعظم شہباز شریف کی وزیراعظم ہاؤس میں ہونے والی ملاقات ختمہو گئی ہے۔

    اس ملاقات میں ہونے والی گفتگو کا تاحال اعلامیہ تو جاری نہیں کیا گیا تاہم آج کی اس ملاقات سے قبل جے یو آئی ف کی جانب سے جاری اعلامیے میں کہا گیا تھا کہ یہ ملاقات وزیر اعظم کی دعوت پر ہو رہی ہے۔

    ترجمان جے یو آئی کے مطابق مولانا فضل الرحمان نے روانگی سے قبل تحریک انصاف کی قیادت کو بھی اعتماد میں لیا۔