پانی سر سے گزر چکا ہے، اب فیصلے کا وقت ہے: وزیرِ اعظم شہباز شریف کی خیبر پختونخوا حکومت پر تنقید
وزیرِ اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ حکومت اسلام آباد کی جانب آنے والے لانگ مارچ کو نہیں آنے دے گی اور قانون اپنا راستہ خود بنائے گا۔
اتوار کو وفاقی کابینہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے شہباز شریف کا کہنا تھا کہ ’یہ جتھہ دوبارہ اسلام آباد آنا چاہتا ہے اور اُن بھیانک یادوں کو تازہ کرنا چاہتا ہے۔ کپڑے لٹکانے اور قبریں کھودنے جیسے واقعات کے ذریعے کیا یہ دوبارہ پاکستان کو اسی دور میں دھکیلنا چاہتے ہیں؟‘
انھوں نے کہا کہ حکومت نے مولانا فضل الرحمان سے بھی درخواست کی ہے کہ وہ اس معاملے میں اپنا کردار ادا کریں۔
شہباز شریف کا کہنا تھا کہ 'جو گفتگو اس وقت کی جا رہی ہے، وہ ناقابلِ برداشت ہے۔ پانی اب سر سے گزر رہا ہے۔ میں نے کابینہ سے کہا ہے کہ فیصلہ اب آپ نے کرنا ہے۔'
خیبر پختونخوا میں سکیورٹی کی صورتحال پر تنقید
وزیرِ اعظم نے خیبر پختونخوا میں امن و امان کی صورتحال پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ڈیرہ اسماعیل خان، ٹانک اور بنوں جیسے علاقوں میں آئے روز حملے ہو رہے ہیں، لیکن صوبائی حکومت خاموش ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ وہ یہ نہیں کہنا چاہتے کہ ایک طرف ان کے جلوس نکل رہے ہیں، جبکہ دوسری طرف لوگ نشانے پر ہیں۔
خیبر پختونخوا کو 800 ارب روپے دینے کا دعویٰ
شہباز شریف نے کہا کہ 2010 کے قومی مالیاتی کمیشن ایوارڈ میں وسائل کی تقسیم کے معاملے پر خیبر پختونخوا کو ایک فیصد اضافی وسائل دینے پر اتفاق کیا گیا تھا۔
ان کے مطابق اب تک اس مد میں 800 ارب روپے دیے جا چکے ہیں۔
وزیرِ اعظم نے کہا کہ یہ رقم کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) اور پولیس کو جدید ہتھیاروں سے لیس کرنے کے لیے تھی، تاہم انھوں نے سوال اٹھایا کہ یہ رقم کہاں خرچ ہوئی۔