پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان اتحاد سے متعلق ریڈیو پاکستان نے بین القوامی امور کے ماہرین کی آرا نشر اور شائع کی ہیں۔
بین الاقوامی امور کی ماہر ڈاکٹر مریم فاطمہ کا کہنا ہے کہ ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے سی این این کو دیے گئے انٹرویو میں اس بات پر زور دیا کہ پاکستان مکہ دفاعی معاہدے کے تحت حرمین شریفین اور سعودی عرب کی سلامتی و سکیورٹی کے لیے اپنے عزم کا اعادہ کر چکا ہے۔
ان کے مطابق ڈی جی آئی ایس پی آر نے عالمی برادری کو یہ پیغام بھی دیا کہ پاکستان سعودی عرب کی سلامتی سے متعلق اپنی ذمہ داریوں کو نہایت سنجیدگی سے لیتا ہے۔ انھوں نے یاد دلایا کہ وزیرِ اعظم شہباز شریف بھی متعدد مواقع پر سعودی عرب پر حوثی حملوں کی مذمت کرتے ہوئے مملکت کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کر چکے ہیں۔
ڈاکٹر مریم فاطمہ کے مطابق پاکستان نے واضح کیا ہے کہ کسی بھی خطرے یا چیلنج کی صورت میں وہ سعودی عرب کے شانہ بشانہ کھڑا رہے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ ڈی جی آئی ایس پی آر نے اجتماعی دفاع کے تصور پر زور دیتے ہوئے واضح کیا کہ سعودی عرب میں پاکستانی افواج کی موجودگی کسی ملک کے خلاف جارحیت کے لیے نہیں بلکہ ممکنہ خطرات کے سدباب، دفاعی تعاون اور مؤثر ردِعمل کو یقینی بنانے کے لیے ہے۔
انھوں نے کہا کہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی اور تزویراتی تعلقات کئی دہائیوں پر محیط ہیں۔ ماضی میں بھی پاکستانی افواج مختلف مواقع پر سعودی عرب کی سلامتی کے تحفظ میں کردار ادا کرتی رہی ہیں، جبکہ سعودی فوجی افسران اور کیڈٹس پاکستانی فوجی، فضائی اور بحری تربیتی اداروں میں تربیت حاصل کرتے رہے ہیں۔
ڈاکٹر مریم فاطمہ کے بقول موجودہ علاقائی حالات میں سعودی عرب میں پاکستانی فوجیوں کی موجودگی کا مقصد دفاعی تیاریوں کو مضبوط بنانا اور بیرونی خطرات سے نمٹنے کی صلاحیت میں اضافہ کرنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مکہ دفاعی معاہدے کے تحت قائم کیا جانے والا دفاعی ڈھانچہ مشرقِ وسطیٰ میں پیدا ہونے والے سکیورٹی چیلنجز سے نمٹنے کی ایک کوشش ہے۔
انھوں نے مزید کہا کہ حوثی گروہوں کی جانب سے سعودی عرب کو درپیش خطرات کے تناظر میں دفاعی تعاون کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے، جبکہ سعودی سرزمین اور اہم تنصیبات کے تحفظ کے لیے مشترکہ دفاعی انتظامات ناگزیر ہو چکے ہیں۔
ڈاکٹر مریم فاطمہ کے مطابق لیفٹیننٹ جنرل (ر) نعمان محمود، جو مکہ دفاعی سیکریٹریٹ میں سیکریٹری جنرل کی ذمہ داریاں انجام دے رہے ہیں، دفاعی امور کا وسیع تجربہ رکھتے ہیں اور معاہدے کے ادارہ جاتی ڈھانچے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔
دوسری جانب بین الاقوامی امور کی ماہر ڈاکٹر حما بقائی کا کہنا ہے کہ پاکستان اور سعودی عرب کے دفاعی اور تزویراتی تعلقات کو صرف مکہ دفاعی معاہدے کے تناظر میں نہیں دیکھا جا سکتا کیونکہ دونوں ممالک کے درمیان تعاون کی تاریخ کئی دہائیوں پر محیط ہے۔
انھوں نے کہا کہ پاکستان روایتی طور پر سعودی عرب کی خودمختاری اور سلامتی کے تحفظ کا حامی رہا ہے اور مستقبل میں بھی اس پالیسی میں تبدیلی کا امکان نظر نہیں آتا۔
ڈاکٹر حما بقائی کے مطابق سعودی عرب پر حوثی حملوں کو خطے کی وسیع تر سیاسی و سکیورٹی صورتحال سے الگ نہیں کیا جا سکتا۔ ان کے بقول یہ مسئلہ ایران، امریکہ اور مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگیوں سے بھی جڑا ہوا ہے۔ انھوں نے حوثیوں کو مغربی ایشیا کا ایک مؤثر غیر ریاستی فریق قرار دیتے ہوئے کہا کہ گذشتہ ایک دہائی میں کوئی بھی طاقت انھیں فیصلہ کن طور پر شکست نہیں دے سکی۔
ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ ایران حوثیوں کی حمایت کرتا ہے، تاہم یہ کہنا درست نہیں کہ تہران ان پر مکمل کنٹرول رکھتا ہے۔ اسی لیے اس تنازع کے حل کے لیے صرف عسکری حکمتِ عملی کافی نہیں ہو سکتی۔
ڈاکٹر حما بقائی کے مطابق عالمی برادری کو سفارت کاری، مذاکرات اور سیاسی رابطوں کے ذریعے تنازع کے حل کی کوشش کرنی چاہیے۔ ان کے بقول حوثیوں کے ساتھ محدود یا مرحلہ وار سفارتی روابط، کشیدگی میں کمی اور خطے میں استحکام کے لیے زیادہ مؤثر ثابت ہو سکتے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ موجودہ صورتحال محتاط حکمتِ عملی کی متقاضی ہے، جس میں سفارت کاری، مکالمہ، علاقائی تعاون اور ضرورت پڑنے پر دفاعی اقدامات کو متوازن انداز میں بروئے کار لایا جائے۔ ایسی حکمتِ عملی ہی مشرقِ وسطیٰ میں پائیدار امن اور استحکام کی راہ ہموار کر سکتی ہے۔