مشرق وسطیٰ میں کووڈ 19 کے پھیلاؤ کی کہانی
بی بی سی نے ایک تحقیق کی ہے کہ کس طرح ایک ایرانی ایئر لائن ماہان ایئر نے مشرق وسطیٰ میں کووڈ 19 پھیلانے میں کردار ادا کیا اور متعدد ممالک کی جانب سے پابندی کے باوجود اپنی پروازوں کو جاری رکھا۔
آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
دنیا میں کورونا کے مریضوں کی تعداد ایک کروڑ تین لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے جبکہ پاکستان میں اب تک دو لاکھ بارہ ہزار سے زیادہ لوگ متاثر ہوچکے ہیں۔ جنوبی کوریا میں طبی حکام کا کہنا ہے کہ وہ اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ ’کووڈ 19 کے معاملے میں ہرڈ امیونیٹی ایک خوش فہمی ہے‘ جبکہ پاکستان کے صوبہ پنجاب کے وزیراعلی عثمان بزدار کی حکومت نے آکسیجن گیس کا پلانٹ لگانے کا حکم دیا ہے۔
بی بی سی نے ایک تحقیق کی ہے کہ کس طرح ایک ایرانی ایئر لائن ماہان ایئر نے مشرق وسطیٰ میں کووڈ 19 پھیلانے میں کردار ادا کیا اور متعدد ممالک کی جانب سے پابندی کے باوجود اپنی پروازوں کو جاری رکھا۔
برطانیہ نے کورونا وائرس کے علاج کے لیے ملیریا کی متنازعہ دوا کے استعمال پر دوبارہ تجربات کی منظوری دی ہے۔
ریگولیٹرز کا کہنا ہے کہ ہائیڈروکسی کلوروکوین اور اس سے ملتی جلتی دوا، کلوروکوین، کو ایک کلینیکل تحقیق میں طبی عملے کو دیا جا سکتا ہے تاکہ وہ نظریے کو پرکھ سکیں۔
کوپ کوو تجربے کے لیے لوگوں کی بھرتی کو پہلے اس تشویش کی وجہ سے روک دیا گیا تھا کہ اس دوا کے دیگر مضر اثرات بھی ہیں۔ ایک مضمون میں بتایا گیا تھا کہ اس سے کورونا وائرس کے مریضوں کو موت کا خطرہ ہے، لیکن اس کے بعد یہ مضمون ڈیٹا پر تشویش کی وجہ سے واپس لے لیا گیا ہے۔
اگرچہ دوسری تحقیق میں تجویز کیا گیا ہے کہ ہائیڈروکسی کلوروکوین کا ان مریضوں کی زندگیاں بچانے میں کوئی کردار نہیں جو پہلے ہی کورونا سے بیمار ہیں، تحقیق کار اس کوشش میں لگے رہتے ہیں کہ کیا یہ انفیکشنز روک سکتی ہے۔
کوپ کوو ٹرائل میں کلوروکوین، ہائیڈروکسی کلوروکوین یا پلیسبو یورپ، افریقہ اور جنوبی امریکہ سے تعلق رکھنے والے 40 ہزار سے زائد ہیلتھ کیئر کے عملے کو دی جائیں گی۔
پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے صوبائی دارالحکومت پشاور کی ضلعی انتظامیہ نے ’کورونا وائرس کے متاثرین میں واضح کمی‘ کے پیشِ نظر دو علاقوں میں سمارٹ لاک ڈاؤن ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
بیان کے مطابق سمارٹ لاک ڈاؤن کے علاقوں میں کورونا کیسز میں واضح کمی آئی ہے۔ دو علاقوں سے یکم جولائی سے سمارٹ لاک ڈاؤن ختم کر نے کا نوٹیفیکیشن جاری کیا گیا ہے۔
ڈپٹی کمشنر پشاور کے مطابق یونین کونسل آسیہ اور شینواری ٹاؤن میں کل تین بجے سمارٹ لاک ڈاؤن ختم کیا جا رہا ہے۔
’سمارٹ لاک ڈاؤن کے مثبت نتائج سامنے آئیں ہیں۔ عوام حکومتی ضابطہ اخلاق پر سختی سے عمل درآمد کریں۔ خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔‘
گذشتہ روز اشرفیہ کالونی، یونیورسٹی ٹاؤن چنار روڈ، دانش آباد اور سیکٹر ای ٹو فیز ون حیات آباد سے سمارٹ لاک ڈاؤن ختم کیا گیا تھا۔
چیلی کی حکومت نے منگل کو کہا ہے کہ یہاں بیروزگاری کی شرح مارچ اور مئی کے درمیان 11.2 فیصد پر رہی۔ یعنی اس دیہائی کے دوران بیروزگاری میں ریکارڈ اضافہ دیکھا گیا ہے۔
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق حکومت کا کہنا ہے کہ کورونا وائرس کا پھیلاؤ روکنے کے لیے کیے جانے والے اقدامات کی بدولت ملکی معیشت کو کافی نقصان پہنچا ہے۔
اعداد و شمار کے حکومتی ادارے کے مطابق کامرس، رہائش، اشیا خورد و نوش کی سروس اور تعمیرات سب سے زیادہ متاثرہ شعبوں میں سے ہیں۔
جبکہ چیلی میں اپنا کاروبار کرنے والے افراد سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔
یاد رہے کہ چیلی کو معاشی اعتبار سے لاطینی امریکہ کے مستحکم ممالک میں شمار کیا جاتا ہے۔
میڈیکل سٹارٹ اپ اینجیز نے کہا ہے کہ اس نے جاپان میں ممکنہ کورونا وائرس کی پہلی انسانی ٹیسٹنگ شروع کر دی ہے۔
یہ دوا ڈی این اے ٹیکنالوجی پر مبنی ہے، جو کہ ایک طریقہ ہے جس سے مریضوں میں امیون ردِ عمل کو تحریک ملتی ہے اور اسے زیادہ مقدار میں بنانا آسان ہے۔
کمپنی کا کہنا ہے کہ اوساکا سٹی یونیورسٹی میں ٹرائل اگلے سال 31 جولائی تک ہوتے رہیں گے۔
یہ اس وقت سامنے آیا ہے جب انڈیا میں بھی ایک اور متبادل ویکیسن پر انسانی ٹرائل ہو رہے ہیں۔
پاکستان میں پلازمہ کے عطیہ سے کورونا وائرس کے مریضوں کو خاصی مدد ملتی ہے۔ طبی ماہرین کے مطابق پلازمہ کا عطیہ دینا بے حد ضروری ہے لیکن لوگوں میں اس بارے میں اب بھی بہت سے خدشات پائے جاتے ہیں۔
پلازمہ کا عطیہ کیا ہے، یہ کیوں ضروری ہے اور یہ ہوتا کیسے ہے، ان تمام سوالات کے جواب دے رہے ہیں ڈاکٹر طاہر شمسی اس ویڈیو میں
برطانیہ کے وزیرِ اعظم بورس جانسن نے کہا ہے کہ حکومت چاہتی ہے کہ جتنے لوگوں کے لیے بھی ممکن ہو اور جتنی تیز ممکن ہو، معمول کے مطابق زندگی واپس لائی جائے۔
لیکن انھوں نے 4 جولائی کے لاک ڈاؤن میں نرمی کے اقدامات سے پہلے خبردار کیا کہ ’وائرس باہر موجود ہے، اور پانی میں شارک کی طرح چکر لگا رہا ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ ’حکومت نے کورونا وائرس کو صرف شکست دینے کا عزم نہیں کیا، بلکہ اس نے تعین کیا ہے کہ وہ اس بحران کو استعمال کرتے ہوئے ملک کے بڑے حل طلب مسائل کو حل کرے گی جیسا کہ گھروں کی تعمیر، این ایچ کی بہتری اور ہنر کے بحران کا مسئلہ۔
پاکستان کے صوبہ خیبرپختونخوا کے مشیر اطلاعات اجمل وزیر کے مطابق یہاں کورونا وائرس سے صحت یابی کی شرح گذشتہ ایک ہفتے میں 30 فیصد سے بڑھ کر 48 فیصد ہوگئی ہے۔
یاد رہے کہ صوبے میں اس وقت مصدقہ متاثرین کی تعداد 26115 ہے جبکہ کووڈ 19 935 اموات ہوئی ہیں۔ یہاں اموات کی شرح اب تک 3.5 فیصد تک ہے۔
اجمل وزیر کا کہنا ہے کہ صوبے کی سات ڈویژنز کے 276 علاقوں میں سمارٹ لاک ڈاؤن نافذ کیا گیا ہے۔ گذشتہ روز 58 علاقوں سے سمارٹ لاک ڈاؤن ہٹا دیا گیا تھا۔
انڈین وزیرا عظم نریندر مودی نے منگل کو قوم کے نام خطاب میں کہا کہ ان کی حکومت نے 80 کروڑ لوگوں کو تین ماہ تک مفت راشن دیا ہے اور اب یہ سہولت نومبر 2020 تک جاری رہے گی۔
حکومت نے آئندہ پانچ ماہ کے دوران غریب خاندانوں کے ہر فرد کو پانچ کلو گیہوں یا چاول مفت دیے جانے کا اعلان کیا۔ انھوں نے کہا کہ اس کے لیے حکومت 90 ہزار کروڑ روپے خرچ کرے گی۔
نریندر مودی اپنے لمبے خطابوں کے لیے مشہور ہیں لیکن منگل کو قوم کے نام اپنے خطاب کو انھوں نے بہت مختصر رکھا۔ ان کا خطاب محض 16-17 منٹ میں ختم ہو گیا۔ عوام کو امید تھی کہ شاید وہ کورونا کے علاوہ انڈیا اور چین کے درمیان کشیدگی پر بھی کچھ بولیں گے لیکن انھوں نے چین کے بارے میں کوئی بات نہیں کی۔
انڈیا میں لاک ڈاوٴن کو آہستہ آہستہ ختم کرنے کی جانب حکومت نے 30 جون تک کچھ رعائتیں دی تھیں جسے حکومت نے ’انلاک1‘ کہا تھا۔ اب ایک جولائی سے ’انلاک2‘ کا آغاز ہوگا۔
تاریخ کے سب سے پرعزم منصوبوں میں سے ایک سمجھےجانے والا منصوبہ چین کا ’ون بیلٹ ون روڈ‘ پروجیکٹ ہے جسے ’نیو سلک روڈ‘ بھی کہا جاتا ہے۔
سنہ 2013 میں چینی صدر شی جن پنگ نے انفراسٹرکچر کی ترقی کے اس منصوبے کا آغاز کیا۔ اس کے تحت مشرقی ایشیا سے لے کر یورپ، افریقہ اور لاطینی امریکہ تک کے ترقیاتی اور سرمایہ کاری کے منصوبوں کی ایک پوری سیریز پر کام کیا جانا ہے۔
بین الاقوامی تعاون اور معیشت کے محاذ پر چین کے لیے صدر شی جن پنگ کی یہ اہم حکمت عملی ہے۔ لیکن ناقدین کی رائے اس سے مختلف ہے۔ انھیں لگتا ہے کہ چین دنیا بھر کے ممالک پر اپنا اثر بڑھانے کے لیے قرض دینے والی سفارت کاری کا استعمال کر رہا ہے۔
لیکن وہ منصوبہ جس کا مقصد مصنوعات، سرمائے اور ٹیکنالوجی کے عالمی بہاؤ کے ذریعے معاشی ترقی کو فروغ دینا تھا، کورونا کی وبا کی وجہ سے اچانک رک گیا ہے۔
چین سے بڑے پیمانے پر قرض لینے والے بہت سے ممالک کو اب بہت سی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ اور ان میں سے بہت سے ممالک نے ایک ایک کر کے چین کو بتایا ہے کہ وہ اس قرض کو واپس کرنے کی حالت میں نہیں ہیں۔
تو کیا یہ صدر شی جن پنگ کے 'نیو سلک روڈ' پروجیکٹ کا اختتام ہے؟ یا کورونا وبا محض ایک رکاوٹ ہے اور عالمی معیشت کے ساتھ ساتھ چین بھی اس پر قابو پالے گا؟
پاکستان کے صوبہ پنجاب میں 15 جولائی تک لاک ڈاؤن میں توسیع کر دی گئی ہے۔
سیکریڑی پرائمری اینڈ سکینڈری ہیلتھ کئیر کے مطابق صوبے میں لاک ڈاؤن کے حوالے سے توسیعی نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا ہے جس کے تحت تعلیمی ادارے، شادی ہال، ریستوران، پارک اور سینما ہال بدستور بند رہیں گے۔
’سماجی و مذہبی اجتماعات، کھیل کی سرگرمیوں کے لیے اکٹھے ہونے کی اجازت نہیں ہوگی۔‘
مزید یہ کہ تمام کاروباری مقامات صبح 9 سے شام 7 بجے تک، پیر تا جمعہ کھلے رہیں گے۔
’میڈیکل سٹور، پنکچر شاپ، آٹا چکی تندور، زرعی ورکشاپس 24 گھنٹے کھلی رکھنے کی اجازت ہوگی۔
کال سنٹرز کو 50 فی صد عملے کے ساتھ کھلا رکھنے کی اجازت ہوگی۔
بین الاضلاع ٹرانسپورٹ 24 گھنٹے چلنے کی اجازت ہوگی۔
ضروری اشیا کی دکانیں اور کریانہ سٹور صبح 9 سے شام 7 تک، ہفتہ بھر کھلے رہیں گے۔
تمام چرچ صرف اتوار کو صبح 7 سے شام 5 بجے تک عبادت کے لیے کھلے رہیں گے۔
نئے لاک ڈاؤن کا اطلاق فی الفور ہو گا اور یہ 15جولائی تک نافذ العمل رہے گا۔
پاکستان کے صوبہ پنجاب کی حکومت نے 15 جون کو نافذ ہونے والے لاک ڈاؤن کی مدت 15 جولائی تک بڑھا دی ہے۔
محکمہ صحت کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفیکیشن کے مطابق لاک ڈاؤن کی مدت 30 جون کو ختم ہونا تھی تاہم اس میں 15 جولائی تک کی توسیع کر دی گئی ہے۔
ویسے تو پنجاب میں مارچ کے دوران کورونا وائرس کے ابتدائی متاثرین سامنے آنے کے بعد لاک ڈاؤن نافذ کر دیا گیا تھا۔ لیکن انتظامی سطح پر اس میں سختی یا نرمی کے احکامات جاری ہوتے رہے ہیں۔
صوبہ سندھ پاکستان میں کورونا وائرس کے متاثرین کے اعتبار سے سب سے زیادہ متاثرہ صوبہ ہے۔
وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کے مطابق گذشتہ 24 گھنٹوں میں یہاں مزید 2655 متاثرین اور 34 اموات کی تصدیق ہوئی ہے جن کی وجہ کووڈ 19 بتائی گئی ہے۔
اب یہاں کل متاثرین کی تعداد 84656 ہوچکی ہے۔ سندھ میں کورونا سے کل 1377 اموات ہوئی ہیں جبکہ 46824 افراد اس عالمی وبا سے صحتیاب ہوئے ہیں۔
مراد علی شاہ کا کہنا ہے کہ اس وقت 36455 مریض زیرعلاج ہیں۔ ’آج 708 مریضوں کی حالت تشویشناک اور 102 مریض وینٹی لیٹرز پر ہیں۔ کراچی شہر میں 686 نئے کورونا کیسز سامنے آئے۔‘
پاکستان سول ایوی ایشن اتھارٹی کے ترجمان کے مطابق قطر ایئرویز کے فلائٹ سسٹم کے اوقات میں تاخیر کے سبب پاکستان آنے والے مسافروں کو کچھ تکلیف ہوئی ہے.
’سول ایوی ایشن اتھارٹی کی جانب سے اس مسئلے کو درست کر دیا گیا ہے۔
’امید کی جا رہی ہے کہ قطر ایئرویز کا فلائٹ آپریشن کچھ دیر میں دوبارہ شروع ہو جائے گا۔‘
گذشتہ روز بعض ذرائع ابلاغ میں یہ دعویٰ کیا جا رہا تھا کہ کووڈ 19 کی صورتحال کے پیش نظر قطر ایئرویز نے پاکستان میں فلائٹ آپریشن معطل کر دیے ہیں۔
جون کی 28 تاریخ کو دنیا بھر میں کورونا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد ایک کروڑ سے بڑھ گئی جس کے بعد عالمی ادارہ صحت کے سربراہ نے کہا ہے کہ وائرس سے مقابلے کا اب ایک نیا اور خطرناک مرحلہ شروع ہو گیا ہے۔
مغربی یورپ اور ایشیا کے کئی ممالک میں وائرس کے پھیلاؤ پر بڑی حد تک قابو پا لیا گیا ہے لیکن دوسری جانب دنیا کے دیگر کئی علاقوں میں یہ وائرس بہت تیزی سے پھیل رہا ہے۔
جب کورونا وائرس پھیلنا شروع ہوا تو دس لاکھ افراد کو متاثر ہوتے ہوتے نوے دن لگ گئے لیکن نوے لاکھ سے ایک کروڑ کی تعداد صرف آٹھ روز میں بڑھی گئی جس سے اس وائرس کے پھیلاؤ کی تیزی کا اندازہ ہو سکتا ہے۔
اور لاطینی امریکہ کے ایک ملک میں کام کرنے والے اہلکار کا کہنا ہے کہ یہ معاملہ کافی خراب ہو سکتا ہے کیونکہ 'یہ تعداد ہمیں صرف ان لوگوں کی ملی ہے جنھوں نے اپنے ٹیسٹ کروائے ہیں۔'
سینیگال کے صدر میکی سال نے کہا ہے کہ کورونا وائرس کا پھیلاؤ روکنے کے لیے نافذ کی گئی ہنگامی حالت اور رات کے وقت کا کرفیو منگل سے اٹھا لیا جائے گا۔
ایک ٹی وی خطاب میں صدر نے یہ بھی اعلان کیا کہ 15 جولائی سے بین الاقوامی پروازیں دوبارہ شروع ہوجائیں گی تاہم ان کے لیے سخت حفاظتی اقدامات کیے جائیں گے۔
عوامی بازاروں کی صفائی کے لیے ہفتے میں ایک دن کی بندش جاری رہے گی۔ عوامی مقامات، کام کی جگہوں، پبلک ٹرانسپورٹ اور دکانوں میں ماسک پہننا لازم رہے گا۔
صدر خود بھی دو ہفتے کے قرنطینے میں ہیں کیونکہ وہ ایک متاثرہ شخص سے رابطے میں آئے تھے۔ ان کا قرنطینہ اگلے ہفتے ختم ہوگا۔
سینیگال میں اب تک 6698 متاثرین سامنے آ چکے ہیں جبکہ 108 ہلاکتیں ہو چکی ہیں۔
برطانیہ میں 19 جون کے ہفتے میں اموات کی تعداد معمول پر آ گئی۔ برطانیہ بھر میں 10 ہزار 681 افراد ہلاک ہوئے جو کہ اس ہفتے کے لیے گذشتہ پانچ سالوں کی اوسط سے آٹھ افراد کم ہے۔
اس ہفتے میں کووڈ 19 کی وجہ سے 849 ہلاکتیں ہوئیں، جو کہ لاک ڈاؤن کے پہلے ہفتے سے اب تک کی کم ترین تعداد ہے۔
قومی اسمبلی کو منگل کے روز آگاہ کیا گیا کہ مقامی طور پر تیار کیے گئے وینٹیلیٹرز کی پہلی کھیپ جمعے تک نیشنل ڈزاسٹر مینیجمنٹ اتھارٹی کو فراہم کر دی جائے گی۔
وزیرِ سائنس و ٹیکنالوجی فواد چوہدری نے ایوان کو بتایا کہ مقامی طور پر کیے گئے وینٹیلیٹرز اور حفاظتی سامان و ٹیسٹنگ کٹس کی قیمت درآمد کردہ سامان سے کہیں کم ہے۔
اس موقع پر فواد چوہدری نے کہا کہ 26 فروری کو جب پاکستان میں کورونا وائرس کا پہلا کیس سامنے آیا تھا، اس وقت پاکستان یہ تمام سامان درآمد کر رہا تھا تاہم اب پاکستان اس سطح پر آ گیا ہے کہ یہ سامان خود بنا سکے۔
چوہدری فواد حسین نے یہ اعلان دو روز قبل اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر بھی کیا تھا۔
واضح رہے کہ پاکستان میں آج کے دن تک دو لاکھ نو ہزار سے زائد متاثرین سامنے آ چکے ہیں جبکہ 4300 سے زائد افراد اب تک ہلاک ہو چکے ہیں۔
چین میں سائنسدانوں نے فلو کی ایک ایسی قسم کی شناخت کی ہے جس میں عالمی وبا بننے کی صلاحیت موجود ہے۔
سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ یہ حال ہی میں سامنے آئی ہے اور خنزیر اس وبا کے حامل ہیں، تاہم انسان اس سے متاثر ہو سکتے ہیں۔
محققین کو تشویش ہے کہ یہ مزید تبدیل ہو سکتی ہے جس سے اس کی انسان سے انسان میں منتقلی آسان ہوجائے گی اور ایک عالمی وبا پھوٹ پڑے گی۔
انھوں نے کہا ہے کہ ویسے تو یہ فوری خطرہ نہیں ہے تاہم اس میں انسانوں کو متاثر کرنے لیے خود کو ڈھالنے کی ‘تمام خصوصیات’ موجود ہیں اور اسے کڑی نگرانی کی ضرورت ہوگی۔
چونکہ یہ وائرس ابھی نیا ہے اس لیے لوگوں کی اس کے خلاف قوتِ مدافعت یا کم ہے یا بالکل نہیں ہے۔
پروسیڈنگز آف نیشنل اکیڈمی آف سائنسز میں سائنسدانوں نے تحریر کیا ہے کہ خنزیروں میں وائرس کنٹرول کرنے اور خنزیروں کی صنعت میں کام کرنے والے لوگوں کی نگرانی کے اقدامات کو فوری طور پر نافذ کیا جانا چاہیے۔