آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

امریکی صدر کا اسرائیل کو پیغام: ’آج سے کشیدگی میں کمی کی توقع‘

غزہ میں حملوں اور جوابی حملوں کے بعد امریکی صدر جو بائیڈن نے اسرائیلی وزیر اعظم بنیامن نتن یاہو سے فون پر بات کی ہے۔ وائٹ ہاؤس کے بیان کے مطابق ’صدر نے وزیر اعظم کو بتایا کہ وہ آج سے سیز فائر کے حصول کے لیے کشیدگی میں کمی کی توقع کر رہے ہیں۔‘

لائیو کوریج

  1. امریکہ کا صبر کا پیمانہ ٹوٹ سکتا ہے, پال ایڈمز، نامہ نگار برائے سفارتی امور، یروشلم

    امریکی صدر بائیڈن نے اسرائیلی وزیر اعظم سے فون پر بات کی ہے اور یہ پیغام دیا ہے کہ وہ ’آج سے کشیدگی میں کمی کی توقع کر رہے ہیں۔‘

    بظاہر اس سے یہ لگتا ہے کہ اسرائیلی فوجی حملوں کی وجہ سے امریکہ کا صبر کا پیمانہ ٹوٹ رہا ہے۔

    جمعرات کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا ایک اور اجلاس ہونے جا رہا ہے جس سے قبل یہ تاثر دیا جا رہا ہے کہ اس میں شاید امریکہ اسرائیل کی اتنی حفاظت نہیں کر پائے گا۔ امریکہ کو اسرائیل کے بڑے اتحادیوں میں سے ایک سمجھا جاتا ہے۔

    نتن یاہو نے آج غیر ملکی سفارتکاروں سے بات چیت میں واضح کیا تھا کہ غزہ میں جاری اسرائیلی آپریشن کا کوئی ٹائم فریم قائم نہیں کیا جاسکتا۔

    گذشتہ شب کے دوران مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق اسرائیل نے پیشکش کی تھی کہ جمعرات کی صبح تک سیز فائر کا اعلان کیا جاسکتا ہے۔ لیکن ان خبروں کی تصدیق نہیں ہوسکی۔

  2. امریکہ کو ’آج سے کشیدگی میں قبل ذکر کمی کی توقع‘

    جس وقت اسرائیل لبنان میں متعدد اہداف کا تعاقب کر رہا تھا اسی دوران امریکی صدر جو بائیڈن نے اسرائیلی وزیر اعظم بنیامن نتن یاہو سے فون پر بات کی۔

    خطے میں حملے اور جوابی حملے شروع ہونے کے بعد سے یہ ان دونوں رہنماؤں کے درمیان چوتھی فون کال تھی۔

    امریکہ کو اسرائیل کے اہم اتحادیوں میں سے ایک سمجھا جاتا ہے اور اس نے اب تک اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی جانب سے تنازع پر مشترکہ بیان کو روکا ہے۔

    وائٹ ہاؤس کے جاری کردہ بیان کے مطابق دونوں رہنماؤں کے درمیان صورتحال سے متعلق ’تفصیلی بات چیت‘ ہوئی اور اس میں سفارتی سطح پر سیز فائر کی کوششوں پر مشاورت شامل ہے۔

    بیان کے مطابق ’صدر نے (اسرائیلی) وزیر اعظم کو بتایا کہ وہ آج سے سیز فائر کے حصول کے لیے کشیدگی میں قبل ذکر کمی کی توقع کر رہے ہیں۔‘

    اس سے قبل بنیامن نتن یاہو نے کہا ہے کہ اسرائیلی فوج ’مقاصد کا خیال رکھ رہی ہے‘ اور ’ہم سٹاپ واچ لیے نہیں کھڑے۔‘

    اسرائیلی دفاعی ذرائع نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ اب تک سیز فائر کی کوئی بات نہیں ہو رہی۔ حماس کے اہلکار صلح کی کوششوں کو سنجیدگی سے لے رہے ہیں تاہم انھوں نے اسرائیل پر ’ہٹ دھرمی‘ کا الزام لگایا ہے۔

  3. غزہ میں ہلاکتوں کے بعد اسرائیل-لبنان تعلقات میں کشیدگی کیوں؟

    اسرائیل اور اس کے ہمسایہ ملک لبنان کے درمیان ایک طویل عرصے سے سرحد پر تناؤ رہا ہے۔

    سنہ 1948 سے 1949 میں عرب اسرائیلی تنازع سے دونوں ملکوں کے تعلقات کشیدگی کی طرف بڑھے۔ اس سرحد پر اسرائیلی فوج کا سامنا لبنان کی فوج اور حزب اللہ سے ہوتا ہے اور پیس کیپر امن قائم کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

    مسلح گروہ حزب اللہ کو ایران کی حمایت حاصل ہے اور یہ لبنان کی فوج کے ساتھ ملک کے سکیورٹی اور سیاسی معملات پر اثر و رسوخ رکھتا ہے۔

    سنہ 2006 میں اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان ایک ماہ طویل جنگ جاری رہی تھی جس میں لبنان کے 1190 شہری جبکہ اسرائیل کے 163 شہری ہلاک ہوئے تھے۔ اس کے بعد اقوام متحدہ کی مدد سے سیز فائر نافذ کیا گیا تھا۔

    گذشتہ 10 روز کے دوران جنوبی لبنان سے شمالی اسرائیل کی جانب کئی راکٹ داغے گئے ہیں۔ اس سے قبل ایسا پیر کو ہوا تھا۔

    کسی بھی راکٹ سے کوئی نقصان کی اطلاع سامنے نہیں آئی۔ اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ اکثر حملوں کو روک لیا گیا تھا یا اس سے غیر آباد علاقوں میں دھماکے ہوئے تھے۔

  4. لبنان سے شمالی اسرائیل پر راکٹ حملے، اسرائیل کی جوابی کارروائی

    لبنان سے متعدد راکٹ شمالی اسرائیل کی طرف داغے گئے ہیں۔

    اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ اس پر چار راکٹ داغے گئے تھے: ایک کو روک لیا گیا، دوسرا کھلے میدان میں جا گِرا اور دو بحیرہ روم میں گِرے ہیں۔

    اخبار ٹائمز آف اسرائیل کی خبر کے مطابق شفاعمرو، حيفا، كريوت اور ان کے گرد و نواح کے علاقوں میں تنبیہ کے سائرن بجائے گئے تھے۔ ‎

    خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق كريوت کے رہائشیوں نے تین بڑے دھماکے سنے ہیں۔ تاہم اب تک کسی کے زخمی ہونے کی اطلاع سامنے نہیں آئی۔

    دوسری جانب اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ اس نے جوابی کارروائی میں لبنان کے علاقوں میں اہداف کو نشانہ بنایا ہے۔

    لبنان اور اسرائیل میں 2006 میں ایک ماہ تک جنگ جاری رہی تھی جس کے بعد سے لبنان میں حزب اللہ سمیت کئی مسلح گروہ موجود ہیں۔

    سکیورٹی ذرائع نے روئٹرز کو بتایا ہے کہ یہ راکٹ لبنان کے جنوبی ساحلی شہر صور کے قریب واقع گاؤں صديقين سے اسرائیل کی طرف لانچ کیے گئے تھے۔ ابتدائی طور پر یہ واضح نہیں ہوسکا کہ یہ راکٹ کس نے داغے ہیں اور دونوں جانب حملوں سے کیا نقصان پیش آیا ہے۔

  5. روس: غزہ میں مزید ہلاکتیں ’قابل قبول نہیں‘

    روسی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ ملک کے ایک سینیئر اہلکار نے اسرائیلی سفیر کو بتایا ہے کہ ایسے کوئی اقدامات اب ’قابل قبول نہیں‘ ہوں گے جن سے غزہ میں مزید ہلاکتیں ہوتی ہیں۔

    رواں ہفتے کے اوائل میں روس عالمی سطح پر ان ممالک اور بین الاقوامی گروہوں میں شامل ہوگیا تھا جنھوں نے غزہ میں سیز فائر کا مطالبہ کیا ہے۔ ان میں امریکہ، یورپی یونین اور اقوام متحدہ بھی شامل ہیں۔

    اسرائیل میں موجود درجنوں غیر ملکی سفارتکار امن معاہدے کی کوششیں کر رہے ہیں۔

    غزہ میں حماس کے زیر انتظام وزارت صحت کے مطابق اب تک تقریباً 100 خواتین اور بچوں سمیت کم از کم 219 افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔ اسرائیل کا کہنا ہے کہ اس نے غزہ میں کم از کم 150 جنگجوؤں کو ہلاک کیا ہے۔ تاہم حماس ان جنگجوؤں کی تعداد کے حوالے سے اعداد و شمار جاری نہیں کرتا جو اسرائیلی فضائی حملوں میں ہلاک ہوتے ہیں۔

  6. فلسطینی رہنما کا اسرائیل پر جنگی جرائم کا الزام

    فلسطینی صدر محمود عباس نے اسرائیل پر غزہ میں ’ریاستی دہشتگردی اور جنگی جرائم‘ کا الزام لگایا ہے۔

    ٹی وی پر نشر ہونے والے ایک بیان میں محمود عباس نے کہا ہے کہ فلسطینی شہری ’بین الاقوامی عدالتوں میں ان جرائم کے ذمہ داران کے خلاف کارروائی سے رُکنے والے نہیں ہیں۔‘

    اسرائیل کا دعویٰ ہے کہ وہ صرف فوجی اہداف کو نشانہ بناتا ہے اور اس نے فضائی حملوں سے قبل تنبیہ کے ذریعے شہریوں کی ہلاکتیں روکنے کی کوشش کی ہے۔

    رواں سال انٹرنیشنل کریمنل کورٹ (آئی سی سی) نے سنہ 2014 میں اسرائیل اور فلسطینی گروہوں کے مبینہ جنگی جرائم کی تحقیقات شروع کی تھی۔ یہ وہ وقت ہے جب آخری بار اس لڑائی نے شدت اختیار کی تھی۔

    حالیہ کشیدگی پر بھی آئی سی سی نے تشویش ظاہر کی ہے۔

  7. غزہ میں جاری کشیدگی: اب تک کی اہم خبریں

    اسرائیل نے غزہ میں نئے سرے سے فضائی حملے کیے ہیں۔ اس کے اہداف میں غزہ میں قائم سرنگیں ہیں جو اس کے مطابق حماس کے مسلح گروہوں نے قائم کر رکھی ہیں۔

    غزہ میں موجود جنگجو اسرائیل پر جوابی راکٹ حملے کر رہے ہیں جن کی اکثریت جنوبی اسرائیل میں گِری ہے۔ اشكلون اور اشدود میں کئی راکٹ گِرے ہیں مگر ہلاکت یا زخمیوں کی اطلاع سامنے نہیں آئی۔

    اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اسرائیل امن قائم کرنے کے لیے لڑ رہا ہے۔ سیز فائر کے معاملے پر انھوں نے غیر ملکی سفارتکاروں سے کہا ہے کہ وہ ’کوئی سٹاپ واچ لے کر نہیں کھڑے۔‘

    فلسطینی صدر محمود عباس نے اسرائیل پر جنگی جرائم کا الزام لگایا ہے جبکہ اسرائیل کا کہنا ہے کہ وہ صرف ایسے اہداف کو نشانہ بناتا ہے جہاں سے دہشتگردی کی کارروائیاں کی جاتی ہیں اور اس نے شہری آبادی کو نقصان پہنچانے سے خود کو روکا ہے۔

  8. سو برس قبل جب 67 الفاظ نے عرب اسرائیل تنازع کی بنیاد رکھی

    برطانیہ میں فلسطینی مشن کے سربراہ نے کہا ہے کہ حالیہ کشیدگی کی وجہ تاریخ میں پیش آنے والے اہم واقعات ہیں۔

    حسام زملط نے بی بی سی کو بتایا کہ ’یہ لڑائی نیتن یاہو اور حماس کے درمیان نہیں ہے بلکہ یہ لڑائی 100 برس قبل اسرائیل اور فلسطین کے لوگوں کے درمیان شروع ہوئی تھی۔‘

    ان کا کہنا ہے کہ یہ لڑائی 1917 میں بیلفور اعلامیے سے شروع ہوئی جس میں ’ہم سے پوچھے بغیر ہماری زمین کسی اور کو دے دی گئی۔‘

    بیلفور اعلامیہ دو نومبر 1917 میں جاری ہوا تھا۔ اس کے بارے میں تاریخ کی جماعتوں میں پڑھایا جاتا ہے اور اہم باب کو اسرائیل اور فلسطین میں ایک بالکل الگ الگ قومی بیانیے میں پڑھایا جاتا ہے۔

    اس اعلامیے کو عرب اسرائیل تنازع کے آغاز کی وجہ کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔

    اس وقت کے وزیر خارجہ آرتھر بیلفور کے اعلامیے کا ذکر صیہونیت کے مرکزی حمایتی لارڈ والٹر روتھسچائلڈ کو لکھے گئے ایک خط میں شامل ہے۔ صیہونیت تحریک کا مقصد یہودیوں کی اپنی تاریخی سرزمین پر بحیرہ روم سے دریائے اردن کے مشرقی کنارے تک یہودی ریاست قائم کرنا تھا۔ اس علاقے کو فلسطین کہا جاتا تھا۔

    اس میں کہا گیا تھا کہ برطانوی حکومت یہودیوں کے لیے فلسطین میں ملک کے قیام کے حق میں ہے۔

    اس کے ساتھ ہی انھوں نے کہا تھا کہ اس وقت وہاں موجود غیر یہودی برادریوں کے شہری اور مذہبی حقوق کے ساتھ تعصب نہیں برتنا چاہیے۔

  9. برطانیہ میں فلسطین کے حامی گروہ کا ایک ڈرون فیکٹری میں مظاہرہ

    برطانیہ کے شہر لیسٹر میں ڈرون بنانے والی ایک فیکٹری کی چھت پر کچھ لوگوں نے فلسطین کے حق میں مظاہرہ کیا ہے۔

    ’پیلسٹائن ایکشن‘ نامی اس گروہ نے اسرائیل کی قائم کردہ ایلبٹ فیکٹری کا کچھ حصہ قبضے میں لیا اور وہ اس کی چھت پر چڑھ گئے۔

    اس فیکٹری میں ڈرونز بنائے جاتے ہیں اور مظاہرین کا دعویٰ ہے کہ یہی ڈرون اسرائیل اور حماس کے درمیان حالیہ کشیدگی کے دوران اسرائیلی حملوں کے لیے استعمال کیے گئے ہیں۔

    ان کا کہنا ہے کہ انھوں نے فیکٹری کے دروازے بند کر دیے ہیں اور اس کی پیداوار روک دی ہے۔

  10. بریکنگ, اسرائیلی وزیر اعظم بنیامن نتن یاہو: ’کچھ بھی خارج از امکان نہیں ہے‘

    اسرائیلی وزیر اعظم بنیامن نتن یاہو نے تل ابیب میں غیر ملکی صحافیوں سے بات کرتے ہوئے جنگ بندی کے بارے میں بیان دیتے ہوئے کہا کہ اسرائیل اپنے آپریشن کے مقاصد پورے کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

    ’ہم یہاں پر گھڑی لے کر نہیں کھڑے ہوئے ہیں۔ ہم اپنے آپریشن کے مقاصد کو پورا کرنے کی کوششیں کر رہے ہیں۔‘

    اس سے قبل ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل کی لڑائی کا مقصد ہے کہ علاقے میں نہ صرف ’امن اور خاموشی‘ دوبارہ قائم کی جا سکے بلکہ عسکریت پسند تنظیم حماس کے ساتھ صلح قائم رہے۔

    ’ان سے نمٹنے کے صرف دو طریقے ہیں۔ یا تو آپ ان پر غلبہ حاصل کر لیں، اور وہ ہمیشہ ممکن ہے، یا آپ انھیں باز رکھنے میں کامیاب ہو جائیں۔ ابھی کوئی بھی چیز خارج از امکان نہیں ہے۔‘

  11. غزہ شہر میں اسرائیلی حملے سے فلسطینی صحافی کی موت: میڈیا رپورٹس

    فلسطینی خبر رساں ادارے وفا کے مطابق غزہ شہر میں اسرائیلی حملے کے نتیجے میں ایک فلسطینی صحافی کی موت ہو گئی ہے۔

    غزہ میں عسکریت پسند جماعت حماس کے ریڈیو سٹیشن الاقصیٰ وائس سے منسلک صحافی یوسف ابو حسین کی موت اس وقت ہوئی جب اسرائیلی جنگی طیاروں نے شہر کے شمالی حصے میں واقع قبرستان کے قریب موجود ایک گھر پر بمباری کی۔

    وفا کے مطابق شہر کے مغربی حصے میں واقع ال رمل ضلع میں ایک اور گھر پر کیے گئے حملے میں مزید تین افراد کی ہلاکت ہو گئی تھی۔

    غزہ شہر میں موجود بی بی سی کے رشدی ابوالاعوف کو مقامی ذرائع نے بتایا کہ ایک عمارت پر کیے گئے حملے کے نتیجے میں دو جنگجو ہلاک ہو گئے جبکہ کچھ ڈاکٹروں نے انھیں بتایا کہ خان یونس شہر میں ایک عورت دل کا دورہ پڑنے سے ہلاک ہو گئیں جب ان کے پڑوس میں واقع مکان پر فضائی حملے کیے گئے۔

  12. برطانوی فٹبال کلب مانچسٹر یونائیٹڈ کے مینیجر کا کھلاڑیوں کی جانب سے فلسطینی جھنڈا لہرانے پر دفاع

    اسرائیل اور فلسطین میں جاری لڑائی کا اثر عالمی فٹبال تک پہنچ چکا ہے اور حال ہی میں مختلف کھلاڑیوں کی جانب سے خیالات کے اظہار اور فلسطینی جھنڈے لہرانے کے واقعات کے بعد گذشتہ شب برطانوی فٹبال کلب مانچسٹر یونائیٹڈ کے پال پوگبا اور عماد دیالو نے فلہم کے خلاف کھیلے گئے میچ کے بعد فلسطین کا جھنڈا لہرایا۔

    میچ کے بعد کلب کے مینیجر اولے گُنر سولشار نے اپنے دونوں کھلاڑیوں کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ ان کا کلب ’کھلاڑیوں کی مختلف سوچ رکھنے کے حق کی عزت کرتا ہے‘۔

    بظاہر پال پوگبا اور عماد دیالو کو یہ جھنڈا ایک شائق نے دیا تھا جب وہ اپنے میدان میں موجودہ فٹبال سیزن کا آخری میچ کھیلنے کے بعد میدان کا چکر لگا رہے تھے۔

    مینیجر سولشار کا کہنا تھا کہ ’ہمارے کھلاڑی مختلف پس منظر سے آتے ہیں ، مختلف ثقافتوں سے تعلق رکھتے ہیں، مختلف مملک سے تعلق رکھتے ہیں اور ہمیں چاہیے کہ ان کے خیالات کی عزت کریں اگر وہ کسی اور کے خیالات سے مختلف ہوں۔ اگر میرے کھلاڑی صرف فٹبال کے علاوہ بھی کچھ اور چیزوں کے بارے میں سوچتے ہیں تو میرے لیے یہ ایک مثبت بات ہے۔‘

  13. ترکی کی جانب سے صدر اردوغان پر یہودی مخالف خیالات رکھنے کے الزامات کی تردید

    ترکی نے اس الزام کی تردید کی ہے کہ ملک کے صدر رجب طیب اردوغان نے اسرائیل کے بارے میں تبصرہ کرتے ہوئے یہودی مخالف خیالات کا اظہار کیا تھا۔

    صدر اردوغان نے حال ہی میں اسرائیل پر ’دہشت گردی‘ کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ ’یہ ان کی فطرت میں ہے‘۔

    امریکی سٹیٹ ڈپارٹمنٹ کے ترجمان نیڈ پرائس نے اس بیان کو ’قابل مذمت‘ قرار دیا۔

    بدھ کو صدر اردوغان کی سیاسی جماعت کے ترجمان عمر چیلک کا کہنا ہے کہ ترک صدر نے یہودی مخالف خیالات کے خلاف بہت سخت پیغام دے چکے ہیں۔

    ’ہمارے صدر پر یہ الزام عائد کرنا قطعی غلط ہے اور غیر منطقی ہے۔ یہ سراسر جھوٹ ہے۔‘

  14. جنگ بندی کی تمام کوششیں تاحال ناکام

    پس پردہ رہتے ہوئے کئی عالمی رہنما اور بین الاقوامی ادارے مشرق وسطی کے تازہ ترین بحران پر قابو پانے کے لیے فوری جنگ بندی کی کوششیں کر رہے ہیں۔

    اب جبکہ اسرائیل اور فلسطینی عسکریت پسند گروپ حماس کے مابین لڑائی دسویں دن بھی جاری ہے، گذشتہ روز یہ خبریں آئی تھیں کہ جنگ بندی کے امکانات کافی روشن ہیں، بالخصوص جب امریکہ کی جانب سے پہلی بار اس کے لیے حمایت کا اظہار کیا گیا تھا۔

    تاہم اسرائیلی دفاعی ذرائع نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ ’جنگ بندی کا کوئی امکان نہیں ہے۔‘

    اس سے قبل فرانس، مصر اور اردن نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں مشترکہ قرارداد پیش کرنے کی تجویز پیش کی تھی لیکن خبر رساں ادارے روئٹرز کو سفارت کاروں نے بتایا کہ امریکہ کو نہیں لگتا کہ اس سے کوئی فائدہ ہوگا۔

    وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری جین ساکی کا کہنا تھا کہ امریکہ پس پردہ رہ کر خاموش طریقے سے اس معاملے کو سلجھانے کی کوشش کر رہا ہے۔

    دوسری جانب قطر میں حماس کے اعلی عہدے داروں کا کہنا ہے کہ جنگ بندی کی کوششیں سنجیدگی سے آگے بڑھ رہی ہیں۔

    ان کی جانب سے کہا گیا کہ اسرائیل ’بضد‘ ہے کہ حماس پہلے راکٹ فائر بند کرے جس کے بعد وہ (اسرائیل) فیصلہ کرے گا کہ وہ اپنے حملے بند کریں یا نہیں۔

    اسرائیلی وزیراعظم بنیامن نتن یاہو کے مشیر مارک ریگیو کا کہنا ہے کہ اسرائیل اس معاملے کا ایسا حل چاہتا ہے جس کی مدد سے ’دیرپا امن‘ قائم ہو۔

  15. 'پتہ نہیں تھا کہ ایک نعرہ تحریر کرنے پر 50 گھنٹے قید میں گزارنے پڑیں گے'

  16. بریکنگ, جنگ بندی کا فی الحال کوئی امکان نہیں ہے: اسرائیلی ذرائع

    اسرائیلی فوج کے ذرائع نے فوری جنگ بندی کی تمام امیدوں پر پانی پھیرتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیلی فوج کا آپریشن جاری رہے گا۔

    بی بی سی سے بات کرتے ہوئے عسکری ذرائع نے کہا کہ ’اسرائیلی فوج کا آپریشن پوری قوت سے جاری ہے اور جنگ بندی کا کوئی امکان نہیں ہے۔‘

    بی بی سی کی مشرق وسطی کی نامہ نگار یولانڈا نیل نے تازہ ترین حالات پر تجزیہ کرتے ہوئے لکھا کہ جنگ بندی کی بین الاقوامی کوششیں جاری ہیں اور کہا جا رہا تھا کہ مصری قیادت میں ثالثی کا عمل جلد شروع ہو سکتا ہے لیکن فوراً ہی اس کی تردید سامنے آ گئی۔

    اسرائیل کے اعلی اہلکار نے ان خبروں کی تردید کی جبکہ حماس کی جانب سے کہا گیا کہ ثالثی کرنے والوں کی کوششیں سنجیدہ ہیں لیکن فلسطینی مطالبات کو ابھی تک تسلیم نہیں کیا گیا ہے۔

  17. حماس کے عسکری ونگ کا سربراہ ہمارا مرکزی ہدف ہے: اسرائیلی فوج

    اسرائیل نے فلسطین کے عسکریت پسند گروپ حماس کے عسکری ونگ کے سربراہ محمد دائیف کو اپنا مرکزی ہدف قرار دے دیا ہے۔

    اسرائیلی فوج کے ترجمان بریگیڈئیر جنرل ہدائی زلبرمین نے اس بارے میں بیان دیتے ہوئے کہا کہ اسرائیل نے اس آپریشن کے دوران پوری کوشش کی ہے کہ وہ انھیں ہلاک کرنے میں کامیاب ہو جائیں۔

    ’ہم نے متعدد بار انھیں قتل کرنے کی کوشش کی ہے۔‘

    انھوں نے اس حوالے سے مزید کوئی اور تفصیلات تو نہیں دیں تاہم میڈیا رپورٹس کے مطابق محمد دائیف ان حملوں میں محفوظ رہے ہیں۔

    محمد دائیف حماس کے عسکری ونگ عزیدین ال قصام بریگیڈ کے سربراہ ہیں اور اسرائیل کی ’موسٹ وانٹڈ‘ یعنی سب سے زیادہ مطلوب افراد کی فہرست میں کئی سالوں سے سرفہرست ہیں۔

    ان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اسرائیل کی جانب سے انھیں ہلاک کرنے کی متعدد کوششیں کی گئیں تاہم ہر بار وہ بچ نکلے۔

    دونوں فریقین کے مابین 2014 میں ہونے والی آخری بڑی لڑائی کے دوران بھی انھیں ہلاک کرنے کی کوشش کی گئی تھی جس دوران ان کی بیوی اور ایک اولاد کو ہلاک کر دیا گیا تھا۔

  18. فضائی حملوں میں حماس کمانڈروں کے مکانات کو نشانہ بنایا گیا: اسرائیلی حکام

    اسرائیل نے کہا ہے کہ گذشتہ شب ان کے جنگی طیاروں نے غزہ میں عسکریت پسند گروپ حماس کے کمانڈروں کے مکانات پر حملے کیے جبکہ ان حملوں کے نتیجے میں کم از کم دو جنگجو ہلاک ہو گئے۔

    اسرائیل اور فلسطینی عسکریت پسندوں کے مابین جاری لڑائی کا سلسلہ اب دسویں روز داخل ہو چکا ہے۔

    اسرائیل کی جانب سے کہا گیا ہے کہ انھوں نے حماس کے عسکری ونگ کے سربراہ محمد دائیف کو ہلاک کرنے کی ’متعدد کوششیں‘ کیں۔

    حماس کی جانب سے بھی اسرائیل کی طرف راکٹس داغے گئے جس میں ان کا ہدف اسرائیل کے جنوب میں واقع ائیر بیس تھا۔

    دوسری جانب جنگ بندی کے لیے عالمی کوششیں جاری ہیں تاہم ابھی تک ان میں کوئی قابل ذکر پیشرفت دیکھنے میں نہیں آئی ہے۔

    فرانسیسی صدر ایمینوئل میکخواں کے دفتر سے جاری پیغام کے مطابق فرانس نے تجویز دی ہے کہ وہ مصر اور اردون کے ساتھ مل کر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں اسرائیل اور فلسطین کے تنازع کے حوالے سے جنگ بندی کی قرار داد پیش کی جائے۔

    اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کا کہنا ہے کہ غزہ پر اسرائیل کے نو روزہ حملوں نے ’حماس کی صلاحیتوں کو کئی سالوں تک کمزور کر دیا ہے۔‘

    اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے ایک تقریر میں کہا کہ غزہ میں حماس کے خلاف حملے اس وقت تک جاری رہیں گے جب تک تمام اسرائیلی شہریوں کو حفاظت کی یقین دہانی نہیں کرائی جاتی۔

    فلسطینی صحت کے حکام کے مطابق اب تک اس لڑائی کے نتیجے میں مجموعی طور پر 219 فلسطینی ہلاک ہو چکے ہیں جس میں سے تقریباً 100 بچے اور خواتین شامل ہیں۔

    اسرائیلی حکام کے مطابق اب تک حماس کی راکٹس فائرنگ کے نتیجے میں 12 افراد کی ہلاکت ہو چکی ہے جس میں سے دو بچے بھی شامل ہیں۔

    ادھر اسرائیل کا دعوی ہے کہ ان کے حملوں میں 150 جنگجوؤں کی ہلاکت ہو چکی ہے تاہم حماس کی جانب سے ہلاک ہونے والوں کی کوئی تعداد نہیں دی گئی اور وہ عمومی طور پر یہ معلومات دیتے بھی نہیں ہیں۔

    اسرائیل کا کہنا ہے کہ حماس نے اب تک 3700 سے زیادہ راکٹس داغے ہیں۔

  19. ’ یہ تباہی اور بربادی ناقابل قبول ہے، اور بچے روزانہ اس کرب سے گزر رہے ہیں‘

    اسرائیل اور فلسطینی عسکریت پسندوں کے ایک دوسرے پر حملے کرنے کا سلسلہ اب دسویں دن پہنچ چکا ہے جب گذشتہ شب دونوں فریقین نے ایک دوسرے پر فضائی حملے کیے اور راکٹس داغے۔

    اسرائیلی جنگی طیاروں نے غزہ کی پٹی میں درجنوں حملے کیے جن میں زیادہ تر کا محور خان یونس کا شہر تھا جبکہ عسکریت پسند گروپ حماس نے بھی جنوبی اور وسطی اسرائیل پر راکٹس کی فائرنگ جاری رکھی۔

    اقواممتحدہ کے سیکریٹری جنرل کی ترجمان سٹیفانی ڈوجارک نے کہا ہے کہ اب تک غزہ میں 50 ہزار سے زیادہ فلسطینی بے گھر ہو چکے ہیں۔

    نیویارک میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ممبران کی ایک اور میٹنگ جنگ بندی کے حوالے سے اتفاق رائے حاصل کرنے میں ناکام رہی۔

    جنگ بندی کا مطالبہ کرنے والوں میں سے ایک انسانی حقوق کی تنظیم سیو دا چلڈرن کے مقبوضہ فلسطین چیپٹر کے سربراہ جیسن لی ہیں جنھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ بچوں کو جس صورتحال کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے وہ انتہائی پریشان کن ہے۔

    ’لاتعداد بچے سخت ڈرے سہمے ہوئے ہیں۔ مطلب آپ کے ارد گرد عمارتیں گر رہی ہو، تو آپ کیا کر سکتے ہیں۔ آپ مسلسل خوف میں ہوتے ہیں کہ آپ کا گھر تباہ ہو جائے گا، یا آپ خود مر جائیں گے، یا آپ اپنے خاندان والوں اور دوست احباب سے دوبارہ ملاقات نہیں کر سکیں گے۔ یہ تباہی اور بربادی ناقابل قبول ہے، اور بچے اس کرب سے گزر رہے ہیں، روزانہ کی بنیاد پر وہ اس سے گزر رہے ہیں۔‘

    انھوں نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے مزید کہا کہ ان پرتشدد واقعات کو فوری طور پر ختم ہونا چاہیے۔

    ’فوراً جنگ بندی ہونی چاہیے۔اس کا مطلب ہے کہ دونوں فریقین پختہ قدم اٹھائیں۔ اسرائیل کو غزہ پر فضائی حملے بند کرنے ہوں گے۔ حماس کو راکٹ فائر کرنا ختم کرنا ہوگا۔ اور دونوں فریقین کو عالمی قوانین کی پاسداری کرنی ہوگی۔ جب تک کہ دونوں فریقین اس بات پر اتفاق نہیں کرتے، ہم یہ سلسلہ جاری رہے گا اور اس کی سب سے زیادہ بھاری قیمت بچے ادا کر رہے ہوں گے۔‘

  20. بریکنگ, اسرائیل فلسطین تنازع: فرانس کی مصر اور اردن کے ساتھ اقوام متحدہ میں جنگ بندی کی مشترکہ قرارداد پیش کرنے کی تجویز

    فرانسیسی صدر ایمینوئل میکخواں کے دفتر سے جاری پیغام کے مطابق فرانس نے تجویز دی ہے کہ وہ مصر اور اردون کے ساتھ مل کر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں اسرائیل اور فلسطین کے تنازع کے حوالے سے جنگ بندی کی قرار داد پیش کی جائے۔

    فرانسیسی صدر کے دفتر سے جاری کیے گئے اعلامیے کے مطابق فرانسیسی صدر ایمینوئل میکخواں نے اپنے مصری ہم منصب عبدالفتح السیسی اور اردون کے شاہ عبداللہ دوئم کے ساتھ ہونے والی گفتگو میں قرار داد پیش کرنے پر اتفاق کیا۔

    ’تینوں ملک تین باتوں پر مکمل اتفاق کرتے ہیں: شوٹنگ بند کی جائے، جنگ بندی کا وقت آگیا ہے، اور سلامی کونسل لازمی طور پر اس مسئلہ کو زیر بحث لائے۔‘

    گذشتہ کئی دنوں سے اسرائیل اور فلسطین کے درمیان جاری اس تنازع کے حوالے سے فرانس نے متعدد بار جنگ بندی کا مطالبہ کیا ہے اور ان کا مزید کہنا ہے کہ وہ مصر کی رہنمائی میں ثالثی کے عمل کی حمایت کرتے ہیں۔

    یاد رہے کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل اب تک تین کوششوں کے باوجود چین، ناروے، تیونس کی جانب سے پیش کی گئی ایک سادہ سی قرارداد بھی منظور کرنے میں ناکام رہی ہے جس میں جنگ بندی کا مطالبہ کیا گیا تھا کیونکہ ہر بار امریکہ نے اس کی مخالفت کی تھی۔

    خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق سلامی کونسل میں شامل کئی ممالک نے اے ایف پی کو تصدیق کی کہ انھیں ابھی تک فرانسیسی اعلامیہ موصول نہیں ہوا ہے۔