اسرائیل نے کہا ہے کہ
گذشتہ شب ان کے جنگی طیاروں نے غزہ میں عسکریت پسند گروپ حماس کے کمانڈروں کے
مکانات پر حملے کیے جبکہ ان حملوں کے نتیجے میں کم از کم دو جنگجو ہلاک ہو گئے۔
اسرائیل اور فلسطینی عسکریت
پسندوں کے مابین جاری لڑائی کا سلسلہ اب دسویں روز داخل ہو چکا ہے۔
اسرائیل کی جانب سے کہا
گیا ہے کہ انھوں نے حماس کے عسکری ونگ کے سربراہ محمد دائیف کو ہلاک کرنے کی ’متعدد
کوششیں‘ کیں۔
حماس کی جانب سے بھی
اسرائیل کی طرف راکٹس داغے گئے جس میں ان کا ہدف اسرائیل کے جنوب میں واقع ائیر
بیس تھا۔
دوسری جانب جنگ بندی کے
لیے عالمی کوششیں جاری ہیں تاہم ابھی تک ان میں کوئی قابل ذکر پیشرفت دیکھنے میں
نہیں آئی ہے۔
فرانسیسی صدر ایمینوئل میکخواں
کے دفتر سے جاری پیغام کے مطابق فرانس نے تجویز دی ہے کہ وہ مصر اور اردون کے ساتھ
مل کر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں اسرائیل اور فلسطین کے تنازع کے حوالے سے جنگ
بندی کی قرار داد پیش کی جائے۔
اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین
نیتن یاہو کا کہنا ہے کہ غزہ پر اسرائیل کے نو روزہ حملوں نے ’حماس کی صلاحیتوں کو
کئی سالوں تک کمزور کر دیا ہے۔‘
اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو
نے ایک تقریر میں کہا کہ غزہ میں حماس کے خلاف حملے اس وقت تک جاری رہیں گے جب تک تمام
اسرائیلی شہریوں کو حفاظت کی یقین دہانی نہیں کرائی جاتی۔
فلسطینی صحت کے حکام کے
مطابق اب تک اس لڑائی کے نتیجے میں مجموعی طور پر 219 فلسطینی ہلاک ہو چکے ہیں جس میں سے تقریباً 100 بچے اور
خواتین شامل ہیں۔
اسرائیلی حکام کے مطابق اب
تک حماس کی راکٹس فائرنگ کے نتیجے میں 12
افراد کی ہلاکت ہو چکی ہے جس میں سے دو بچے بھی شامل ہیں۔
ادھر اسرائیل کا دعوی ہے کہ ان کے حملوں
میں 150 جنگجوؤں کی ہلاکت ہو چکی ہے تاہم حماس کی جانب سے ہلاک ہونے والوں کی کوئی
تعداد نہیں دی گئی اور وہ عمومی طور پر یہ معلومات دیتے بھی نہیں ہیں۔
اسرائیل کا کہنا ہے کہ حماس نے اب تک 3700
سے زیادہ راکٹس داغے ہیں۔