اسرائیلی سفارتکار: ’اس تنازع کا اختتام یہ نہیں دیکھنا چاہتے کہ ہم ایک مہینے بعد پھر وہیں کھڑے ہوں جہاں پہلے تھے‘
اسرائیلی سفارت کار مارک ریگیو نے بی بی سی کے پروگرام نیوز آور پر بات کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل ’اس تنازع کا اختتام یہ نہیں دیکھنا چاہتے کہ ہم ایک مہینے بعد پھر وہیں کھڑے ہوں جہاں پہلے تھے۔‘
ریگیو اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامن نیتن یاہو کے سینیئر مشیر ہیں اور برطانیہ میں اسرائیل کے سابق سفیر رہ چکے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ ’اس سے مسائل کا حل کیسے نکلے گا، اگر حماس اگلے ماہ اسرائیل پر راکٹ حملے کرتا ہے اور پھر ہمیں جوابی کارروائی کرنے پر مجبور ہونا پڑتا ہے۔‘
ہمیں اس حوالے سے ایک حقیقی حل کی تلاش ہے، ہم اس تنازع سے نکل کر ایک عرصے تک امن کے خواہاں ہیں۔ اگر حماس کو فائر بندی کے ذریعے دوبارہ سے منظم ہو جائیں تو اس کا مطلب ہے کہ کچھ تبدیل نہیں ہوا۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ ’اگر ہم قبل از وقت فائر بندی کرتے ہیں تو اس سے حماس کو فتح حاصل ہو گی، اس سے کسی کو کوئی فائدہ نہیں ہو گا۔ اگر حماس اس تنازع سے مزید مضبوط ہو کر نکلتا ہے تو یہ اسرائیل کے لیے برا ہے، یہ فلسطینیوں کے لیے بھی برا ہے، یہ امن کے لیے بھی برا ہے۔‘