آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

امریکی صدر کا اسرائیل کو پیغام: ’آج سے کشیدگی میں کمی کی توقع‘

غزہ میں حملوں اور جوابی حملوں کے بعد امریکی صدر جو بائیڈن نے اسرائیلی وزیر اعظم بنیامن نتن یاہو سے فون پر بات کی ہے۔ وائٹ ہاؤس کے بیان کے مطابق ’صدر نے وزیر اعظم کو بتایا کہ وہ آج سے سیز فائر کے حصول کے لیے کشیدگی میں کمی کی توقع کر رہے ہیں۔‘

لائیو کوریج

  1. یروشلم اور غزہ میں جاری تشدد کے متعلق انڈیا کو ’تشویش لاحق‘

    سلامتی کونسل کے اجلاس کے بعد اقوام متحدہ میں انڈیا کے ایلچی ٹی ایس ترومورتی نے کہا ہے کہ یروشلم اور غزہ میں جاری تشدد کے متعلق انڈیا کو تشویش لاحق ہے۔

    انڈین سفیر نے کہا کہ ’انڈیا ہر طرح کے تشدد کی مذمت کرتا ہے اور فوری طور پر تناؤ ختم کرنے کی اپیل کرتا ہے۔‘

    ترومورتی نے کہا: 'انڈیا فلسطینیوں کے جائز مطالبے کی حمایت کرتا ہے اور دو قومی نظریے کے تحت (اس تنازعے کے) حل کے لیے پرعزم ہے۔'

    انہوں نے کہا: ’انڈیا غزہ پٹی سے راکٹ حملوں کی مذمت کرتا ہے، اسی طرح اسرائیلی انتقامی کارروائیوں میں خواتین اور بچوں سمیت بڑی تعداد میں عام شہری کا ہلاکا ہونا انتہائی افسوسناک ہے۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’ان حملوں میں ایک انڈین شہری کی موت ہوگئی ہےجو اشکلون میں نرس تھیں، ہمیں ان کی موت کا شدید رنج ہے۔‘

    واضح رہے کہ حالیہ دنوں یہ پہلا موقع ہے جب انڈیا نے اسرائیلیوں اور فلسطینیوں کے درمیان جاری تنازعے میں کھل کر اپنی بات رکھی ہے۔

    اس سے قبل انڈیا باضابطہ طور پر بیان جاری نہیں کرتا تھا۔

  2. وہ لمحہ جب غزہ میں میڈیا کے دفاتر اسرائیلی حملے میں تباہ ہوئے

  3. اسرائیل فلسطین تنازع: عرب ممالک اور اسرائیل کے تعلقات کا مستقبل کیا ہو گا؟, فرینک گارڈنر کا تجزیہ

    بی بی سی کے نامہ نگار برائے سکیورٹی امور فرینک گارڈنر نے اپنے تازہ ترین مضمون میں تجزیہ کیا ہے کہ اسرائیل اور فلسطیینیوں کے درمیان بگڑتی ہوئی صورت حال ان عرب حکومتوں کے لیے خاصی شرمندگی کا باعت بن رہی ہے جو حال ہی میں اسرائیل سے اپنے تعلقات کو معمول پر لائی ہیں۔

    وہ لکھتے ہیں: ’ایسا ہونا ہی تھا کیونکہ اسرائیل کے ساتھ کیے جانے والے وہ ایبراہم اکارڈز یا ’ابراہیمی معاہدے‘ جنھیں متحدہ عرب امارات، بحرین، مراکش اور سوڈان نے بڑے ڈھول ڈھمکے کے ساتھ طے کیا تھا، انہیں ایک نہ ایک دن زمینی حالات و واقعات کا اسیر ہونا ہی تھا۔ اب جبکہ یہ زمینی صورت حال بگڑتے بگڑتے ایک مہلک لڑائی کی شکل اختیار کر چکی ہے، عرب ریاستوں اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی ہوئی گرمجوشی کے کھلے عام اظہار کو بھی لگام ڈال دی گئی ہے۔‘

    پورا مضمون پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

  4. اتوار کو بیروت اور ایمسٹرڈیم میں فلسطینیوں کے حق میں مظاہرے

    اتوار کو دنیا کے مختلف ممالک میں فلسطینیوں کے حق میں مظاہرے کیے گئے۔ خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق لبنان کے دارالحکومت بیروت میں اس سلسلے میں ایک مظاہرہ الاہباش نے منعقد کیا جس میں متعدد خواتین بھی شریک ہوئیں۔

    اسی طرح نیدرلینڈز کے شہر ایمسٹر ڈیم کے ڈیم سکوائر میں فلسطینیوں کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا گیا اور اس دوران مظاہرین نے فلسطین کا پرچم لہرائے اور اکثر نے اس دوران کفایہ پہن کر رکھا تھا۔

    گذشتہ روز سپین کے شہر میڈرڈ میں بھی ہزاروں لوگ فلسطینیوں کے حق میں سڑکوں پر نکل آئے۔ تقریباً ڈھائی ہزار کے قریب نوجوانوں نے فلسطینی پرچم لپیٹ کر شہر کے مرکز کی جانب مارچ کیا۔

    اے ایف پی کے مطابق مظاہرین اس موقع پر نعرے لگا رہے تھے کہ 'یہ جنگ نہیں بلکہ نسل کُشی ہے۔'

    اس سے قبل سنیچر کو پیرس میں بھی فلسطینیوں کے حق میں مظاہرہ کیا گیا جس پر پولیس نے آنسو گیس اور واٹر کینن کا استعمال کرتے ہوئے مظاہرین کو منتشر کرنے کی کوشش کی۔

    اے ایف پی کے مطابق پیرس کے حکام کی جانب سے لاؤڈ سپیکروں پر اعلانات کیے جاتے رہے کہ مارچ غیر قانونی ہے مگر اُس کے باوجود ہزاروں کی تعداد میں لوگ شہر کے شمالی حصے میں جمع ہوئے۔

  5. اسرائیل فلسطین تنازع: بی بی سی اردو کے لائیو پیج میں خوش آمدید, تازہ ترین اطلاعات کے مطابق پیر کی صبح اسرائیل کی جانب سے 80 فضائی حملوں کے نتیجے میں کم از کم 40 افراد ہلاک

    بظاہر کچھ سالوں کی خاموشی کے بعد مشرق وسطی میں ایک بار پھر بحرانی کیفیت کا ماحول واپس پیدا ہو گیا ہے اور اس بار بھی اس کا محور اسرائیل اور فلسطین کے مابین تنازعات ہی ہیں۔

    رمضان کے مہینے میں بیت المقدس کے علاقے شیخ جراح میں اسرائیلی آبادکاروں کی جانب سے گھر خالی کرانے کے معاملے پر مقامی فلسطینیوں کا احتجاج مسجد الاقصی کے کمپاؤنڈ میں شروع ہوا تھا لیکن اسرائیلی حکام کی جوابی کارروائی اور حماس کے راکٹ حملوں کے نتیجے میں حالات اب غرب اردن اور غزہ کی پٹی، دونوں ہی جگہ خراب ہو چکے ہیں۔

    تازہ ترین اطلاعات کے مطابق پیر کی صبح اسرائیل کی جانب سے 80 فضائی حملوں کے نتیجے میں کم از کم 40 افراد ہلاک ہوئے حماس نے بھی اسرائیل کی جانب راکٹ داغے۔

    اس سے قبل اسرائیل کے وزیراعظم بینامن نیتن یاہو نے کہا ہے کہ غزہ میں حماس کے عسکریت پسندوں کے خلاف اسرائیل کا فوجی آپریشن ’پوری طاقت کے ساتھ‘ جاری رہے گا۔

    نیتن یاہو نے متنبہ کیا کہ ’ہم امن کی بحالی کے لیے کام کر رہے ہیں۔۔۔ اس میں وقت لگے گا۔‘

    غزہ میں صحت کے حکام کے مطابق اتوار کے روز اسرائیلی فوج کے تازہ ترین حملوں میں 16 خواتین اور 10 بچوں سمیت مزید 42 افراد ہلاک ہوئے ہیں، جس کے بعد غزہ میں اسرائیلی بمباری سے ہونے والی اموات کی تعداد 192 جبکہ 1230 افراد زخمی ہیں۔

  6. یروشلم: سات ہزار برسوں کی خون آلود تاریخ