آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
جھگڑے کے دوران ماں اور بہن کی گالیاں کیوں دی جاتی ہیں؟
- مصنف, مریم سلطانہ
- عہدہ, بی بی سی بنگلہ
- وقت اشاعت
- مطالعے کا وقت: 8 منٹ
فرض کریں دو افراد کے درمیان کوئی تنازع، جھگڑا یا اختلاف ہے۔ ایک موقع پر ان میں سے ایک دوسرے کو گالیاں دینا شروع کر دیتا ہے۔ مگر ان گالیوں میں ایک ایسی عورت کا ذکر آ جاتا ہے جس کا اس پورے واقعے سے کسی بھی طرح تعلق نہیں ہوتا۔
ذاتی تنازعات سے لے کر سوشل میڈیا پر ہونے والے مباحثوں تک، ماں اور بہن کے حوالے سے جنسی نوعیت کی گالیاں اکثر دوسروں کو ذلیل کرنے یا انھیں لاجواب کرنے کے لیے استعمال کی جاتی ہیں۔
اور یہ صرف مرد ہی نہیں جو اس قسم کی زبان استعمال کرتے ہیں۔ خواتین کی جانب سے بھی ایسی زبان سننے میں آتی ہے۔
حال ہی میں بنگلہ دیشی فلمی اداکارہ پوری مونی ایک ایسے ہی واقعے کے باعث خبروں میں آئیں۔
پانچ نومبر کو ایک مقدمے میں پیشی کے لیے عدالت جاتے ہوئے ان کی ایک صحافی سے تکرار ہو گئی۔
اس دوران انھوں نے لوگوں کے سامنے صحافی کی والدہ کا ذکر کر کے فحش زبان میں گالیاں دیں اور قتل کی دھمکی بھی دے ڈالی۔
اس واقعے نے ایک پرانا سوال ایک بار پھر سامنے لا کھڑا کیا ہے۔ جب دو افراد کے درمیان تنازع ہوتا ہے تو خاندان کی خواتین گالیوں کا نشانہ کیوں بنتی ہیں؟
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
کیا یہ محض زبان کے عام استعمال کا حصہ ہے، یا اس کے پیچھے خواتین کے بارے میں معاشرے کا کوئی دیرینہ تصور کارفرما ہے؟
جب اس معاملے کا زبان اور معاشرے میں خواتین کے مقام کے تناظر میں جائزہ لیا جاتا ہے تو معلوم ہوتا ہے کہ ماں اور بہن کے حوالے سے دی جانے والی عام گالیاں صرف فحش الفاظ کے استعمال تک محدود نہیں ہوتیں۔ ان کا تعلق اس رجحان سے بھی ہے جس میں جنسیت، طاقت اور خاندانی عزت کو خواتین کے ساتھ جوڑ کر دیکھا جاتا ہے۔
ہر ملک میں گالیوں میں خواتین کا ذکر کس حد تک پایا جاتا ہے؟
کسی کو ہدفِ تنقید یا تضحیک بنانے کے لیے اس کے خاندان کی خواتین کا حوالہ دینے کا رجحان صرف اردو، بنگالی اور ہندی زبان تک محدود نہیں ہے۔ اس نوعیت کی گالیاں دنیا بھر کی متعدد زبانوں اور ثقافتوں میں رائج ہیں۔
سنہ 2024 میں بیہیویرل ریسرچ میتھڈ (Behavioral Research Methods) نامی جریدے میں شائع ہونے والی ایک بین الاقوامی تحقیق سے معلوم ہوا کہ مختلف زبانوں میں عام گالیوں اور معاشرتی طور پر ممنوع سمجھے جانے والے الفاظ میں جنسیت، جنسی اعضا اور جنسی شناخت سے متعلق الفاظ نمایاں حیثیت رکھتے ہیں۔
دنیا کے 17 ممالک کی 13 زبانوں پر مشتمل اس تحقیق میں محققین نے شرکا سے مختلف اقسام کی گالیوں اور سماجی طور پر ممنوع الفاظ جمع کیے۔
تحقیق سے پتا چلا کہ مختلف زبانوں میں سب سے زیادہ دہرائے جانے والے الفاظ میں خواتین کے جنسی اعضا کے حوالے، خواتین کے جنسی رویے کو حقیر دکھانے کے لیے استعمال ہونے والے الفاظ، اور جنسی عمل سے متعلق توہین آمیز الفاظ نمایاں طور پر موجود تھے۔
اس کے علاوہ، کئی زبانوں میں کسی کی ماں کے بارے میں جنسی نوعیت کی گالیوں یا کسی کی پیدائش اور نسب کو توہین کے ذریعے کے طور پر استعمال کرنے کی مثالیں بھی سامنے آئیں۔
مردانہ اعضا کے حوالے سے دی جانے والی گالیاں بھی موجود ہیں، لیکن ان کا استعمال نسبتاً کم عام ہے۔
دوسرے الفاظ میں جنس اور خواتین کے گرد گھومنے والی توہین آمیز زبان کے استعمال کا رجحان کسی ایک معاشرے یا زبان تک محدود نہیں ہے۔
احترام کی علامت سمجھے جانی والی گالی کا حصہ کیوں بنتی ہے؟
دنیا کے مختلف مذاہب اور ثقافتوں میں ماؤں کو عزت اور وقار کا ایک خاص مقام حاصل ہے۔ بنگالی ثقافت بھی اس سے مستثنیٰ نہیں۔
سنہ 2015 میں جرنل آف ایتھنولوجی اینڈ فوکلورسٹکس (Journal of Ethnology and Folkloristics) میں شائع ہونے والی ایک تحقیق میں بنگالی لوک ثقافت میں لفظ ’ماں‘ کی اہمیت کا اُجاگر کیا گیا ہے۔
محققین نے دکھایا کہ بنگالی ثقافت میں ’ماں‘ کا لفظ صرف جنم دینے والی والدہ کے لیے استعمال نہیں ہوتا، بلکہ خاندان کی دیگر خواتین کو مخاطب کرنے کے لیے بھی استعمال کیا جاتا ہے۔
اسی طرح بعض مذہبی عقائد میں ایسی دیویوں کو بھی ’ماں‘ کہا جاتا ہے جن کے بارے میں یقین کیا جاتا ہے کہ وہ انسانوں کو بری قوتوں، قحط، غربت، جہالت، سانپوں اور بیماریوں سے محفوظ رکھتی ہیں۔
اس تحقیق کے مطابق 1947 سے پہلے بنگال کی سرزمین کو بھی ’ماں‘ کہا جاتا تھا۔ دیگر مذاہب میں بھی ماؤں کے لیے خصوصی احترام پایا جاتا ہے۔
مثال کے طور پر اسلام میں والدین کے ساتھ حسنِ سلوک پر خاص زور دیا گیا ہے جبکہ بچوں کی پیدائش اور پرورش میں ماؤں کی مشقت کا بھی الگ سے ذکر ملتا ہے۔
دوسری جانب مسیحیت میں حضرت عیسی کی والدہ حضرت مریم کو خصوصی احترام حاصل ہے۔ وہاں وہ مادریت اور پاکیزگی کی علامت سمجھی جاتی ہیں۔
دوسرے الفاظ میں، مختلف مذاہب اور ثقافتوں میں ماں ہونے کو ایک خصوصی مقام دیا گیا ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ جس معاشرے میں ماں کو اتنی عزت اور وقار حاصل ہو، وہاں کسی کو ذلیل کرنے کے لیے اس کی ماں کے بارے میں جنسی نوعیت کی گالیاں کیوں دی جاتی ہیں؟
ڈھاکہ یونیورسٹی کے شعبۂ بشریات سے وابستہ پروفیسر زبیدہ نسرین کے مطابق اس کے پیچھے ایک بڑی وجہ معاشرے میں ماؤں کو دیا جانے والا بلند مقام ہے۔
انھوں نے بی بی سی بنگلہ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’مختلف معاشروں، مذاہب اور ثقافتوں میں ماؤں کو عزت کا مقام حاصل ہے۔ لیکن جب اسی ماں کو جنسیت اور عصمت کے تصور کے پیمانے پر پرکھا جاتا ہے تو اس کی بے توقیری کے ذریعے اس کے بچے کو بھی ذلیل کرنے کا موقع پیدا ہو جاتا ہے۔‘
ان کے مطابق ماں کو اس کے بلند مقامِ احترام سے گرا کر دراصل اس کے بچے کو شرمندہ اور ذلیل کرنے کی کوشش کی جاتی ہے، کیونکہ اس طرح کا حملہ کسی شخص کو سب سے زیادہ تکلیف پہنچا سکتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ معاشرہ ایک طویل عرصے سے اس تضاد کو پروان چڑھاتا آیا ہے۔ تاہم کسی کی ماں کو گالی دینا کسی بھی مذہب میں دوسروں کے خلاف تشدد یا حملے کے ایک ذریعے کے طور پر نہیں دیکھا جاتا۔
گالیوں کا خواتین کی جنسیت سے کیا تعلق ہے؟
ماں، بہن اور دیگر خواتین کے خلاف استعمال ہونے والی بہت سی گالیوں کا جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ ان میں جنسیت کو توہین کے ایک ذریعے کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔
کبھی کسی عورت کے جنسی رویے کو ہدف بنایا جاتا ہے اور کبھی جنسی تشدد کا اشارہ دیا جاتا ہے۔ لیکن ان گالیوں کا نشانہ اکثر خود عورت نہیں ہوتی بلکہ اس کے خاندان کا کوئی دوسرا فرد ہوتا ہے۔
زبیدہ نسرین کے مطابق تاریخی طور پر خواتین کو ان کی جنسیت کی بنیاد پر اچھا یا برا قرار دینے کا رجحان موجود رہا ہے۔ یہ رجحان وکٹورین دور کے اخلاقی تصورات اور اس سے بھی پہلے کے سماجی اقدار میں دیکھا جا سکتا ہے۔
انھوں نے کہا کہ ’کسی ماں کی جنسیت کو نشانہ بنانا انتہائی توہین آمیز سمجھا جاتا ہے، کیونکہ عورت کی عصمت اور جنسی رویے کو اس کے اخلاقی کردار کا پیمانہ تصور کیا جاتا ہے۔‘
تاہم ان کے مطابق یہ درست طور پر کہنا مشکل ہے کہ بنگالی زبان میں اس قسم کی گالیوں کا آغاز کب ہوا۔
ان کا کہنا ہے کہ خواتین کے جسم اور جنسیت پر مبنی توہین آمیز الفاظ مختلف زبانوں میں رائج ہیں۔ یہ الفاظ صرف کسی کو ذلیل کرنے کے لیے ہی استعمال نہیں ہوتے بلکہ بعض صورتوں میں جبر اور استحصال کے ایک ذریعے کے طور پر بھی استعمال کیے جاتے ہیں۔
ڈھاکا یونیورسٹی کے شعبۂ جینڈر سٹڈیز کی پروفیسر تانیا حق بھی سمجھتی ہیں کہ ماں اور بہن کے حوالے سے گالیاں دینے کا مقصد دوسروں کو گہری ذہنی اذیت پہنچانا ہوتا ہے۔
انھوں نے بی بی سی بنگلہ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ایسی گالیاں اس لیے استعمال کی جاتی ہیں کیونکہ یہ لوگوں کو گہرائی سے متاثر کرتی ہیں۔ جو زبان طویل عرصے سے معاشرے میں رائج رہی ہو، لوگ دوسروں کو تکلیف پہنچانے کے لیے اسی زبان کا استعمال کرتے ہیں۔
ان کے مطابق خواتین کے خلاف طنز یا تمسخر کو اکثر معاشرے میں ایک معمول کی بات سمجھ لیا جاتا ہے۔
عادت، یا خواتین دشمنی؟
بہت سے لوگ عادتاً ماں اور بہن سے متعلق گالیاں استعمال کرتے ہیں۔ ممکن ہے وہ ان الفاظ کے لفظی معنی کے بارے میں سوچتے بھی نہ ہوں۔
تو کیا اس قسم کی گالیوں کو خواتین دشمن رویہ قرار دیا جا سکتا ہے؟
پروفیسر زبیدہ نسرین کا ماننا ہے کہ اگرچہ لوگ عادتاً ایسی گالیاں استعمال کرتے ہیں لیکن یہ دراصل خواتین کے بارے میں بے احترامی اور خواتین دشمنی ہی کا اظہار ہوتی ہیں۔
انھوں نے کہا کہ ’لوگ معاشرے میں طویل عرصے سے رائج بعض رویوں کو عادت کے طور پر اپنا لیتے ہیں۔ لیکن انھی عادات کے ذریعے پدرشاہی سوچ اور طاقت کے تعلقات بار بار ظاہر ہوتے ہیں۔‘
ان کے مطابق ماں اور بہن کے بارے میں توہین آمیز زبان صنفی بنیادوں پر قائم طاقت کی سیاست کا ایک آلہ ہے۔ ایسی زبان خواتین کو ذلیل کرنے یا انھیں دبانے کے لیے بھی استعمال کی جا سکتی ہے۔
پروفیسر تانیا حق کا بھی ماننا ہے کہ چونکہ معاشرے میں طویل عرصے سے توہین آمیز زبان کا استعمال رائج رہا ہے، اس لیے لوگ اکثر اس کے اثرات کے بارے میں نہیں سوچتے۔ اور جب دوسروں کے احترام کا رویہ کافی حد تک فروغ نہ پائے تو لوگ بار بار رائج اور روایتی توہین آمیز زبان ہی استعمال کرتے ہیں۔
خواتین بھی یہی گالیاں کیوں دیتی ہیں؟
ماں اور بہن کے حوالے سے دی جانے والی گالیوں کے بارے میں ایک اور اہم پہلو یہ ہے کہ اس قسم کی زبان صرف مرد ہی استعمال نہیں کرتے۔ یہ خواتین کے درمیان بھی رائج ہے۔
لیکن ایک عورت خود کسی دوسرے شخص کی ماں کے بارے میں جنسی نوعیت کی توہین آمیز بات کیوں کرتی ہے؟
تجزیہ کاروں کے مطابق پدرشاہی سوچ صرف مردوں تک محدود نہیں ہوتی۔ خواتین بھی اسی سماجی نظام میں پروان چڑھتی ہیں اور وہیں سے روایتی زبان اور رویے سیکھتی ہیں۔
زبیدہ نسرین کے مطابق جب ایک عورت کسی دوسری عورت کی ماں کے بارے میں گالی دیتی ہے تو وہ بھی دراصل وہی زبان استعمال کر رہی ہوتی ہے جو اس نے معاشرے سے سیکھی ہوتی ہے۔
ان کا خیال ہے کہ اس کے پیچھے ایک اور رویہ بھی کارفرما ہو سکتا ہے۔
انھوں نے کہا کہ ’کوئی شخص یہ سوچ کر بھی اسی قسم کی زبان استعمال کر سکتا ہے کہ اگر مرد ایسی گالیاں دے سکتے ہیں تو خواتین کیوں نہیں؟‘
تاہم ان کے مطابق اس سے گالیوں میں موجود پدرشاہی تصور تبدیل نہیں ہوتا۔ بلکہ اسی نوعیت کی زبان کا استعمال جاری رہتا ہے۔
'BBC News اردو' ایڈیشن کا انتخاب کریں اور نیوز الرٹس، تحقیقاتی اور تفصیلی رپورٹس، سب کچھ ایک ہی جگہ پر حاصل کریں۔
نوٹ: نئی ایپ برطانیہ اور امریکہ میں دستیاب نہیں ہے اور اس کا انگریزی زبان میں ایڈیشن موجود نہیں۔