آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
جدید ٹیکنالوجی سے مذہبی سوالات پر بحث: کیا مصنوعی ذہانت سے اسلامی جواب اور فتویٰ لیا جا سکتا ہے؟
- مصنف, رمی رحیم
- عہدہ, بی بی سی اردو
- وقت اشاعت
- مطالعے کا وقت: 8 منٹ
گذشتہ چند ماہ کے دوران سوشل میڈیا پر مذہبی سوالات کے جواب دینے میں مصنوعی ذہانت کے کردار پر گرما گرم بحث جاری ہے۔ اس بحث کا آغاز اگست کے پہلے ہفتے میں ’قاف‘ نامی ایپ متعارف کرائے جانے کے بعد ہوا۔
ایپ سٹور پر موجود تعارف کے مطابق ’قاف‘ ایک مسلمانوں کے سوالات کے جواب دینے والا ڈیجیٹل پلیٹ فارم یا ٹول ہے، جسے ایسے مسلمانوں کی معاونت کے لیے تیار کیا گیا ہے جو سوالات پوچھنا، سیکھنا اور غور و فکر کرنا چاہتے ہیں۔
ایکس پر ایک صارف نے ایپ پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا کہ ’اللہ سے ڈرو۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ ’اگر کوئی شخص کسی عالم کے غلط فتویٰ پر عمل کرتا ہے تو اس پر گناہ نہیں، لیکن اگر وہ مصنوعی ذہانت کے دیے گئے فتویٰ پر عمل کرے تو غلطی اس کی اپنی ہوگی اور اللہ کے سامنے اسے جواب دہ ہونا پڑے گا۔‘
دوسری جانب ایک اور صارف نے اس کے برعکس رائے کا اظہار کرتے ہوئے لکھا کہ ’اگر آپ مسلمان ہیں تو یہ ایپ ڈاؤن لوڈ کریں۔‘
اس بحث کے دوران ایپ کے شریک بانی عبداللطیف عبدالفتاح کی جانب سے جاری کی گئی اس کی تشہیری ویڈیو کو لاکھوں بار دیکھا گیا اور اس پر لوگوں کی جانب سے مختلف ردعمل سامنے آئے۔ بعض نے اس کا خیرمقدم کیا جبکہ کچھ نے اس پر تحفظات کا اظہار کیا اور تنقید کی۔
یہ بحث دراصل ایک بڑے سوال کی عکاسی کرتی ہے کہ انسانی ذہن اور معلومات کے وسیع ذخیرے سے لیس مشین کی ’ذہانت‘ میں کیا فرق ہے؟ اس بحث میں ٹیکنالوجی کے میدان میں عالمی سطح پر برتری حاصل کرنے کی دوڑ اور ڈیجیٹل دور میں اسلامی علوم کی اہمیت جیسے موضوعات بھی شامل ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ایک ایسی حقیقت ’جس سے گریز ممکن نہیں‘
’قاف‘ ایپ متعارف کرائے جانے کے چند روز بعد اس کے شریک بانی عبداللطیف عبدالفتاح نے اس حوالے سے وضاحت جاری کی۔
انھوں نے لکھا کہ ’ایسا لگتا ہے کہ فتویٰ دینے کے لیے قاف کے استعمال کے بارے میں بڑی غلط فہمی پائی جاتی ہے۔ ہم واضح کرنا چاہتے ہیں کہ ہمارا مؤقف ہے کہ مصنوعی ذہانت فتویٰ نہیں دے سکتی۔‘
انھوں نے ایپ پر ایک صارف کی جانب سے پوچھے گئے ایک سوال کو بطور مثال استعمال کیا اور اس کے جواب میں قاف نے وضاحت کی کہ یہ محض معلومات تلاش کرنے اور ان تک رسائی حاصل کرنے کا ایک ذریعہ ہے۔
قاف کے ڈویلپرز اس ایپ کو ایک ایسا پلیٹ فارم قرار دیتے ہیں جو مصنوعی ذہانت کی مدد سے مسلمانوں کو اسلام سیکھنے، اس کے مختلف پہلوؤں کو جاننے اور سمجھنے میں مدد دیتا ہے۔
ڈویلپرز کا یہ دعویٰ نہیں کہ انھوں نے اپنا کوئی لسانی ماڈل تیار یا تربیت کیا ہے۔ بظاہر قاف ایک ایسا ٹول ہے جو پہلے سے موجود مصنوعی ذہانت کے ماڈلز استعمال کرتا ہے اور اپنے ڈیٹا بیس میں موجود اسلامی ماخذ سے بھی مدد لیتا ہے۔ اس کا مقصد فراہم کردہ جوابات پر غیر اسلامی ذرائع کے اثرات کو محدود کرنا ہے۔
ایکس پر جاری کردہ تعارفی ویڈیو میں عبداللطیف عبدالفتاح نے واضح کیا کہ قاف کے جوابات مصنوعی ذہانت کے ذریعے تیار کیے جاتے ہیں اور مصنوعی ذہانت سے غلطیاں بھی ہو سکتی ہیں۔
ان وضاحتوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایپ کے ڈویلپرز مذہبی معاملات سے جڑے حساس پہلوؤں اور عقائد و شرعی احکامات سے متعلق کسی بھی پلیٹ فارم کو درپیش تنقید اور جانچ پڑتال سے آگاہ ہیں۔
دوسری جانب بعض لوگوں نے اس خیال کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے سراہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ’مسلمان پہلے ہی مصنوعی ذہانت کے عمومی ٹولز استعمال کر رہے ہیں، جنھیں اسلامی اصولوں اور رہنما ہدایات کو مدنظر رکھ کر تیار نہیں کیا گیا۔‘
ان کے نزدیک مستند اسلامی ذرائع پر مبنی ایپلی کیشنز تیار کرنا درست سمت میں ایک قدم ہے، چاہے یہ تجربہ ابھی مکمل طور پر کامیاب نہ ہوا ہو۔
اس نقطۂ نظر کے حامیوں کا کہنا ہے کہ لسانی ماڈلز بہت سے لوگوں کی روزمرہ زندگی کا حصہ بن چکے ہیں۔
اب سوال یہ نہیں رہا کہ انھیں استعمال کیا جانا چاہیے یا نہیں، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ انھیں کس طرح بہتر بنایا جائے اور ان کے استعمال کے لیے ایسے ضابطے کیسے بنائے جائیں جن سے ان کی صلاحیتوں کو علم کے دائرے کو وسیع کرنے اور اسے زیادہ آسانی سے لوگوں تک پہنچانے کے لیے استعمال کیا جا سکے۔
جوش و خروش اور حدود کے درمیان
اگر فقہ کے ماہرین کی آرا کا جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ ان کا نقطۂ نظر نئی ٹیکنالوجی سے فائدہ اٹھانے اور اس کی ترقی میں حصہ لینے کے حوالے سے حوصلہ افزائی اور اس کے استعمال کی حدود اور خطرات کے بارے میں تحفظات، دونوں پہلوؤں کا احاطہ کرتا ہے۔
الازہر کے عالم اور مصر کی وزارتِ اوقاف کے سابق نائب سیکریٹری ڈاکٹر سالم عبدالجلیل نے بی بی سی نیوز عربی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مصنوعی ذہانت سمیت تحقیق میں مدد دینے والی ایپلی کیشنز نے علما کے لیے بہت آسانیاں پیدا کی ہیں۔
ان کے مطابق یہ ٹولز ایسے طلبہ کے لیے بھی مفید ہیں جو علم حاصل کر رہے ہیں اور جن کا مذہبی پس منظر اور شعور پختہ ہے۔ انھوں نے کہا کہ یہ ان نعمتوں میں سے ہیں جن سے اللہ نے اہلِ علم کو نوازا ہے۔
تاہم ڈاکٹر سالم عبدالجلیل مصنوعی ذہانت کے استعمال کی دو اقسام اور صارفین کے دو گروہوں میں فرق کرتے ہیں۔ ان کے خیال میں اس ٹیکنالوجی سے فائدہ اٹھانے والے شخص کا مذہبی پس منظر اور شرعی علم اتنا ہونا چاہیے کہ وہ درست اور غلط میں فرق کر سکے۔
انھوں نے کہا کہ ’ماہرین اس سے بھرپور فائدہ اٹھا سکتے ہیں کیونکہ وہ اس کے ذریعے پڑھی اور سنی جانے والی باتوں کا جائزہ لینے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ جہاں تک غیر ماہرین کا تعلق ہے تو وہ اسے عمومی معلومات اور ثقافتی آگاہی کے لیے استعمال کر سکتے ہیں، نہ کہ شرعی حکم، فتویٰ دینے یا کسی تنازع کا فیصلہ کرنے کے لیے۔‘
مذہبی سوالات کے جوابات کے لیے ڈیجیٹل ذرائع کی طرف بڑھتے ہوئے رجحان نے اب اسلامی دنیا کے قدیم اور مستند دینی اداروں کی توجہ بھی حاصل کر لی ہے۔
گذشتہ برس قاہرہ میں ’مصنوعی ذہانت کے دور میں صاحبِ بصیرت مفتی کی تیاری‘ کے عنوان سے ایک کانفرنس منعقد ہوئی، جس کے افتتاحی اجلاس میں شرکا نے دو فوری ضروریات پر زور دیا، مصنوعی ذہانت سے فائدہ اٹھانا اور اس کے استعمال کے لیے ضروری ضابطے وضع کرنا۔
کانفرنس میں جامعہ الازہر کے سربراہ ڈاکٹر احمد الطیب کی جانب سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر محمد الضوینی نے کہا کہ مصنوعی ذہانت سے فائدہ اٹھانا ’ایک دینی ضرورت‘ ہے کیونکہ کسی شخص کے لیے اپنے دور کی ترقی سے ناواقف رہنا نہ عقل مندی ہے اور نہ ہی دانش مندی۔
تاہم انھوں نے اس بات پر زور دیا کہ مشینیں خود مختار طور پر شرعی فتوے جاری نہیں کر سکتیں، کیونکہ فتویٰ دینا ’علمی اجتہاد کا عمل‘ ہے، جس کے لیے انسانی فطرت اور اس کی پیچیدگیوں کو گہرائی سے سمجھنا اور ان کا حساس ادراک رکھنا ضروری ہے۔
کانفرنس میں ایک اور اہم تشویش یہ سامنے آئی کہ اسلامی دنیا کو محض ٹیکنالوجی استعمال کرنے والے فریق کے بجائے اس کی تیاری اور ترقی میں فعال کردار ادا کرنے والے فریق کے طور پر آگے بڑھنا چاہیے۔
ڈاکٹر محمد الضوینی کے الفاظ میں، ایسا ہونا ضروری ہے تاکہ ’ہمارے ذہنوں کو سمندروں اور براعظموں کے پار بیٹھ کر کنٹرول نہ کیا جائے۔‘
علمی ورثہ بہت وسیع، لیکن ڈیجیٹل شکل میں دستیاب نہیں
تاہم یہ کام آسان نہیں، کیونکہ مصنوعی ذہانت کی ترقی کے میدان میں عرب اور اسلامی دنیا کو بڑے چیلنجز کا سامنا ہے۔
جامعہ حمد بن خلیفہ کے مرکز برائے اسلامی قانون سازی و اخلاقیات سے وابستہ پروفیسر اور محقق ڈاکٹر سامر رشوانی عرب دنیا میں مصنوعی ذہانت کے موجودہ ماڈلز کی صورتِ حال سے زیادہ پُرامید نہیں ہیں۔
انھوں نے بی بی سی نیوز عربی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ عرب اور اسلامی دنیا کے بعض ممالک نے اس شعبے کی اہمیت کو ابتدائی مرحلے ہی میں تسلیم کر لیا تھا اور مصنوعی ذہانت کی تخلیقی ٹیکنالوجی سامنے آنے کے بعد بڑے منصوبے بھی شروع کیے تھے۔
تاہم ان کے خیال میں کئی عوامل نے اس شعبے کی ترقی کی رفتار سست کر دی۔ ان میں امریکہ اور چین کے درمیان مصنوعی ذہانت کے شعبے میں مسابقت بھی شامل ہے، جس کے نتیجے میں جدید ٹیکنالوجی، بالخصوص مصنوعی ذہانت کے ماڈلز کی تربیت اور انھیں چلانے کے لیے استعمال ہونے والی چِپس کی برآمد پر پابندیاں عائد ہوئیں۔
ڈاکٹر سامر رشوانی خود بھی اسلامی علوم کے محققین کی مدد کے لیے مصنوعی ذہانت کا ایک ماڈل تیار کرنے کے منصوبے پر کام کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ’امریکی پالیسیوں میں تبدیلی کے بار بار اعلانات کے باوجود ان پابندیوں کے اثرات اب بھی موجود ہیں۔‘
ان کے مطابق اس کا نتیجہ یہ ہے کہ اس وقت دستیاب عربی زبان کے مصنوعی ذہانت کے ماڈلز ’کمزور، بلکہ بہت کمزور‘ ہیں۔ زیادہ تر موجودہ منصوبوں میں اپنے ماڈلز ابتدا سے تیار یا تربیت کرنے کے بجائے پہلے سے موجود ماڈلز استعمال کیے جا رہے ہیں اور ان کی بنیاد پر نئے ٹولز بنائے جا رہے ہیں۔
اس کا مطلب ہے کہ ان منصوبوں کا انحصار بڑی حد تک پہلے سے موجود تجارتی ماڈلز پر ہے۔ اگرچہ ان ماڈلز میں نمایاں بہتری آئی ہے اور اب وہ عمومی اسلامی معلومات فراہم کرنے کی زیادہ صلاحیت رکھتے ہیں، تاہم اسلامی علوم کے مخصوص اور تحقیقی شعبوں میں ان کی افادیت اب بھی کئی خامیوں کی وجہ سے محدود ہے۔
ڈاکٹر رشوانی کے مطابق اس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ بڑے تجارتی ماڈلز کی تربیت کے لیے انٹرنیٹ پر دستیاب عربی مواد کا تناسب نصف فیصد سے بھی کم ہے۔
انھوں نے کہا کہ ایک اور مسئلہ یہ ہے کہ انٹرنیٹ پر موجود عربی ذرائع مکمل نہیں اور نہ ہی وہ عرب و اسلامی تاریخ کے تمام ادوار اور علمی شعبوں کی نمائندگی کرتے ہیں۔ مختلف علمی شعبوں کے مواد کی دستیابی میں بھی بہت زیادہ فرق ہے۔
ڈاکٹر رشوانی کے مطابق اب بھی ایک بہت بڑا مخطوطاتی علمی ورثہ موجود ہے جسے ڈیجیٹل شکل نہیں دی گئی۔ اس کے علاوہ گذشتہ دو صدیوں کا جدید علمی سرمایہ بھی موجود ہے جسے ڈیجیٹل شکل میں محفوظ کرنا ضروری ہے۔
انھوں نے کہا کہ ’اگر ہم ایسا عربی لسانی ماڈل تیار کرنا چاہتے ہیں جو عربی زبان، اس کے علمی ورثے اور عمومی عرب ثقافت کو زیادہ درست انداز میں سمجھ سکے تو اس کے لیے ان تمام مواد کو ڈیجیٹل شکل میں منتقل کرنا ہوگا۔‘
بظاہر عرب اور اسلامی دنیا کے بہت سے ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ اب مصنوعی ذہانت سے محض متاثر ہونے کے بجائے اس کی تیاری اور ترقی میں عملی طور پر حصہ لینے کی ضرورت ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ اس ٹیکنالوجی کے استعمال کو منظم کرنے اور اس کی حدود طے کرنے کے لیے ضابطے بنانا بھی ضروری ہے۔
مصنوعی ذہانت کے تخلیقی نظاموں پر ہونے والی بحث جلد ہی ان معلومات میں موجود تعصبات کے سوال تک پہنچ جاتی ہے جن کی بنیاد پر ان ماڈلز کو تربیت دی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ خود الگورتھمز میں بھی تعصب موجود ہو سکتا ہے۔
جہاں اسلامی تناظر میں کام کرنے والے بعض محققین موجودہ مصنوعی ذہانت کے ماڈلز پر مغربی غلبے کے اثرات کے بارے میں فکر مند ہیں، وہیں ایک اور اہم چیلنج بھی سامنے آ سکتا ہے۔ وہ اسلامی مکاتبِ فکر اور دینی تعلیمات کے مختلف طریقوں میں پایا جانے والا تنوع ہے، جو عربی اور اسلامی علوم پر مبنی مخصوص ایپلی کیشنز اور ماڈلز کے پھیلاؤ کے ساتھ ایک نئی بحث کو جنم دے سکتا ہے۔
'BBC News اردو' ایڈیشن کا انتخاب کریں اور نیوز الرٹس، تحقیقاتی اور تفصیلی رپورٹس، سب کچھ ایک ہی جگہ پر حاصل کریں۔
نوٹ: نئی ایپ برطانیہ اور امریکہ میں دستیاب نہیں ہے اور اس کا انگریزی زبان میں ایڈیشن موجود نہیں۔