آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق معلومات دینے پر پر دو کروڑ ڈالر انعام کا اعلان: امریکہ اب اس پیشکش سے کیا حاصل کرنا چاہتا ہے؟
- مصنف, ناتھن ولیمز
- عہدہ, بی بی سی نیوز
- وقت اشاعت
- مطالعے کا وقت: 5 منٹ
امریکہ نے ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق معلومات فراہم کرنے والوں کے لیے دو کروڑ ڈالر تک انعام اور ممکنہ طور پر دوسرے ملک منتقل کرنے کی پیشکش کا اعلان کیا ہے۔
امریکی محکمۂ خارجہ کے پروگرام ریوارڈز فار جسٹس کی جانب سے یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب واشنگٹن تہران پر دباؤ بڑھانے کی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔
امریکی محکمہ خارجہ کے پروگرام ریوارڈز فار جسٹس نے کہا ہے کہ ایسی معلومات فراہم کرنے والے شخص کو ممکنہ طور پر دوسرے مقام پر منتقل کرنے کی پیشکش بھی کی جا سکتی ہے۔
یاد رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ سال دعویٰ کیا تھا کہ امریکہ اور اسرائیل کی بمباری کے بعد ایران کی جوہری تنصیبات ’مکمل طور پر تباہ‘ ہو گئی تھیں۔
دوسری جانب ایران کا دعویٰ رہا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پرامن مقاصد کے لیے ہے اور وہ جوہری ہتھیار بنانے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا۔
امریکی فوج کا کہنا ہے کہ وہ ایک نئی ٹاسک فورس قائم کر رہی ہے تاکہ ایران کی جانب سے ہتھیاروں اور پابندیوں کی زد میں آنے والے مواد کی سرحد پار نقل و حرکت کو محدود کرنے کی امریکی کوششوں کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔
نئی ٹاسک فورس ’آئرن گیٹ‘
امریکی فوج کی مرکزی کمان سینٹکام نے کہا ہے کہ نئی ٹاسک فورس ’آئرن گیٹ‘ امریکی ریاست فلوریڈا کے شہر ٹیمپا سے کام کرے گی اور اس سلسلے میں امریکی حکومت کے دیگر اداروں کے ساتھ تعاون کرے گی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
سینٹکام کے مطابق یہ ٹاسک فورس ہتھیاروں کی نقل و حرکت کے علاوہ دوہری نوعیت کے استعمال والے سامان اور غیر قانونی مالی ذرائع پر بھی توجہ دے گی۔
سینٹکام کے دعوے کے مطابق ایران کی بندرگاہوں پر عائد اس کی بحری ناکہ بندی کے نتیجے میں ایران 25 ارب ڈالر سے زیادہ مالیت کا خام تیل برآمد کرنے سے محروم رہا ہے۔
امریکی محکمہ خارجہ کے بیان میں کہا گیا ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق معلومات فراہم کرنے پر کئی ملین ڈالر کے انعام کی پیشکش کی جا رہی ہے۔ ان میں جوہری پروگرام کی تنصیبات، آلات اور اس سے وابستہ عملے کے بارے میں معلومات شامل ہیں۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) کے حفاظتی تقاضوں سے متعلق ذمہ داریوں پر ایران کی عدم تکمیل کے باعث ایجنسی ایران میں جوہری سینٹری فیوجز جیسے اہم پرزوں کی پیداوار اور ذخیرے کے بارے میں اپنے علمی تسلسل سے محروم ہو گئی ہے۔
یاد رہے کہ سینٹری فیوجز افزودہ یورینیم تیار کرنے کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔ اس یورینیم کو شہری مقاصد کے لیے ری ایکٹر ایندھن کے طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے، تاہم اگر اسے تقریباً 90 فیصد یا اس سے زیادہ خالص تک افزودہ کیا جائے تو اسے جوہری ہتھیار بنانے کے لیے بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔
اس بحوالے سے یہ قیاس آرائیاں بڑھ رہی تھیں کہ امریکہ وسط مدتی انتخابات کے بعد ایران میں دوبارہ بڑے پیمانے پر حملے کر سکتا ہے تاہم امریکی صدر ٹرمپ نے ووٹنگ سے قبل صحافیوں سے گفتگو میں کہا تھا کہ وہ ایسا کرنے کے لیے ’کسی جلدی‘ میں نہیں ہیں۔
وسط مدتی انتخابات سے ایک روز قبل فاکس نیوز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں امریکی صدر نے یہ بھی کہا کہ امریکہ کو ممکنہ طور پر پک ایکس ماؤنٹین (Pickaxe Mountain) کو نشانہ بنانا پڑ سکتا ہےآ یاد رہے کہ یہ علاقہ ایران کے جوہری پروگرام سے وابستہ ایک زیرِ زمین مقام ہے۔
ٹرمپ کا یہ بھی دعویٰ تھا کہ ’ایسا کرنا کوئی بڑا مسئلہ نہیں اور یہ کام ایک گھنٹے میں کیا جا سکتا ہے۔‘
امریکی صدر اس مشتبہ زیرِ زمین مقام پر بمباری کی دھمکی ماضی میں بھی کئی بار دے چکے ہیں۔
تاہم امریکی صدر اور نائب صدر جے ڈی وینس دونوں کا کہنا ہے کہ ایران کے خلاف جنگ کی عوامی مخالفت نے اس ہفتے ہونے والے وسط مدتی انتخابات میں ان کی ریپبلکن پارٹی کو بھاری نقصان پہنچایا، جس کے باعث یہ قیاس آرائیاں جنم لے رہی ہیں کہ وائٹ ہاؤس شاید اب اس تنازع میں مزید شدت نہیں چاہتا۔
جمعے کو امریکی صدر نے اصرار کیا کہ ایران امریکہ کے ساتھ جاری آٹھ ماہ طویل تنازع ختم کرنے کا خواہاں ہے اور اس سلسلے میں تہران کی معیشت اور فوج کو پہنچنے والے نقصان کا حوالہ دیا۔
انھوں نے کہا کہ ’ہم اس وقت ان سے بات کر رہے ہیں۔ وہ معاہدہ کرنے کے لیے بہت بے تاب ہیں۔‘
دوسری جانب قطر کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے منگل کو کہا کہ ’دونوں فریق ان خیالات اور تجاویز کا جائزہ لے رہے ہیں جو ہم نے پیش کی ہیں۔‘
وزارتِ خارجہ کے ترجمان کے مطابق وہ اب بھی کسی معاہدے تک پہنچنے کے لیے پرامید ہیں۔
یاد رہے کہ ایرانی مذاکرات کاروں نے ثالثوں کے ساتھ ایک ایسی تجویز پر بات چیت کی تھی جس کے تحت امریکہ کی جانب سے اس کی سات شرائط پوری کیے جانے کے بعد دو دن کے اندر آبنائے ہرمز دوبارہ کھول دی جائے گی۔
امریکہ اور ایران جون میں جنگ کے خاتمے اور آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے کے لیے ایک ابتدائی معاہدے تک پہنچ گئے تھے،تاہم چند ہی ہفتوں بعد یہ معاہدہ اس وقت ناکام ہو گیا جب ایران کی جانب سے بحری جہازوں پر حملے دوبارہ شروع ہو گئے اور امریکہ نے اپنی ناکہ بندی بحال کر دی۔
'BBC News اردو' ایڈیشن کا انتخاب کریں اور نیوز الرٹس، تحقیقاتی اور تفصیلی رپورٹس، سب کچھ ایک ہی جگہ پر حاصل کریں۔
نوٹ: نئی ایپ برطانیہ اور امریکہ میں دستیاب نہیں ہے اور اس کا انگریزی زبان میں ایڈیشن موجود نہیں۔