بلوچستان: ہوٹلوں کو ایس او پیز کے تحت لاک ڈاؤن سے رعایت دینے کا مطالبہ

بلوچستان کے تاجر رہنماﺅں نے ہوٹلوں اور ریستورانوں کے اندر لوگوں کو بیٹھنے کی اجازت نہ دیے جانے کے خلاف 14 اور 15 جولائی کو احتجاجی دھرنے کا اعلان کیا ہے۔
کوئٹہ میں ایک مشترکہ پریس کانفرنس میں انجمن تاجران بلوچستان کے صدر رحیم آغا اور تاجر رہنما اللہ داد ترین نے کہا کہ کورونا وائرس کے سبب نافذ لاک ڈاؤن کے دوران دیگر تمام شعبوں میں رعایتیں دی گئیں لیکن ہوٹلوں اور ریستورانوں میں ابھی تک گاہکوں کو بٹھانے کی اجازت نہیں دی جارہی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اس سے ہوٹل اور ریسٹورینٹ مالکان شدید مالی مشکلات سے دوچار ہوگئے ہیں جبکہ سینکڑوں ملازمین اپنے روزگار سے محروم ہورہے ہیں۔
انھوں نے مطالبہ کیا کہ جب تک ایس او پیز کے تحت ریسٹورنٹس میں گاہکوں کو بیھٹنے کی اجازت نہیں دی جائے گی اس وقت تاجروں کے احتجاج کا سلسلہ جاری رہے گا۔
انہوں نے کہا کہ عید کے قریب آنے کے باعث دکانوں اور مارکیٹوں کے کھولنے کے اوقات میں توسیع کرکے اسے رات دس بجے تک بڑھایا جائے۔
ان کا کہنا تھا کہ رسیٹورنٹس مالکان سمیت تاجر برادری کو پولیس اور انتظامیہ کی جانب سے مبینہ طور پر تنگ کیا جارہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اب پولیس نے بغیر مجسٹریٹ کے دکانوں اور ریسٹورنٹس کو سیل کرنا شروع کردیا ہے جبکہ تاجروں کو گرفتار کرکے ہتھکڑیاں لگا کر عدالت میں پیش کیاجاتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ہم تاجروں کی عزت نفس کو مجروح ہونے نہیں دین گے۔
انھوں نے شادی ہالوں کو فوری طور پر کھولنے اور لاک ڈاون تاجروں کے خلاف عائد مقدمات ختم کرنے کا بھی مطالبہ کیا۔












