پاکستان میں نئی آٹو پالیسی: کن گاڑیوں کی قیمتوں میں لاکھوں روپے کی کمی ہو سکتی ہے؟

،تصویر کا ذریعہOmoda & Jaecoo PK/FACEBOOK
- مصنف, عمیر سلیمی
- عہدہ, بی بی سی اردو
- مصنف, تنویر مل
- عہدہ, صحافی
- وقت اشاعت
- مطالعے کا وقت: 8 منٹ
پاکستان میں نئی آٹو پالیسی کے اعلان نے اس شعبے میں ہلچل مچا دی ہے۔ یہ اعلان ایک ایسے وقت میں کیا گیا ہے کہ جب ملک میں چینی کمپنیوں کی الیکٹرک گاڑیوں کے یکے بعد دیگرے ماڈل متعارف کرائے جا رہے ہیں۔ اب ان کی قیمتوں میں لاکھوں روپے کی کمی ممکن ہو سکتی ہے۔
اس کی ایک مثال جیکو جے فائیو کی ہے جسے حال ہی میں متعارف کرایا گیا ہے اور سوشل میڈیا پر صارفین کی ایک بڑی تعداد اس پر اپنی رائے دیتی نظر آ رہی ہے۔ 49 کلو واٹ آور کی بیٹری والی اس الیکٹرک کار کی قیمت 59 لاکھ روپے سے شروع ہوتی ہے۔ ستمبر کے دوران چیری کیو متعارف کرائی گئی تھی جس میں 42.7 کلو واٹ آور کی بیٹری نصب ہے اور اس کی قیمت ساڑھے 55 لاکھ روپے سے شروع ہوتی ہے۔
اگر حکومت کی نئی آٹو پالیسی پر عملدرآمد شروع ہو گیا تو ان سمیت ایسی کئی الیکٹرک گاڑیوں کی قیمتیں کم ہو سکتی ہیں۔ مگر یاد رہے کہ ان تجاویز پر عملدرآمد عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی منظوری سے مشروط ہے۔
وزیراعظم کے مشیر برائے صنعت و پیداوار ہارون اختر خان نے سنیچر کے روز اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا کہ 50 ہزار ڈالر تک قیمت کی الیکٹرک گاڑیوں پر کیپیٹل ویلیو ٹیکس (سی وی ٹی)، ودہولڈنگ ٹیکس اور فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی عائد نہیں ہوگی۔ اس سے زیادہ قیمت کی الیکٹرک گاڑیوں کو لگژری اشیا تصور کیا جائے گا اور ان پر معمول کے مطابق ٹیکس عائد ہوں گے۔
دریں اثنا وزیر اعظم کی منظور کردہ اس پانچ سالہ آٹو پالیسی میں چھ ارب ڈالر ایکسپورٹ کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہChery PAKISTAN
نئی آٹو پالیسی: کن گاڑیوں پر خصوصی مراعات؟
پاکستانی حکومت نے ملک میں نئی آٹو پالیسی کا اعلان کیا ہے جس میں سستی گاڑیوں کی فراہمی اور الیکٹرک گاڑیوں (ای وی) کے فروغ پر خصوصی توجہ دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ حکومت الیکٹرک گاڑیوں کے لیے چارجنگ سٹیشنز کے قیام میں موجود مالی مشکلات کو دور کرنے کے لیے فنڈز فراہم کرے گی۔
وزیراعظم کے مشیر برائے صنعت و پیداوار ہارون اختر خان نے سنیچر کے روز اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا کہ نئی پالیسی کی تیاری کے حوالے سے کافی کام کیا گیا ہے اور وزیراعظم شہباز شریف نے اس میں خصوصی دلچسپی لی۔ کابینہ سے پالیسی کی منظوری کا عمل سنیچر کے روز سے شروع ہو گیا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انھوں نے بتایا کہ نئی آٹو پالیسی چھ بنیادی ستونوں پر مشتمل ہے، جن میں سستی گاڑیوں کی فراہمی، خصوصاً متوسط اور نچلے متوسط طبقے کے لیے سہولت، برآمدات کا فروغ، مقامی سطح پر پرزوں کی تیاری، گاڑیوں کا تحفظ، الیکٹرک گاڑیوں کا فروغ اور شفافیت شامل ہیں۔
ہارون اختر خان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم نے ٹیرف پالیسی متعارف کروائی ہے جس کا مقصد پیداواری لاگت اور خام مال کی درآمدات پر اٹھنے والے اخراجات کم کرنا ہے۔
انھوں نے کہا کہ اس پالیسی کے نتیجے میں گاڑیوں کی قیمتوں میں کمی آئے گی اور آٹو مینوفیکچررز کی پیداواری لاگت بھی کم ہو گی۔
'وزیراعظم کی واضح ہدایات ہیں کہ لگژری گاڑیوں کے علاوہ تمام گاڑیوں کی قیمتیں کم کی جائیں۔'
الیکٹرک گاڑیوں کے حوالے سے اہم مراعات کا اعلان کرتے ہوئے ہارون اختر خان کا کہنا تھا کہ تین مختلف اقسام کی گاڑیوں کے لیے سیلز ٹیکس کی شرحیں تجویز کی گئی ہیں۔
خالص الیکٹرک گاڑیوں پر ایک فیصد، رینج ایکسٹینڈڈ الیکٹرک وہیکلز (آر ای ای وی) پر چھ فیصد جبکہ ہائبرڈ الیکٹرک گاڑیوں پر نو فیصد سیلز ٹیکس عائد کرنے کی تجویز ہے۔
ہارون اختر خان نے وضاحت کی کہ آئی ایم ایف پروگرام کے باعث حکومت مراعات کے باوجود مجموعی محصولات کو متاثر نہیں ہونے دینا چاہتی۔ اس مقصد کے لیے ایک ہزار سی سی سے زیادہ انجن کی گنجائش والی روایتی پیٹرول گاڑیوں پر محصولات وصول کیے جائیں گے، جبکہ ایک ہزار سی سی سے چھوٹے انجن والی گاڑیاں استعمال کرنے والے کم اور متوسط آمدنی کے طبقات کو اس سے مستثنیٰ رکھا جائے گا۔
ہارون اختر خان کے مطابق سٹیٹ بینک آف پاکستان کے تحت عام گاڑیوں کے لیے دستیاب 30 لاکھ روپے تک کی فنانسنگ کی حد الیکٹرک گاڑیوں کے لیے بڑھا کر ایک کروڑ روپے کی جائے گی جبکہ قرض کی مدت تین سال سے بڑھا کر پانچ سال کر دی جائے گی۔
کن گاڑیوں کی قیمتیں کم ہو سکتی ہیں؟
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
آل پاکستان موٹرز ڈیلر ایسوسی ایشن کے چیئرمین ایس ایم شہزاد کی رائے میں الیکٹرک اور پلگ اِن ہائبرڈ گاڑیوں کے سوا کسی گاڑی کی قیمت میں بڑی کمی کی توقع نہیں اور وہ بھی اس شرط پر کہ اگر آئی ایم ایف کی طرف سے نئے سیلز ٹیکس سلیبز مان لیے جاتے ہیں۔
ادھر پاکستان ایسوسی ایشن آف آٹوموٹو پارٹس اینڈ ایکسیسریز مینوفیکچررز کے چیئرمین عبدالرحمن نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ پہلی بار گاڑی خریدنے والوں یا کم آمدنی والے صارفین کے لیے کوئی خصوصی مراعات نہیں دی گئیں۔ اس کے برعکس 'قرض کی حد اور واپسی کی مدت میں اضافہ صرف درآمد شدہ نیو انرجی وہیکلز (این ای وی) کے لیے کیا گیا ہے۔'
انھوں نے کہا سوزوکی آلٹو، سوئفٹ، ہنڈا سٹی اور ٹویوٹا یارس جیسی گاڑیوں کے خریداروں کے لیے 'قرض کی سہولت یا ٹیکس میں کوئی رعایت نہیں دی گئی۔'
ایچ ایم شہزاد بھی اس بات کی تائید کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ کم آمدنی والے افراد کے لیے اس پالیسی میں ایسی مراعات نہیں کہ وہ گاڑیاں خرید سکیں۔ 'ایسے افراد موٹر سائیکل ہی افورڈ کر سکتے ہیں۔'
تو پھر اس پالیسی سے کون سی کمپنیاں سب سے زیادہ فائدہ اٹھا سکتی ہیں اور سب سے زیادہ نقصان کن کمپنیوں کو ہو سکتا ہے؟

،تصویر کا ذریعہLightRocket via Getty Images
’چینی کمپنیوں کو فائدہ ہو گا‘
دو دہائیوں سے پاکستان کی مختلف آٹو کمپنیوں سے منسلک رہنے والے شبیر الدین کہتے ہیں کہ اس پالیسی سے سب سے زیادہ فائدہ چینی آٹو کمپنیوں کو ہوگا جن میں بی وائے ڈی، چیری اور جی اے سی شامل ہیں۔
وہ کہتے ہیں کہ اچھے معیار کی چھوٹی چینی الیکٹرک گاڑیوں کی قیمتیں ’سوزوکی آلٹو کے آس پاس آ سکتی ہیں۔‘ وہ مثال دیتے ہیں کہ سیلز ٹیکس اور کسٹم ڈیوٹی میں کمی کی بدولت چیری کیو کی قیمت 55 لاکھ سے کم ہو کر 42 لاکھ روپے ہو سکتی ہے۔ جبکہ جی اے سی کی آئیون یو ٹی کی قیمت 64 لاکھ سے کم ہو کر 50 لاکھ روپے پر آ جائے گی۔
وہ کہتے ہیں کہ اس پالیسی سے سب سے زیادہ نقصان تینوں جاپانی کمپنیوں سوزوکی، ہنڈا اور ٹویوٹا کو ہوگا۔ ان کے بقول ایک ماہ میں آلٹو، سوئفٹ، کلٹس، فرونکس، یارس اور سٹی کی مجموعی فروخت قریب 13 ہزار یونٹس کی ہوتی ہے۔ مگر اب چھوٹی الیکٹرک گاڑیاں کراچی اور لاہور جیسے بڑے شہروں میں ان کا مارکیٹ شیئر لے سکتی ہیں۔
آٹو مارکیٹ کے ماہر نبیل علی کہتے ہیں کہ یہ پاکستان میں نئے رجحان کی طرف اشارہ ہے کہ نئی گاڑیاں اپنی قدر کھو دیں گی اور ایک اثاثہ تصور نہیں ہوں گی جیسے کہ دنیا بھر میں ہوتا ہے۔ وہ بتاتے ہیں کہ کورین کمپنیوں کی گاڑیوں پر پہلے ہی لاکھوں روپے کے ڈسکاؤنٹس چل رہے ہیں جبکہ سازگار کی لگژری کار ٹینک کی قیمت چھ ماہ میں ہی تین سے چار ملین تک گِر چکی ہے۔
نبیل علی کا خیال ہے کہ پاکستان میں بی وائے ڈی، ہیول، چیری، چنگان سمیت ان چینی کمپنیوں کو فائدہ ہونے جا رہا ہے جن کے پاس الیکٹرک اور ریو گاڑیاں ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ جیکو پاکستان میں 15 ہزار یونٹس فروخت کر چکی ہے اور اب اس کی نئی الیکٹرک کار جیکو جے فائیو بھی متعارف کرائی جا چکی ہے۔

،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images
چارجنگ انفراسٹرکچر کا چیلنج
عبد الرحمن نے یہ اعتراض بھی اٹھایا ہے کہ اس پالیسی میں نئی آنے والی کمپنیوں کی آفٹر سیلز سروس کو بہتر بنانے کے لیے کوئی موثر قدم نہیں اٹھایا گیا۔ وہ کہتے ہیں کہ 'اب کوئی بھی شخص استعمال شدہ گاڑیاں درآمد کر کے فروخت کرسکتا ہے، جبکہ اس کے لیے اس بات کی کسی قسم کی ضمانت دینے کی ضرورت نہیں کہ درآمد کی جانے والی گاڑیوں کے سپیئر پارٹس اور مرمت کی سہولت دستیاب ہو گی۔'
ان کی رائے میں فی الحال نئی گاڑیوں کے کئی خریداروں کو سپیئر پارٹس اور بعد از فروخت سروس کے حصول میں مشکلات کا سامنا ہے۔ درآمد کنندگان کی جانب سے بہت زیادہ قیمتیں وصول کیے جانے کے باوجود مطلوبہ پرزے اور سروس دستیاب نہیں۔
انھوں نے کہا کہ این ای وی درآمد کنندگان کو صرف پانچ فیصد کسٹمز ڈیوٹی اور ایک فیصد سیلز ٹیکس پر گاڑیاں درآمد کرنے کی اجازت ہے، تاہم ان کی درآمدی اور بعد از فروخت سرگرمیوں پر حکومتی نگرانی کا مؤثر نظام موجود نہیں۔
ادھر نبیل علی کہتے ہیں کہ اگلے آنے والے برسوں میں لوگ استعمال شدہ الیکٹرک گاڑیاں ’اسی طرح لیں گے جیسے کہ وہ آئی فون خریدتے وقت بیٹری ہیلتھ دیکھتے ہیں۔‘
تاہم شبیر الدین اس تاثر کو رد کرتے ہیں کہ الیکٹرک گاڑیوں کی ریسیل کم ہو گی۔ وہ بتاتے ہیں کہ الیکٹرک گاڑیوں کی بیٹری ہیلتھ چارجنگ سائیکلز کی مدد سے دیکھی جاتی ہے۔ ’بیٹری تبدیل کرنے کی ضرورت اتنی ہی دیر بعد پڑے گی جتنی دیر تک آئس کار کا انجن چلتا ہے۔‘
ملک میں چارجنگ انفراسٹرکچر کے بارے میں شبیر کہتے ہیں کہ یہ سب سے بڑا چیلنج ہو گا۔ وہ کہتے ہیں کہ ریستورانوں، شاپنگ مالز اور دیگر کمرشل جگہوں پر چارجنگ پوائنٹس لگنے سے یہ مسئلہ حل ہو سکتا ہے۔
'BBC News اردو' ایڈیشن کا انتخاب کریں اور نیوز الرٹس، تحقیقاتی اور تفصیلی رپورٹس، سب کچھ ایک ہی جگہ پر حاصل کریں۔
نوٹ: نئی ایپ برطانیہ اور امریکہ میں دستیاب نہیں ہے اور اس کا انگریزی زبان میں ایڈیشن موجود نہیں۔




















