10 روپے کے ٹکٹ کا تنازع جو جان لیوا ثابت ہوا: ’مسافر خاتون نے چلتی بس سے نوجوان کنڈکٹر کو دھکا دے دیا‘

26 سالہ پراولیکا کی والدہ جلد ان کی شادی کرنے کا ارادہ رکھتی تھی۔
،تصویر کا کیپشن26 سالہ پراولیکا کی والدہ جلد ان کی شادی کرنے کا ارادہ رکھتی تھی
    • مصنف, پالا ستیش
    • عہدہ, بی بی سی نیوز ، تمل
  • وقت اشاعت
  • مطالعے کا وقت: 11 منٹ

’ڈی جی ایس آر ٹی سی (تلنگانہ سٹیٹ روڈ ٹرانسپورٹ کارپوریشن) کی بس میں سفر کرنے کا شکریہ۔ ڈی جی ایس آر ٹی سی نے آپ کے محفوظ سفر کو یقینی بنانے کے لیے مختلف اقدامات کیے ہیں۔ ہم اپنے کنڈکٹرز اور ڈرائیورز کو مسلسل تربیت دے رہے ہیں۔ محفوظ سفر کے لیے ہمیشہ آر ٹی سی بسوں کا انتخاب کریں۔ شکریہ۔‘

منوکور ورکشاپ سے تعلق رکھنے والی نوجوان کنڈکٹر پراولیکا کی جانب سے کیا گیا یہ اعلان حال ہی میں سوشل میڈیا پر بڑے پیمانے پر شیئر کیا گیا۔ لیکن وہ اب اس دنیا میں نہیں رہیں۔

گذشتہ ماہ کی 25 تاریخ کی ایک خاتون مسافر کے جانب سے دھکا دینے کے نتیجے میں بس سے گر جانے والی پراولیکا بالآخر تین نومبر کو دورانِ علاج وفات پا گئیں۔ یہ بات بی بی سی کو ان کی والدہ وجیا لکشمی نے بتائی۔

پراولیکا کے والد بھی آر ٹی سی میں ملازم تھے۔ تقریباً تین سال قبل وہ ڈیوٹی کے دوران وفات پا گئے تھے۔ پراولیکا کو ہمدردانہ بنیادوں پر ملازمت دینے کی سکیم کے تحت منوکور ورکشاپ میں آپریٹر کی نوکری ملی تھی۔ تاہم اب پراولیکا کی وفات کے بعد ان کی والدہ اکیلی رہ گئی ہیں۔

پراولیکا کی والدہ وجیا لکشمی نے اپنی بیٹی کو یاد کرتے ہوئے بتایا ’وہ اُس دن ڈیوٹی پر تھیں۔ وہ بھدراچلم جا رہی تھیں۔ گھر سے نکلتے وقت انھوں نے ناشتہ بھی نہیں کیا تھا۔

’میں نے اسے فون کر کے پوچھا ’کیا بس میں سوار ہونے سے پہلے تم نے کچھ کھایا نہیں؟‘ تو اس نے جواب دیا: ’امی، بس میں بہت رش ہے۔ جب ہم بھدراچلم بس سٹینڈ پہنچیں گے تو میں وہاں کچھ کھا لوں گی۔‘

وجیا لکشمی بتاتی ہیں کہ اس کے بعد وہ چرچ چلی گئی۔

’جب میں وہاں تھی تو مجھے فون آیا کہ آپ کی بیٹی کو معمولی چوٹ آئی ہے، گھبرائیں نہیں، بھدراچلم ہسپتال آ جائیں۔‘

وہ کہتی ہیں کہ جب وہ وہاں پہنچی تو انھیں بتایا گیا کہ ان کی بیٹی کی حالت ٹھیک نہیں اور اسے حیدرآباد منتقل کر دیا گیا۔

’وہ 10 دن تک انتہائی نگہداشت کے یونٹ میں زیرِ علاج رہی۔‘

پراولیکا کی والدہ وجیا لکشمی کے مطابق وہ 25 اکتوبر کو اس وقت بس سے گر گئی تھیں جب ایک خاتون مسافر نے انھیں دھکا دیا۔
،تصویر کا کیپشنپراولیکا کی والدہ وجیا لکشمی کے مطابق وہ 25 اکتوبر کو اس وقت بس سے گر گئی تھیں جب ایک خاتون مسافر نے انھیں دھکا دیا۔

’ایک بیٹی جس نے بخوشی اپنے والد کا پیشہ اپنایا‘

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

پراولیکا نے بی ایڈ کی ڈگری حاصل کر رکھی تھی۔ ان کی والدہ نے بی بی سی کو بتایا کہ چونکہ ان کے والد بھی آر ٹی سی میں ملازم تھے، اس لیے پراولیکا نے بھی وہی پیشہ اپنایا۔

وجیا لکشمی نے بتایا کہ ’اس نے بی ایڈ کے ساتھ ساتھ سافٹ ویئر کی تربیت بھی حاصل کی تھی۔ جس وقت اسے ملازمت شروع کرنی تھی، میرے شوہر کی طبیعت بہت خراب ہو گئی۔ وہ حیدرآباد کے تارناکا آر ٹی سی ہسپتال میں چھ ماہ تک زیرِ علاج رہے۔ میری بیٹی بھی ان کے ساتھ ہی رہتی تھی۔ ان کے گردے ناکارہ ہو گئے تھے اور بعد میں ان کی وفات ہو گئی۔ اس کے بعد ہمدردانہ بنیادوں پر یہ ملازمت میری بیٹی کو دی گئی۔ اس نے مجھ سے کہا: ’امی، یہ تو ابو کی نوکری ہے، میں یہ کام کروں گی۔‘

26 سالہ پراولیکا کی والدہ نے ان کی شادی کے متعلق بہت کچھ سوچ رکھا تھا۔

وجیا لکشمی کے مطابق پراولیکا کی ملازمت ابھی مستقل نہیں ہوئی تھی، وہ ملازمت مستقل ہونے کے بعد ہی شادی کرنا چہتی تھی۔

’اب اس کی ملازمت مستقل ہو چکی تھی، لیکن اس کے فوراً بعد یہ المناک واقعہ پیش آ گیا۔‘

پراولیکا اپنی والدہ وجیا لکشمی کے ساتھ منوکور میں رہتی تھیں۔ اب اس گھر میں وجیا لکشمی اکیلی رہ گئی ہیں۔ آر ٹی سی کے ملازمین ہی ان کا سہارا بنے ہوئے ہیں۔ ان کے قریبی رشتہ دار بھی آس پاس موجود نہیں ہیں۔ تدفین سمیت دیگر انتظامات بھی آر ٹی سی کے ملازمین نے ہی انجام دیے۔

وجیا لکشمی نے بی بی سی کو بتایا کہ اس واقعے کے بعد ڈی جی ایس آر ٹی سی نے انھیں ہر ممکن مدد فراہم کی۔

’ہم گھر میں صرف دو خواتین تھیں۔ جب ہم نے بتایا کہ ہسپتال میں ہماری مدد کرنے والا کوئی نہیں ہے تو انھوں نے کہا کہ وہ مدد کے لیے چار افراد بھیجیں گے۔ انھوں نے ہماری معاونت کے لیے چار ملازمین تعینات کیے۔ انھوں نے مجھ سے کہا: ’آپ اپنی بیٹی کے پاس رہیں، باہر کے تمام کام یہ لوگ سنبھال لیں گے۔‘ آر ٹی سی کے تمام حکام نے ہمارا بہت خیال رکھا۔‘

وجیا لکشمی کا کہنا ہے کہ 'آخر صرف بقایا رقم کے معاملے پر کسی کو اس طرح دھکا دینے کی کیا ضرورت تھی؟
،تصویر کا کیپشنوجیا لکشمی کا کہنا ہے کہ ’آخر صرف بقایا رقم کے معاملے پر کسی کو اس طرح دھکا دینے کی کیا ضرورت تھی؟

’وہ خاتون کرایے کے بقایہ پیسوں کو لے کر مسلسل جھگڑا کر رہی تھی‘

بس میں کیا ہوا تھا، اس متعلق نے وجیا لکشمی نے بی بی سی کو وہ باتیں بتائیں جو پراولیکا نے انھیں خود بتائی تھیں۔

وجیا لکشمی کا کہنا ہے کہ ’آخر صرف بقایا رقم کے معاملے پر کسی کو اس طرح دھکا دینے کی کیا ضرورت تھی؟ منوکور بس سٹینڈ سے بس میں سوار ہونے کے بعد سے ہی وہ خاتون بار بار بقایا رقم مانگ رہی تھیں۔ میری بیٹی نے اپنا پیسوں والا بیگ دکھا کر انھیں سمجھایا تھا کہ اس وقت اس کے پاس کھلے پیسے نہیں۔

ان کے مطابق پراولیکا نے مسافر خاتون سے ’آپ نے 10 روپے کے ٹکٹ کے لیے 100 روپے دیے ہیں۔ ابھی میرے پاس بقایا رقم نہیں ہے، میں دوسرے مسافروں کو ٹکٹ دے رہی ہوں۔ جب آپ اتریں گی تو میں آپ کو بقایا رقم دے دوں گی۔‘

تاہم وجیا لکشمی کے مطابق ان کی بیٹی نے انھیں بتایا کہ وہ خاتون بس میں سوار ہونے کے بعد سے مسلسل بحث کر رہی تھیں۔

’انھوں نے میری بیٹی کو برا بھلا کہا اور بددعائیں بھی دیں۔ میری بیٹی نے بعد میں مجھ سے کہا تھا: کوئی بات نہیں امی، میں نے سوچا کہ خدا خود سب دیکھ رہا ہے۔‘

وجیا لکشمی کا دعویٰ ہے کہ ان کی بیٹی جانب سے بقیہ رقم کی واپسی کی یاد دہانی کے باوجود وہ خاتون دھمکی دینے لگیں کہ اگر ابھی بقایا رقم نہ دی گئی تو وہ چلتی بس سے اتر جائیں گی۔

وہ بتاتی ہیں کہ ان کی بیٹی کے مطابق ’جب مسافر خاتون نے کہا کہ وہ اتر رہی ہیں تو میں نے انھیں ہاتھ سے روکنے کی کوشش کی۔ میں نے کہا کہ ایسا نہ کریں، اگر کوئی حادثہ ہو گیا تو میری نوکری چلی جائے گی۔ اس پر انھوں نے کہا: ’مجھے روکنے والی تم کون ہوتی ہو؟‘ اور پھر دونوں ہاتھوں سے مجھے دھکا دے دیا۔

وجیا لکشمی کے بقول پراولیکا نے بتایا کہ ’میرے ایک ہاتھ میں میرے ٹکٹ مشین تھی اور دوسرے ہاتھ سے میں راڈ پکڑے ہوئے تھی۔ میں نیچے گر گئی تھی، امی۔‘

وہ کہتی ہیں کہ ان کی بیٹی نے یہ بات روتے روتے بتائی تھی۔

وجیا لکشمی نے مطالبہ کیا کہ ’اس خاتون کو سخت سزا ملنی چاہیے۔ اس کے علاوہ اب میری کوئی اور خواہش نہیں ہے۔‘

پراولیکا کی والدہ نے بی بی سی کو بتایا کہ چونکہ ان کے والد بھی آر ٹی سی میں ملازم تھے، اس لیے پراولیکا نے بھی وہی پیشہ اپنایا
،تصویر کا کیپشنپراولیکا کی والدہ نے بی بی سی کو بتایا کہ چونکہ ان کے والد بھی آر ٹی سی میں ملازم تھے، اس لیے پراولیکا نے بھی وہی پیشہ اپنایا

جھگڑا کیسے شروع ہوا؟

پراوالیکا کے ساتھی ملازمین کے مطابق، 25 اکتوبر کی صبح جب وہ خاتون بس میں سوار ہوئیں تو انھوں نے بتایا کہ انھیں مِٹّاگوڈیم کے قریب اترنا ہے اور اپنے بیٹے کے لیے ٹکٹ خریدا۔ سرکاری مفت سفری منصوبے کے تحت ان کا اپنا سفر مفت تھا، اس لیے انھوں نے اپنے لیے ٹکٹ نہیں لیا۔

آر ٹی سی کے ملازمین کا دعویٰ ہے کہ ’10 روپے کے ٹکٹ کے لیے جب انھوں نے 100 روپے کا نوٹ دیا تو کنڈکٹر نے کہا کہ اس کے پاس کھلے پیسے نہیں۔ اس پر دونوں کے درمیان تکرار شروع ہو گئی۔ پراوالیکا نے کہا کہ دوسرے مسافروں کو ٹکٹ جاری کرنے اور کرایہ وصول کرنے کے بعد وہ بقایا رقم واپس کر دیں گی۔ لیکن خاتون نے انتظار کرنے سے انکار کر دیا اور اصرار کیا کہ انھیں فوراً کھلے پیسے دیے جائیں۔‘

کہا جاتا ہے کہ بس میں سوار دیگر مسافروں نے خاتون کو سمجھانے کی کوشش کی، لیکن وہ نامناسب الفاظ کا استعمال کرتی رہیں۔ پراوالیکا نے خاتون سے کہا کہ اگر ممکن ہو تو وہ خود ہی کھلے پیسے دے دیں، لیکن انھوں نے انکار کر دیا۔ بتایا جاتا ہے کہ اس بحث کے دوران خاتون نے دیگر مسافروں کو بھی برا بھلا کہا۔

ملازمین کے مطابق جب تنازع بڑھ گیا تو کنڈکٹر نے کہا کہ بس کو پولیس سٹیشن لے جایا جائے جس پر خاتون مسافر نے گھبرا کر کہا کہ وہ چلتی بس سے اتر جائیں گی اور دروازے کی طرف بڑھ گئیں۔

پراولیکا کو خدشہ ہوا کہ کہیں وہ خاتون چلتی بس سے چھلانگ نہ لگا دیں، اس وہ انھیں روکنے کے لیے قریب گئیں۔ بتایا جاتا ہے کہ خود کو اترنے سے روکے جانے پر خاتون مسافر نے مبینہ طور پر کنڈکٹر کو چلتی بس سے دھکا دے دیا۔

سڑک پر گرنے والی پراوالیکا کی ٹانگوں پر بس کے پہیے چڑھ گئے۔ یہ واقعہ ضلع بھدرادری کوتھاگوڈیم میں اشواپورم پولیس سٹیشن کی حدود میں پیش آیا۔

واقعے کے بعد پولیس نے مقدمہ درج کر کے مسافر خاتون مونیکا کو گرفتار کر لیا۔

پراوالیکا کی وفات کے بعد پولیس نے مونیکا کے خلاف پہلے درج کیے گئے اقدامِ قتل کے مقدمے کو قتل کے مقدمے میں تبدیل کر دیا۔
،تصویر کا کیپشنپراوالیکا کی وفات کے بعد پولیس نے مونیکا کے خلاف پہلے درج کیے گئے اقدامِ قتل کے مقدمے کو قتل کے مقدمے میں تبدیل کر دیا۔

’ملزمہ کا جارحانہ رویہ‘

پراوالیکا کے ساتھی ملازمین نے بی بی سی کو بتایا کہ ملزمہ مونیکا اکثر اس روٹ پر سفر کرتی تھیں، اس لیے مقامی بس کنڈکٹر انھیں جانتے تھے۔

انھوں نے الزام عائد کیا کہ ماضی میں بھی وہ بعض دیگر کنڈکٹروں کے ساتھ بدتمیز رویہ اختیار کر چکی تھیں۔ تاہم، چونکہ ملزمہ پولیس کی حراست میں ہیں، اس لیے بی بی سی اس واقعے کے بارے میں ان کا مؤقف حاصل نہیں کر سکا۔

بی بی سی نے ان کے والد اور خاندان کے دو دیگر افراد سے بھی رابطہ کیا، لیکن انھوں نے بات کرنے سے انکار کر دیا۔

پراوالیکا کی وفات کے بعد پولیس نے ملزمہ کے خلاف پہلے درج کیے گئے اقدامِ قتل کے مقدمے کو قتل کے مقدمے میں تبدیل کر دیا۔

پراوالیکا کی موت کے خلاف منوگورو ڈپو کے ملازمین نے ایک روزہ ہڑتال کی۔
،تصویر کا کیپشنپراوالیکا کی موت کے خلاف منوگورو ڈپو کے ملازمین نے ایک روزہ ہڑتال کی۔

’مسافروں کو سوچنا چاہیے کہ اگر کنڈکٹر ان کا اپنا ہوتا تو وہ اس سے کیسے پیش آتے‘

منوگورو ڈپو کے ملازمین کی یونین کے سیکریٹری اور پراوالیکا کے ساتھی کنڈکٹر پون کمار نے بی بی سی کو بتایا کہ ’وہ اپنے کام کے حوالے سے بہت ذمہ دار تھیں۔ انھیں جو بھی کام سونپا جاتا، چاہے وہ کتنا ہی مشکل کیوں نہ ہو، وہ اسے انجام دیتی تھیں۔ انھوں نے کبھی یہ شکایت نہیں کی کہ یہ کام نہیں کرنا۔ ان کا خیال تھا کہ ہر طرح کا کام کرنا چاہیے۔ وہ پوری محنت اور لگن کے ساتھ اپنی ذمہ داریاں نبھاتی تھیں۔‘

پون کمار کا مزید کہنا تھا کہ پراوالیکا کی ٹانگوں پر ہی چوٹیں آئی تھیں، لیکن چونکہ بس کے ٹائر ان پر چڑھ گئے تھے، اس لیے زخم انتہائی سنگین تھے۔

وہ بتاتے ہیں کہ پراولیکا کی جسمانی حالت اس قابل نہیں تھی کہ وہ علاج برداشت کر پاتیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ڈاکٹروں کے مطابق بلڈ پریشر کم ہونے کی وجہ سے آپریشن کی صورت میں پراولیکا کو بہت زیادہ خطرہ تھا اور بالآخر ان کی وفات ہو گئی۔

پراوالیکا کی موت کے خلاف منوگورو ڈپو کے ملازمین نے ایک روزہ ہڑتال کی۔ ضلع کھمم کے مختلف ڈپوؤں کے باہر بھی احتجاج کیا گیا جبکہ بس سروسز بھی معطل رہیں۔ آر ٹی سی مزدور یونینوں کا کہنا ہے کہ فیلڈ میں کام کرنے والے کنڈکٹرز، خصوصاً خواتین کنڈکٹرز، کو مختلف سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

پون کمار کے مطابق ’اگر 45 سے 50 مسافروں کی گنجائش والی بس میں 100 افراد سوار ہو جائیں تو کئی مسائل پیدا ہو جاتے ہیں۔ اگر ایک بھی ٹکٹ جاری نہ ہو سکے تو کنڈکٹر کی ملازمت کو خطرہ ہو سکتا ہے۔ شدید رش میں مسافروں کے درمیان سے گزر کر ٹکٹ دینا بھی ایک چیلنج ہے۔ خواتین کو اس میں اضافی دشواریوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ مرد کنڈکٹروں کے لیے بھی خواتین کے ہجوم میں آنا جانا آسان نہیں ہوتا۔‘

ٹرانسپورٹ وزیر پونم پربھاکر نے پراولیکا کی والدہ سے تعزیت کی۔
،تصویر کا کیپشنٹرانسپورٹ وزیر پونم پربھاکر نے پراولیکا کی والدہ سے تعزیت کی۔

’مسافروں کو سوچنا چاہیے کہ اگر کنڈکٹر ان کے اپنے خاندان کا فرد ہوتا تو وہ اس کے ساتھ کیسا برتاؤ کرتے۔ اگر کھلے پیسوں کی ضرورت ہو تو کنڈکٹر سے کہا جا سکتا ہے کہ وہ قریبی دکان سے نوٹ تڑوا لے، یا پھر کھلے پیسے ملنے تک انتظار کیا جا سکتا ہے۔ بحث و تکرار کرنے سے آخر کیا حاصل ہو گا؟‘

تلنگانہ حکومت نے اعلان کیا ہے کہ پراوالیکا کے خاندان کو 10 لاکھ روپے بطور معاوضہ دیے جائیں گے۔ آر ٹی سی انتظامیہ کے مطابق ملازمین کی انشورنس سکیم کے تحت ایک کروڑ روپے بھی فراہم کیے جائیں گے، جبکہ ان کی والدہ کو ہمدردی کی بنیاد پر ملازمت دی جائے گی۔

ریاست کی وزیرِ ٹرانسپورٹ پونم پربھاکر نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا \آئندہ ایسے واقعات نہیں ہونے چاہییں۔ اگر ہمارے کسی ملازم کا رویہ کہیں نامناسب ہو تو اعلیٰ حکام کو شکایت کریں، ہم کارروائی کریں گے۔ لیکن اس طرح کے تصادم کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ آج ایک خاندان سہارا کھو بیٹھا ہے۔ً

'BBC News اردو' ایڈیشن کا انتخاب کریں اور نیوز الرٹس، تحقیقاتی اور تفصیلی رپورٹس، سب کچھ ایک ہی جگہ پر حاصل کریں۔

نوٹ: نئی ایپ برطانیہ اور امریکہ میں دستیاب نہیں ہے اور اس کا انگریزی زبان میں ایڈیشن موجود نہیں۔