الرجی کی دوا سے اندام نہانی تنگ کرنے اور جنسی لذت بڑھانے کے وائرل رجحان پر ماہرین کا انتباہ

سٹریزین
،تصویر کا کیپشنسٹریزین نامی دوا الرجی کے علاج کے لیے استعمال کی جاتی ہے
    • مصنف, وائکلف موئیا
    • مقام, نیروبی
  • وقت اشاعت
  • مطالعے کا وقت: 4 منٹ

کینیا کے ماہرینِ ادویات (فارماسسٹس) نے خواتین کو خبردار کیا ہے کہ وہ اندام نہانی (وجائنا) کو تنگ (یعنی ٹائٹ) کرنے کی کوشش میں الرجی کی گولیاں اندام نہانی میں داخل نہ کریں۔

یہ انتباہ سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی ایسی کئی پوسٹوں کے بعد جاری کیا گیا ہے جن میں سٹریزین (الرجی کے علاج کی ایک عام دوا) کے بارے میں دعوے کیے گئے ہیں کہ اگر اس گولی کو اندام نہانی میں رکھا جائے تو اس سے ناصرف وجائٹا تنگ ہوتی ہے بلکہ جنسی لذت بھی بڑھتی ہے۔

یاد رہے کہ الرجی کی اینٹی ہسٹامین ادویات کے ذیلی اثرات کے تحت بعض اوقات خشکی (ڈرائینیس) ہو سکتی ہے، لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ اس بات کے کوئی شواہد نہیں ہیں کہ اس سے اندام نہانی کے عضلات مضبوط ہوتے ہیں۔

فارماسیوٹیکل سوسائٹی آف کینیا (پی ایس کے) نے کہا: ’خشکی، تنگی نہیں ہوتی۔۔۔ بلکہ اس سے رگڑ لگنے، تکلیف اور ٹشوز کے زخمی ہونے کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔‘

ادارے نے مزید کہا: ’جو گولیاں منہ سے کھائی جاتی ہیں، انھیں اندام نہانی میں داخل کرنا غیر محفوظ ہے۔ الرجی کی عام دستیاب دوا سٹریزین کی گولیاں نِگلنے کے لیے بنائی گئی ہیں۔ اُن کے اجزا کو اندام نہانی کے نازک ٹشوز (بافتوں) پر کبھی نہیں آزمایا گیا۔‘

سٹریزین عام طور پر چھینکوں، ناک کے بہنے، آنکھوں اور جلد کی خارش جیسی الرجی کے علاج کے لیے استعمال کی جاتی ہے۔

کینیا میں یہ تنازع اس ہفتے کے آغاز میں اُس وقت شروع ہوا جب ٹک ٹاک پر ایسی پوسٹیں گردش کرنے لگیں جن میں دعویٰ کیا گیا کہ سٹریزین اندام نہانی میں موجود قدرتی نمی کو کم کر سکتی ہے اور سیکس کے دوران تنگی (ٹائٹنیس) کا احساس پیدا کر سکتی ہے۔

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

اس کے بعد وسیع بحث چھڑ گئی، جہاں بعض صارفین نے اس عمل کی حمایت کی جبکہ دیگر نے سوال اٹھائے کہ کیا یہ محفوظ ہے؟

مقامی میڈیا میں یہ اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں کہ اس صورتحال کے باعث مارکیٹ میں اس دوا کی قیمت میں اضافہ ہوا ہے اور کچھ فارمیسیوں، خصوصاً دار الحکومت نیروبی میں، اس کی طلب بڑھ گئی ہے۔

پی ایس کے، جو کینیا میں فارماسسٹوں کی نمائندہ تنظیم ہے، نے جمعرات کو جاری ایک بیان میں کہا کہ ’سٹریزین الرجی کی دوا ہے جو منہ کے ذریعے لی جاتی ہے۔ اس کا استعمال کسی بھی اور مقصد کے لیے منظور نہیں کیا گیا، اور نہ ہی آزمایا گیا۔ اور یہ اندام نہانی میں استعمال کے لیے تو یقیناً نہیں ہے۔‘

ادارے نے مشورہ دیا کہ ’اگر آپ پہلے ہی اس دوا کو اس مقصد کے لیے استعمال کر رہے ہیں تو فوراً اس کا استعمال ترک کر دیں، اور ڈاکٹر سے رجوع کریں۔‘

سوسائٹی نے سوشل میڈیا پر اثر و رسوخ رکھنے والوں (انفلوئنسرز) اور مواد تخلیق کرنے والوں (کانٹینٹ کری ایٹرز) پر بھی زور دیا کہ وہ صحت سے متعلق معلومات شیئر کرتے وقت احتیاط برتیں، کیونکہ غیر مصدقہ دعوے لوگوں کی صحت کو خطرے میں ڈال سکتے ہیں۔

کینیا کی وزارتِ صحت نے بھی اس رجحان پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

محکمہ صحت کے ایک سینیئر عہدیدار اوما اولوگا نے کہا کہ سوشل میڈیا کے بعض صارفین ماہرین کے طبی مشوروں کو مذاق کے طور پر لے رہے ہیں اور ان کے ممکنہ نتائج پر غور نہیں کر رہے۔

انھوں نے تجویز دی کہ حکام ادویات کی تقسیم اور خریداری کی نگرانی کے لیے ایک نظام متعارف کرا سکتے ہیں تاکہ کسی بھی دوا کے ممکنہ غلط استعمال کی نشاندہی کی جا سکے۔

تاہم ایسی کسی تجویز کے بارے میں ابھی تک کوئی باضابطہ حکومتی فیصلہ سامنے نہیں آیا ہے۔

پی ایس کے نے کہا کہ وہ سٹریزین کی بڑھتی ہوئی طلب، قیمتوں میں اضافے اور بعض فارمیسیوں میں قلت کی اطلاعات سے آگاہ ہے۔

ادارے نے یہ دوا فروخت کرنے والوں پر زور دیا کہ وہ اس رجحان سے ناجائز فائدہ نہ اٹھائیں، اور خبردار کیا کہ درپیش صورتحال کے باعث جن لوگوں کو واقعی الرجی کے علاج کے لیے اس دوا کی ضرورت ہے انھیں اسے حاصل کرنے میں دشواری پیش آ سکتی ہے۔

سوسائٹی نے اپنے اراکین سے کہا کہ وہ جان بوجھ کر ایسی ادویات فراہم نہ کریں جن کا غلط استعمال کیا جا سکتا ہو، اور اگر کسی دوا کا غلط استعمال ہوا ہو تو اس کے مضر اثرات صحت کے حکام کو رپورٹ کریں۔

پی ایس کے نے اپنا بیان اس بات پر ختم کیا کہ غیر مصدقہ آن لائن رجحانات کو کبھی بھی ماہرین کی رائے پر فوقیت نہیں دینی چاہیے۔

بیان میں کہا گیا کہ جو دوا جس مقصد کے لیے بنائی گئی ہے، اس سے ہٹ کر کسی اور مقصد کے لیے استعمال کرنے سے پہلے فارماسسٹ سے ضرور پوچھیں۔

پی ایس کے کا کہنا تھا: ’طبی مشورے کے لیے سوشل میڈیا پر انحصار نہ کریں۔‘

'BBC News اردو' ایڈیشن کا انتخاب کریں اور نیوز الرٹس، تحقیقاتی اور تفصیلی رپورٹس، سب کچھ ایک ہی جگہ پر حاصل کریں۔

نوٹ: نئی ایپ برطانیہ اور امریکہ میں دستیاب نہیں ہے اور اس کا انگریزی زبان میں ایڈیشن موجود نہیں۔