کیا 13 نومبر 2026 کو دنیا ختم ہو جائے گی؟ پرانی پیش گوئی ایک بار پھر زیرِ بحث کیوں؟

سورج کی تصویر
،تصویر کا کیپشنمحققین نے کئی دہائیاں قبل نسلِ انسانی کے خاتمے کی پیش گوئی کی تھی (علامتی تصویر)
    • مصنف, مجدی القسوس
    • عہدہ, بی بی سی نیوز عربی
  • وقت اشاعت
  • مطالعے کا وقت: 10 منٹ

13 نومبر 2026، جمعہ۔ اس تاریخ کے قریب آتے ہی سوشل میڈیا اور بعض میڈیا اداروں میں ایک بار پھر ’دنیا کے خاتمے‘ سے متعلق دعوے گردش کر رہے ہیں۔ ان دعوؤں کی بنیاد 66 برس قبل شائع ہونے والی ایک سائنسی تحقیق ہے، جس میں دنیا کی آبادی میں اضافے کے رجحان کا جائزہ لیا گیا تھا۔

یہ تحقیق چار نومبر 1960 کو امریکی سائنسی جریدے ’سائنس‘ میں تین محققین نے شائع کی تھی۔ اس کا عنوان ’Doomsday: Friday, 13 November, A.D. 2026‘ تھا۔

تحقیق میں محققین نے دعویٰ کیا تھا کہ اگر دُنیا کی آبادی صدیوں سے جاری اسی رفتار سے بڑھتی رہی، تو نومبر 2026 تک انسانوں کی تعداد ایک ایسے مقام پر پہنچ جائے گی جسے ریاضی کی زبان میں ’لامحدود‘ یا ’ان گنت‘ کہا جا سکتا ہے۔ یہ دراصل ایک فرضی ریاضیاتی نتیجہ تھا، نہ کہ کسی حقیقی آبادی یا تباہی کی پیش گوئی۔

لیکن کیا محققین واقعی نسلِ انسانی کے خاتمے سے خبردار کر رہے تھے؟ کیا 13 نومبر 2026 کی کوئی سائنسی یا فلکیاتی اہمیت ہے جو زمین پر کسی عالمی آفت یا زندگی کے خاتمے کی نشاندہی کرتی ہو؟ یا پھر یہ ایک قدیم ریاضیاتی ماڈل کی ایسی تشریح ہے جو وقت گزرنے کے ساتھ غلط فہمی کا شکار ہو گئی؟

یہ کہانی کہاں سے شروع ہوئی؟

مصری اخبار میں مشیل تکلا کا مضمون
،تصویر کا کیپشنمصری اخبار ’وطنی‘ میں مشیل تکلا کا مضمون

آسٹریا میں پیدا ہونے والے امریکی ماہرِ طبیعیات ہائنس فان فورسٹر نے اپنے دو ساتھی محققین پیٹریشیا مورا اور لارنس ایمیاٹ کے ساتھ مل کر یہ تحقیق کی تھی۔ تینوں اس وقت امریکہ کی یونیورسٹی آف الینوائے کے شعبۂ الیکٹریکل انجینیئرنگ سے وابستہ تھے۔

تحقیق کے لیے محققین نے دنیا کی آبادی سے متعلق تاریخی تخمینوں کا جائزہ لیا، جن میں عیسوی سن کے آغاز سے لے کر 1958 تک کے 24 مختلف اندازے شامل تھے۔ ان اعداد و شمار کی مدد سے انھوں نے یہ سمجھنے کی کوشش کی کہ انسانی آبادی وقت کے ساتھ کس رفتار سے بڑھتی رہی ہے۔

محققین نے یہ فرض نہیں کیا کہ آبادی ایک مقررہ شرح سے بڑھتی ہے۔ اس کے بجائے انھوں نے ایک ایسا ریاضیاتی ماڈل پیش کیا جو ہائپربولک گروتھ یعنی ایسی آبادی میں اضافے کے تصور پر مبنی تھا جس میں نہ صرف آبادی بڑھتی ہے بلکہ وقت گزرنے کے ساتھ اس کی رفتار بھی تیز ہوتی جاتی ہے۔

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

اس ماڈل کے مطابق انسانوں کی باہمی تعاون، معلومات کے تبادلے اور اجتماعی مسائل حل کرنے کی صلاحیت انھیں ماحول کی بعض رکاوٹوں پر قابو پانے میں مدد دیتی ہے۔ نتیجتاً ان کی بقا اور افزائشِ نسل کے امکانات میں اضافہ ہوتا ہے، جو آبادی میں مزید تیزی سے اضافے کا باعث بنتا ہے۔

جب اس ریاضیاتی مساوات کو تاریخی اعداد و شمار میں ڈھالا گیا تو محققین اس نتیجے پر پہنچے کہ ان کا ماڈل نومبر 2026 کے وسط میں ایک ایسے مقام تک پہنچتا ہے جسے ریاضی اور طبیعیات میں ’سنگولیریٹی‘ کہا جاتا ہے۔ اسی وجہ سے انھوں نے اپنی تحقیق کے عنوان میں 13 نومبر 2026 کی تاریخ شامل کی تھی۔ ماڈل کے مطابق یہ وہ لمحہ تھا جب آبادی نظریاتی طور پر ’ان گنت‘ ہو جاتی۔

تاہم پہلی نظر میں سنسنی خیز محسوس ہونے والے اس عنوان کا مطلب ہرگز یہ نہیں تھا کہ محققین دنیا کے خاتمے کی پیش گوئی کر رہے تھے۔ انھوں نے نہ کسی شہابیے کے زمین سے ٹکرانے کا ذکر کیا، نہ سورج کے پھٹنے کا، اور نہ ہی کسی عظیم زلزلے، آتش فشاں یا دوسری قدرتی آفت کے ذریعے نسلِ انسانی کے خاتمے کی تاریخ مقرر کی تھی۔

درحقیقت ’یومِ قیامت‘ کی اصطلاح ایک ایسے خیالی ریاضیاتی نکتے کی وضاحت کے لیے استعمال کی گئی تھی جہاں ماڈل کے مطابق آبادی لامحدود ہو جاتی ہے۔ حقیقی دنیا میں ایسا ہونا ممکن نہیں۔

دوسرے الفاظ میں، ’لامحدود آبادی‘ سے مراد زمین پر واقعی بے شمار انسانوں کا موجود ہونا نہیں تھا، بلکہ یہ اس حقیقت کی نشاندہی تھی کہ اگر کسی ریاضیاتی ماڈل کو بہت دور کے مستقبل تک بغیر کسی تبدیلی کے نافذ کیا جائے تو وہ ایک ایسے غیرحقیقی نتیجے تک پہنچ سکتا ہے جہاں اس کی پیش گوئیاں قابلِ اعتماد نہیں رہتیں۔

خود محققین بھی اس حد سے واقف تھے۔ انھوں نے تسلیم کیا تھا کہ ماحول، وسائل، خوراک، بیماریوں اور دیگر سماجی و حیاتیاتی عوامل کو نظر انداز کر کے آبادی کے مستقبل کا درست اندازہ نہیں لگایا جا سکتا۔ یہی عوامل شرحِ پیدائش اور شرحِ اموات پر اثر انداز ہوتے ہیں اور آبادی میں اضافے کے رجحان کو کسی بھی وقت تبدیل کر سکتے ہیں۔

1964 میں شائع ہونے والے مشیل تکلا کے مضمون کا اس سے کیا تعلق ہے؟

خلا میں اسپیس واک کرتا ہوا ایک خلانورد
،تصویر کا کیپشن13 نومبر 2026 والی تحقیق 1960 میں فان فورسٹر اور ان کے دو ساتھیوں نے شائع کی تھی

مصری اخبار ’وطنی‘ نے حال ہی میں 29 نومبر 1964 کی ایک پرانا اخباری تراشہ دوبارہ شائع کیا، جس میں 13 نومبر 2026 کو دنیا کے خاتمے کا ذکر کیا گیا تھا۔

اس مضمون پر مصری صحافی اور مصنف مشیل تکلا کا نام درج ہے۔ بعد ازاں مصر کے بعض دیگر میڈیا اداروں اور سوشل میڈیا صارفین نے بھی اس تراشے کی تصاویر شیئر کیں، جس کے نتیجے میں چھ دہائیوں پرانی یہ کہانی دوبارہ توجہ کا مرکز بن گئی۔

تاہم اس معاملے میں اخباری مضمون اور اصل سائنسی تحقیق کے درمیان فرق کرنا ضروری ہے۔

13 نومبر 2026 سے منسوب معروف سائنسی تحقیق 1960 میں آسٹریا نژاد امریکی ماہرِ طبیعیات ہائنس فان فورسٹر اور ان کے دو ساتھیوں پیٹریشیا مورا اور لارنس ایمیاٹ نے شائع کی تھی، نہ کہ مشیل تکلا نے۔ چنانچہ تکلا کے مضمون کو براہِ راست اس تحقیق کا اصل ماخذ یا اس کا متبادل سمجھنا درست نہیں ہوگا۔

مزید یہ کہ حالیہ برسوں میں تکلا کے مضمون کے مندرجات کے بارے میں مختلف اور بعض اوقات متضاد دعوے بھی سامنے آئے ہیں۔ بعض رپورٹس اسے آبادی میں اضافے سے متعلق فان فورسٹر کی تحقیق سے جوڑتی ہیں، جبکہ دیگر میں شمسی سرگرمیوں، ماحولیاتی تبدیلی، قدرتی آفات یا دیگر تباہ کن منظرناموں کا حوالہ دیا جاتا ہے۔

اسی لیے ان تمام دعوؤں کو ایک ہی سائنسی نظریے کا حصہ سمجھنا یا انھیں براہِ راست فان فورسٹر کی تحقیق کے نتائج قرار دینا درست نہیں۔ جب تک مشیل تکلا کے اصل مضمون کا مکمل متن اور اس کے دلائل دستیاب نہ ہوں، اس کے مندرجات کا 1960 کی سائنسی تحقیق کے ساتھ درست تقابل ممکن نہیں۔

مختصراً، آج سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی کئی دعوے دار کہانیاں مختلف ذرائع، تشریحات اور مفروضوں کا امتزاج معلوم ہوتی ہیں، جبکہ اصل سائنسی تحقیق محض آبادی میں اضافے کے ایک ریاضیاتی ماڈل پر مبنی تھی اور اس میں کسی عالمی تباہی یا نسلِ انسانی کے خاتمے کی پیش گوئی نہیں کی گئی تھی۔

’شمسی سرگرمی‘

سورج کا ایک قریبی منظر
،تصویر کا کیپشنشمسی سرگرمی قدرتی مظاہر پر اثر انداز ہوتی ہے (علامتی تصویر)

مشیل تکلا کے مضمون سے متعلق بعض میڈیا رپورٹس میں یہ دعویٰ بھی کیا گیا ہے کہ 13 نومبر 2026 کو غیر معمولی شمسی سرگرمی رونما ہو سکتی ہے، جس کے نتیجے میں مقناطیسی میدان میں بے ترتیبی، مواصلاتی نظام میں خلل یا حتیٰ کہ قدرتی آفات جنم لینے کا خدشہ پیدا ہو سکتا ہے۔

تاہم حقیقی شمسی طوفانوں اور کسی مخصوص تاریخ پر عالمی تباہی سے متعلق دعوؤں کے درمیان فرق کرنا ضروری ہے۔

شمسی سرگرمی ایک معروف اور مسلسل مطالعے کے تحت رہنے والا قدرتی مظہر ہے۔ سورج تقریباً 11 سالہ چکروں سے گزرتا ہے جن کے دوران اس کی سرگرمی کی شدت میں کمی بیشی آتی رہتی ہے۔ ان ادوار میں بعض اوقات شمسی شعلے اور کورونل ماس ایجیکشنز خارج ہوتے ہیں، جو زمین کے مقناطیسی میدان پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔

شدید شمسی طوفانوں کے نتیجے میں مواصلاتی نظام، سیٹلائٹ سروسز، جی پی ایس اور دیگر نیویگیشن نظاموں میں عارضی خلل پیدا ہو سکتا ہے۔ بعض صورتوں میں بجلی کی ترسیل کے نظام بھی متاثر ہو سکتے ہیں۔

تاہم سائنس دانوں کے نزدیک ایسے خطرات کا یہ مطلب نہیں کہ سورج کسی مخصوص دن زمین کو تباہ کر دے گا یا انسانی زندگی کا خاتمہ ہو جائے گا۔ شمسی طوفانوں کی شدت اور ان کے اثرات کا اندازہ تو لگایا جا سکتا ہے، لیکن کسی ایک تاریخ کو عالمی تباہی کا دن قرار دینے کے لیے کوئی سائنسی بنیاد موجود نہیں۔

اہم بات یہ ہے کہ 1960 میں جریدہ سائنس میں شائع ہونے والی ہائنس فان فورسٹر اور ان کے ساتھیوں کی آبادی سے متعلق تحقیق میں شمسی سرگرمیوں، مقناطیسی بے ترتیبی، ماحولیاتی آفات یا دنیا کے خاتمے سے متعلق کوئی دعویٰ نہیں کیا گیا تھا۔ یہ تحقیق صرف آبادی میں اضافے کے ایک ریاضیاتی ماڈل پر مبنی تھی، اور اس میں 13 نومبر 2026 کو کسی فلکیاتی یا قدرتی تباہی سے جوڑنے والا کوئی ثبوت پیش نہیں کیا گیا تھا۔

یوں معلوم ہوتا ہے کہ وقت کے ساتھ مختلف نظریات، قیاس آرائیاں اور میڈیا رپورٹس ایک دوسرے میں مدغم ہو گئی ہیں، جس کے باعث بعض لوگ آبادی سے متعلق اس قدیم تحقیق کو شمسی طوفانوں یا دنیا کے خاتمے کی پیش گوئیوں کے ساتھ جوڑ دیتے ہیں، حالانکہ سائنسی شواہد ایسے کسی تعلق کی تائید نہیں کرتے۔

’13 نومبر کو کسی غیر معمولی واقعے کے آثار نہیں‘

اردن کے ماہرِ فلکیات عماد مجاہد
،تصویر کا کیپشناردن کے ماہرِ فلکیات عماد مجاہد

13 نومبر 2026 سے منسلک مبینہ فلکیاتی خطرات کے دعوؤں پر تبصرہ کرتے ہوئے ماہرِ فلکیات عماد مجاہد کا کہنا ہے کہ اگرچہ اس سال شمسی سرگرمیاں اپنے عروج پر پہنچ رہی ہیں، تاہم یہ کوئی غیر معمولی یا اچانک پیش آنے والا واقعہ نہیں۔

بی بی سی نیوز عربی سے گفتگو میں انھوں نے کہا کہ سائنس دان کئی دہائیوں سے شمسی سرگرمیوں اور شمسی طوفانوں کا مطالعہ کر رہے ہیں۔ یہ مظاہر قدرتی شمسی چکروں کا حصہ ہیں اور کائنات کے آغاز سے وقوع پذیر ہوتے آ رہے ہیں۔ فرق صرف اتنا ہے کہ سائنسی اور تکنیکی ترقی کی بدولت اب ان کی نگرانی، تجزیہ اور پیش گوئی پہلے کے مقابلے میں کہیں زیادہ مؤثر انداز میں ممکن ہو گئی ہے۔

عماد مجاہد کے مطابق 13 نومبر 2026 کو ایسا کوئی معلوم یا متوقع فلکیاتی واقعہ درپیش نہیں جس سے زمین کی سلامتی کے بارے میں تشویش یا خوف پیدا ہو۔ انھوں نے زور دے کر کہا کہ فلکیات یا کونیات میں ایسی کوئی سائنسی شہادت موجود نہیں جو دنیا کے خاتمے یا کسی عالمی تباہی کے قریب ہونے کی نشاندہی کرتی ہو۔

ان کا کہنا تھا کہ اس تاریخ کے حوالے سے گردش کرنے والے دعوے فلکیات کے ماہرین کی تحقیقات، بیانات یا انتباہات پر مبنی نہیں ہیں، بلکہ مختلف افراد اور ذرائع کی جانب سے بغیر کسی سائنسی بنیاد کے پھیلائے جا رہے ہیں۔

ان وضاحتوں کا مقصد معروف قدرتی مظاہر، جیسے شمسی سرگرمیوں کے چکر اور شمسی طوفانوں، اور ان سے متعلق بے بنیاد قیاس آرائیوں کے درمیان فرق کو واضح کرنا ہے، جو ان واقعات کو غلط طور پر دنیا کے خاتمے کی پیش گوئیوں سے جوڑ دیتی ہیں۔

1960 کی پیش گوئی درست کیوں ثابت نہیں ہوئی؟

تصویر
،تصویر کا کیپشنشمسی نظام کی علامتی تصویر

درحقیقت 1960 میں پیش کیے گئے اس ریاضیاتی ماڈل کو 2026 کے حقیقی حالات پر لاگو کرنے میں سب سے بڑی مشکل اس کا بنیادی مفروضہ ہے۔ اس ماڈل میں یہ تصور کیا گیا تھا کہ آبادی میں اضافے کا تاریخی رجحان مستقبل میں بھی تقریباً اسی انداز میں جاری رہے گا، جبکہ گذشتہ چند دہائیوں کے دوران دنیا آبادیاتی، سماجی اور معاشی اعتبار سے نمایاں تبدیلیوں سے گزر چکی ہے۔

ان تبدیلیوں نے شرحِ پیدائش، شرحِ اموات اور آبادی میں اضافے کے مجموعی رجحان پر گہرا اثر ڈالا ہے۔ عالمی اعداد و شمار سے معلوم ہوتا ہے کہ آبادی میں اضافے کی شرح 1960 کی دہائی میں اپنی بلند ترین سطح پر تھی، لیکن اس کے بعد اس میں مسلسل کمی آتی رہی۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا کی آبادی کا حقیقی سفر اس راستے پر نہیں چلا جس کا اندازہ فان فورسٹر اور ان کے ساتھیوں کے ماڈل نے لگایا تھا۔

جب یہ تحقیق شائع ہوئی تھی تو دنیا کی آبادی تقریباً تین ارب افراد پر مشتمل تھی۔ آج یہ تعداد آٹھ ارب سے تجاوز کر چکی ہے، لیکن آبادی میں اضافے کی رفتار نمایاں طور پر سست ہو چکی ہے اور یہ صورتحال اس نظریاتی ’لامحدود آبادی‘ کے تصور سے بہت مختلف ہے جس تک ماڈل پہنچتا تھا۔

مزید یہ کہ موجودہ سائنسی اور آبادیاتی تخمینے بھی اس پرانی پیش گوئی کی تائید نہیں کرتے۔ اقوام متحدہ کے محکمہ برائے اقتصادی و سماجی امور کی رپورٹ ورلڈ پاپولیشن پراسپیکٹس 2024 کے مطابق دنیا کی آبادی 2024 میں تقریباً 8.2 ارب سے بڑھ کر 2080 کی دہائی کے وسط تک تقریباً 10.3 ارب تک پہنچنے کا امکان ہے۔ اس کے بعد عالمی آبادی میں بتدریج کمی شروع ہو سکتی ہے اور صدی کے اختتام تک یہ تقریباً 10.2 ارب رہ جائے گی۔

یہ تخمینے ظاہر کرتے ہیں کہ عالمی آبادی اس صدی کے دوران کسی وقت اپنی بلند ترین سطح پر پہنچ کر مستحکم یا کم ہونا شروع ہو سکتی ہے۔ اس رجحان کی ایک بڑی وجہ دنیا کے متعدد گنجان آبادی والے ممالک میں شرحِ پیدائش میں توقع سے زیادہ تیزی سے آنے والی کمی ہے۔

چنانچہ آج آبادی سے متعلق عالمی بحث صرف آبادی میں اضافے تک محدود نہیں رہی۔ بہت سے ممالک کو اب الٹا چیلنج درپیش ہے، جہاں شرحِ پیدائش میں مسلسل کمی، اوسط عمر میں اضافے اور معمر افراد کی بڑھتی ہوئی تعداد کے باعث معاشی اور سماجی منصوبہ بندی کے نئے مسائل جنم لے رہے ہیں۔

اسی لیے بیشتر ماہرین کے نزدیک 13 نومبر 2026 کی تاریخ کسی سائنسی طور پر متوقع آفت یا ’دنیا کے خاتمے‘ کی نشاندہی نہیں کرتی۔ یہ محض ایک ایسے ریاضیاتی ماڈل کا نظریاتی اختتامی نکتہ تھا جس کے بنیادی مفروضے وقت کے ساتھ بدلتی ہوئی حقیقی دنیا پر پورے نہیں اترے۔

’BBC News اردو‘ ایڈیشن کا انتخاب کریں اور نیوز الرٹس، تحقیقاتی اور تفصیلی رپورٹس، سب کچھ ایک ہی جگہ پر حاصل کریں۔

نوٹ: نئی ایپ برطانیہ اور امریکہ میں دستیاب نہیں ہے اور اس کا انگریزی زبان میں ایڈیشن موجود نہیں۔