علمِ جفر و رمل: ایران میں اقتدار کے اعلیٰ ایوانوں تک پہنچنے والے پُراسرار علوم کی کہانیاں

شیراز میں علی خامنہ ای کی یاد میں منعقدہ تقریب کی ایک تصویر، جس میں ایک تشہیری بینر پر مٹھی بند ہاتھ دکھایا گیا ہے اور اس کی انگلی میں انگوٹھی موجود ہے
    • مصنف, رضا ثابتی
    • عہدہ, بی بی سی فارسی
  • وقت اشاعت
  • مطالعے کا وقت: 19 منٹ

ایران کے سابق وزیرِ اطلاعات حیدر مصلحی نے حال ہی میں ایک ایسی ملاقات کا ذکر کیا ہے جو اُن کے بقول غیرمتوقع انداز میں بغیر کسی گفتگو کے ختم ہو گئی تھی۔

برسوں قبل یہ ملاقات حیدر مصلحی اور اُس وقت کے صدر محمود احمدی نژاد کے قریبی ساتھی اسفندیار رحیم مشائی کے درمیان ہوئی تھی۔ بطور وزیر اطلاعات حیدر مصلحی کے صدر محمود احمدی نژاد کے ساتھ اختلافات سب سے متنازع سیاسی تنازعات میں شمار کیے جاتے تھے۔

مصلحی کے بقول صدر احمدی نژاد نے مشائی کو اُن کے ساتھ تنہا چھوڑا تھا تاکہ وہ انھیں ایک معاملے پر قائل کر سکیں مگر مشائی کے منھ سے بات تک نہ نکلی۔

حیدر مصلحی کا کہنا تھا کہ اس واقعے کی وجہ وہ انگوٹھی تھی جو انھوں نے اُس روز پہن رکھی تھی اور جس پر ’حرزِ امیرالمومنین‘ کندہ تھا۔ (حرز کے لغوی معنی پناہ گاہ یا محفوظ جگہ کے ہیں جبکہ امیرالمومنین حضرت علی کا خاص لقب ہے)

مصلحی کے بقول انگوٹھی پر کنندہ الفاظ ’حرز امیرالمومنین‘ سحر و جادو کے اثرات کو زائل کرتے ہیں اور اسی وجہ سے رحیم مشائی اُن کے ساتھ گفتگو نہ کر سکے۔ انھوں نے کہا کہ ’میں یہ حرز احمدی نژاد کو دینا چاہتا تھا، لیکن بعض اعتقادات کی وجہ سے ایسا نہ کر سکا۔‘

یہ واقعہ ایران میں حکومتی حلقوں میں ’علومِ غریبہ‘ اور ماورائی طاقتوں سے متعلق پائے جانے والے بعض اعتقادات کی صرف ایک مثال ہے۔ (علوم غریبہ یعنی پراسرار علوم سے مراد ایسے پوشیدہ، طبعی یا ماورالطبیعی فنون اور دانش ہے جو عام لوگوں کی دسترس سے باہر رکھے جاتے ہیں تاکہ اُن کے غلط استعمال سے بچا جا سکے)

ایرانی حکومتی حلقوں میں پائے جانے والی انھی اعتقادات میں پیش گوئی، جنات سے تعلق، تعویذ اور سحر و جادو سے بچاؤ جیسے تصورات شامل رہے ہیں۔

حال ہی میں ایران کی پارلیمان کی قومی سلامتی کمیٹی کے ایک رکن نے دعویٰ کیا تھا کہ علما کے مشورے اور سکیورٹی حکام کے فیصلے کے تحت مجتبیٰ خامنہ ای کی نئی تصاویر جاری نہیں کی جاتیں تاکہ دشمن مبینہ طور پر ’علومِ غریبہ‘ کے ذریعے انھیں نقصان نہ پہنچا سکیں۔

ایران میں گذشتہ پانچ دہائیوں کے دوران ماورائی طاقتوں اور علومِ غریبہ سے متعلق ایسے تصورات ملک کی داخلی سیاسی کشمکش، احتجاجی تحریکوں اور بیرونی تنازعات کے تناظر میں مختلف مواقع پر سامنے آتے رہے ہیں۔

بعض اوقات ان کا استعمال سیاسی مخالفین پر الزامات لگانے، دشمن کی صلاحیتوں کی وضاحت کرنے یا سکیورٹی معاملات کے حوالے سے بھی کیا جاتا رہا ہے۔

علی خامنہ ای اور جفر و رمل کے اسرار کی تلاش

Ali Khamenei
،تصویر کا کیپشن’تسنیم‘ پر شائع ہونے والی علی خامنہ ای کی یادداشتوں کے مطابق وہ نوجوانی کے زمانے میں مشہد میں ایک ایسے شخص سے متعارف ہوئے تھے جو پراسرار علوم جانتا تھا

'جفر ایک حقیقت ہے، رمل ایک حقیقت ہے، یہ علومِ شریفہ ہیں اور نہایت قیمتی ہیں۔'

یہ عبارت ایک بیان کا حصہ ہے جو علی خامنہ ای سے منسوب کیا گیا اور اُن کی موت کے چند ماہ بعد خبر رساں ادارے 'تسنیم' نے 'علومِ غریبہ کے مطالعے پر شہید رہبر کی یادداشتیں' کے عنوان سے شائع کیا۔

اِن یادداشتوں میں علی خامنہ ای نے جادو، علومِ غریبہ میں دلچسپی، اس شعبے کے ماہرین سے روابط اور نوجوانی میں ان علوم کے اسرار جاننے کی اپنی کوششوں کا ذکر کیا۔

اس متن کے مطابق علومِ غریبہ سے علی خامنہ ای کا تعارف اتفاقاً ہوا اور اُن کے بقول مشہد میں قیام کے دوران اُن کی ملاقات ایک ایسے شخص سے ہوئی جو اس شعبے میں سرگرم تھا۔

یادداشتوں کے مطابق علی خامنہ ای نے بتایا کہ اُس شخص نے انھیں ملا احمد نراقی کی کتاب ’خزائن‘ کا ایک حصہ دکھایا، جس میں درج الفاظ کے معانی وہ نہیں جانتے تھے۔ اُن کے بقول، اس شخص نے بتایا کہ ان حروف اور اعداد کے راز سمجھنے کا ایک طریقہ موجود ہے۔

بعد ازاں اُس شخص نے علی خامنہ ای کو وہ طریقہ سکھایا جس کے ذریعے مختلف تحریروں کے مقاصد سمجھے جا سکتے تھے، مثلاً لوگوں کے دل جیتنے، رعب پیدا کرنے یا قرض کی ادائیگی جیسے معاملات۔ علی خامنہ ای کے مطابق اسی مرحلے سے ان کا علومِ غریبہ سے تعلق شروع ہوا اور وہ شخص اُن کا استاد بن گیا۔

علومِ غریبہ ایسی باطنی اور مافوق الفطرت معلومات اور طریقوں کے مجموعے کو کہا جاتا ہے جن کے بارے میں ماننے والوں کا عقیدہ ہے کہ اُن کے ذریعے پوشیدہ امور کو جانا جا سکتا ہے، مستقبل کی پیش گوئی کی جا سکتی ہے یا افراد اور واقعات پر اثر ڈالا جا سکتا ہے۔

ان طریقوں میں سب سے معروف جفر اور رمل ہیں۔ جفر میں حروف اور اعداد کے حسابات کے ذریعے پوشیدہ امور جاننے اور پیش گوئیاں کرنے کی کوشش کی جاتی ہے، جبکہ رمل میں نقطوں اور خطوط سے بنائی گئی اشکال کی مدد سے سوالات کے جوابات یا مستقبل کے بارے میں اندازے لگائے جاتے ہیں۔

تسنیم پر شائع ہونے والی ان یادداشتوں میں علی خامنہ ای کے حوالے سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ انھوں نے اس شعبے سے وابستہ دیگر افراد سے ملاقاتیں کیں، متعدد کتابیں اور رسائل حاصل کیے اور بعض تحریروں کی نقل بھی تیار کی۔

تاہم ان کے بقول، طویل کوششوں کے باوجود وہ ’جفر کے مکمل ضابطے‘ تک نہیں پہنچ سکے۔

Ali Khamenei
،تصویر کا کیپشنعلی خامنہ ای نے بطور ’مرجعِ تقلید‘ علومِ غریبہ کو سیکھنے اور ان کے استعمال کے حوالے سے فتویٰ بھی جاری کیا تھا

ان سے منسوب بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ’یہ سوال کیا جانا چاہیے کہ کیا میں اِن امور سے کسی نتیجے تک پہنچا یا نہیں۔ ان میں سے ایک نتیجہ یہ تھا کہ لوگوں کے لیے بہتر ہے کہ وہ اس راستے پر نہ چلیں۔ یہ ان نتائج میں سے ایک تھا جس تک میں پہنچا۔ ان علوم تک رسائی آسان نہیں۔ البتہ جفر حقیقت ہے، رمل حقیقت ہے، یہ علومِ شریفہ ہیں اور بہت قیمتی ہیں، لیکن انسانی اور مادی علم ابھی تک ان حقائق کو مکمل طور پر دریافت نہیں کر سکا۔‘

علی خامنہ ای کی علومِ غریبہ سے واقفیت کا ذکر اس سے قبل ہدایت اللہ بہبودی کی تصنیف ’شرح اسم‘ میں بھی کیا گیا ہے، جو خامنہ ای کی سوانح عمری پر مبنی کتاب ہے۔

سنہ 2012 میں شائع ہونے والی اس کتاب میں، جو سنہ 1979 کے اسلامی انقلاب تک علی خامنہ ای کی زندگی کا احاطہ کرتی ہے، اس موضوع پر بھی روشنی ڈالی گئی ہے۔

بہبودی لکھتے ہیں کہ ’خامنہ ای علومِ غریبہ سے ناواقف نہیں تھے۔ وہ جفر، رمل، کیمیا، اعداد، حروف اور اوفاق سمیت ان علوم سے آشنائی رکھتے تھے جنھیں بعض اوقات پانچ علوم، یعنی کیمیا، لیمیا، ہیمیا، سیمیا اور ریمیا، کہا جاتا ہے۔‘

کتاب میں یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ قم جانے سے قبل علی خامنہ ای نے مشہد میں ایک شخص سے کچھ عرصے تک یہ علوم سیکھے، تاہم بعد میں وہ اس نتیجے پر پہنچے کہ اس راستے پر مزید آگے نہ بڑھنا ہی بہتر ہے۔

علی خامنہ ای کی ان علوم سے واقفیت کا ایک اور ذکر عظیم الیاسی کی کتاب ’حضرت ماہ‘ میں ملتا ہے۔ اس کتاب میں فلسفے، ریاضی اور فلکیات کے محقق اور دینی استاد حسن حسن زادہ آملی کے ساتھ ان کی ایک ملاقات کا احوال ایک شریکِ مجلس کے حوالے سے بیان کیا گیا ہے۔

کتاب کے مطابق ’آیت اللہ حسن زادہ ایک اسطرلاب لے کر آئے اور اس کے بارے میں گفتگو کی۔ رہبرِ انقلاب بھی بعض نکات بیان کرتے تھے جن کی آیت اللہ حسن زادہ تائید کرتے تھے۔ چونکہ ہم اسطرلاب کے علم سے واقف نہیں تھے، اس لیے گفتگو کو پوری طرح نہیں سمجھ پاتے تھے۔ اس سے اندازہ ہوتا تھا کہ جناب بھی علومِ غریبہ سے واقفیت رکھتے ہیں۔‘

اسطرلاب ایک قدیم آلہ ہے جو فلکیاتی حسابات اور اجرامِ فلکی کی پوزیشن معلوم کرنے کے لیے استعمال ہوتا تھا۔ ماضی میں اس کے بعض استعمالات نجومی طریقوں سے بھی منسلک رہے ہیں۔

علی خامنہ ای نے بطور مرجعِ تقلید علومِ غریبہ کے سیکھنے اور استعمال کے حوالے سے بھی فتویٰ دیا تھا، جس میں کہا گیا کہ ’جفر اور رمل جیسے علوم کو صحیح طریقے سے سیکھنے میں کوئی حرج نہیں، بشرطیکہ اس سے کسی قسم کا فساد پیدا نہ ہو۔‘

اسی طرح ’ارواح اور جنات کے ذریعے علاج کرنے والوں‘ سے رجوع کرنے کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں ان سے منسوب فتویٰ میں کہا گیا کہ ’فی نفسہٖ اس میں کوئی حرج نہیں، بشرطیکہ یہ کام شرعی طور پر جائز طریقوں سے انجام دیا جائے۔‘

نور کا ہالہ اور ’400 سالہ زاہد‘

Mahmoud Ahmadinejad
،تصویر کا کیپشنتہران کے علاقے نارمک میں محمود احمدی نژاد کی سالگرہ کی تقریب کی ایک تصویر

ماورائی علوم، کرامات اور غیر معمولی صلاحیتوں پر یقین کی ایک طویل روایت علما، مذہبی شخصیات اور عرفان و اخلاق کے اساتذہ کے درمیان موجود رہی ہے، اور ایک مذہبی و شیعہ ریاست ہونے کے ناطے اسلامی جمہوریہ ایران میں بھی ایسے عقائد کو خاصی مقبولیت حاصل رہی ہے۔

تاہم 2005 میں محمود احمدی نژاد کے اقتدار میں آنے کے بعد علومِ غریبہ، کرامات اور مکاشفات سے متعلق روایات سیاسی میدان، دھڑے بندیوں اور روزمرہ سیاسی تنازعات کا حصہ بن گئیں۔ ابتدا میں یہ بیانیے محمود احمدی نژاد کی انتخابی کامیابی سے جوڑے گئے، جبکہ بعد میں ان کے قریبی ساتھیوں کے خلاف الزامات کی صورت میں سامنے آئے۔

سنہ 2005 میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے اپنے پہلے خطاب کے بعد محمود احمدی نژاد نے قم کے عالم دین عبداللہ جوادی آملی سے ملاقات میں کہا کہ اُن کے ایک ساتھی نے خطاب کے دوران اُن کے گرد ایک نورانی ہالہ دیکھا تھا اور وہ خود بھی اس کا احساس کرتے تھے۔

اُن کے بقول 'تقریباً 27 یا 28 منٹ تک عالمی رہنما پلک تک نہیں جھپک رہے تھے۔ میں مبالغہ نہیں کر رہا۔ ایسا لگتا تھا جیسے کسی نے سب کو اپنی جگہ پر روک دیا ہو تاکہ وہ اسلامی جمہوریہ ایران کا پیغام سن سکیں۔'

اس واقعے سے قبل محمد تقی مصباح یزدی، جو ابتدا میں محمود احمدی نژاد کے اہم حامیوں میں شمار ہوتے تھے، 2005 کے صدارتی انتخاب میں اُن کی کامیابی کو 'معجزات اور حیرت انگیز واقعات' سے بھرپور قرار دے چکے تھے۔

انتخابات کے پانچ روز بعد مصباح یزدی نے ایک شخص کے حوالے سے ایک روایت بیان کی جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ رمضان المبارک کی 23ویں شب ایک خواب میں اسے محمود احمدی نژاد کے لیے دعا کرنے کی ہدایت دی گئی، کیونکہ امامِ زمانہ اُن کے لیے دعا فرما رہے تھے۔

اقوام متحدہ میں 'نور کے ہالے' کا معاملہ سنہ 2009 کے صدارتی انتخابات کے دوران بھی موضوعِ بحث بنا۔ صدارتی مباحثے میں مہدی کروبی نے محمود احمدی نژاد سے اس بارے میں سوال کیا، جس پر انھوں نے اس کی تردید کی۔ تاہم بعد میں آیت اللہ جوادی آملی کے دفتر نے متعلقہ ویڈیو کے درست ہونے کی تصدیق کی۔

اسی دوران میر حسین موسوی نے احمدی نژاد حکومت پر تنقید کرتے ہوئے وعدہ کیا کہ آئندہ حکومت 'توہمات اور فال گیری' کی حکومت نہیں ہو گی۔ 19 جون 2009 کو نمازِ جمعہ کے خطاب میں علی خامنہ ای نے بھی اس معاملے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اُس وقت کے صدر پر 'خرافات پرستی' کے الزامات لگائے جا رہے ہیں۔

اس کے تقریباً چھ ہفتے بعد اسی نوعیت کے الزامات اسفندیار رحیم مشائی پر بھی عائد کیے گئے، جو احمدی نژاد کے قریبی ساتھیوں میں شمار ہوتے تھے۔ 25 اگست 2009 کو علی خامنہ ای کی جانب سے رحیم مشائی کی بطور نائب صدر اول تقرری کی مخالفت کے چند روز بعد، قدامت پسند ویب سائٹ جہان نیوز نے دعویٰ کیا کہ 'ملک کے ایک اعلیٰ عہدیدار' نے انڈیا کے متعدد دوروں کے دوران ایک 'چار سو سالہ زاہد' سے ملاقاتیں کیں اور عالمی و ایرانی حالات کے بارے میں مشورے حاصل کیے۔

اگرچہ جہان نیوز نے اس عہدیدار کا نام ظاہر نہیں کیا، لیکن اگلے روز خبرآن لائن نے ایک مضمون میں اسفندیار رحیم مشائی سے سوال کیا کہ کیا انھوں نے ان مبینہ ملاقاتوں کے دوران سرکاری معلومات اس 'زاہد' کو فراہم کی تھیں۔

اسفندیار رحیم مشائی نے تقریباً ایک سال بعد اس دعوے کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ وہ صرف دو مرتبہ انڈیا گئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا 'میں کسی چار سو سالہ زاہد سے نہیں ملا اور میرا خیال ہے کہ یہ محض ایک افسانہ اور جھوٹ ہے۔'

مشائی نے یہ بھی کہا کہ کسی شخص نے اُس وقت کے صدر کو بتایا تھا کہ 'لوگ کہتے ہیں مشائی نے احمدی نژاد پر جادو کر رکھا ہے۔' اُن کے بقول، انھوں نے جواب دیا کہ اُن کے ناقدین اُن کے خیالات پر تنقید کرنے کے بجائے جادو ٹونے کے الزامات کیوں لگا رہے ہیں۔

سنہ 2011 کے موسمِ بہار میں جب محمود احمدی نژاد اور علی خامنہ ای کے درمیان وزارتِ اطلاعات کے معاملے پر اختلافات شدت اختیار کر گئے تو 'حکومتی جادوگروں' کا موضوع بھی سیاسی مباحث کا ایک اہم حصہ بن گیا۔

حکومتی ’جن بھگانے والے‘ اور اقتدار کی کشمکش

Esfandiar Rahim Mashaei
،تصویر کا کیپشناسفندیار رحیم مشائی، جو محمود احمدی نژاد کے قریبی ترین ساتھیوں میں شمار ہوتے تھے، پر بعض سیاسی حلقوں نے الزام عائد کیا کہ انھوں نے صدر نژاد کو ’سحر کے اثر‘ میں مبتلا کر رکھا تھا

19 اپریل 2011 کو یہ خبر سامنے آئی کہ وزیرِ اطلاعات حیدر مصلحی نے صدر کی منظوری سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ تاہم علی خامنہ ای نے اس استعفے کی مخالفت کرتے ہوئے انھیں اپنے عہدے پر برقرار رہنے کا حکم دیا۔

اس فیصلے کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے محمود احمدی نژاد نے حکومتی اجلاسوں اور دیگر سرکاری سرگرمیوں میں شرکت سے گریز کیا، جسے بعد میں 'گیارہ روزہ گھر نشینی' کے نام سے جانا گیا۔

ان اختلافات کے بعد احمدی نژاد کے چیف آف سٹاف اسفندیار رحیم مشائی کے خلاف قدامت پسند حلقوں کی تنقید میں اضافہ ہو گیا۔ ناقدین نے مشائی اور ان کے قریبی ساتھیوں کو 'منحرف جریان' قرار دیا اور دعویٰ کیا کہ انھوں نے صدر پر اس قدر اثر و رسوخ حاصل کر لیا ہے کہ وہ رہبرِ انقلاب کے احکامات کو بھی نظرانداز کرنے لگے ہیں۔

اس دوران یہ دعوے بھی کیے گئے کہ احمدی نژاد اپنے اردگرد کے افراد کے 'جادو' کے اثر میں آ چکے ہیں اور آزادانہ فیصلے کرنے کی صلاحیت کھو بیٹھے ہیں۔

سنہ 2005 اور سنہ 2009 کے انتخابات میں احمدی نژاد کے نمایاں مذہبی حامیوں میں شامل محمد تقی مصباح یزدی نے مئی 2011 میں ایک تقریر میں کہا کہ 'میں نے اپنے بعض قریبی دوستوں سے کہا تھا کہ میرا 90 فیصد سے زیادہ یقین ہے کہ ان (محمود احمدی نژاد) پر جادو کیا گیا ہے۔'

مصباح یزدی نے رحیم مشائی کے اثر و رسوخ کے بارے میں کہا کہ وہ یہ نہیں سمجھ پاتے کہ یہ 'ہیپنوٹزم، جادو یا کسی زاہد سے رابطے' کا نتیجہ ہے۔ انھوں نے طلسمات کے اثرات کا بھی ذکر کیا اور دعویٰ کیا کہ مشائی نے احمدی نژاد کو اپنے زیرِ اثر کر لیا ہے۔

اسی سیاسی فضا میں عباس غفاری کا نام بھی سامنے آیا، جن کے بارے میں دعویٰ کیا گیا کہ وہ علومِ غریبہ سے وابستہ ہیں اور صدر کے قریبی حلقوں سے روابط رکھتے ہیں۔

حکومت مخالف ویب سائٹ آیندہ نے عباس غفاری کو ایک ایسا شخص قرار دیا جسے 'ماورائی امور میں خاص مہارت' حاصل ہے اور جس کے 'نامعلوم جہانوں' سے روابط ہیں۔ بعض دیگر رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا کہ وہ جنات کو بلانے اور طلسم لکھنے کے ذریعے بعض سرکاری عہدیداروں پر اثر انداز ہوتے تھے۔ ان کی گرفتاری کی خبروں نے بھی ایسی قیاس آرائیوں کو تقویت دی۔

وقت گزرنے کے ساتھ عباس غفاری کے بارے میں سامنے آنے والی روایات مزید غیر معمولی رنگ اختیار کرتی گئیں۔ بعض ذرائع ابلاغ نے لکھا کہ تفتیش کار ان کی مافوق الفطرت طاقتوں کا مقابلہ نہیں کر پا رہے تھے، جبکہ بعض رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا کہ ایک تفتیش کار جادو کے اثرات کا نشانہ بنا۔

سابق وزیرِ ثقافت حسین صفار ہرندی نے بھی ایک تقریر میں کہا کہ زیرِ حراست افراد نے 'تفتیش کاروں کو پریشان کر رکھا تھا۔'

اُن کا دعویٰ تھا کہ محمد خاتمی کے دورِ حکومت میں بھی بعض افراد جن نکالنے والوں کے ساتھ رابطے میں تھے اور ان کی بعض پیش گوئیاں درست ثابت ہوئی تھیں۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ وہ جنات اور جن نکالنے کے وجود کی نفی نہیں کرتے اور دعویٰ کیا کہ احمدی نژاد کے ایک قریبی ساتھی نے بھی انہی افراد سے رجوع کیا تھا۔

اسی تقریر میں صفار ہرندی نے کہا کہ اُس وقت صدر کے بعض ساتھی امامِ زمانہ کے ظہور کے قریب ہونے کا حوالہ دیتے ہوئے رہبرِ انقلاب کی اطاعت کو ضروری نہیں سمجھتے تھے، اور انھوں نے احمدی نژاد پر ان کے اثرات کو ایک 'آفت' سے تشبیہ دی۔

عباس غفاری کا مقدمہ تہران کی انقلابی عدالت میں جج ابوالقاسم صلواتی کی سربراہی میں چلایا گیا۔

جولائی 2012 میں ایرانی ذرائع ابلاغ نے رپورٹ کیا کہ انھیں آٹھ سال قید اور 99 کوڑوں کی سزا سنائی گئی۔ اگرچہ یہ مقدمہ عوامی سطح پر 'جن گیری' کے نام سے مشہور ہوا، لیکن فیصلے میں درج الزامات میں اسلامی مقدسات کی توہین، روح اللہ خمینی اور علی خامنہ ای کی توہین، نظام کے خلاف پروپیگنڈا اور غیر شرعی تعلقات شامل تھے۔

اسی عرصے میں عباس امیری فر، جو اسفندیار رحیم مشائی کے قریبی سمجھے جاتے تھے اور حکومتی ثقافتی کمیشن کے سیکریٹری تھے، کو بھی گرفتار کیا گیا۔ ان کے خلاف الزامات میں فلم 'ظہور بہت قریب ہے' کی تیاری اور تقسیم میں شرکت شامل تھی۔

اس فلم میں بعض معاصر سیاسی شخصیات کا تعلق امامِ زمانہ کے ظہور سے متعلق روایات سے جوڑا گیا تھا، جس پر متعدد علما نے اعتراض کیا تھا۔

محمود احمدی نژاد کی حکومت نے جن نکالنے والوں اور جادوگروں سے مدد لینے کے الزامات کی تردید کی تھی۔

اُن کے نائب صدر محمد رضا رحیمی نے مئی 2011 میں کہا تھا کہ حکومت جادو ٹونے پر نہیں بلکہ علم اور دانش پر انحصار کرتی ہے۔ بعد میں محمود احمدی نژاد نے بھی ان الزامات پر طنزیہ انداز میں ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ 'اگر ان جادوگروں اور عاملوں کے پاس واقعی کوئی طاقت ہوتی تو وہ اپنی گرفتاری ہی رکوا لیتے۔'

حکومت مخالف احتجاج میں ’شریر جن‘

Hamid Baghaei
،تصویر کا کیپشنمحمود احمدی نژاد کے دور میں نائب صدر حمید بقائی نے دعویٰ کیا کہ پاسدارانِ انقلاب کے تفتیش کاروں نے ان پر ’جنات کی فوج کی مدد سے حکومت کا تختہ الٹنے کی کوشش‘ کا الزام عائد کیا تھا

یہ روایات اور ان کے اثرات محمود احمدی نژاد کی حکومت کے خاتمے کے بعد بھی جاری رہے۔ بعد کے برسوں میں سابق حکومتی عہدیداروں کے بیانات میں سکیورٹی تفتیشوں کے دوران جنات اور جادو ٹونے کا تذکرہ دوبارہ سامنے آیا، جبکہ بعد ازاں سڑکوں پر ہونے والے احتجاجوں کی وجوہات بیان کرنے کے لیے بھی 'شریر جن' کا حوالہ دیا گیا۔

احمدی نژاد کے دور کے نائب صدر حمید بقائی نے ستمبر 2017 میں دعویٰ کیا کہ سنہ 2015 میں گرفتاری کے بعد ان سے تفتیش کرنے والے پاسدارانِ انقلاب کے انٹیلیجنس اہلکاروں نے ان پر مختلف غیر معمولی الزامات عائد کیے تھے، جن میں 'جنات کی فوج کی مدد سے حکومت کا تختہ الٹنے کی کوشش' اور 'مکاشفہ' جیسے معاملات شامل تھے۔ تاہم ان کے مطابق یہ الزامات حتمی فردِ جرم کا حصہ نہیں بنے۔

تین سال بعد، اپریل 2020 میں، وزارتِ اطلاعات کے اندر مبینہ طور پر 'جنات کی سرگرمیوں کا مقابلہ کرنے' کے لیے ایک خصوصی شعبہ قائم کیے جانے کی خبروں اور افواہوں نے توجہ حاصل کی۔

یہ قیاس آرائیاں اس وقت سامنے آئیں جب علی خامنہ ای نے کورونا وبا کے دوران اپنے نوروز پیغام میں قرآنی اصطلاحات استعمال کرتے ہوئے 'جنات کے دشمنوں' اور 'انسانوں کے دشمنوں' کے باہمی تعاون کا ذکر کیا تھا اور بعض ممالک کے انٹیلیجنس اداروں پر اسلامی جمہوریہ کے خلاف مل کر کام کرنے کا الزام عائد کیا تھا۔

26 اپریل کو اُس وقت کے وزیرِ اطلاعات محمود علوی کے دفتر کے ایک باخبر ذریعے نے 'جنات کی سرگرمیوں سے نمٹنے کے لیے شعبہ قائم کیے جانے' کی خبروں کو جعلی اور بے بنیاد قرار دیا۔

تاہم سنہ 2023 میں ویب سائٹ دیگربان پر ایک آڈیو فائل شائع ہوئی جس میں وزارتِ اطلاعات سے وابستہ بتائے جانے والے ایک شخص نے ملک گیر احتجاج میں جنات کے کردار کا ذکر کیا۔

اس شخص کی شناخت کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہو سکی، تاہم اس نے احتجاجوں کی تنظیم میں امریکہ اور دیگر بیرونی ممالک کے مبینہ کردار کے بارے میں بات کرنے کے بعد کہا کہ 'اس فتنے میں ہم نے شریر جنات کے ظہور کا مشاہدہ کیا۔'

اُس نے دعویٰ کیا کہ بعض گرفتار مظاہرین جنات کے اثر میں آ کر تشدد پر اتر آئے تھے اور گرفتاری کے بعد اپنے رویے سے لاعلمی کا اظہار کرتے تھے۔

اس آڈیو میں یہ بھی کہا گیا کہ 'شریر جن' کے اثرات سے نمٹنے کے لیے بعض معروف علما کے ساتھ اجلاس منعقد کیے گئے اور اس سلسلے میں ہدایات تیار کی گئیں۔ ان ہدایات میں کہا گیا کہ اذان، تلاوتِ قرآن، نمازِ شب اور بعض مخصوص دعائیں جنات کو دور کرنے میں مؤثر ہیں اور ان کا گھروں میں معمول بننا چاہیے۔

مذکورہ شخص نے سیٹلائٹ ڈشوں کو جمع کرنے کا مطالبہ بھی کیا اور دعویٰ کیا کہ سیٹلائٹ نشریات 'شریر جنات کی آمدورفت' کا باعث بنتی ہیں۔

نوروز خطاب کے بارہ روز بعد علی خامنہ ای کی ویب سائٹ نے حوزۂ علمیہ کے استاد احمد عابدی کا ایک انٹرویو دوبارہ شائع کیا۔ انھوں نے قرآن، روایات اور مذہبی مصادر کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ 'جنات کا وجود ایک حقیقت ہے اور وہ انسانی زندگی پر اثر انداز ہو سکتے ہیں، اگرچہ یہ اثر محدود اور معمولی ہوتا ہے۔'

اسی انٹرویو میں احمد عابدی نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ 'یہودی، بالخصوص صہیونی حلقے، ماورائی امور میں خاص دلچسپی رکھتے ہیں اور ان کے انٹیلیجنس ادارے، جیسے موساد، اس قسم کی سرگرمیوں سے وابستہ ہیں۔'

اسرائیل، تہران اور ’طلسمی کاغذات‘

Ali Akbar Raefipour
،تصویر کا کیپشنعلی اکبر رائفی پور نے دعویٰ کیا کہ موساد مخالف فریق کے خیالات پڑھنے اور معلومات جمع کرنے کے لیے جنات سے مدد لیتی ہے

اسلامی جمہوریہ ایران میں جنات، جادو اور علومِ غریبہ سے متعلق بیانیوں میں اسرائیل کو ایک نمایاں مقام حاصل رہا ہے۔

حکومت کے قریب سمجھی جانے والی بعض مذہبی اور سیاسی شخصیات متعدد بار یہ دعویٰ کر چکی ہیں کہ اسرائیل اور اس کی خفیہ ایجنسی موساد فوجی اور انٹیلیجنس ذرائع کے ساتھ ساتھ پراسرار علوم سے بھی مدد حاصل کرتے ہیں۔

اکتوبر 2024 میں، لبنان میں حزب اللہ کے خلاف اسرائیلی کارروائیوں کے دوران، حوزۂ علمیہ کے استاد مصطفیٰ کرامی نے ایک ٹیلی ویژن پروگرام میں دعویٰ کیا کہ اسرائیلی ’خلائی مخلوقات اور شیطانی قوتوں‘ کو عملی اور انٹیلیجنس مقاصد کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ بات ’تحقیق شدہ اور یقینی‘ ہے۔

اسی طرح علی اکبر رائفی پور، جو مصاف انسٹیٹیوٹ کے سربراہ اور ایک متنازع نظریہ ساز سمجھے جاتے ہیں، نے دعویٰ کیا کہ موساد دوسروں کے خیالات پڑھنے اور معلومات حاصل کرنے کے لیے جنات سے مدد لیتی ہے۔ ان کے بقول ’اس بات میں شک نہیں ہونا چاہیے کہ وہ جنات سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔‘

ورامین کے امامِ جمعہ مجتبیٰ عزیزی نے بھی نومبر 2024 میں ایک انٹرویو کے دوران کہا کہ اسرائیل اور جنات کے درمیان تعلق کے امکان کو مسترد نہیں کیا جا سکتا۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ جس طرح ’کافر جن‘ ہوتے ہیں اسی طرح ’مومن جن‘ بھی ہوتے ہیں اور مسلمان بھی اُن سے مدد حاصل کر سکتے ہیں۔

یہ بحث ایک بار پھر جولائی 2025 میں ایران اور اسرائیل کے درمیان بارہ روزہ جنگ کے بعد شدت اختیار کر گئی، جس میں پاسدارانِ انقلاب اور ایرانی فوج کے کئی اعلیٰ کمانڈر مارے گئے تھے۔

سابق صحافی اور ابراہیم رئیسی کی حکومت کی اطلاع رسانی کونسل کے رکن عبداللہ گنجی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ جنگ کے بعد تہران کی سڑکوں سے ’یہودی علامات والے طلسمی کاغذات‘ برآمد ہوئے ہیں۔

انھوں نے دعویٰ کیا کہ دشمن ممالک اور مغربی و اسرائیلی خفیہ ادارے جاسوسی کے لیے علومِ غریبہ اور جنات سے متعلق طریقوں سے فائدہ اٹھاتے ہیں، اور اس دعوے کو انھوں نے ماضی میں علی خامنہ ای کی جانب سے دیے گئے بیانات سے جوڑا۔

عبداللہ گنجی کے ان بیانات پر ایران میں مختلف ردِعمل سامنے آئے۔ حوزۂ علمیہ قم کے استاد محمد تقی فاضل میبدی نے کہا کہ ایسے دعووں کی نہ مذہبی بنیاد ہے اور نہ ہی قرآنی، اور یہ باتیں سراسر غلط ہیں۔

ان کے بقول ’اس قسم کی باتوں کا مقصد توہم پرستی کو فروغ دینا ہے، کیونکہ جتنا معاشرہ توہمات کا شکار ہوگا، اتنا ہی بعض لوگوں کو فائدہ پہنچے گا۔‘

اس کے باوجود اسرائیل کی جانب سے ایرانی کمانڈروں کے خلاف کارروائیوں میں جنات یا جادو کے استعمال سے متعلق دعوے برقرار رہے۔ سنہ 2026 میں معروف مذہبی مقرر مسعود عالی نے ایک ویڈیو بیان میں کہا کہ اسرائیل نے ایران کے خلاف جنگ میں ’جنات، شیاطین، جادو اور سحر‘ کا استعمال کیا۔

انھوں نے اپنے دعوے کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ علی شادمانی، جو بارہ روزہ جنگ کے دوران خاتم الانبیاء ہیڈکوارٹر کے کمانڈر تھے، اپنی جگہ ہر آدھے گھنٹے بعد تبدیل کرتے تھے تاکہ ان کا سراغ نہ لگایا جا سکے، لیکن اس کے باوجود انھیں نشانہ بنایا گیا۔

مسعود عالی نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ شیطانی قوتیں ’امامِ زمانہ کے ظہور کی مخالفت کے لیے متحد ہیں۔‘

مجتبیٰ خامنہ ای اور پراسرار علوم

Mojtaba Khamenei
،تصویر کا کیپشنایرانی پارلیمان کے ایک رکن کے مطابق مجتبیٰ خامنہ ای کی نئی تصاویر اس لیے جاری نہیں کی جا رہیں تاکہ دشمن ’علومِ غریبہ‘ کا استعمال کرتے ہوئے انھیں نقصان نہ پہنچا سکیں

سنہ 2026 کے موسمِ بہار میں اسرائیل کی جانب سے پراسرار علوم کے مبینہ استعمال کے دعوے اسلامی جمہوریہ ایران کے نئے رہنما مجتبیٰ خامنہ ای کی سکیورٹی سے متعلق بحث کا حصہ بن گئے۔

ایرانی پارلیمان کے ایک رکن نے کہا کہ مجتبیٰ خامنہ ای کی نئی تصاویر جاری نہ کرنے کی وجہ یہ خدشہ ہے کہ دشمن پراسرار علوم کے ذریعے انھیں نقصان پہنچا سکتے ہیں۔

تاہم مجتبیٰ خامنہ ای کا نام اس سے پہلے بھی ایسے موضوعات کے حوالے سے زیرِ بحث آ چکا ہے۔

ایران کے سرکاری نشریاتی ادارے کے سابق سربراہ محمد سرافراز نے دسمبر 2023 میں صحافی شہرزاد میرقلی خان کو دیے گئے ایک انٹرویو میں مجتبیٰ خامنہ ای کے ان افراد سے روابط کا ذکر کیا تھا جو پیش گوئیوں اور علومِ غریبہ سے متعلق دعوے کرتے تھے۔ یہ انٹرویو بعد میں بعض ذرائع ابلاغ اور سوشل میڈیا پر دوبارہ توجہ کا مرکز بنا۔

محمد سرافراز، جو 2014 سے 2016 تک ایران کے سرکاری نشریاتی ادارے کے سربراہ رہے، نے دعویٰ کیا کہ کئی برسوں تک ان کا مجتبیٰ خامنہ ای کے ساتھ قریبی اور براہِ راست رابطہ رہا۔

مجتبیٰ خامنہ ای کے فال بینی، غیب دانی اور پیش گوئیوں پر یقین سے متعلق سوال کے جواب میں سرافراز نے کہا کہ ان کے مشاہدے کے مطابق مجتبیٰ خامنہ ای بعض اوقات ایسے افراد سے ملاقاتیں کرتے تھے جو علومِ غریبہ یا پیش گوئی کی صلاحیتوں کا دعویٰ کرتے تھے۔

ان کے بقول، یہ افراد سفارشات پیش کرتے تھے اور بعض مواقع پر بعض فیصلے ان سفارشات سے متاثر بھی ہوتے تھے۔

سنہ 2025 میں علی خامنہ ای کی امریکہ اور اسرائیل کے حملوں میں ہلاکت کے بعد مجتبیٰ خامنہ ای کو اسلامی جمہوریہ ایران کا رہبر منتخب کیا گیا۔ تقریباً سات ماہ گزرنے کے باوجود ان کی کوئی نئی تصویر یا آڈیو عوامی طور پر جاری نہیں کی گئی۔

سنہ 2026 کے اوائل میں ایرانی پارلیمان کی قومی سلامتی کمیٹی کے رکن اور پاسدارانِ انقلاب کے کمانڈر سالار ولایت مدار نے پاسدارانِ انقلاب کے قیام کی سالگرہ کی ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مجتبیٰ خامنہ ای کی نئی تصاویر جاری نہ کرنے کی وجہ دشمنوں کی جانب سے پراسرار علوم کے ذریعے نقصان پہنچانے کا خدشہ ہے۔

ان کے مطابق نجف، قم اور مشہد کے بعض علما کی رائے اور سکیورٹی حکام کے فیصلے کے تحت فی الحال مجتبیٰ خامنہ ای کی نئی تصاویر اور ویڈیوز جاری نہیں کی جا رہیں تاکہ دشمن انھیں ’خصوصی طریقوں اور علومِ غریبہ‘ کے ذریعے نقصان نہ پہنچا سکیں۔

سالار ولایت مدار نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ علی خامنہ ای کی رہائش گاہ پر حملے کے وقت موجود ایک محافظ کے مطابق مجتبیٰ خامنہ ای ملبے تلے دبے ہوئے ذکر کر رہے تھے اور انھیں صرف معمولی نوعیت کی چوٹیں آئی تھیں۔

ولایت مدار کے یہ بیانات اسلامی جمہوریہ ایران کی اعلیٰ ترین قیادت سے متعلق سکیورٹی معاملات کی وضاحت میں علومِ غریبہ کے استعمال کی ایک غیر معمولی مثال کے طور پر سامنے آئے، جس میں یہ دعویٰ کیا گیا کہ رہبر کی تصاویر کی اشاعت بھی انھیں ماورائی خطرات سے دوچار کر سکتی ہے۔

'BBC News اردو' ایڈیشن کا انتخاب کریں اور نیوز الرٹس، تحقیقاتی اور تفصیلی رپورٹس، سب کچھ ایک ہی جگہ پر حاصل کریں۔

نوٹ: نئی ایپ برطانیہ اور امریکہ میں دستیاب نہیں ہے اور اس کا انگریزی زبان میں ایڈیشن موجود نہیں۔