راولا کوٹ میں سکیورٹی فورسز کا ایکشن کمیٹی کے مظاہرین کے خلاف آپریشن، دو طرفہ فائرنگ اور جانی نقصان کے دعوے

Rawlakot, Kashmir
،تصویر کا کیپشنراولا کوٹ میں بس ٹرمینل کو مظاہرین سے خالی کروانے کے آپریشن کا آغاز جمعرات کو علی الصبح کیا گیا (فائل فوٹو)
    • مصنف, شہزاد ملک
    • عہدہ, بی بی سی اُردو، اسلام آباد
  • وقت اشاعت
  • مطالعے کا وقت: 4 منٹ

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے شہر راولا کوٹ میں قانون نافذ کرنے والے اداروں اور حال ہی میں کالعدم قرار دی گئی جموں کشمیر عوامی ایکشن کمیٹی کے کارکنوں میں جمعرات کی علی الصبح ہونے والی مبینہ مسلح جھڑپ کے بعد ضلعی انتظامیہ نے شہر میں دو یا دو سے زیادہ افراد کے جمع ہونے پر پابندی عائد کرتے ہوئے شہریوں کو محتاط رہنے کی ہدایات جاری کی ہیں۔

مقامی صحافیوں کے مطابق بس ٹرمینل سے مظاہرین کو ہٹانے کے لیے کیے گئے آپریشن کے بعد سے شہر میں صورتحال کشیدہ ہے۔

ضلعی انتظامیہ کے ایک سینیئر اہلکار نے بی بی سی اُردو کو بتایا کہ بس ٹرمینل کا علاقہ اب قانون نافذ کرنے والے اداروں کے کنٹرول میں ہے تاہم راولا کوٹ کے ڈی چوک میں چند مظاہرین موجود ہیں۔

پونچھ ڈویژن کی پولیس نے تصدیق کی ہے کہ راولا کوٹ کے بس ٹرمینل پر جمعرات کی صبح مظاہرین اور سکیورٹی اداروں کی جھڑپوں میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے چند اہلکار زخمی ہوئے ہیں، جن کی تفصیلات جلد پیش کی جائیں گی۔

جبکہ عوامی ایکشن کمیٹی نے ان جھڑپوں میں تین افراد کی ہلاکت کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ وہ میتوں کے ہمراہ راولا کوٹ کے ڈی چوک میں احتجاج پر موجود ہیں۔

اگرچہ سرکاری حکام نے جمعرات کی صبح ہونے والے آپریشن میں کسی ہلاکت کی تصدیق نہیں کی ہے تاہم پونچھ ڈویژن کی پولیس کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جوابی کارروائی میں مظاہرین میں موجود چند ’مسلح شرپسند‘ افراد کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔

ڈپٹی انسپیکٹر جنرل پولیس (پونچھ ریجن) کے آفس سے جاری کردہ پریس ریلیز میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ راولاکوٹ بس ٹرمینل کے قریب ’عوامی راستوں پر قائم غیر قانونی رکاوٹوں کو ہٹانے اور شہریوں کی آمد و رفت بحال کرنے کے لیے قانون نافذ کرنے والے اداروں نے ضروری اقدامات کیے جن کے دوران مظاہرین میں شامل مسلح افراد نے پولیس پر فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں پولیس کو جوابی کارروائی کرنا پڑی۔‘

Rawalakot, Kashmir
،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو

دوسری جانب کالعدم جموں کشمیر عوامی ایکشن کمیٹی کے رُکن عابد شاہین نے بی بی سی اُردو سے گفتگو کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ سکیورٹی فورسز نے راولا کوٹ بس ٹرمینل کو مظاہرین سے خالی کروانے کے لیے علی الصبح آپریشن کیا اور کارکنوں پر مبینہ طور پر براہِ راست فائرنگ کی گئی، جس کے نتیجے میں تین افراد ہلاک جبکہ متعدد زخمی ہوئے ہیں۔

تاحال حکام نے ہلاکتوں یا زخمیوں کی تعداد کی تصدیق نہیں کی ہے۔

عابد شاہین نے دعویٰ کیا کہ علاقے میں اُن کے کارکنوں کو اب بھی نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ انھوں نے کہا کہ اگرچہ بس ٹرمینل پر ابھی سکیورٹی فورسز کا کنٹرول ہے لیکن اُن کی جماعت کے کارکنان اس علاقے کے گردونواح میں موجود ہیں۔

ضلعی انتظامیہ کے ایک اہلکار نے بی بی سی اُردو کو بتایا کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے جمعرات کی صبح لگ بھگ پانچ بجے کارروائی کا آغاز کیا تھا جو ڈھائی گھنٹے تک جاری رہی۔

انھوں نے دعویٰ کیا کہ راولا کوٹ بس ٹرمینل کے علاقے کا کنٹرول حاصل کر لیا گیا ہے اور اس آپریشن کے دوران قانون نافذ کرنے والے اداروں اور تنظیم کے کارکنوں کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ بھی ہوا۔

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

یاد رہے کہ عوامی ایکشن کمیٹی کے کارکن اپنے مطالبات کے حق میں گذشتہ پانچ ماہ سے اس علاقے میں دھرنا دیے ہوئے ہیں اور انتظامیہ کے مطابق اس صورتحال کے باعث راولپنڈی سے راولاکوٹ آنے والی ٹریفک تعطل کا شکار رہتی ہے۔

پولیس نے مزید دعویٰ کیا ہے کہ جمعرات کی صبح پیش آنے والے واقعے سے متعلق سوشل میڈیا پر ’بے بنیاد اور گمراہ کن پروپیگینڈا‘ کیا جا رہا ہے اور ’حقائق کے برعکس من گھڑت افواہیں‘ پھیلائی جارہی ہیں جن کا مقصد عوام میں خوف و ہراس پیدا کر کے صورتحال کو مزید کشیدہ کرنا ہے۔

پونچھ کی ضلعی انتظامیہ کی جانب سے جاری کردہ پریس ریلیز میں شہریوں کو متنبہ کیا گیا ہے کہ ’شرپسندوں کی جانب سے فورسز پر فائرنگ کی جا رہی ہے‘ اسی لیے شہری خود اور اپنے بچوں کو گھروں تک محدود رکھیں اور کسی اجنبی شخص کو اپنے گھروں میں پناہ نہ دیں۔ انتظامیہ کے مطابق اس وقت شہر میں دفعہ 144 نافذ ہو چکی ہے۔

ضلعی انتظامیہ کے افسر نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ انتظامیہ دفعہ 144 کے تحت پانچ یا پانچ سے زیادہ افراد کے اکٹھے ہونے کو محدود کر سکتی ہے، یعنی تعداد محدود کر سکتی اور اسی لیے ضلعی انتظامیہ نے دو یا دو سے زیادہ افراد کے اکٹھا ہونے پر پابندی عائد کی ہے۔

انھوں نے کہا کہ صورتحال بہتر ہوتے ہی اس پابندی کو واپس لے لیا جائے گا۔

دوسری جانب ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ (باغ) کی جانب سے جاری ہونے والے ایک اعلامیے میں شہریوں کو تمام غیرقانونی اسلحہ حکومت کو جمع کروانے جبکہ لائسنس یافتہ اسلحے کو معائنے کی غرض سے پیش کرنے کی ہدایت جاری کی ہے۔

ایک بیان میں یہ کارروائی مکمل کرنے کے لیے دس روز کی مہلت دی گئی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس کے بعد ہدایات پر عمل نہ کرنے والے افراد کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔