تین ارب ڈالر کا سعودی قرض ’رول اوور‘: دوست ممالک کے ڈیپازٹس پاکستانی معیشت کا اہم جزو کیوں بن گئے؟

،تصویر کا ذریعہEPA
- مصنف, تنویر ملک
- عہدہ, صحافی
- وقت اشاعت
- مطالعے کا وقت: 7 منٹ
پاکستان کے وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے اعلان کیا ہے کہ سعودی عرب نے پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر میں موجود اس کے تین ارب ڈالر کو ’مناسب مدت کے لیے رول اوور‘ کر دیا ہے۔
وزیر خزانہ نے پارلیمان میں میڈیا کو بتایا کہ سعودی عرب نے اس سال اپریل میں پاکستان کو دیے گئے تین ارب ڈالر کو رول اوور کر دیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ’میری سعودی وزیر خزانہ سے بہت اچھی میٹنگ بھی ہوئی، سعودی عرب کے ساتھ جس طرح کے ہمارے تعلقات ہیں، اس میں ہمیں پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔‘
ان کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کی طرف سے مزید سپورٹ کی فی الحال ضرورت نہیں اور ’ہمارے پاس تین ماہ کا امپورٹ کور موجود ہے۔‘
وزیر خزانہ نے یہ بھی بتایا کہ اس سے پہلے حال ہی میں بنکاک میں عالمی بینک اور آئی ایم ایف کے اجلاسوں کے موقع پر سعودی حکام کے ساتھ ملاقات میں انھوں نے پانچ ارب ڈالر کے ڈیپازٹ کی سہولت کو 2028 تک بڑھا دیا ہے۔
پاکستان کے وزیر خزانہ کی جانب سے زرمبادلہ ذخائر میں سعودی عرب کی جانب سے رکھے گئے ڈیپازٹس کا رول اوور کوئی نئی بات نہیں کیونکہ ہر سال ایسی خبریں سننے میں آتی ہیں کہ سعودی عرب، چین اور دوسرے دوست ممالک نے پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر میں رکھے گئے ڈیپازٹس کو رول اوور کر دیا ہے۔
تاہم اس سال کے شروع میں یہ خبر سامنے آئی تھی کہ متحدہ عرب امارات نے پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر میں رکھے گئے اپنے تین ارب ڈالر واپس مانگ لیے جس کے بعد پاکستان نے سعودی عرب سے تین ارب ڈالر لے کر اسے متحدہ عرب امارات کو واپس کر دیا تھا۔
بی بی سی اردو نے پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر میں بیرونی ڈیپازٹس کے بارے میں ماہرین معیشت سے بات کر کے ان کی اہمیت اور واپسی کی صورت میں ملکی معیشت پر ممکنہ اثرات پر بات کی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
پاکستانی زرمبادلہ ذخائر میں دوست ممالک کا کتنا حصہ ہے؟
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
پاکستان کے پاس اس وقت مجموعی طور پر 26.75 ارب ڈالر کے ذخائر موجود ہیں۔ سٹیٹ بینک آف پاکستان کے مطابق اس کے پاس 21.5 ارب ڈالر کے ذخائر موجود ہیں جبکہ کمرشل بینکوں کے پاس 5.2 ارب ڈالر کے ذخائر ہیں۔
تاہم سٹیٹ بینک کے پاس موجود زرمبادلہ ذخائر میں ایک بڑا حصہ ان ڈیپازٹس کا ہے جو دوست ملکوں کی جانب سے پاکستان کو دیے گئے ہیں۔ سٹیٹ بینک کے پاس موجود 21.5 ارب ڈالر میں سے 12.7 ارب ڈالر کے ڈیپازٹس ہیں جن میں سعودی عرب کی جانب سے دیے گئے آٹھ ارب ڈالر، چین کی جانب سے دیے گئے چار ارب ڈالر اور کویت کی جانب سے دیے گئے 70 کروڑ ڈالر ہیں۔
وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کے مطابق سعودی عرب نے پاکستان کے پاس موجود تین ارب ڈالر کا رول اوور کر دیا ہے جو اس سال اپریل میں دیے گئے تھے اور اس سے پہلے سعودی عرب پانچ ارب ڈالر کی سہولت بھی دے چکا ہے۔
ڈیپازٹس کے رول اوور کے بارے میں پاکستان کے سابق سپیشل سیکرٹری فنانس اور سابق ڈائریکٹر جنرل ڈیبٹ آفس، وزارت خزانہ ڈاکٹر اشفاق حسن نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ دوست ملکوں کی جانب سے ڈیپازٹس زرمبادلہ ذخائر کو ایک معقول سطح پر رکھنے کے لیے دیے جاتے ہیں۔
انھوں نے کہا اس کا نفسیاتی اثر ایکسچینج ریٹ پر ہوتا ہے کہ ملک کے زرمبادلہ ذخائر معقول سطح پر موجود ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ اس وقت پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر میں دوست ملکوں کی جانب سے دیے گئے ڈیپازٹس زرمبادلہ ذخائر کا اہم حصہ ہیں جس کی وجہ سے پاکستان کا آئی ایم ایف سے قرض پروگرام بھی ہوا تھا۔
ڈاکٹر اشفاق نے بتایا کہ جب پاکستان موجودہ پروگرام کے لیے آئی ایم ایف سے مذاکرات کر رہا تھا تو اس میں آئی ایم ایف نے پاکستان سے کہا تھا کہ وہ اپنے دوست ملکوں سے یہ تحریری طور پر لکھوائے کہ وہ ان ڈیپازٹس کو رول اوور کریں گے تاکہ زرمبادلہ ذخائر ایک خاص سطح پر موجود رہیں۔
انھوں نے کہا کہ دوست ملکوں نے یہ لکھ کر دیا تو اس کے بعد رول اوور ہوتے رہتے ہیں اور اب تازہ پیش رفت میں سعودی عرب نے تین ارب ڈالر کو رول اوور کیا۔
تاہم انھوں نے کہا کہ یہ ملک اپنے ڈیپازٹس واپس بھی لے سکتے ہیں جیسے کہ متحدہ عرب امارات نے اس سال کے شروع میں اپنے تین ارب ڈالر واپس لیے تھے۔

،تصویر کا ذریعہPID
بیرونی ڈیپازٹس اور ان کا رول اوور کیوں ضروری ہے؟
دوست ملکوں کی جانب سے پاکستان کے پاس رکھے گئے ڈیپازٹس اور ان کا رول اوور اب پاکستان کی معیشت میں ایک معمول کی کارروائی بن چکی ہے۔
پاکستان کی معیشت میں ان ڈیپازٹس اور ان کی اہمیت کے بارے میں ڈاکٹر اشفاق کہتے ہیں کہ ان ڈیپازٹس کو ویسے تو معاشی پالیسی کا حصہ نہیں ہونا چاہیے تھا لیکن اب نہ چاہتے ہوئے بھی ایک حصہ بن چکے ہیں تاکہ ملک کی زرمبادلہ ذخائر کی ضرورت کو پورا کیا جا سکے۔
ان کے مطابق پاکستان کو بیلنس آف پیمنٹس کے شعبے میں قرض بھی ادا کرنے ہوتے ہیں اور درآمدات کے لیے بھی ڈالر کی ضرورت ہوتی ہے۔
انھوں نے کہا کہ اصل میں برآمدات اور غیر ملکی سرمایہ کاری کسی ملک کی فارن ایکسچینج کمائی ہوتی ہے تاہم پاکستان کی برآمدات بڑھ نہیں سکیں اور ابھی تک 2016 اور 2017 کی سطح پر موجود ہیں۔ دوسری جانب غیر ملکی سرمایہ کاری بھی ایک ڈیڑھ ارب ہے جو پاکستان جیسے ملک کے لیے نہ ہونے کے برابر ہے۔
انھوں نے کہا کہ بیرون ملک پاکستانیوں کی جانب سے ملک میں بھیجی جانے والی ترسیلات زر نے بیرونی فنانسنگ کے شعبے کو سنبھالا ہوا ہے اور دوسری جانب دوست ملکوں کے ڈیپازٹس کی وجہ سے زرمبادلہ ذخائر اس وقت معقول سطح پر موجود ہیں۔
پاکستان کے سابق وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ اب یہ ملکی معیشت میں ایک روٹین بن چکی ہے کہ دوست ملکوں سے پیسے مانگ کر اپنے زرمبادلہ ذخائر کا انھیں حصہ بنانا۔
انھوں نے کہا ’یہ ادھار مانگنے کا ایک مختلف طریقہ بن چکا ہے کہ جیسے کوئی بینک سے قرض نہ لے پائے تو پھر دوستوں سے قرض مانگتا ہے۔‘
مفتاح نے بتایا کہ ایکسپورٹ اور غیر ملکی سرمایہ کاری کے حالات اچھے نہیں ہیں کہ اس سے زرمبادلہ پاکستان میں لایا جا سکے اس لیے ڈیپازٹس کے ذریعے ان ذخائر کو سہارا دیا گیا ہے۔
اگر ڈیپازٹس واپس ہو جائیں تو کیا پاکستان بیرونی فنانسنگ کے شعبے کو سنبھال پائے گا؟
پاکستان کو درآمدات، بیرونی قرض اور اس پر سود کی ادائیگی کے لیے ڈالروں کی ضرورت ہوتی ہے جس سے زرمبادلہ ذخائر پر دباؤ آتا ہے تاہم دوست ملکوں کے 12 ارب ڈالر سے زائد کے ڈیپازٹس نے فی الحال انھیں سہارا دیا ہوا ہے۔
تاہم ان ڈیپازٹس کی واپسی سے زرمبادلہ ذخائر پر ممکنہ اثرات کے بارے میں ڈاکٹر اشفاق حسن نے کہا کہ اس سال کے شروع میں جب متحدہ عرب امارات نے پاکستان سے تین ارب ڈالر واپس مانگے تھے تو پاکستان نے سعودی عرب سے تین ارب ڈالر لے کر اسے دیے تھے تاکہ زرمبادلہ ذخائر پر کوئی منفی اثر نہ پڑے۔
انھوں نے کہا اگر یہ ڈیپازٹس واپس ہو جائیں تو لازمی طور پر اس کا نفسیاتی اثر پڑے گا اور ایکسچینج ریٹ پر دباؤ آ سکتا ہے۔
تاہم انھوں نے کہا کہ حکومتیں ایسی صورت میں انتظام کر لیتی ہیں جیسے کہ پاکستان نے متحدہ عرب امارات کی جانب سے تین ارب ڈالر کی واپسی کے وقت صورتِ حال کو سنبھال لیا تھا۔
مفتاح اسماعیل نے اس سلسلے میں کہا کہ ان ڈیپازٹس کی واپسی کی صورت میں ’اثرات تو لازمی مرتب ہوں گے کیونکہ پاکستان کے زرمبادلہ کی کمائی کے ذرائع جن میں برآمدات اور غیر ملکی سرمایہ کاری شامل ہیں ان کی صورتِ حال حوصلہ افزا نہیں ہے۔‘
پاکستان کے وزیر خزانہ کے مشیر خرم شہزاد سے جب رابطہ کیا گیا تو انھوں نے اس پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ وزیر خزانہ اس پر بات کر چکے ہیں اور اسے ہی سرکاری موقف کے طور پر لیا جائے۔
'BBC News اردو' ایڈیشن کا انتخاب کریں اور نیوز الرٹس، تحقیقاتی اور تفصیلی رپورٹس، سب کچھ ایک ہی جگہ پر حاصل کریں۔
نوٹ: نئی ایپ برطانیہ اور امریکہ میں دستیاب نہیں ہے اور اس کا انگریزی زبان میں ایڈیشن موجود نہیں۔




















