بلوچستان میں 20 کروڑ کی بینک ڈکیتی: یونیورسٹی طلبہ نے سکیورٹی فورسز کی وردیاں آن لائن منگوائیں

gettyimages
    • مصنف, محمد کاظم
    • عہدہ, بی بی سی اردو
    • مقام, کوئٹہ
  • وقت اشاعت
  • مطالعے کا وقت: 7 منٹ

’یونیورسٹی کے طلبہ نے اپنی طرف سے بینک ڈکیتی کی ایسی منصوبہ بندی کی تھی جس کی بنیاد پر ان کا خیال تھا کہ وہ پکڑے نہیں جائیں گے، لیکن پولیس نے انسانی ذرائع اور جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے ان کا سراغ لگا لیا۔‘

یہ کہانی بلوچستان کے ضلع لسبیلہ کے علاقے اوتھل میں گذشتہ سال پیش آنے والی بینک ڈکیتی کی ہے، جہاں پولیس کے مطابق مسلح ملزمان 20 کروڑ 20 لاکھ روپے لوٹ کر فرار ہو گئے تھے۔

پولیس حکام کے مطابق یہ کوئی معمول کی ڈکیتی نہیں تھی۔ ملزمان نے گرفتاری سے بچنے کے لیے تفصیلی منصوبہ بندی کی تھی، جس کا ایک پہلو یہ تھا کہ وہ بینک میں سیکورٹی فورسز کی وردی میں کسی ٹرانزیکشن کی تفتیش کے لیے داخل ہوئے۔

لسبیلہ پولیس کے سینیئر سپرنٹنڈنٹ پولیس (ایس ایس پی) نجیب اللہ پندرانی کے مطابق تفتیش کے دوران ایک اہم سراغ مرکزی ملزم کے بینک اکاؤنٹ سے ملا۔

’ڈکیتی سے پہلے ان کے اکاؤنٹ میں ہزاروں روپے کی ٹرانزیکشنز ہوتی تھیں، لیکن واردات کے بعد یہ رقم کروڑوں روپے تک پہنچ گئی۔‘

کیس کی تفتیش سے وابستہ ایک اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی کو بتایا کہ ملزمان میں سے ایک شخص پہلے بینک میں ملازمت کر چکا تھا، جس کی وجہ سے اسے معلوم تھا کہ بینک میں نقد رقم کہاں رکھی جاتی ہے اور کس طرح زیادہ سے زیادہ رقم تک رسائی حاصل کی جا سکتی ہے۔

واردات کے بعد اوتھل کے ایس ایچ او یار محمد نے ملزمان کا تعاقب کیا، تاہم فائرنگ کے تبادلے میں وہ شدید زخمی ہوئے اور پولیس حکام کے مطابق ان کی ایک آنکھ ضائع ہو گئی۔

پولیس کے مطابق ملزمان نے نہ صرف منظم منصوبہ بندی کی بلکہ واردات میں استعمال ہونے والی گاڑی کو بھی بعد میں جلا دیا ’تاکہ شواہد مکمل طور پر مٹا دیے جائیں۔‘

گذشتہ روز اوتھل میں ایک پریس کانفرنس کے دوران ایس ایس پی لسبیلہ نے بتایا کہ تین ملزمان کو گرفتار کر لیا گیا ہے جبکہ دیگر کی گرفتاری کے لیے کارروائیاں جاری ہیں۔

پولیس ملزمان تک کیسے پہنچی؟ اس سے پہلے ذکر اُس منصوبہ بندی کا جو ملزمان نے گرفتاری سے بچنے کے لیے کی۔

اوتھل بازار
،تصویر کا کیپشناوتھل بازار، جہاں موجود بینک میں ڈکیتی کا واقعہ پیش آیا

’ملزمان سکیورٹی فورسز کی وردی میں بینک پہنچے تھے‘

اوتھل میں یہ بینک ڈکیتی 28 فروری 2025 کو ہوئی تھی۔

بینک منیجر فلک شیر کی مدعیت میں درج ایف آئی آر کے مطابق چھ ملزمان سکیورٹی فورسز کی وردی میں ایک گاڑی پر سوار ہو کر بینک کے مرکزی دروازے سے اندر داخل ہوئے۔

مدعی کے مطابق آپریشن منیجر جہانگیر نے فون پر اطلاع دی کہ ملزمان نے پہنچتے ہی پوچھا کہ منیجر کہاں ہے کیونکہ وہ ایک ٹرانزیکشن کی تفتیش کے لیے آئے ہیں۔

بینک منیجر کے مطابق جب وہ موقع پر پہنچے تو دیکھا کہ مزاحمت کرنے پر ملزمان نے پولیس اہلکار نواز علی اور محمد داؤد کو رائفل کے بٹ مار کر زخمی کیا اور ان سے ایک جی تھری رائفل بھی چھین لی۔

’آپریشن منیجر نے بتایا کہ ملزمان نے مجھ سمیت تمام عملے کو یرغمال بنا لیا تھا۔‘

ایف آئی آر کے مطابق ملزمان نے بینک میں موجود 20 کروڑ 20 لاکھ روپے چھ بوریوں میں بھرے، انھیں گاڑی کی ڈگی میں رکھا اور بینک عملے کو کیش والٹ میں بند کر کے فرار ہو گئے۔

اُس وقت یار محمد اوتھل میں ایس ایچ او تعینات تھے۔

بی بی سی سے گفتگو میں انھوں نے بتایا کہ صبح تقریباً نو سے ساڑھے نو بجے کے درمیان اطلاع ملی کہ نیشنل بینک اوتھل میں ڈکیتی ہوئی ہے۔ جب وہ نفری کے ساتھ بینک پہنچے تو ملزمان جا چکے تھے۔

ابتدائی معلومات سے معلوم ہوا کہ ملزمان ایک پرانے ماڈل کی گاڑی میں آر سی ڈی شاہراہ کی طرف گئے ہیں۔

یار محمد کے مطابق بعد میں معلوم ہوا کہ گاڑی بلوچ گوٹھ کی جانب گئی ہے۔

انھوں نے بتایا کہ گاڑی کا پیچھا کیا گیا، ’جب قریب پہنچے تو ملزمان نے فائرنگ کر دی۔ مجھے دو گولیاں لگیں، ایک ٹانگ میں اور دوسری آنکھ کے قریب۔‘

یار محمد کے مطابق ان کے زخمی ہونے کے بعد ملزمان پہاڑوں کی طرف فرار ہو گئے اور اپنی گاڑی کو آگ لگا دی۔

ایس ایس پی نجیب اللہ پندرانی بتاتے ہیں کہ اس واقعے میں یار محمد کی ایک آنکھ ضائع ہو گئی۔

ملزمان نے گاڑی کو آگ کیوں لگائی؟

تفتیشی ٹیم سے وابستہ ایک اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ملزمان جانتے تھے کہ گاڑی ان کے سراغ میں پولیس کو مدد دے سکتی ہے۔

اہلکار کے مطابق فنگر پرنٹس اور دیگر فرانزک شواہد گاڑی سے حاصل کیے جا سکتے تھے، جبکہ ملزمان اس گاڑی کو پہاڑی علاقے میں بھی نہیں لے کر جا سکتے تھے۔

’گاڑی پیچھے چھوڑنے کی صورت یہ لازمی پولیس کی تحویل میں آ جاتی، اس لیے انھوں نے اسے جلا دیا تاکہ فنگر پرنٹس سمیت تمام شواہد مٹ جائیں۔‘

اہلکار نے بتایا کہ واردات میں استعمال ہونے والے دو ہتھیار بھی گاڑی کے ساتھ جلا دیے گئے۔

ان کے مطابق ملزمان نے ابتدا ہی سے ایسی منصوبہ بندی کی تھی جس کا مقصد واردات کو عام ڈکیتی سے مختلف بنانا اور پولیس کو گمراہ کرنا تھا۔

ایس ایس پی نجیب اللہ پندرانی کے مطابق ڈکیتی میں ملوث افراد میں پانچ لسبیلہ یونیورسٹی آف میرین سائنسز کے موجودہ اور سابق طالب علم تھے۔

بینک ڈکیتی کے ملزمان سے برآمد ہونے والی گاڑیاں
،تصویر کا کیپشنبینک ڈکیتی کے ملزمان سے برآمد ہونے والی گاڑیاں

انھوں نے بتایا کہ مرکزی ملزم، جو اب گرفتار ہیں، یونیورسٹی میں زیرِ تعلیم تھے۔

پولیس کے مطابق دیگر ملزمان میں سے بعض اب بھی یونیورسٹی میں زیر تعلیم ہیں جبکہ کچھ فارغ التحصیل ہو چکے ہیں۔

ایس ایس پی کے مطابق ملزمان کی عمریں 25 سے 26 سال کے درمیان ہیں۔

ان کا دعویٰ ہے کہ ’مرکزی ملزم اس واردات کے ماسٹر مائنڈ ہیں، جنھوں نے ساتھیوں کے ساتھ مل کر منصوبہ بندی کی اور واردات کو عملی جامہ پہنایا۔‘

پولیس کے مطابق اب تک تین ملزمان گرفتار ہو چکے ہیں جبکہ دیگر کی تلاش جاری ہے۔

تفتیشی اہلکار کے مطابق واردات میں شامل ایک ملزم پہلے تربت کے ایک بینک میں کام کر چکے تھے۔

انھوں نے بتایا کہ اسی وجہ سے انھیں بینک کے طریقہ کار اور نقد رقم کے ذخیرے کے بارے میں معلومات حاصل تھیں۔

پولیس کے مطابق اسی معلومات کی بنیاد پر ملزمان نے پہلے سے منصوبہ بنایا اور بینک کے اندر موجود بڑی رقم تک پہنچنے میں کامیاب ہوئے۔

لسبیلہ پولیس کے سربراہ نجیب اللہ پندرانی
،تصویر کا کیپشنلسبیلہ پولیس کے سربراہ نجیب اللہ پندرانی بینک ڈکیتی کے ملزمان کی گرفتاری کے حوالے سے پریس کانفرنس کررہے ہیں

سکیورٹی فورسز کی وردیاں آن لائن منگوائی گئیں

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

تفتیشی اہلکار کے مطابق ملزمان چاہتے تھے کہ وہ بینک کے اندر تک بغیر مزاحمت پہنچ جائیں۔

اس مقصد کے لیے انھوں نے سکیورٹی فورسز کی وردیاں استعمال کرنے کا فیصلہ کیا۔

اہلکار کے مطابق ملزمان نے کپڑا خرید کر وردیاں سلوانے کے بجائے انھیں ایک کمپنی سے آن لائن منگوایا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ وردیاں دسمبر 2024 میں حاصل کی گئیں جبکہ واردات فروری 2025 میں کی گئی۔

ایس ایس پی نجیب اللہ پندرانی کے مطابق اس واردات کی تفتیش پولیس کے لیے بڑا چیلنج تھا۔

انھوں نے بتایا کہ تفتیش کے آغاز میں انسانی ذرائع سے معلومات حاصل کی گئیں اور بعد ازاں جدید تکنیکی ذرائع استعمال کیے گئے۔

ان کے مطابق مرکزی ملزم کے بینک اکاؤنٹ نے تفتیش میں اہم کردار ادا کیا۔ واردات سے قبل اکاؤنٹ میں معمولی ٹرانزیکشنز ہوتی تھیں، لیکن بعد میں یہ کروڑوں روپے تک جا پہنچی۔

ایس ایس پی کے مطابق گذشتہ ڈیڑھ سال کے دوران ان کے اکاؤنٹ میں 17 کروڑ روپے کی ٹرانزیکشنز کا سراغ ملا، جس کے بعد انھیں گرفتار کیا گیا اور ان کی نشاندہی پر مزید دو ملزمان گرفتار ہوئے۔

پولیس کے مطابق دیگر ملزمان کے موبائل فونز کا فرانزک تجزیہ بھی کیا گیا اور آلات کو مزید جانچ کے لیے پنجاب فرانزک لیبارٹری بھجوا دیا گیا ہے۔

ایس ایس پی نجیب اللہ پندرانی کے مطابق ایک مقامی تاجر کے اکاؤنٹ سے بھی ڈکیتی کی رقم میں سے تقریباً پونے تین کروڑ روپے کی ٹرانزیکشن سامنے آئی۔

ان کے مطابق تاجر نے اس کا اعتراف کر لیا ہے اور ان کا بیان مجسٹریٹ کے سامنے ریکارڈ ہو چکا ہے۔

کیس کی تفتیش سے وابستہ اہلکار کا کہنا ہے کہ لوٹی گئی رقم کا کچھ حصہ کاروباری سرگرمیوں میں بھی لگایا گیا۔

پولیس کے مطابق اس رقم سے چار کروڑ روپے سے زائد مالیت کی گاڑیاں اور دیگر اشیا خریدی گئیں، جن میں سے بعض برآمد کر لی گئی ہیں جبکہ باقی رقم اور اثاثوں کی بازیابی کے لیے کارروائی جاری ہے۔

ایس ایس پی نجیب اللہ پندرانی کے مطابق گرفتار ملزمان کا 14 روزہ جسمانی ریمانڈ حاصل کیا گیا تھا۔

انھوں نے بتایا کہ مزید ریمانڈ درکار نہ ہونے پر عدالت نے جمعرات کو ملزمان کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا۔

گرفتار ملزمان سے رابطہ ممکن نہ ہونے کے باعث ان کے خلاف عائد الزامات پر ان کا مؤقف حاصل نہیں کیا جا سکا۔

پولیس کے مطابق باقی تین ملزمان اور ان کے سہولت کاروں کی گرفتاری کے لیے کارروائیاں جاری ہیں۔

’BBC News اردو‘ ایڈیشن کا انتخاب کریں اور نیوز الرٹس، تحقیقاتی اور تفصیلی رپورٹس، سب کچھ ایک ہی جگہ پر حاصل کریں۔

نوٹ: نئی ایپ برطانیہ اور امریکہ میں دستیاب نہیں ہے اور اس کا انگریزی زبان میں ایڈیشن موجود نہیں۔