پاکستانی ڈراموں کے پیچیدہ کردار: ’پہلے بھی ہیرو سگریٹ کا کش ہیروئن پر پھونکتا تھا، تو ہم کہتے تھے کتنا رومینٹک ہے‘

،تصویر کا ذریعہARY
- مصنف, نازش ظفر
- عہدہ, صحافی
- وقت اشاعت
- مطالعے کا وقت: 7 منٹ
اس وقت پاکستان میں مقبول ترین ڈراموں میں مرکزی کرداروں میں ایسے ہیرو اور ہیروئن ہیں جو عام توقع کے مطابق بہترین اور آئیڈیل نہیں مانے جا سکتے۔ ان کی تہہ دار شخصیت کے کئی پہلو ہیں جو بلیک اور وائٹ سے ہٹ کر گرے کہلائے جا سکتے ہیں۔
یہ ٹرینڈ پاکستانی ڈرامے کے لیے خصوصاً نیا ہے جہاں اب سے پہلے ہیروئن کے لیے حسین، اور حیا دار، ہر وقت قربانی کے لیے تیار، ہر عیب سے پاک ہونا ضروری تھا جبکہ ہیرو عملاً نہ سہی لیکن باتوں کی حد تک ہیروئن کے لیے تارے توڑ کر لانے والا خوبرو شہزادہ تھا۔ جس میں نہ تو کوئی کمی تھی، نہ ہی کوئی کوتاہی اس سے سرزد ہو سکتی تھی۔
ڈراموں کے کرداروں پر سوشل میڈیا پر کی جانے والی بحث اب کسی بلیک یا وائٹ سمجھے جانے والے کردار کی ایسی پرتیں کھولتی ہیں کہ اس کے کئی گرے شیڈ سامنے آتے ہیں۔ اب ابوبکر جیسا ہیرو بھی ’ریڈ فلیگ‘ ثابت کیا جا سکتا ہے۔
اس وقت سوشل میڈیا پر بحث کے لیے مقبول ترین ڈراموں میں ’درِ نجات‘ شامل ہے۔ بظاہر ہیرو ابوبکر کے کردار پر ریلز، میمز اور کمنٹس کی صورت میں تعریفوں کے پل باندھے گئے ہیں۔ ہیروئن زریاب کے لیے اس کا احترام، صبر، توجہ اور نرمی دیکھتے ہوئے بے شمار عورتیں یہ سوال کرتی دکھائی دیتی ہیں کہ کہاں ملتا ہے یہ ابوبکر!
لیکن ابوبکر کا کردار ادا کرنے والے اداکار شہریار منور نے بی بی سی اُردو کو دیے گئے ایک انٹرویو میں خود یہ کہا کہ ’ابوبکر پرفیکٹ نہیں ہے، وہ بھی غلطی کرتا ہے، وہ غیر ضروری طور پر لوگوں کو خوش کرنے والا انسان ہے، بلکہ اسے سیوئر کمپلیکس ہے یعنی بلاوجہ اسے لوگوں کا مسیحا بننے کا شوق ہے۔‘
جبکہ سوشل میڈیا پر تبصرہ کرنے والے کئی ناقدین نے ابوبکر کو ’ماماز بوائے‘ بھی کہا، جو صرف ماں کے کہنے پر اپنی ذاتی ترجیحات چھوڑ کر ایک لڑکی کو زندگی میں شامل کر رہا ہے۔
تجزیہ کار صباحت زکریا نے اپنی ایک انسٹا گرام ویڈیو میں اس کردار کے بارے میں کہا کہ جب ابوبکر نے اپنے لیے پہلے آئے ایک رشتے کو مسترد کیا تھا تو ’اس کی وجہ اس کا کنٹرول تھا۔ اسے مالدار لوگوں کی لڑکی سے شادی میں اپنے دب جانے کا ڈر تھا۔‘

،تصویر کا ذریعہsheheryarmunawar
ایچ ایس لائف گرام نامی اکاؤنٹ سے یہ تک کہا گیا ’ابوبکر جنریشنل ٹراما کا رزلٹ ہے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
اسی طرح ایک اور مقبول ڈرامے ’مٹی دے باوے‘ میں دونوں مرکزی کردار بلو (ماہرہ خان) اور بالا ( وہاج علی) کسی بھی ہیرو اور ہیروئن کی طرح حسین، ہینڈسم اور گلیمرس ہیں، لیکن دودھ کے دھلے بالکل نہیں ہیں۔
ہر قسط پر کئی ملین ویوز کے ساتھ دونوں مرکز ی کرداروں اور معاون کرداروں پر بات ہوتی ہے جن کی کہانی نے محبت سے زیادہ نفرت میں جنم لیا ہے۔
ڈرامے کی کہانی 80، 90 کی دہائی کے پنجاب سے ہے، جہاں بظاہر الہڑ عمر کا ایک لڑکا ’بالا‘ ایک ایسی لڑکی ’بلو‘ کے عشق میں گرفتار ہے جو ذات پات اور سماجی رتبے میں اس سے کہیں بلند ہے۔ بلو شادی سے انکار کر کے اسے دھتکارتی ہے اور یہاں سےنفرت اور بدلے کی آگ کا ایسا سلسلہ شروع ہوتا ہے جس میں دونوں بھسم ہوئے اور ہر قسط میں ایک دوسرے کے لیے ایک سے بڑھ کر ایک ولن ثابت ہوئے۔
ڈرامے کی کئی اقساط کے بعد، انتقام کے اس کھیل میں ’ہیرو‘ ایک قاتل اور ڈکیت بن چکا ہے۔ لیکن ناظرین میں اس کی مقبولیت پہلے سے کہیں بڑھ گئی ہے۔
ایک مجرم ہونے کے باوجود ناظرین میں اس کے لیے پسندیدگی اور ہمدردی بلکل ایسے ہی ہے جیسے کسی بھی ہیرو کے لیے۔ سوشل میڈیا پر کئی ناقدین بمشکل یہ باور کروا رہے ہیں کہ وہ بہرحال ایک ڈاکو ہے۔ وہ محبوبہ بلو سے محبت کبھی نہیں کرتا تھا۔ اس نے شادی کے بعد بھی بیوی کو جائز مقام نہیں دیا اور اب بیوی کے ہوتے ایک تیسری عورت کے عشق میں گرفتار ہے۔
تو ایسے ’ریڈ فلیگ‘ شخص سے ہیرو جیسی ہمدردی کیوں؟
جبکہ دوسری جانب صارفین کا کہنا ہے کہ اس کے خاندان کو ’کمی کمین‘ کہہ کر پے در پے کی جانے والی بے عزتی نے اقبال چنن کو بالا ڈکیت بنا دیا۔ لیکن وہ ان کا ’ہیرو‘ ہی رہے گا۔
کیا ایسے تہہ دار کیریکٹر اسی لیے لکھے جا رہے ہیں کہ سوشل میڈیا پر مقبول کیے جا سکیں؟
معروف ہدایتکار سیف حسن نے اس بارے میں بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ایسا نہیں ہے کہ لکھاری یا ہدایتکار اس سوچ کے ساتھ ایسے کیرکٹر لکھ رہے ہیں کہ انھیں سوشل میڈیا پر مقبول کیا جا سکے۔
’یہ میچورٹی کی علامت ہے۔ یہ حقیقت پسندانہ رویہ ہے کیونکہ اصل زندگی میں کوئی مکمل انسان نہیں ہوتا۔ ہر انسان میں ہمدردی، کسی حد تک لالچ کے جذبات ہوتے ہیں۔ غصہ ہوتا ہے، محبت ہوتی ہے، کم یا زیادہ ہو سکتا ہے۔ اگر ایسا کردار لکھیں جس میں کوئی کمی نہ ہو تو یہ تو افسانوی بات ہو گی۔ تو یہ کردار تو اچھی بات ہیں۔‘
ایک طرف ایسے مرد کردار ہیں جن کی کمیاں اور کوتاہیاں انھیں 'پاپولر' ہونے سے نہیں روک سکتیں۔ دوسری طرف خواتین کردار بھی عورت ہونے کے ناطے ان سے وابستہ روایتی توقعات کو رد کر کے اپنی انفرادیت جتانے میں کسی سے پیچھے نہیں ہیں۔
درِ نجات کی ہیروئن زریاب ( درفشاں) سے توقع یہی کی جاتی ہے کہ وہ ایک مرد سے تعلق میں رہنے اور دھوکہ کھانے کے بعد ابوبکر جیسا ’اچھا مرد‘ ملنے پر صبر شکر کیوں نہیں کر لیتی۔
لیکن زریاب اس توقع کے برعکس یہ ضرور بتا رہی ہے کہ اس کا صدمہ حقیقت پر مبنی ہے اور وہ اپنی ذہنی اذیت کے اظہار کا حق رکھتی ہے۔ چاہے اس کا رویہ سب کے لیے ناقابل قبول ہی کیوں نہ ہو۔ صرف ایک ’اچھے مرد‘ کا مل جانا اس کی زندگی کی حتمی خوشی نہیں بن سکتا۔

،تصویر کا ذریعہGreen Entertainment,
مٹی دے باوے کی ’بلو‘ کا شادی کے کئی سال کے بعد ’پرانے عاشق‘ سے آمنا سامنا ہوتا ہے تو ایک بار تو وہ اس کی منت کرتی ہے کہ پرانے تعلق کو سامنے لا کر اس کی عزت داغدار نہ کرے۔ یہاں تک وہ روایتی عورت ہی نظر آئی جسے اپنا گھر بچانے کی فکر ہے۔
لیکن اس کے ساتھ ہی وہ ’بالے‘ کے بھائی کا رشتہ لانے پر کسی تعلق اور نام نہاد عزت کی پرواہ کیے بغیر اس کے ’کمی‘ ہو کر یہ ’جرات‘ کرنے پر اس کی بربادی کا ایسا سامان کرتی ہے کہ اقبال چنن گھر، کاروبار، بھائی کی جان، بچی کھچی عزت سب کچھ لٹا کر ڈکیت کی زندگی گزارنے پر مجبور ہوجاتا ہے۔
غیر روایتی خاتون کردار کا ایسا ہی ایک اور ڈرامہ ’حرمت‘ بھی سوشل میڈیا پر زیر بحث ہے جہاں بیجا سختیوں میں پلنے والی یونیورسٹی کی طالبہ ’حرمت (دنانیر مبین)‘ تھوڑی ہی آزادی ملنے کے بعد ان تمام حدود کو پار کر رہی ہے جو اب تک پاکستانی ڈرامے کی ہیروئن کے لیے ’شجر ممنوعہ‘ تھیں۔
وہ برقعے کے بعد نقاب اور پھر دوپٹہ بھی اتار چکی ہے، گھر پر جھوٹ بتا کر باہر جانے لگی ہے جبکہ ہیرو ’تابش (شاہویر جعفری)‘ کو پانے کے لیےاس کا تعاقب بھی خود کر رہی ہے۔ جبکہ شادی طے ہو جانے کے بعد اس رشتے کو توڑنے میں بھی ایک منٹ نہیں لگاتی۔
سوشل میڈیا پر صارفین ’حرمت‘ کو بھی ریڈ فلیگ قرار دے رہے ہیں۔ لیکن وہ انھیں ہیروئنز کی فہرست میں ہے جو وفا اور قربانی کا پتلا نہیں ہے لیکن ایک جیتی جاگتی انسان ہے جس سے غلطیاں بھی سرزد ہوتی ہیں۔

،تصویر کا ذریعہHUM TV
آمنہ حیدر عیسانی معروف انٹرٹینمنٹ جرنلسٹ اور تجزیہ کار ہیں، بی بی سی سے بات کرتے ہوئے اُن کا کہنا ہے اب سے پہلے بھی ہیرو یک رُخی یا ’فلیٹ‘ کردار نہیں ہوتا تھا۔
’پہلے بھی ہیرو سگریٹ کا کش لے کر ہیروئن کے منھ پر پھونکتا تھا اور ہم کہتے تھے واہ کتنی رومینٹک بات ہے۔ وہ پہلے بھی ٹاکسک تھا لیکن ہم اسے آئیڈیل بنا لیتے تھے۔‘
’حسینہ معین کے ڈرامے کا ہیرو بھی ایسا نہیں تھا، لیکن ہمارا دیکھنے کا انداز ایسا تھا۔ ہم اس تصوراتی دنیا میں رہتے تھے کہ ہیرو کسی یونانی دیو مالائی کردار ہے۔ وہ بہادر ہے، وہ ہر لحاظ سے مکمل ہے، وہ دیالو ہے، اس کی کمیاں ہوتی تھیں لیکن ہمیں نظر نہیں آتی تھیں یا ہم دیکھنا نہیں چاہتے تھے۔‘
آمنہ عیسانی کا مزید کہنا ہے کہ اب ہم ہیرو کو انسان ہونے کے ناطے دیکھتے ہیں اور ہیرو کا ارتقا نہیں ہے بلکہ ناظرین کے ارتقا کی نشانی ہے۔
پاکستانی ڈرامے کے مرکز ی کردار شاید زیادہ نہیں بدلے لیکن ناظرین اب انھیں رنگین چشمے سے دیکھنے لگے ہیں اور ان کے تمام پہلو، ان کی غلطیوں سمیت قبول کرنے لگے ہیں۔
ممکن ہے یہی وجہ ہو کہ فی الوقت یو ٹیوب اور اے آر وائے پلس سے چلنے والے ڈرامے کروڑوں ویوز کے ساتھ ریکارڈ توڑ رہے ہیں، خصوصاً انڈیا میں ان کی پسندیدگی کی وجہ یہی ہے کہ انڈین ڈراموں کے برعکس جہاں کردار حقیقت سے بیحد دور کسی اور دنیا کی مخلوق لگتے ہیں، پاکستانی ڈراموں کے کردار انھیں اپنے جیسے یا آس پاس جیتے جاگتے لوگوں جیسے لگ رہے ہیں۔




















