کورونا وائرس: کیا ڈیکسامیتھازون پاکستان میں فوری استعمال ہو سکتی ہے؟
برطانیہ میں منگل کے روز ماہرین نے اعلان کیا تھا کہ کورونا وائرس سے شدید بیمار مریضوں کی زندگی ایک سستی اور وسیع پیمانے پر دستیاب دوا سے بچائی جا سکتی ہے۔
ماہرین کا کہنا تھا کہ اس مہلک وائرس کے خلاف جنگ میں کم مقدار والی سٹیرائڈ دوا ڈیکسامیتھازون سے کامیاب علاج ایک ’زبردست پیش رفت‘ ہے۔
تحقیق کے مطابق یہ دوا کورونا وائرس کے ایسے مریضوں کو مرنے سے بچا سکتی ہے جو مصنوعی تنفس یعنی وینٹیلیٹر کا سہارا لے رہے ہوں۔ یا پھر انھیں سانس لینے میں دقت سے بچانے کے لیے آکسیجن دی جا رہی ہو۔
برطانیہ میں اس انتہائی عام اور سستی دوا کو دیگر چند ادویات کے ساتھ کورونا کے مریضوں کے علاج کے لیے کافی عرصے سے تجرباتی طور پر استعمال کیا جا رہا تھا۔ برطانوی ماہرین اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ ڈیکسامیتھازون وینٹیلیٹر پر موجود مریضوں میں سے ایک تہائی کو بچا سکتی ہے۔
اگر 25 مریض آکسیجن پر ہوں تو ان میں سے ایک جبکہ وینٹیلیٹر پر موجود آٹھ میں سے ایک مریض کو یہ دوا مرنے سے بچا سکتی ہے۔