حکومت پاکستان صوبہ بلوچستان سے متصل پاکستان ایران سرحد، تفتان باڈر کو تجارت کے لیے کھولنے کا نوٹیفیکیشن جاری کیا ہے۔
ابھی یہ سرحدی روٹ باضابطہ طور پر دوبارہ کھلا نہیں تاہم وہاں سے موصول ہونے والی ویڈیوز اور تصاویر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ تاجر سامان کے ساتھ وہاں تیار کھڑے ہیں۔
گذشتہ روز جاری ہونے والے حکمنامے میں کہا گیا تھا کہ کورونا وائرس کے پھیلاؤ کا تدارک کرنے کے لیے ضابطہ کار پر عملدرآمد کو یقینی بنایا جائے۔
خیال رہے کہ ایران میں کورونا وائرس کے پھیلنے اور اس میں بڑی تعداد میں لوگوں کی ہلاکتوں کے بعد سے ایران کے ساتھ 900 سے زائد طویل کلومیٹر طویل سرحد کو تجارت اور آمد و رفت کے لیے بند کیا گیا تھا۔
دو طرفہ تجارت کے لیے سرحد کی طویل بندش کے بعد سے پاکستانی تجارتوں کو مشکلات اور نقصان کا سامنا کرنا پڑ رہا تھا۔
چند روز قبل سرحدی شہر تفتان میں پاکستان کی جانب سے ایران ایکسپورٹ ہونے والے پھل آم کی ایران جانے میں تاخیر سے آم کی ایک بڑی کھیپ خراب بھی ہوئی تھی۔
تاہم اب وفاقی حکومت نے تجارت کے لیے تفتان سے سرحد کو ہفتے میں سات یوم کھلا رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔
تفتان سے تعلق رکھنے والے مقامی تاجر اور ایکسپورٹر حاجی ضیا الرحمان نے اس فیصلے کو خوش آمدید کہا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ دیر آید درست آید کے مصداق یہ اچھا فیصلہ ہے جس سے پاکستانی تجارت اور تاجروں دونوں کو فائدہ ملے گا ۔